رمضان آیا رمضان آیا

رمضان آیا رمضان آیا

اللہ کی رحمت کا سامان آیا

رمضان آیا رمضان آیا

روزہ تلاوت کا فیضان آیا

رمضان آیا رمضان آیا

الحمدللہ ہم رمضان المبارک کی پُرنور فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ خُدائے رَحمٰن کا کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں ماہِ رَمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ماہِ رَمضان کے فیضان کے کیا کہنے ! اِس کی تو ہر گھڑی رَحمت بھری ہے، رَمضانُ المبارَک میں ہر نیکی کا ثواب70 گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔(مراٰۃ ،3/137) نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70گنا کردیا جا تا ہے ، عرش اُٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دُعا پرآمین کہتے ہیں اور فرمانِ مصطَفٰی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم َکے مطابق ’’ رَمضان کے روزہ دار کیلئے مچھلیاں اِفطار تک دُعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں ۔ (اَلتَّرغیب والتَّرہیب ،2/55،حدیث:6)

تفسیر روح البیان میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے شب معراج سدرۃ المنتہی پر ایک فرشتہ دیکھا جسے میں نے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا اس کے طول و عرض کی مسافت لاکھ سال کے برابر تھی۔ اس کے ستر ہزار سر تھے اور ہر سر میں ستر ہزار منہ اور ہر منہ میں ستر ہزار زبانیں اور ہر سر پر ستر ہزار نورانی چوٹی تھی اور ہر چوٹی کے سر پر بال میں لاکھ لاکھ موتی لٹکے ہوئے اور ہر ایک موتی کے اندر بہت بڑا دریا ہے اور ہر دریا کے اندر بہت بڑی مچھلیاں ہیں اور ہر مچھلی کا طول دو سال کی مسافت کی کے برابر ہے اور ہر مچھلی کے پیٹ پر لکھا ہوا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور اس فرشتے نے اپنا سر اپنے ایک ہاتھ پر رکھا ہے اور دوسرا ہاتھ اس کی پیٹھ پر ہے اور وہ "حظیرۃ القدس" یعنی بہشت میں ہے جب وہ اللہ پاک کی تسبیح پڑھتا ہے تو اس کی خوش آواز سے خوشی سے عرش الہی کانپ جاتا ہے۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ یہ وہ فرشتہ ہے جسے اللہ پاک نے آدم علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے پیدا کیا تھا۔ پھر میں نے کہا اس کی لمبائی چوڑائی کہاں سے کہاں تک ہے ؟ انہوں نے کہا :اللہ پاک نے بہشت میں ایک چراگاہ بنائی ہے اور یہ اسی میں رہتا ہے، اس جگہ کو اللہ پاک نے حکم دیا ہے کہ وہ آپ کے اور آپ کی امت کے ہر اس شخص کے لیے تسبیح پڑھے،جو روزہ رکھتے ہیں۔ ( تفسیر روح البیان،2/108)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ رمضان المبارک کے روزہ داروں کی ہی شان ہے کہ اتنی عظمتوں والا فرشتہ ان کے لئے دعائے مغفرت کر رہا ہے۔ یہ فضیلت صرف رمضان المبارک کے ساتھ خاص ہے۔ اس کے علاوہ رمضان المبارک کے اور بھی بہت سے منفرد خصوصیات ہیں۔ ان میں سے چند درجہ ذیل ہیں:۔

(1)قرآن پاک میں رمضان المبارک کا صراحۃً نام آیا اور اسی کے فضائل بیان ہوئے کسی اور مہینے کا نہ صراحۃً نام ہے اور نہ ہی فضائل۔اللہ پاک کا ارشاد ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ ترجَمۂ کنزُالایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا۔(پ 2،البقرہ:185)

(2)اس مہینے میں شبِ قدر ہے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے: اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ(۱) ترجمۂ کنزالایمان : بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا۔(پ 30،قدر :1)

(3) رمضان میں شیاطین قید کر لیئے جاتے ہیں۔دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور جنّت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔(مشکوٰۃ المصابیح،1/173،حدیث:1858)

(4)رمضان شریف میں افطار اور سحری کے وقت دعا قبول ہوتی ہے یعنی افطار کرتے وقت، سحری کھا کر۔ یا مرتبہ کسی اور مہینے کو حاصل نہیں۔(فیضان سنت،ص 863)

(5)رمضان کے کھانے پینے کا حساب نہیں۔(ایضاً)

(6)رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب (غیر رمضان کے) ستر فرضوں کے برابر ہوتا ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح،1/173،حدیث:1866)

(7)اسی مہینے کے روزے فرض ہیں۔(تفسیر روح البیان،1/364)

ان کے علاوہ رمضان المبارک کے اور بھی بہت سے فضائل و کمالات ہیں۔ کہ اس میں نیکیوں کا اجر خوب خوب بڑھ جاتا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کے تحت رمضان المبارک کی راتوں میں نماز ادا کرنے والے کو ہر ایک سجدہ کے بدلے پندرہ سو نیکیاں عطا کی جاتی ہیں اور جنت کا عظیم الشان محل عطا ہوتا ہے اور روزہ داروں کے لیے صبح شام ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔( شعب الایمان،3/314،حدیث:3635)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کی خوب خوب برکتیں لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کو ہمارے لیے بخشش کا ذریعہ بنائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


فلسفہ روزہ:  انسان کو ہر وقت رزق دینے والا خالق یہ امتحان لینا چاہتا ہے کہ سارا سال میری نعمتیں کھانے والے آیا صرف تیس دن ان کو میرے لیے چھوڑ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ چونکہ اس کا تعلق براہِ راست اللہ پاک کی ذات سے ہوتا ہے اس لیے امتحان دینے والا یا لینے والا ہی جانتا ہے کہ وہ امتحان میں کامیاب ہوا ہے یا نہیں۔ اس لئے اللہ پاک فرماتا ہےحدیث قدسی ہے: روزہ صرف میرے لیے ہوتا ہے اور اس کی جزا میں خود ہی براہ راست عطا کرتا ہوں۔

روزہ کے فرض ہونے کی وجہ: اسلام میں اکثر اعمال کسی نہ کسی واقعہ کی یاد تازہ کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ مثلاً صفا اور مروہ کے درمیان حاجیوں کا دوڑنا حضرت ہاجرہ رضی اللہُ عنہا کے ان دو پہاڑوں کے درمیان دوڑنے کی یاد دلاتا ہے۔ آپ رضی اللہُ عنہا اسماعیل علیہ السّلام کے لئے پانی تلاش کرنے کے لئے ان دونوں پہاڑوں پر دوڑتی رہیں۔ وہی طریقہ اللہ پاک نے قیامت تک حاجیوں کے لیے لازم کر دیا ۔ اسی طرح ان کی ان دنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دن غار حرا میں گزارے تھے۔ ان دنوں میں آپ دن کو کھانے سے پرہیز کرتے تھے اور رات کو ذکر الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔ تو اس لئے اللہ پاک نے ان دنوں کی یاد تازہ کرنے کے لئے روزے فرض کئے تاکہ اس کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّت قائم رہے۔

پہلی امتوں کے روزے: روزہ ہر امّت کے لئے فرض تھا مگر اس کی صورت ہمارے روزوں سے مختلف تھی۔ کتابوں میں آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہر ماہ کی 15،14،13 کو روزہ رکھتے تھے ۔ حضرت نوح علیہ السلام ہمیشہ روزہ دار رہتے تھے۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن کا روزہ رکھتے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور دو دن افطار کرتے ۔

ایمان پر پختگی : سخت گرمی ہے، پیاس سے حلق سوکھ رہا ہے، ہونٹ خشک ہیں، مگر وہ پانی موجود ہوتے ہوئے بھی اس کی طرف دیکھتا تک نہیں، کھانا موجود ہے بھوک کی شدت سے حالت خراب ہے مگر وہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں اٹھاتا۔ آپ اندازہ فرمائیں اس شخص کا خدا پر کتنا پختہ ایمان ہے ، کتنا زبردست یقین ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی حرکت ساری دنیا سے چھپ سکتی ہے مگر اللہ پاک سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔اس کا اللہ پر یہ یقین روزے کا عملی نتیجہ ہے۔ کیونکہ دوسری عبادتیں کسی نہ کسی ظاہری حرکت سے ادا کی جاتی ہیں مگر روزے کا تعلق باطن سے ہے۔اس کا حال اللہ اور اس کے بندے کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ چھپ کر کھا اور پی لے، لوگ یہی سمجھے سمجھتے رہیں گے کہ روزے سے ہے۔

بدر اور رمضان: یہ اسی توحیدی نشہ کا نتیجہ تھا کہ شدت کی گرمی ہے، رمضان المبارک کی 17 تاریخ ،طویل دن اور حالتِ روزہ میں، تعداد میں کم، دشمن تین گنا زیادہ ،مگر ہر طرف سے آواز آ رہی ہیں کہ

غلامان محمد جان دینے سے نہیں ڈرتے

یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے کچھ پرواہ نہیں کرتے

روزہ کی قسمیں: عوام کا روزہ ، خواص کا روزہ، اخص الخواص کا روزہ۔ عوام کا روزہ یہ ہے کہ صبح پو پھٹنے سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک کھانے پینے اور بیوی کی قربت سے پرہیز کرے۔ خواص کا روزہ یہ ہے کہ تمام دن یادِ الٰہی میں ان کی زبان مشغول رہے اور اخص الخواص کا روزہ یہ ہے کہ روزے کی حالت میں دل میں بھی غیر خدا کا خیال نہ آئے۔


رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے۔ جس کے روزے مسلمانوں پر فرض ہیں۔ رَمضان، یہ ’’ رَمَضٌ ‘‘ سے بنا جس کے معنٰی ہیں ’’ گرمی سے جلنا ۔ ‘‘ کیونکہ جب مہینوں کے نام قدیم عربوں کی زبان سے نقل کئے گئے تو اس وَقت جس قسم کا موسم تھا اس کے مطابق مہینوں کے نام رکھ دے گئے اِتفاق سے اس وَقت رمضان سخت گرمیوں میں آیا تھا اسی لئے یہ نام رکھ دیا گیا۔ رمضان کے کئی اور نام بھی ہیں جیسا کہ ماہِ صَبْر، ماہِ مُؤَاسات اور ماہِ وُسْعَتِ رِزْق۔ اس مہینے کو باقی تمام مہینوں کے مقابلے میں کئی خصوصیات حاصل ہیں۔جن میں سے کچھ میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔

(1)ماہِ نزولِ آسمانی کتاب: نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نےفرمایا : حضرت سیِّدُناابراہیم علیہ السلام پرصحیفے رمضانُ المبارک کی پہلی رات نازل ہوئے۔ تورات شریف رمضانُ المبارک کی ساتویں ، انجیل شریف چودہویں جبکہ قرآنِ کریم پچیسویں رات نازل ہوا، زبور شریف رمضانُ المبارک کی چھ تاریخ کو نازل ہوئی۔( اسلامی مہینوں کے فضائل، ص 206)

(2)قرآن میں نام: رمضان وہ واحد مہینہ ہے جس کا نام قرآن میں ارشاد ہے۔اللہ پاک کا ارشاد ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ ترجَمۂ کنزُالایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا۔(پ 2،البقرہ:185)

(3)تمام مہینوں کا سردار: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ نے فرمایا: تمام مہینوں کا سردار رمضان ہے۔

(4)رمضان رحمتوں کی کان: مفتی احمد یار خان فرماتے ہیں: ہر مہینے میں خاص تاریخیں اور تاریخوں میں بھی خاص وَقْت میں عبادت ہوتی ہے۔مَثَلاً بَقَر عید کی چند (مخصوص) تاریخوں میں حج ،مُحرَّم کی دسویں تاریخ اَفضل ،مگر ماہِ رَمَضان میں ہر دن اور ہَر َوقت عبادت ہوتی ہے ۔ روزہ عبادت، تراویح کا انتظارعبادت، سحری کا انتظارعبادت الغرض ہر آن میں رب کریم کی شان نظر آتی ہے۔

(5) شفاعت کرنا: قیامت میں رمضان روزہ دار کی شفاعت کرے گا اور کہے گا کہ مولا میں نے اسے دن میں کھانے پینے سے روکا تھا۔

پیارے قارئین ! آپ نے رمضان المبارک کی خصوصیات ملاحظہ کیں اور یقیناً آپ کو اس مہینے کی اہمیت کا اندازہ ہو چکا ہوگا کہ یہ مہینہ کتنی اہمیت کا حامل ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ اگر تم جانتے ہو کہ رمضان میں کیا ہے تو تم چاہتے کہ سارا سال رمضان ہو۔ مگر ہم اور ہمارا معاشرہ اور لوگ کتنی غفلت برت رہے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک تعداد روزہ ہی نہیں رکھتی اور بعض روزہ رکھتے ہیں تو روزے کے مسائل سے ناواقفی کی وجہ سے اپنے روزے گنوا بیٹھتے ہیں۔ اور بعض روزہ رکھ کر جھوٹ، غیبت، تہمت، گالی گلوچ اور چغلی وغیرہ برائیاں کرکے پورا کرتے ہیں۔ ہماری ایک تعداد تراویح بھی نہیں پڑھتی اور کہتے ہیں کہ تراویح فرض و واجب تو نہیں سنت ہی تو ہے جبکہ تراویح سنت مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ کو چھوڑنے کا عادی شخص گنہگار ہے۔

اللہ کریم ہمیں نہ صرف کھانے، پینے، صحبت کرنے سے بلکہ جھوٹ، غیبت وغیرہ برائیوں سے بچا کر روزہ رکھنے اور مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


پیارے پیارے اسلامی بھائیو!خُدائے رَحمٰن کے  کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں ماہِ رَمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ماہِ رَمضان کے فیضان کے کیا کہنے ! اِس کی تو ہر گھڑی رَحمت بھری ہے، رَمضانُ المبارَک میں ہر نیکی کا ثواب70 گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔(مراٰۃ ،3/137) نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70گنا کردیا جا تا ہے ، عرش اُٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دُعا پرآمین کہتے ہیں اور فرمانِ مصطَفٰی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم َکے مطابق ’’ رَمضان کے روزہ دار کیلئے مچھلیاں اِفطار تک دُعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں ۔ (اَلتَّرغیب والتَّرہیب ،2/55،حدیث:6)

رَمضان، یہ ’’ رَمَضٌ ‘‘ سے بنا جس کے معنٰی ہیں ’’ گرمی سے جلنا ۔ ‘‘ کیونکہ جب مہینوں کے نام قدیم عربوں کی زبان سے نقل کئے گئے تو اس وَقت جس قسم کا موسم تھا اس کے مطابق مہینوں کے نام رکھ دے گئے اِتفاق سے اس وَقت رمضان سخت گرمیوں میں آیا تھا اسی لئے یہ نام رکھ دیا گیا۔(النھایہ لابن الاثیر،2/240) حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :بعض مفسرین رحمہم اللہ المبین نے فرمایا کہ جب مہینوں کے نام رکھے گئے تو جس موسم میں جو مہینا تھا اُسی سے اُس کا نام ہوا ۔جو مہینا گرمی میں تھااُسے رَمضان کہہ دیا گیا اور جو موسم بہار میں تھا اُسے ربیعُ الْاَوّل اور جو سردی میں تھا جب پانی جم رہا تھا اُسے جُمادَی الْاُولٰی کہا گیا۔ (تفسیر نعیمی ،2/205)

پانچ خصوصی کرم: حضرت سَیِّدُناجا بربن عبداللہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت عالمیان، سلطانِ دوجہان ، شہنشاہِ کون ومکان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ ذِی شان ہے: میری اُمت کو ماہِ رَمضان میں پانچ چیز یں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں : (1) جب رَمَضانُ الْمبارَک کی پہلی رات ہوتی ہے تواللہ پاک ان کی طرف رَحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اللہ پاک نظر رَحمت فرمائے اُسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا (2)شام کے وَقت ان کے منہ کی بو (جوبھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے (3) فرشتے ہر رات اور دن ا ن کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں (4) اللہ پاک جنت کو حکم فرماتاہے: ’’ میرے (نیک ) بندوں کیلئے مُزَیَّن(یعنی آراستہ) ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مَشَقَّت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے ‘‘ (5) جبماہِ رَمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ پاک سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔ قوم میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم! کیا وہ لیلۃ القدر ہے؟ ارشاد فرمایا:نہیں ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارِغ ہوجا تے ہیں تواُنہیں اُجرت دی جا تی ہے۔(شُعَبُ الایمان ،3/303،حدیث:3603)

حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے: حضور پر نور، شافِعِ یو مُ النشور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ پر سرور ہے:پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعے تک اور ماہِ رَمضان اگلے ماہِ رَمضان تک گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جا ئے۔(مسلِم ص144،حدیث:233)

پیارے پیارے آقا، مکے مدینے والے مصطَفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عالی شان ہے: اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رَمضان کیا ہے تو میری اُمت تمنا کرتی کہ کاش!پورا سال رَمضان ہی ہو۔(ابنِ خُزَیمہ، 3/190،حدیث:1886)مفسر شہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ تفسیرنعیمی میں فرماتے ہیں :اِس ماہِ مُبارَک کے کل چار نام ہیں (1) ماہِ رَمَضَان(2) ماہِ صَبْر(3) ماہِ مُؤَاسات اور (4) ماہِ وُسْعَتِ رِزْق۔ مزید فرماتے ہیں : روزہ صَبْرہے جس کی جزا ربّ ہے اور و ہ اِسی مہینے میں رکھا جا تا ہے۔اِس لئے اِسے ماہِ صَبْرکہتے ہیں ۔مُؤَاسات کے معنٰی ہیں بھلائی کرنا ۔ چونکہ اِس مہینے میں سارے مسلمانوں سے خاص کر اہلِ قرابت(یعنی رشتے داروں ) سے بھلائی کرنا زِیادہ ثواب ہے اِس لئے اسے ماہِ مُؤَاسات کہتے ہیں اِس میں رِزق کی فراخی(یعنی زیادتی) بھی ہوتی ہے کہ غریب بھی نعمتیں کھالیتے ہیں ، اِسی لئے اِس کا نام ماہِ وسعت رِزق بھی ہے۔( تفسیرِ نعیمی، 2/208)


خُدائے رَحمٰن کا  کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں ماہِ رَمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ماہِ رَمضان کی برکتوں اور بہاروں کا تو کیا ہی کہنا ! پیارے اسلامی بھائیو ! رمضان المبارک بہت ساری خصوصیات کا حامل ہے۔ جن میں سے پانچ یہ بھی ہیں:

(1)ہر مہینے میں خاص تاریخیں اور تاریخوں میں بھی خاص وَقْت میں عبادت ہوتی ہے۔مَثَلاً بَقَر عید کی چند (مخصوص) تاریخوں میں حج ،مُحرَّم کی دسویں تاریخ اَفضل ،مگر ماہِ رَمَضان میں ہر دن اور ہَر َوقت عبادت ہوتی ہے ۔ (فیضانِ سنت،1/860)

(2) اس برکت والے مہینے کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس ماہِ مبارک میں نَفْل کا ثواب فَرض کے برابر ا ور فَرضْ کا ثواب سترّ گُنا ملتا ہے۔(فیضانِ سنت،1/861)

(3)اسی طرح اس مہینے کی بہت ہی منفرد خصوصیت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس مبارک مہینے میں ایک ایسی رات بھی ہے جو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے یعنی لیلۃ القدر اس مہینے میں آتی ہے۔ اللہ کریم نے قرآن میں فرمایا:لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﳔ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ(۳)ترجمۂ کنزالایمان : شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ۔(پ 30،قدر :3)

(4)اس مہینے کی سب سے منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس مہینے کے کھانے پینے کا حساب کتاب نہیں ہوگا۔( فیضان سنت ،1/862)

(5)رمضان المبارک کی منفرد خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن رمضان اور قرآن روزہ دار کی شفاعت کریں گے کہ رمضان تو کہے گا: مولا کریم میں نے اسی دن میں کھانے، پینے سے روکا تھا اور قرآن عرض کرے گا کہ یا رب کریم میں نے اسے رات میں تراویح، تلاوت کے ذریعے سونے سے روکا تھا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی خصوصیات اس ماہِ مبارک میں پائی جاتی ہیں جن کا ذکر یہاں ممکن نہیں۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کی صحیح معنوں میں قدر کرنے ،اس میں خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ پاک کا کروڑ ہا کروڑ احسان کہ اس نے ہمیں  رمضان المبارک جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ اس ماہ مبارک کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے۔اس کے ہر دن اور ہر رات میں فرشتے اس امت کے لئے استغفار کرتے ہیں ۔ اس ماہ مبارک میں نیکیاں قبول ہوتیں گناہ معاف ہوتے اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ اللہ پاک مخلوق کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے۔ اعمال کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ بہت سے ایسے گناہگاروں کی بخشش ہوتی ہے جن پر جہنم واجب ہو چکا ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے جب رمضان آتا ہے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔(صحیح البخاري، 1/626،حدیث: 1899)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ: رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں شیاطین زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔(صحیح مسلم،2/543،حدیث:1079)

ماہ رمضان المبارک کے اور بھی بہت سے فضائل و خصائص ہیں۔ چند خصوصیات ملاحظہ ہوں:

(1)روزوں کی فرضیت:ماہ رمضان المبارک کو ایک خصوصیت یہ حاصل ہے کہ مسلمانوں پر اس ماہ کے روزے رکھنا فرض ہے۔ جیسا کہ سنن نسائی میں امام نسائی کی روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (حدیث کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں ) رمضان آگیا ہے یہ برکت والا مہینہ ہے اللہ پاک نے تم پر اس کے روزے فرض کیے۔( سنن نسائی، حدیث2103، ص355)

(2) قرآن کریم کا نزول: اس ماہ مبارک کو قرآن کریم سے خصوصی نسبت حاصل ہے کہ صرف اسی ماہ مبارک کا نام قرآن کریم میں آیا اور قرآن کریم کے نازل ہونے کی ابتدا بھی اسی ماہ مبارک میں ہوئی اسی طرح مکمل قرآن کریم بھی اسی ماہ مبارک کی شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا کی طرف اتارا گیا۔ جیسا کہ شیخ الحدیث والتفسیر ابو صالح مفتی محمد قاسم قادری سلمہ الغنی "تفسیر صراط الجنان" میں نزول قرآن پاک کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اس مہینے (یعنی رمضان المبارک) میں قرآن کریم اترنے کے یہ معانی ہیں: (1) رمضان وہ ہے جس کی شان و شرافت کے بارے میں قرآن پاک نازل ہوا۔(2)قرآن کریم کے نازل ہونے کی ابتدا رمضان میں ہوئی۔(3) مکمل قرآن پاک رمضان المبارک کی شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا کی طرف اتارا گیا اور بیت العزت میں رہا۔(صراط الجنان، سورہ بقرہ تحت آیۃ185)

(3) گناہ گاروں کی بخشش: اس ماہ مبارک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں لاکھوں گنہگاروں کی بخشش ہو جاتی ہے۔جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے اللہ پاک اپنی مخلوق کی طرف نظر فرماتا ہے اور جب اللہ پاک کسی بندے کی طرف نظر فرمائے تو اسے کبھی عذاب نہ دے گا اور ہر روز دس لاکھ کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور جب انتیسویں رات ہوتی ہے تو مہینے بھر میں جتنے آزاد کیے، ان کے مجموعہ کے برابر اس رات میں آزاد کرتا ہے پھر جب عید الفطر کی رات آتی ہے، ملائکہ خوشی کرتے ہیں اور اللہ پاک اپنے نور کی خاص تجلی فرماتا ہے، فرشتوں سے فرماتا ہے:اے گروہ ملائکہ! اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جس نے کام پورا کر لیا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اس کو پورا اجر دیا جائے۔ اللہ پاک فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخشش دیا۔(کنز العمال،8/219،حدیث:23702)

(4) عشرۂ اخیرہ کا سنت اعتکاف: رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسلمان سنت اعتکاف ادا کرتے ہیں یہ ایسی پیاری عبادت ہے جس پر پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے مواظبت (یعنی ہمیشگی ) فرمائی۔جیسا کہ امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو وفات دی اور آپ علیہ السلام کے بعد آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اعتکاف کیا کرتیں۔ (بخاری،1/664،حدیث:2026)

سرکار علیہ الصلوۃ و السلام اعتکاف کس قدر رغبت سے کیا کرتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی مرتبہ آپ علیہ السلام اعتکاف نہ کر پاتے تو آئندہ سال اس کی قضا فرماتے۔ جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ ایک سال اعتکاف نہ کر سکے جب اگلا سال آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔ (ترمذی،2/212،حدیث:803)

اعتکاف کے فضائل پر دو فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم:(1)جس نے ایمان کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے اعتکاف کیا تو اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (جامع صغیر،ص516،حدیث8480) (2)جس نے رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف کر لیا وہ ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کیے۔ (شعب الایمان،3/425،حدیث: 2966)

(5) ہزار مہینوں سے افضل رات: ماہ رمضان المبارک میں ہمیں بے شمار نعمتیں میسر آئیں ہیں جن میں سے ایک نعمت شب قدر بھی ہے یہ بڑی ہی شرف و برکت والی رات ہے اس رات میں عبادت کرنے والے کو ایک ہزار ماہ سے بھی زیادہ عبادت کا ثواب ملتا ہےاور جو شخص اس رات سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہا۔ چناچہ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار جب ماہ رمضان تشریف لایا تو تاجدار مدینہ سرور قلب و سینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا تمام کی تمام بھلائی سے محروم رہ گیا اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقتاً محروم ہی ہے۔ (ابن ماجہ، 2/298، حدیث: 1644)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے اور اس میں خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


رمضان شریف بڑی برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے جب رمضان شریف کا نام آتا ہے تو جسم میں ایک الگ ہی لہر دوڑتی ہے وہ سحری و افطاری، دعائے افطار، قرآن شریف کی کثرت سے تلاوت کرنا، عبادات میں زیادتی وغیرہ سب یاد کرکے اس ماہ کو پانے کی بڑی حسرت ہوتی ہے ۔حدیث نبوی بھی ہےکہ اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری امت تمنا کرتی کہ کاش! سارا سال رمضان ہی ہوتا۔ (اسلامی مہینوں کے فضائل ص205)

رمضان شریف کی بے انتہا خصوصیات ہیں لیکن آج ہم صرف پانچ خصوصیات پر گفتگو کرتے ہیں:۔

پہلی یہ کہ مہینوں میں سے کسی کا نام قرآن شریف میں نہیں آیا سوائے رمضان المبارک کے۔اللہ پاک فرماتا ہے:شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ ترجمہ کنزالعرفان:رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے۔(پ2،البقرہ:185)اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رمضان المبارک کی کیا اہمیت ہے۔

دوسری یہ کہ اس مہینہ میں اللہ پاک نے ایک ایسی رات رکھی ہے جو ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے جس کو لیلۃالقدر کہا جاتا ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﳔ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ(۳) تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا ترجمۂ کنز الایمان : شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبرئیل اترتے ہیں۔

اللہ پاک کا خاص الخاص کرم ہے کہ یہ عظیم رات صرف اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اس امت کو عطا کی گئی ہے۔ اس رات عبادت کرنے والے کو ایک ہزار ماہ یعنی تراسی سال چار ماہ سے بھی زیادہ عبادت کا ثواب عطا کیا جاتا ہے۔

تیسری یہ کہ اس میں نماز تراویح کا باقاعدہ طور پر پورا ماہ اہتمام کیا جاتا ہے۔

منقول ہے کہ اللہ پاک کے عرش کے گرد ایک "حظیرۃالقدس" نامی ایک جگہ ہے جو کہ نور کی ہے ، اس میں اتنے فرشتے ہیں کہ جن کی تعداد اللہ پاک ہی جانتا ہے ، وہ اللہ پاک کی عبادت کرتے ہیں اور ایک لمحہ بھی غافل نہیں ہوتے ، جب رمضان کی راتیں آتی ہیں تو وہ اپنے رب سے زمین پر اترنے کی اجازت طلب کرتے ہیں اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت کے ساتھ نماز تراویح میں حاضر ہوتے ہیں، اگر کوئی ان کو چھوئے یاوہ اس کو مس کریں تو وہ ایسا سعادت مند ہو جائے گا کہ اس کے بعد کبھی بد بخت نہ ہو گا۔(تراویح کے فضائل و مسائل،ص5)

چوتھی یہ کہ اس مہینہ کے کے سارے روزے فرض کئے گئے ہیں ۔چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)ترجمۂ کنز العرفان :اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔(پ 2،بقرہ:183)

آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جس نے رمضان المبارک کا روزہ رکھا اور اس کی حدود کو پہچانا اور جس چیز سے بچنا چاہیے اس سے بچا تو جو (گناہ) پہلے کر چکا اس کا کفارہ ہوگیا۔ (فیضان سنت ،احکام روزہ ،ص 945)

پانچویں یہ کہ اس ماہ میں نیکیوں کا اجر بہت بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابراھیم نخعی فرماتے ہیں کہ ماہ رمضان میں ایک مرتبہ تسبیح کرنا غیر رمضان میں ہزار مرتبہ تسبیح کرنے سے افضل ہے (فیضان سنت،فضائل رمضان شریف ص 879)

اللہ پاک ہمیں صحت و عافیت کے ساتھ رمضان المبارک عطا فرمائے اور خوب عبادات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


(1)حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مکرم نور مجسم رسول اکرم شہنشاہ نبی آدم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا، جو ایمان اور نیت ثواب کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھے گا اس کے پچھلے گناہ مٹا دیئے جائیں گے (صحیح مسلم، حدیث: 760 ، ص 382)

(2)حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور سلطان بحروبر صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :پانچوں نمازیں اور جمعہ اگلے جمعہ تک اور رمضان اگلے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے جب کہ بندہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کرے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 233، ص 144)

(3) حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب رب اکبر صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا" جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو بیڑیوں میں جکڑ لیا جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رحمت (یعنی جنت) کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ (مسلم، حدیث: 1079، ص 543)

(4)حضرت سیدنا ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرور، دوجہاں کے تاجور، سلطان بحروبر صلی اللہ علیہ اٰلہ و سلم نے فرمایا" اللہ پاک روزانہ افطاری کے وقت ایک تعداد کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے"(المعجم الکبیر،8/284، حدیث:8089)

(5)حضرت سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک، صاحب لَولاک، سیاح افلاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ پاک رمضان کے ہر دن اور رات میں ایک تعداد کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور رمضان کے ہر دن اور رات مسلمان کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ (الترغیب والرہیب،2/63، حدیث: 27)


ماہ رمضان المبارک کی احادیث میں بہت فضائل ذکر کیئے گئے ہیں  ان میں سے چند آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں: حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :میری امت کو رمضان میں پانچ ایسی خصلتیں عطاکی گئیں ہیں جو ان سے پہلے کسی امت کو عطا نہیں کی گئیں:(1) روزے دا ر کے منہ کی بُو اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے(2) اور ان کے افطار کرنے تک مچھلیاں ان کے لئے استغفار کرتی ہیں (3)اور اللہ پاک روزانہ اپنی جنت کو سجا تا ہے اور فرماتا ہے کہ عنقریب میرے نیک بندوں سے تکلیف اٹھا لی جائے گی اور وہ تیری طرف آئیں گے ،(4)اور اس میں سرکش شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے اور وہ رمضان میں اس کا م کے لئے ہرگز کوئی راہ نہیں پاتے جس میں وہ رمضان کے علاوہ مصروف ہوتے تھے(5) اور رمضان کی آخری رات میں ساری امت کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ عرض کیا گیا :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا یہ آخری رات شب قدر ہے؟ فرمایا: نہیں، مزدور کو پوری مزدوری اسی وقت دی جاتی ہے جب وہ اپنا کام پورا کر لیتاہے۔ (مسند احمد ،3/144،حدیث: 7922)

حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک میں ایک نفل ادا کرنا فرض ادا کرنے کے برابر ہے اور ایک فرض کا ثواب ستر 70فرض کے برابر ہے۔

رمضان المبارک کی خصوصیات:(1) روزہ،(2) تراویح،(3) اعتکاف،(4) شب قدر،(5) فطرہ

(1) روزہ : یہ ایک ایسی عبادت ہے کہ اس کا نعم البدل کوئی دوسری عبادت نہیں یہی وجہ ہے کہ زورہ ہر امت پر فرض کیا گیا۔ قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پہ فرض ہوئے تھے تاکہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔(پ 2،بقرہ:183)

(2) تراویح:رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :جو رمضان میں ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کے لیے قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

رمضان المبارک میں عشا کے فرض اور سنت کے بعد مرد اور عورت دونوں کے لئے بیس رکعات تراویح سنت مؤکدہ ہے۔تراویح میں پورا قرآن پاک ایک مرتبہ ختم کرنا سنت ہے۔ رمضان میں ستائسویں شب پورا قرآن ختم کرنا افضل ہے مگر اس سے پہلے بھی جائز ہے۔

(3) اعتکاف:پچھلی امتوں میں بھی اعتکاف کی عبادت موجود تھی چنانچہ پارہ اول سورہ بقرہ کی آیت نمبر 125میں اللہ پاک کا فرمان عالی شان ہے: وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵)ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے۔(پ 1،بقرہ:125)

اعتکاف کی تعریف:لغوی معنی: ٹھہرنا، شرعی معنی:روزے دار کا نیت کے ساتھ جماعت والی مسجد میں ٹھہرنا اعتکاف ہے۔ (تعریفات دراسیہ) رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ علی کفایہ ہے۔

(4) شب قدر:شب قدر کے بارے میں اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتا ہے:لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﳔ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ(۳)ترجمۂ کنزالایمان : شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ۔(پ 30،قدر :3)

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک مہینہ آیا تو حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :تمہارے اوپر ایک ایسا مہینہ آنے والا ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا ساری خیر سے محروم رہ گیا اور اس شب کی خیر سے وہی محروم رہے گا جو پورا پورا محروم ہوگا۔

سونے والے رب کو سجدہ کر کہ سو

کیا خبر اٹھے نہ اٹھے صبح کو

(5) صدقہ فطر:صدقہ فطر مالی انفاق ہے جس کا حکم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے زکوٰۃ سے پہلے اس سال دیا جس سال رمضان کا روزہ فرض ہوا۔ صدقہ فطر غریبوں اور مسکینوں کو دیا جاتا ہے۔ اس کو فطرانہ بھی کہتے ہیں۔ اس کا ادا کرنا ہر مالدار شخص کے لئے ضروری ہے تا کہ غریب اور مسکین لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ علاوہ ازیں صدقہ فطر روزے دار کو فضول اور فحش حرکات سے پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صدقہ فطر کو اس لئے فرض قرار دیا ہے کہ یہ روزہ دار کے بیہودہ کاموں اور فحش باتوں کی پاکی اور مساکین کے لئے کھانے کا باعث بنتا ہے۔( فیضان رمضان ،ص174)


ماہِ رَمضان کی ہر گھڑی رَحمت بھری ہے،رَمضانُ المبارَک میں نیکی کا ثواب70 گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔(مراٰۃ، 3/137)نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70گنا کردیا جاتا ہے ،عرش اُٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دُعا پرآمین کہتے ہیں۔( فیضانِ رمضان، ص 21)

خاصیت کی تعریف و اہمیت:خصائص خاصۃ کی جمع ہے اس کے لغوی معنٰی یہ ہے کہ وہ مخصوص صفت جو دوسروں سے ممتاز بنا دے یا اسی صفت کو خاصہ یا خاصیت کہا جا تا ہے جو اس میں تو پائی جائے اور اس کے علاوہ دوسرے میں نہ پائی جائے۔ اس کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ ھو ما تختصّ بالشی ولا یوجد فی غیرہ اصلاً۔(المرضاۃ)

ماہِ رمضان کی خصوصیات:

(1) نزولِ قرآن مجید:ماہِ مُبارَک کی ایک خصوصیت یہ ہے کہاللہ پاک نے اِس میں قراٰنِ پاک نازِل فرمایاہے۔ چنانچہ پارہ 2 سورۃ البقرۃآیت185 میں مقد س قراٰن میں خدائے رَحمٰن کا فرمانِ عالی شان ہے : شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ-ترجمہ کنز الایمان:رَمضان کا مہینا ، جس میں قراٰن اُترا، لوگوں کے لئے ہدایت اور رَہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں ۔(پ 2،البقرہ:185)

(2) ثواب میں اضافہ:ماہِ مُبارَک کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس ماہ میں عبادت کرنے والوں کے گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے چنانچہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو رَمضان میں ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کے لیے قیام کرے ،تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مسلم، ص382،حدیث:759)

(3) ہزار مہینوں سے بہتر رات : اللہ پاک کا خاص الخاص کرم ہے کہ لیلۃ القدر جیسی عظیم رات صرف اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اُمت کو عطا کی گئی ہے۔ اللہ پاک قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے :اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ(۱) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ(۲) لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﳔ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ(۳) تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْۚ-مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ(۴) سَلٰمٌ ﱡ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠(۵)ترجَمۂ کنزالایمان: بے شک ہم نے اسے شبِ قَدر میں اُتارا اورتم نے کیا جانا، کیا شبِ قدر؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر، اِس میں فرشتے اور جبریل اُترتے ہیں اپنے رب کے حُکم سے، ہرکام کیلئے ، وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔(پ 30،قدر :1 تا 5 )

مفسرین کرام رحمہم اللہ السلام سورہ قدر کے ضمن میں فرماتے ہیں : اِس رات میں اللہ پاک نے قراٰنِ کریم لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازِل فرمایا اور پھر تقریباً 23 برس کی مُدَّت میں اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر اسے بتدرِیج نازِل کیا۔( تفسِیرِ صاوی 6/2398)

نَبِیِّ مُعَظَّم، رَسُولِ مُحتَرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ پاک نے میری امت کو شب قدر عطا کی اور یہ رات تم سے پہلے کسی امت کو عطا نہیں فرمائی۔ (اَلْفِردَوس بمأثور الْخِطاب، 1/173،حدیث:674)

(4) جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں:حضرتِ سَیّدُناابو سعید خدری رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے: مکی مَدَنی سلطان، رحمت عالمیان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رَحمت نشان ہے : ’’جب ماہِ رَمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آخری رات تک بندنہیں ہوتے۔ جو کوئی بندہ اس ماہِ مبارَک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے تَواللہ پاک اُس کے ہر سجدے کے عوض(یعنی بدلے میں ) اُس کے لئے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہے اور اُس کے لئے جنت میں سُرخ یا قوت کا گھر بناتا ہے۔ (شُعَبُ الایمان، 3/314،حدیث: 3635 مُلَخَّصاً )

(5) مغفرت طلب کرنے والوں کو بخش دیا جاتا ہے:حضرتِ سَیِدُنا عبدُ اللہ ابنِ مسعود رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہ ِذیشان، مکی مَدَنی سلطان،رحمت عالمیان، محبوبِ رحمٰن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رَحمت نشان ہے: رَمضان شریف کی ہرشب آسمانوں میں صبح صادِق تک ایک منادِی (یعنی اعلان کرنے والافرشتہ)یہ ندا (اعلان) کرتا ہے: اے بھلائی طلب کرنے والے! ارادہ پختہ کر لے اور خوش ہوجا، اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے !برائی سے باز آجا۔ ہے کوئی مغفرت کا طلب گار! کہ اُس کی طلب پوری کی جائے ۔ ہے کوئی توبہ کرنے والا! کہ اُس کی توبہ قبول کی جائے ۔ ہے کوئی دُعامانگنے والا!کہ اُس کی دُعا قبول کی جائے۔ہے کوئی سائل! کہ اُس کا سوال پورا کیا جائے۔(شُعَبُ الْاِیمان، 3/304،حدیث:3606)


رمضان شریف کی بہت فضیلت ہے۔ قرآن و احادیث نے رمضان کی فضیلت کو بیان کیا ہے اس کے بارے میں بہت سی احادیث مبارکہ ہے ۔اللہ پاک نے قرآن مجید میں رمضان المبارک کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے :شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ ترجمۂ کنز العرفان :رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی ہے۔(پ 2،البقرہ:185)

اور اس کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی کئی احادیث میں ارشاد فرمایا ہے ۔

(1) عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اورشیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔( صحیح البخاري ، حدیث : 1898 ، 1 / 625)

ایک روایت میں ہے، کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں ۔( صحیح مسلم ، حدیث : 1079 ، ص 534 )

(2) صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جب رمضان آتا ہے، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ اور امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ کی روایت میں ہے، ’’جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنّ قید کر لیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تو اُن میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں تو اُن میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور منادی پکارتا ہے، اے خیر طلب کرنے والے! متوجہ ہو اور اے شر کے چاہنے والے! باز رہ اور کچھ لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں اور یہ ہر رات میں ہوتا ہے۔( جامع الترمذي ، حدیث : 682 ، 2/155)

(3) امام احمد ونسائی کی روایت انھیں سے ہے، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: 'رمضان آیا، یہ برکت کا مہینہ ہے، اﷲ پاک نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ، اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور سرکش شیطانوں کے طوق ڈال دیے جاتے ہیں اور اس میں ایک رات ا یسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کی بھلائی سے محروم رہا، وہ بیشک محروم ہے۔( سنن النسائي ،حدیث : 2103 ، ص 355)

(4) بیہقی شعب الایمان میں سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ سے راوی، کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر دن میں وعظ فرمایا۔ فرمایا: اے لوگو! تمہارے پاس عظمت والا، برکت والا مہینہ آیا، وہ مہینہ جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس کے روزے اﷲ پاک نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام (نماز پڑھنا) تطوع (یعنی سنت) جو اس میں نیکی کا کوئی کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں 70 فرض ادا کیے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ مواسات کا ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے، جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے، اُس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جائے گی اور اس افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اس کے کہ اُس کے اجر میں سے کچھ کم ہو۔ ہم نے عرض کی، یا رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) ! ہم میں کا ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا، جس سے روزہ افطار کرائے؟ حضور (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا: اﷲ پاک یہ ثواب اس شخص کو دے گا، جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک خُرما یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کرائے اور جس نے روزہ دار کو بھر پیٹ کھانا کھلایا، اُس کو اﷲ پاک میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ اُس کا اوّل رحمت ہے اور اس کا اوسط مغفرت ہے اور اس کا آخر جہنم سے آزادی ہے جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے یعنی کام میں کمی کرے، اﷲ پاک اُسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرما دے گا۔ (شعب الإیمان ، حدیث : 3608 ، 3/305)

(5) طبرانی اوسط میں اور بیہقی ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ پاک کے نزدیک اعمال 7 قسم کے ہیں ۔ دو عمل واجب کرنے والے اور دو کا بدلہ ان کے برابر ہے اور ایک عمل کا بدلا 10 گنا اور ایک عمل کا معاوضہ سات سو ہے اور ایک وہ عمل ہے، جس کا ثواب اﷲ پاک ہی جانے۔ وہ دو جو واجب کرنے والے ہیں ان میں : (1) ایک یہ کہ جو خدا سے اس حال میں ملے کہ خالص اسی کی عبادت کرتا تھا، کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرتا تھا، اُس کے لیے جنت واجب۔ (2) دوسرا یہ کہ جو خدا سے ملا اس حال میں کہ اُس نے شرک کیا ہے تو اس کے لیے جہنم واجب اور (3) جس نے برائی کی، اس کو اسی قدر سزا دی جائے گی اور(4) جس نے نیکی کاارادہ کیا، مگر عمل نہ کیا تو اُس کو ایک نیکی کا بدلا دیا جائے گا اور (5) جس نے نیکی کی، اُسے دس گنا ثواب ملے گا اور (6) جس نے اﷲ پاک کی راہ میں خرچ کیا، اُس کو 7 سو کا ثواب ملے گا۔ ایک درہم کا سات سو درہم اور ایک دینار کا ثواب 7 سو دینار اور روزہ اﷲ پاک کے لیے ہے، اس کا ثواب اﷲ پاک کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(شعب الإیمان ،حدیث : 3589 ، 3/298)

(6) بیہقی جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں :میری اُمّت کوماہِ رمضان میں پانچ باتیں دی گئیں کہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں ۔ اوّل یہ کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے، اﷲ پاک ان کی طرف نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف نظر فرمائے گا، اُسے کبھی عذاب نہ کرے گا۔ دوسری یہ کہ شام کے وقت اُن کے منہ کی بُو اﷲ پاک کے نزدیک مُشک سے زیادہ اچھی ہے۔ تیسری یہ ہے کہ ہر دن اور ہر رات میں فرشتے ان کے لیے استغفار کرتے ہیں ۔ چوتھی یہ کہ اﷲ عزوجل جنت کو حکم فرماتا ہے، کہتا ہے: مستعد ہو جا اور میرے بندوں کے لیے مزّین ہو جا قریب ہے کہ دنیا کی تعب سے یہاں آکر آرام کریں ۔ پانچویں یہ کہ جب آخر رات ہوتی ہے تو ان سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ کسی نے عرض کی، کیا وہ شبِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ کام کرنے والے کام کرتے ہیں ، جب کام سے فارغ ہوتے ہیں اُس وقت مزدوری پاتے ہیں ۔

بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لئے رمضان کا روزہ رکھے گا، اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور جو ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیے رمضان کی راتوں کا قیام کرے گا، اُس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور جو ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیے شبِ قدر کا قیام کرے گا، اُس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔

یہ کچھ احادیث مبارکہ ہیں رمضان المبارک کی فضیلت کے بارے میں اور رمضان کے روزے ہر مسلمان پر فرض عین کے یہ تو ہر مسلمان نے رکھے ہی ہے حدیث شریف کا مضمون ہے کہ جس کی جتنی زیادہ اور اچھی نیت اتنا زیادہ ثواب ہے اور یہ تو کچھ معلومات ہے رمضان المبارک کے بارے میں اگر آپ اور معلومات حاصل کرنے کے خواہش مند ہے تو اور معلومات بخاری ومسلم اور احادیث کی کتب سے مل سکتی ہے۔


رمضان المبارک کی باسعادت گھڑیاں قریب ہیں۔ اس کی برکتیں اور رحمتیں بے شمار ہیں۔ یہ مہینہ آخرت کمانے، باطن سنوارنے، اور زندگی بنانے کا ہے۔ اس لئے اس کی پہلے سے تیاری کی ضرورت ہے۔ اس ماہ(رمضان المبارک) میں جتنے کام عام طور پر پیش آتے ہیں، ان میں سے جتنے کام رمضان المبارک سے پہلے ہو سکیں، پہلے ہی کر لیے جائیں۔ او رجو کام رمضان المبارک میں کرنے ہوں، ان کے کرنے میں بھی کم سے کم وقت لگایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت رمضان المبارک میں ذکر وعبادت اور دعا و تلاوت کے لیے فارغ کرسکیں۔ بلا ضرورت لوگوں سے ملاقات کرنا ترک کردیں، تاکہ فضولیات میں قیمتی مہینہ یا اس کے قیمتی لمحات ضائع نہ ہوں۔ اس ماہ میں گناہوں سے بچنے کی خوب کوشش کریں، آنکھ، کان، ناک، دل زبان اور ہاتھ پیروں کو گناہوں سے بچائیں۔ T.V دیکھنے، گانا سْننے سے بچیں، خواتین بے پردگی کے گناہ سے بطور خاص اپنی حفاظت کریں۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، گالم گلوچ، اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب برتیں۔ تراویح پورے ماہ پابندی سے ادا کریں۔ کیوں کہ عموماً لوگ دس یا پندرہ روزہ تراویح پڑھ کر سمجھ کر لیتے ہیں کہ اب ان پر آگے تراویح نہیں۔ ان کا فرض پورا ہوگیا۔ یہ سوچ بھی غلط ہے کہ ایک دفعہ تراویح میں قرآن کی سماعت کرلینے سے فرض پورا ہوگیا ؟ نہیں! مکمل قرآن تروایح میں سننا الگ سنت ہے،اور پورا ماہ پابندی سے تراویح پڑھنا الگ سنت۔ اسی طرح اللہ پاک سے گڑ گڑا کر اپنے والدین، اہل وعیال اور تمام مسلمان مردوں وعورتوں کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ-فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ-وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ-یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۱۸۵) ترجَمۂ کنزُالایمان: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو۔(پ 2،البقرہ:185)

پانچ منفرد خصوصیات :پہلی خصوصیت : رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے نازل ہوئے۔ جو تعداد میں دس تھے۔ پھر سات سو سال بعد 6 رمضان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت کا نزول ہوا۔ پھر پانچ سو سال بعد حضرت داؤد علیہ السلام پر13 رمضان کو زبور کا نزول ہوا۔ زبور سے بارہ سو سال بعد 18 رمضان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل کا نزول ہوا۔ پھر انجیل کے بعد پورے چھ سو سال بعد24 رمضان کو لوح محفوظ سے دنیاوی آسمان پر پورے قرآن کا نزول ہوا اور اسی ماہ کی اسی تاریخ کو خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کا نزول شروع ہوا۔ (تفسیر مظہری ،2 /181، روح المعانی ،2/61)

دوسری خصوصیت: روایات کے مطابق اس مبارک مہینے میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے آزادی عطا فرما دی جاتی ہے جو اعمالِ بد کے حوالے سے جہنم کے مستحق ہوچکے ہوتے ہیں، نیز جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے اس آخری دن جتنی تعداد جہنم سے آزاد کردی گئی ہوتی ہے اس تعداد کے برابر اس ایک دن میں ایمان والوں کو جہنم سے آزادی کے پروانے عطا کردیے جاتے ہیں۔(کنزالعمال ، 8 / 268)

تیسری خصوصیت:اس مبارک مہینے میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں اعمال کی قیمت میں اضافہ کردیا جاتا ہے، اس مبارک مہینے میں ادا کیا جانے والا ایک نفلی عمل اجر کے اعتبار سے ایک فرض کے اجر کے برابر قرار دیا جاتا ہے اور ایک فرض کے اجر کے عمل کو ستّر(70) فرائض کے اجور تک بڑھا دیا جاتا ہے۔(شعب الایمان ، 3 / 305)

چوتھی خصوصیت:اسی ماہ مبارک میں نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے قیامت تک کے اپنے زمانوں میں پائے جانے والے اپنے عاشقین کو یہ خوشخبری بھی عطا فرمائی ہے کہ جس شخص نے بھی رمضان کے مہینے میں عمرہ کیا گویا اس نے میرے ساتھ حج کیا۔(بخاری شریف ، 2 /251)

پانچویں خصوصیت: نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہر اس شخص کو جس کے ماتحت نوکر، خادم یا غلام وغیرہ ہوں اس کے کاموں میں اس کے بوجھ کو ہلکا کر دینے کی ترغیب دلاتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے : جو لوگ اس مہینے میں اپنے ماتحت کی ذمہ داریوں میں کچھ کمی کردیں اﷲ پاک ان کی مغفرت فرماتے ہوئے ان کو آگ (جہنم) سے آزادی عطا فرما دیتے ہیں۔(شعب الایمان ، 5 / 223)

رمضان المبارک میں چار چیزوں کی کثرت رکھیٔے):1) لَااِلٰہَ اِلَّااﷲُ (2) استغفار (3) جنت کی طلب (4)دوزخ سے پناہ،یہ چاروں چیزیں اس دعا میں جمع ہیں: لَااِلٰہَ اِلَّااﷲُ ، اَسْتَغْفِرُاﷲَ،اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ

لہذا میٹھے اسلامی بھائیو ! اس لئے اس ماہ مبارک کی دل و جان سے قدر کریں اور مذکورہ تمام فضائل حاصل کرنے کی فکر کریں۔ ورنہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا جو کچھ حاصل کرنا ہے جلدی کر لیں ورنہ آخرت میں پچھتانے سے کچھ نہ ہو گا۔ اس مہینے کی بہت ساری ایسی خصوصیات ہیں جو صرف اسی کے ساتھ خاص ہیں، کسی دوسرے مہینے کو وہ خصوصیات حاصل نہیں۔

سرکش شیاطین کا قید ہونا: آپ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیجیے کہ رمضان شروع ہوتے ہیں ساری دنیا میں مساجد آباد ہونا شروع ہو جاتی ہیں ، سحر و افطار ، روزه ، تراویح ، تلاوت قرآن ، ذکر اللہ ، صدقہ و خیرات اور دیگر عبادات میں لوگ مشغول ہو جاتے ہیں ۔ یہ اس لیے کہ سرکش شیاطین قید ہوتے ہیں ۔ باقی جو کچھ گناہ سرزد ہوتے ہیں وہ نفس کی خباثت کا اثر ہوتا ہے اور سال بھر میں گناہوں کی کثرت کی وجہ سے دل سیاه ہو چکا ہوتا ہے اور بعض گناه دل کی سیاہی کی وجہ سے طبیعت کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ ہر گناہ شیاطین کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ کبھی گناہوں کا سبب نفس بھی ہوتا ہے ۔ اس لئے صوفیاء و مشائخ کی محنت نفس کی اصلاح ہوتی ہے ۔

آخری رات میں بخشش: رمضان المبارک کی آخری رات بہت قیمتی ہوتی ہے ۔ اس رات میں اللہ پاک روزہ داروں کی بخشش فرماتے ہیں مہینہ بھر روزہ رکھنے کا انعام عطا فرماتے ہیں ۔ لیکن ہم اس رات موج مستی میں مصروف ہوتے ہیں ، حالانکہ یہی تو وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ سے اپنی بخشش کرائی جائے ، اپنے لئے مغفرت کا فیصلہ کرایا جائے ۔ اے کاش !ہمیں اس بات کا احساس ہو سکے کہ ہم کتنی بڑی دولت اپنے ہاتھ سے ضائع کر بیٹھتے ہیں ۔

اللہ پاک ہمیں یہ تمام خصوصیات عطا فرمائے اور اس رمضان کو ہماری بخشش کا فیصلہ فرما دے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم