ایک ایسا مہینہ جس کا انتظار سال بھر کیا جاتا ہے جس کو
پانے کیلئے دعائیں کی جاتیں ہیں وہ عظمتوں رحمتوں برکتوں رفعتوں والا پیارا مہینہ
جس کی ہر گھڑی رحمت بھری جس کی ایک کی
ساعت میں ہزاروں کو جہنم سے آزادی ملے اس
برکت والے مہینے کا نام ہماری مقدس کتاب قرآن مجید میں ذکر کیا گیا اور وہ عظمت
والا مہینہ رمضان المبارک ہے۔ جی ہاں اسی
کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ اللہ ارشاد
فرماتا ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ
هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ-ترجَمۂ کنزُالایمان:
رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی
روشن باتیں۔(پ 2،البقرہ:185)
اگر ہم اس کو سمجھنے کیلئے آسان کریں تو یہ بنے گا کہ اے
لوگوں رمضان تو مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا یعنی رمضان المبارک کا مہینہ بہت
عظمت والا ہے اور جب اس کی نسبت قرآن پاک اترنے کی طرف کی گئی تو رمضان المبارک کی
عظمت کو مزید چار چاند لگ گئے۔
رمضان المبارک ہی وہ پیارا مہینہ ہے جس کے لئے جنت کو سجایا
جاتا ہے اللہ پاک کے اور آخری نبی صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :بے شک جنت سال کے شروع سے اگلے سال تک
رمضان المبارک کیلئے سجائی جاتی ہے۔( شعب الایمان ،3 /312) دیکھے جنت خود اتنی
خوبصورت ہے کہ جس کی ایک اینٹ سونے کی دوسری چاندی ہے اور خود بھی سجی سجائی اور
پھر بھی رمضان المبارک کی عظمت کیلئے مزید سجائی جاتی ہے اور اس کی سجاوٹ ہمارے
وہم و گمان سے وراء ہے۔ رمضان المبارک میں
تو مسلمانوں کے وارے ہی نیارے ہیں کہ ذکراللہ کی بہت فضیلت ہےمگر رمضان المبارک
میں ذکر کرنے والوں کے متعلق سرکار صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ رمضان ذکراللہ کرنے والے کو بخش دیا
جاتا ہے اور اس مہینے میں اللہ پاک سے مانگنے والا محروم نہیں رہتا۔( شعب الایمان ،
3/311) اور حضرت ابراہیم نخعی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں رمضان المبارک میں ایک
مرتبہ تسبیح کرنا( سبحان اللہ) کہنا رمضان المبارک کے علاوہ میں ایک ہزار
مرتبہ تسیح کہنے سے افضل ہے۔( تفسیر در منثور ،1/404)
اللہ ہمیں رمضان المبارک کی عظمت کو سمجھ کر اس میں روزے
رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ
النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد طلحٰہ خان عطاری
(درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان خلفائے
راشدین راولپنڈی،پاکستان)
اسلامی سال کے ہر مہینے کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں اور
بالخصوص رمضان المبارک کی بے شمار خصوصیات ہیں کہ یہ وہ مہینہ ہے جو تمام اسلامی
مہینوں کا سردار ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، اس کے علاوہ کسی
اسلامی ماہ کا ذکر نہیں۔ اسی طرح اور بہت سی خصوصیات اللہ پاک نے رمضان المبارک کو
عطا کیں۔ رمضان المبارک کی بے شمار خصوصیات میں سے پانچ منفرد خصوصیات کا ذکر کیا
جاتا ہے:
(1)قرآن مجید : اللہ پاک فرماتا ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ
اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ ترجمۂ
کنزالایمان : رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا۔(پ 2،البقرہ:185) یعنی رمضان المبارک کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس مہینے میں قرآن مجید آسمانِ
دنیا پر اترا۔
(2)لیلۃ القدر : اللہ پاک کا فرمان ہے: اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ
الْقَدْرِۚۖ(۱) ترجمۂ کنزالایمان : بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا۔(پ 30،قدر :1)چونکہ قرآن مجید رمضان میں نازل ہوا اور شب قدر میں نازل
ہوا تو معلوم ہوا کہ شب قدر رمضان المبارک کے مہینے میں ہے اور یہ رات اتنی اعلٰی
ہے کہ اللہ پاک فرماتا ہے :لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﳔ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ(۳)ترجمۂ کنزالایمان : شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ۔(پ 30،قدر :3)
(3)حکمت والے کاموں کی تقسیم :اللہ پاک فرماتا ہے:فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ(۴)ترجمہ کنزالعرفان :اس رات میں ہر حکمت والا کام بانٹ دیا
جاتا ہے (پ 25 ، دخان :4)مفسرین نے فرمایا اس رات سے مراد شب قدر ہے یعنی رمضان کا
مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ایسی ہے کہ اس رات میں سال بھر کے تمام حکمت
والے کام جیسے موت وحیات ، رزق وغیرہ کے احکام فرشتوں میں بانٹ دیئے جاتے ہیں۔
(4)شیاطین کا قید ہونا : حضور نبی کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے کہ جب ماہ رمضان آتا ہے تو شیاطین
زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم
، کتاب الصیام ، باب فضل شھر رمضان، حدیث: 1079، ص850) یہی وجہ ہے کہ باقی گیارہ
ماہ کے مقابلے رمضان المبارک میں مسلمان کثرت سے عبادت اور ریاضت کرتے ہیں۔
(5) عمرے کا ثواب حج کے برابر : حضور صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے کہ رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے۔(سنن
ابن ماجہ ، حدیث: 2993)بقیہ مہینوں میں عمرہ کرنے کا بلا شبہ بہت ثواب ہے لیکن جو
فضیلت رمضان کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں ۔ اسی لیے کوشش کرنی چاہیے کہ اس فضیلت
کو حاصل کرنے کے لیے جب بھی عمرہ کرنا ہو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں کیا جائے
اور ساتھ صحیح العقیدہ عالمِ دین بھی ہو تو کیا ہی بات ہے۔
رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے
کہ محروم ہے وہ شخص جس نے رمضان کو پایا اس کی مغفرت نہ ہوئی کہ جب اس کی رمضان
میں مغفرت نہ ہوئی تو پھر کب ہوگی۔(معجم اوسط ، 5 /366 ، حدیث :7627)
لہذا ہمیں چاہیے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں خصوصیت کے
ساتھ عبادات و ریاضات کا سلسلہ رکھیں،گناہوں سے بچیں، خوب صدقہ و خیرات کریں ،اور
مغفرت اور بخشش کی خلوصِ دل کے ساتھ دعائیں کریں،انشاء اللہ الکریم دنیا میں بھی
اللہ کی رحمتیں اور برکتیں حاصل ہوں گی اور آخرت میں بھی بیڑا پار ہو جائے گا۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
حافظ ضمیر علی(درجہ ثالثہ
جامعۃ المدینہ آفندی ٹاؤن حیدر آباد،پاکستان)
رمضان المبارک کی
پانچ منفرد خصوصیات :
(1) پیارے آقا سلطان دو جہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا: رمضان شریف کی ہر شب آسمانوں میں صبح صادق تک ایک منادی یہ ندا کرتا ہے۔
اے اچھائی مانگنے والے، مکمل کر ( اللہ پاک کی اطاعت کی طرف آگے بڑھ ) اور خوش ہو
جا۔ اور اے شریر! شر سے باز آجا اور عبرت
حاصل کر۔ ہے کوئی مغفرت کا طالب اس کی طلب پوری کی جائے ، ہے کوئی توبہ کرنے والا
کہ اس کی توبہ قبول کی جائے ، ہے کوئی دعا مانگنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے ،
ہے کوئی سائل کہ اس کا سوال پورا کیا جائے ۔ اللہ پاک رمضان المبارک کی ہر شب میں
افطار کے وقت ساٹھ ہزار گناہگاروں کو دوزخ سے آزاد فرما دیتا ہے اور عید کے دن
سارے مہینے کے برابر گناہگاروں کی بخشش کی
جاتی ہے۔(فیضان سنت، باب فضائل رمضان شریف ، ص 34)
(2)آخری نبی مکی
مدنی مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ماہ شعبان کے آخری دن فرمایا :اے
لوگو! تمہارے پاس عظمت والا برکت والا مہینہ آیا وہ مہینہ جس میں ایک رات ایسی
بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس
(ماہ مبارک ) کے روزے اللہ پاک نے فرض کیے۔ اور اس کی رات میں قیام سنت ہے۔(فیضان
سنت، باب فیضان رمضان ، ص24)
(3) رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70
گنا ملتا ہے۔(ایضاً، ص28)
(4) رمضان میں
ابلیس قید کر لیا جاتا ہے ، دوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں ، جنت آراستہ کی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔(ایضاً،
ص28)
(5) رمضان شریف میں
افطار اور سحری کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ یعنی افطار کرتے وقت اور سحری کھا کر۔ یہ
مرتبہ کسی اور مہینے کو حاصل نہیں۔(ایضاً، ص30)
ہر گھڑی رحمت
بھری ہے ہر طرف ہیں برکتیں
ماہِ رَمضاں
رحمتوں اور برکتوں کی کان ہے
ہماری خوش
قسمتی کہ اللہ پاک
نے اپنے آخری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے صدقے ہم
کو اپنی رحمتوں، برکتوں اور نعمتوں سے مالا مال جھومتا، مسکراتا اپنا پیارا پیارا
اور مقدّس مہینا رمضان عطا فرمایا۔ ماہِ رمضان کی تو کیا ہی شان ہے،اس مقدس مہینے کے
ہر ہر لمحے میں اللہ پاک کی رحمتوں کی خوب برسات ہوتی ہے۔
یوں تو سارے مہینے ہی مقدس اور خوب برکتوں والے
ہیں مگر جو خوبیاں اور خصوصیات رمضان کے ساتھ خاص ہیں وہ کسی اور مہینے کے ساتھ
نہیں۔خاص سے مراد وہ بات یا کام ہے جو صرف ایک ہی شے یا چیز میں پایا جائے۔ معزز
قارئین آئیے ہم بھی ماہِ رمضان کی چند منفرد خصوصیات ملاحظہ کرتے ہیں:
(1)رمضان میں قراٰن پاک کا نازل ہونا: اللہ پاک
نے ماہِ رمضان میں قراٰنِ پاک کے نزول کی ابتدا فرما کر اس کی عظمتوں اور برکتوں
کو مزید چار چاند لگا د یئے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجَمۂ کنزُالایمان:
رمضان کامہینہ،جس میں قراٰن اتارا۔(پ 2، البقرہ :185)
(2)لیلۃُ القدر کا رمضان میں ہونا: رمضانُ
المبارک میں شبِ قدر بھی اپنی بھرپور برکتوں کے جلوے لٹا رہی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری
تعالیٰ ہے: ترجَمۂ کنزُالایمان:بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر،شب
قدر ہزار مہینوں سے بہتر۔(پ30،القدر:1تا 3)
سُبْحٰنَ
اللہ ! اللہ پاک نے شب ِقدر کو اس مہینے میں رکھ
کر دوسرے مہینوں کے مقابلے میں اس مہینے کی شان میں مزید اضافہ فرما دیا ۔جمہور
علمائے کرام و مفسّرینِ عظام کے نزدیک شبِ قدر جیسی بابرکت رات ماہِ رمضان کی
ستائیسویں شب ہے۔
(3)کاش سارا سال رمضان ہی ہوتا:
اس طرح رمضان ایسا مبارک مہینا ہے جس کی تشریف آوری پر مسلمانوں کے چہرے خوشی سے
کِھل اٹھتے ہیں اور جب یہ مہینا رخصت ہوتا ہے تو عشّاق اس کی جدائی کے غم میں خوب
اشک بہاتے ہیں۔ اسی لئے تو نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد
فرمایا :اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری اُمّت تمنا کرتی کہ کاش!
پورا سال رَمضان ہی ہو۔(صحیح ابنِ خُزیمہ، 3/ 190، حدیث: 1886)
(4)خصوصی عبادات:
ماہِ رمضان کی ایک اور منفرد خصوصیت جو کسی اور مہینے میں نہیں وہ یہ کہ اس
مہینے میں کوئی اور فرض روزے نہیں رکھ سکتے سوائے رمضان کے فرض روزوں کے۔ اس کے
علاوہ تین ایسی عبادات ہیں جن کی سعادت صرف رمضانُ المبارک میں ہی ملتی ہے وہ یہ
ہیں:(۱)تراویح (۲)سنّتِ اعتکاف (۳)شبِ قدر میں عبادات۔
(5)شیطان کا قید ہونا:
ماہِ رمضان کی ایک خصوصیت جو اسے دوسرے مہینوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ رمضان کے
مبارک مہینے میں شیطان مردود کو قید کر دیا جاتا ہے، جبکہ رمضان کا مبارک مہینا
رخصت ہوتے ہی دوبارہ آزاد کر دیا جاتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں
صحیح معنوں میں رمضانُ المبارک کی قدر کرنے اور اس میں خوب خوب عبادات کرنے کی
توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن
بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ محمد سہیل،دہلی
نماز کی فضیلت:حضرت جابر رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم نے ارشاد فرمایا: بندے اور اس کے کفر کے درمیان فرق صرف
نماز کا چھوڑنا ہے۔(مسلم،حدیث: 82)اللہ پاک
فرماتا ہے:حفظوا
علی الصلوات والصلوة الوسطی،وقوموا للہ
قنتین0 ترجمہ ۔ تمام
نمازوں خصوص بیچ والی نماز (عصر) کی محافظت رکھو اور اللہ کے حضور ادب سے کھڑے
رہو۔(پ 2، البقرۃ: 238)رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے ار شاد فرمایا:وہ شخض دوزخ میں نہیں جائے گا جو سورج
نکلنے سے پہلے( یعنی فجر)اور سورج ڈوبنے سے پہلے (یعنی عصر) نماز پڑھے
گا۔(نسائی ، 1،حدیث: 474)ابنِ ابی
خالد، مسعر اور بختری بن مختار نے یہ روایت ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے سنی ،انہوں
نے اپنے والد سے روایت کی ،انہوں نے کہا :میں نے رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:وہ شخص ہر گز آگ میں داخل نہیں ہوگا
جو سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتاہے، یعنی فجر اور عصر کی
نمازیں۔اس پر بصرہ کے ایک آدمی نے ان سے کہا:کیا آپ نے یہ روایت رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم سے سنی تھی؟انہوں نے کہا: ہاں!اس آدمی نے کہا: میں شہادت
دیتا ہوں کہ میں نے بھی یہ روایت ر سول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم سے سنی ہے، میرے دونوں کانوں نے اسے سنا اور مرے دل نے اسے
یاد رکھا۔(مسلم،حدیث:1436)رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نےارشاد فرمایا :تم میں سے کسی کے اہل اور مال میں کمی کردی
جائے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے کہ اس کی نمازِ عصر فوت ہوجائے۔(مجمع
الزوائد ، 2/ 50، حدیث: 145)فرمانِ
مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم :جب مردہ قبر میں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج ڈوبتا
ہوا معلوم ہوتا ہے، وہ آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھتا اور کہتا ہے:دعونی اصلی ذرا
ٹھہرو! مجھے نماز تو پڑھنے دو۔(ابن ماجہ، حدیث:4272:ج 06، ص 503)حکیم الامت مفتی احمد یار خان
نعیمی رحمۃُ
اللہِ علیہ اس حدیثِ پاک کے اس حصے ”دعوی اصلی(یعنی ذرا ٹھہرو مجھے
نماز تو پڑھنے دو)“ کے بارے میں فرماتے ہیں: یعنی اے فرشتو ! سوالات بعد میں کرنا، عصر کا وقت جارہا ہے مجھے نمازِ
عصر پڑھ لینے دو۔یہ وہ کہے گا جو دنیا میں نمازِ عصر کا پابند تھا، اللہ پاک نصیب
کرے۔مزید فرماتے ہیں:ممکن ہے کہ اس پر سوا ل و جواب ہی نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان ، کیونکہ اس کی
یہ گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہوچکی۔(بہار شریعت ج 1:ص 110) امام احمد
ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے، حضور نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم فرماتے ہیں:رات اور دن کے ملائکہ نمازِ فجر و عصر میں جمع
ہوتے ہیں، جب وہ جاتے ہیں تو اللہ پاک ان سے فرماتا ہے:کہاں سے آئے؟حالانکہ وہ
جانتا ہے،عرض کرتے ہیں:تیرے بندوں کے پاس سے،جب ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ
رہے تھے اور انہیں نماز پڑھتا چھوڑ کر تیرے پاس حاضر ہوئے۔(مسندامام احمد ، مسند ابی ہر یرہ،حدیث:
7394:ج3: ص 68۔ بہار
شریعت ، 3/442)
بخاری:552:نبیِ
کریم صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس کی نمازِ عصر چھوٹ گئی گویا اس کا گھر اور
مال سب لٹ گیا یعنی عصر مبارک نماز کا فوت ہونا بربادیِ اعمال میں سے ہے۔مسلم:1468:
پیارے آقا صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ شخص ہر گز جہنم میں نہیں جائے گا جو
سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنےسے پہلے نماز پڑھے یعنی جو فجر اور عصر کی نماز
ادا کرے۔بخاری:573:حضرت جریر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے
ہیں:ہم لوگ نبیِ کریم صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا ،پھر فرمایا :تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح
دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو ،اسے دیکھنے میں تم کو کسی بھی قسم کی مشقت
اور تکلیف نہیں ہو گی۔ اس لیے اگر تم سے سورج کے طلوع سے پہلے(فجر)اور غروب سے پہلے(عصر)کی نمازوں کے
پڑھنے میں کوتاہی نہ ہو سکے تو ایسا ضرور کرو ،پھر آپ نے اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت
کی:فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا ترجمہ:تو سورج نکلنے اور
ڈوبنے سے پہلے اللہ کی پاکیزگی بیان کرو۔حدیثِ پاک
میں ہے:رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو فجر اور عصر کی نماز پڑھے وہ جنت میں داخل
ہوگا۔حدیثِ پاک میں ہے:رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو
فجر اور عصر پڑھے وہ جنت میں داخل ہوگا۔صحیح
ابوداود:428:حضرت فضالہ لیثی رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت
ہے،رسول اللہ صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ پانچوں نمازوں پر محافظت کرو۔میں نے کہا:
یہ ایسے اوقات ہیں جن میں مجھے بہت کام ہوتے ہیں لہٰذا آپ مجھے ایسا جامع کام کرنے
کا حکم دیجیے کہ جب میں اس کو کروں تو وہ مجھے کافی ہوجائے۔آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:عصرین پر محافظت کرو۔ عصرین کا لفظ ہماری زبان میں مروج نہ تھا اس
لیے میں نے پوچھا:عصرین کیا ہے؟ آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: دو
نماز ایک سورج نکلنے سے پہلے اور ایک سورج ڈوبنے سے پہلے (یعنی فجر اور عصر۔)
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ
طارق محمود،سیالکوٹ
حضرت عبداللہ بن
عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔(بہار شریعت،1/661،حصہ:4)(2)حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ
عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے اللہ کریم اس کے بدن کو آگ پر حرام
کر دے گا۔(بہار شریعت،1/661،حصہ:4) (3) اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جس کی
نمازِعصر نکل گئی یعنی کہ جان بوجھ کر چھوڑ دی گویا اس کے اہل و عیال اور مال چھین
لیے گئے۔(فیضانِ
نماز،ص106) مولیٰ علیرضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
حضور صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔(بہار شریعت،1/4،حصہ:661)(5)عمرو بن عاص رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے، حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجمعِ صحابہ میں جبکہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے فرمایا: جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے اسے
آگ نہ چھوئے گی۔ (بہار شریعت،1/661،حصہ:4)
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ
محمدحنیف،برج اناڑی
ہر مسلمان عاقل
بالغ مرد و عورت پر روزانہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے ۔اس کی فرضیت یعنی فرض ہونے کا
انکار کفر ہے۔ جو جان بوجھ کر ایک نماز ترک کرے وہ فاسق، سخت گنہگار اور عذابِ نار
کا حق دار ہے۔
جنت ایک بے نمازیو! کس طرح پاؤ گی؟
ناراض رب ہوا تو جہنم میں جاؤ گی
نمازِ عصر کس نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی:حضرت عزیر علیہ
الصلوۃ والسلام سو برس کے بعد زندہ فرمائے گئے، اس کے بعد آپ نے چار رکعتیں
ادا کیں تو یہ نمازِ عصر ہو گئی۔(شرح معانی الآثار،1/226،حدیث:1014)نمازِ عصر
کی فضیلت: نمازِ عصر کی درج ذیل فضیلتیں ہیں: (1)حضرت ابو بصرہ غفاری رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، نور والے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں
نے اسے ضائع کر دیا،لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا یعنی double اجر ملے گا۔(مسلم،ص322،حدیث:1927) (2)حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، رحمتِ عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ معظم ہے:جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا
معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا اور کہتا ہے:مجھے چھوڑ دو میں نماز
پڑھ لوں۔(ابن ماجہ،4/503،حدیث:4272) ابواحمدو ابو داؤد وترمذی بافادۂ تحسین عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے راوی،رسول
اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم فرماتے ہیں:اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے
چار رکعتیں پڑھیں۔(ابوداود،2/35،
حدیث:1271)(4)حضرت عمارہ بن
رویبہ رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں:میں نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے یعنی نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے
نماز ادا کی یعنی جس نے فجر اور عصر کی نماز پڑھی وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا ۔(مسلم،ص25،حدیث:1436)(5)علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:پانچوں نمازوں میں
سے افضل نمازِ عصر ہے، پھر نمازِ فجر ،پھر عشا، پھر مغرب، پھر ظہر۔ (فیض القدیر،2/53)
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از بنتِ
ظفر نسیم،کراچی
عصر کا معنی” دن
کا آخری حصہ“ چونکہ یہ نماز اسی وقت میں ادا کی جاتی ہے اس لیے اس نماز کو عصر کی
نماز کہا جاتا ہے۔حضرت عزیر علیہ السلام سو برس کے بعد
زندہ فرمائے گئے اس کے بعد آپ نے چار رکعتیں ادا کیں تو یہ نمازِ عصر ہو گئی۔ پانچ
فرامینِ مصطفٰے صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم :روایت ہے حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ
اللہُ عنہا سے، فرماتی ہیں: نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم بمقابلہ تمہارے جلدی ظہرپڑھتے تھے اور تم عصر حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے جلدی پڑھتے ہو۔(احمد و
ترمذی/مراۃ المناجیح،1/379)اس حدیث سے معلوم
ہوا !عصر کی نماز وقت شروع ہوتے ہی نہ پڑھے کچھ دیر سے پڑھے، اگر حضور دو وقت شروع
ہوتے ہی پڑھا کرتے تو یہ حضرات اس سے پہلے کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ روایت ہے، حضرت
عمارہ بن رویبہ رَضِیَ
اللہُ عنہ سے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا :وہ شخص آگ میں ہر گز
داخل نہ ہوگا جو سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے کی نمازیں پڑھتا رہے یعنی فجر اور
عصر۔(مسلم،مراۃ المناجیح،ص381) روایت ہے،حضرت ابنِ مسعود اور سمرہ ا بنِ جندب سے،فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: بیچ کی نماز عصر ہے۔(ترمذی،مراۃ المناجیح،ص385) (کیونکہ یہ نماز دن اور رات کی نمازوں کے درمیان ہے نیز اس
وقت دنیاوی کاروبار زیادہ زور پر ہوتے ہیں اس لیے اس کی تاکید زیادہ فرمائی گئی
اکثر صحابہ کا یہی قول ہے)حضرت ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
نور والے آقا صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش
کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا
اجر ملے گا۔(فیضانِ
نماز،ص30)حضرت جریر بن عبداللہ
رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،ہم حضور پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے، آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے چودہویں رات
کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو جس طرح
اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تو اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو نمازِ فجر نہ چھوڑو۔ پھر
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:وسبح
بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل غروبھا ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی سورج چمکنے سے پہلے اور
اس کے ڈوبنے سے پہلے۔ (مسلم،ص239،حدیث:1434)
(1) جو عصر سے پہلے چار رکعتیں
پڑھے اللہ پاک اس کے بدن کو آگ پر حرام فرما دے گا۔(معجم کبیر،23/281،حدیث:211-فیضانِ نماز،ص109)(2) حضرت جابر بن
عبداللہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت
ہے، رحمتِ عالم صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ معظم ہے:جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو
اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا اور کہتا ہے:مجھے
چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں۔(فیضانِ نماز،ص107)(3)حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
نور والے آقا صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش
کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا
اجر ملے گا۔ (فیضانِ
نماز،ص104) (4)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے راوی،رسولِ
پاک صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:اللہ پاک اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے
پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔(بہار
شریعت،1/661)(5)امام احمد ابو حریرہ رضی اللہ عنہ سے راوی ،حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں: رات اور دن کے ملائکہ نمازِ فجر و عصر میں جمع ہوتے ہیں جب وہ
جاتے ہیں تو اللہ پاک ان سے فرماتا ہے: کہاں سے آئے؟ وہ جانتا ہے عرض کرتے ہیں: تیرے
بندوں کے پاس سے جب ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انہیں نماز پڑھتا
چھوڑ کر تیرے پاس حاضر ہوئے ہیں۔(بہار شریعت،1/440)
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ مشتاق،بھٹہ کی باڑ
حدىث نمبر 1:فرشتوں
کى تبدىلىوں کے اوقات:حضرت ابوہرىرہ رَضِىَ اللہُ عنہ سے رواىت
ہے، مدىنے کے تاجدار صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشا دفرماىا:تم مىں رات اور دن کے فرشتے بارى بارى آتے
ہىں اور فجر و عصر کى نمازوں مىں جمع ہوجاتے ہىں پھر وہ فرشتے جنہوں نے تم مىں رات
گزارى ہے اوپر کى طرف چلے جاتے ہىں، اللہ پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا
ہے:تم نے مىرے بندوں کو کس حال مىں چھوڑا؟ وہ عرض کرتے ہىں: ہم نے انہىں نماز پڑھتے
چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب
بھى وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخارى 1، ص 2:3
، حدىث 555)حدىث نمبر2:عصر پڑھنے والا جہنم مىں نہىں جائے گا:حضرت عمارہ بن رویبہ رَضِىَ
اللہُ عنہ فرماتے ہیں: مىں نے مصطفٰے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا:جس
نے سورج کے طلوع و غروب ہونے(ىعنى نکلنے اور
ڈوبنے) سے پہلے نماز ادا کى( ىعنى جس نے فجر و عصر کى پڑھى) وہ ہر گز جہنم
مىں داخل نہ ہوگا۔( مسلم ص 25،حدىث 1436)حدىث نمبر3:نمازِ عصر کا ڈبل اجر:حضرت ابوبصرہ غفارى رضی اللہ عنہ سے رواىت ہے،نور
والے آقا صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:ىہ نماز ىعنى نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر
پىش کى گئى تو انہوں نے اسے ضائع کردىالہٰذا جو اسے پابندى سے ادا کرے گا،اسے دگنا
ىعنى (Double) اجر ملے گا۔ (مسلم ص 322،
حدىث: 1937) حدىث نمبر4:عصر کى سنتوں کى فضىلت :فرمانِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:اللہ پاک اس شخص پر رحم کرے جس نے
عصر سے پہلے چار رکعتىں پڑھىں۔(ابوداود ج 2، ص
35، حدىث:1271)حدىث نمبر5:عصر کى سنتوں کى فضىلت:فرمانِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:جو عصر سے پہلے چار رکعتىں پڑھے، اللہ پاک اس کے بدن کو آگ پر حرام فرمادے
گا۔
نمازِ عصر کی فضیلت و اہمیت پر 5 فرامینِ مصطفٰے از
بنتِ محمد شفیع،سرنکوٹ
1: نمازِ عصر کا
ڈبل اجر: حضرتِ ابو بَصرہ غِفارِی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نُور والے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش
کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کردیا لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرےگا اسے دُگنا(یعنی Double) اجر ملے گا۔ (مسلم، ص322، حدیث:1927) حضرتِ مفتی احمد یار
خان رحمۃ اللہ
علیہ اِس حدیثِ
پاک کے تَحت لکھتے ہیں:یعنی پچھلی اُمَّتوں پر بھی نمازِ عصر فرض تھی مگر وہ اِسے
چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مُستحق ہوئے، تم ان سے عِبرت پکڑنا۔ (مراۃ المناجیح،2/1927) دگنے اجر کی وجوہات کے مدنی پھول:پہلا اجر پچھلی امّتوں کے لوگوں کی
محالفت کرتے ہوئے عصر کی نماز پر پابندی کی وجہ سے ملے گاجس طرح دیگر نمازوں کا
ملتا ہے۔ پہلا اجر عبادت پر پابندی کی وجہ سے ملے گا اور دوسرا اجر قناعت کرتے ہوئے
خریدو فروحت چھوڑنے پر ملے گا کیوں کہ عصر کے وقت لوگ بازاروں میں کام کاج میں
مصروف ہوتے ہیں۔ پہلا اجر عصر کی فضیلت کی
وجہ سے ملے گا کیوں کہ یہ صلوۃِ وسطی (یعنی درمیانی نماز) ہے اور دوسرا اجر اس کی پابندی کے سبب ملے گا۔2:اہلو عیال
اور مال میں بربادی :صحابی ابنِ صحابی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت
ہے، اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جس کی نمازِ عصر نکل گئی( یعنی جو
جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گویا اس کے مال و عیال وتر ہو (یعنی چھین لیے) گے۔وتر کا مطلب:حضرت علامہ ابو سلیمان خطابی شافعی رحمۃُ
اللہِ علیہ فرماتے ہیں
:وتر کا معنیٰ ہے:نقصان ہونا یا چھین جانا۔پس جس کے بال بچے چھن گے یا اس کا نقصان
ہو گیا گویا وہ اکیلا رہ گیا۔ لہٰذا نماز کے فوت ہونے سے انسان کو اس طرح ڈرنا چاہیے
جس طرح وہ اپنے گھر کے افراد اور مال و دولت کے جانے (یعنی برباد ہونے) سے ڈرتا ہے۔3:حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رحمتِ عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ معظم ہے: جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو
اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھتا اور کہتا ہے:
مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں۔ ( ابنِ ماجہ،4 /503، حدیث:4272)اے فرشتو! سوالات بعد میں کرنا:حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار
خان رحمۃ اللہ
علیہ حدیثِ پاک
کے اس حصے ” سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے“کے تحت فرماتے ہیں :یہ احساس منکر نکیر
کے جگانے پر ہوتا ہے خواہ دفن کسی وقت ہو ۔چونکہ نمازِ عصر کی زیادہ تاکید ہے اور
آفتاب( یعنی
سورج ) کا ڈوبنا
اس کا وقت جاتے رہنے کی دلیل ہے،اس لیے یہ وقت دکھایا جاتا ہے۔حدیث کے اس حصے ”مجھے
چھوڑو میں نماز پڑھ لوں “کے تحت لکھتے ہیں : یعنی اے فرشتو!سوالات بعد میں کرنا
عصر کا وقت جا رہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔ یہ وہی کہے گا جو دنیا میں نمازِ عصر
کا پابند تھا۔ اللہ نصیب کرے۔ اسی لیے رب کریم فرماتا ہے : ترجمۂ کنزالایمان: نگہبانی ( یعنی خفاظت ) کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی۔ ( پ2 البقرہ: 238
) یعنی تمام
نمازوں کی حصوصاً عصر کی بہت نگہبانی ( یعنی حفاظت) کرو۔صوفیا فرماتے ہیں:جیسے جیو گے ویسے ہی مرو گے اور جیسے
مرو گے ویسے ہی اٹھو گے۔خیال رہے! مومن کو اس وقت ایسا معلوم ہوگا جیسے میں سو کر
اٹھا ہوں نزع وغیرہ سب بھول جاے گا۔ ممکن ہے کہ اس عرض ( مجھے چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں ) پر سوال جواب نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان کیونکہ اس کی یہ
گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہو چکی۔ (مراۃ
المناجیح،1/ 142) 4: فرشتوں
کی تبدیلیوں کے اوقات :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مدینے کے تاجدار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :تم میں رات اور دن کے فرشتے باری باری
آتے ہیں اور فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہو جاتے ہیں پھر وہ فرشتے جنہوں نے تم میں
رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں اللہ پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا
ہے:تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟عرض کرتے ہیں:ہم نے انہیں نماز پڑھتے
چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔( بخاری ،/ 203 ،حدیث: 555 )حضرت مفتی احمد یار نعیمی رحمۃ اللہ علیہ حدیثِ پاک کے اس حصے ” فجر و عصر کی نمازوں میں جمع ہو
جاتے ہیں“ کے تحت فرماتے ہیں: یہاں فرشتوں سے مراد یا تو اعمال لکھنے والے دو
فرشتے ہیں یا انسان کی حفاظت والے ساٹھ فرشتے ہر نا بالغ کے ساتھ ساٹھ (60) فرشتے رہتے ہیں اور بالغ کے ساتھ 62 فرشتے اسی لیے نماز کے سلام اور دیگر سلاموں میں ان کی
نیت کی جاتی ہے ان ملائکہ کی ڈیوٹیاں بدلتی
رہتی ہیں دن میں اور رات میں مگر عصر و فجرپچھلے فرشتے جانے نہیں پاتے کہ اگلے ڈیوٹی
والے آجاتے ہیں تاکہ ہماری ابتدا و انتہا ( یعنی شروع کرنے اور ختم کرنے کی کیفیت ) کے گواہ زیادہ ہوں اس حصے” اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں“ کے
تحت لکھتے ہیں:اپنے ہیڈ کوارٹر کی طرف
جہاں ان کا مقام ہے ۔ مفتی صاحب حدیث کے اس حصے ” ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا
اور جب ہم ان کے پاس گے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے“ کے تحت تحریر کرتےہیں:اس کا
مطلب یا تو یہ ہے کہ فرشتے نمازیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں کہ آس پاس کی نیکیوں کا
ذکر اور درمیان کے گناہوں سے خاموشی یا یہ مطلب ہے کہ اے مولا ! جن بندوں ابتدا و
انتہا ( یعنی
شروعات اور ختم ہونے کی کیفیت ) ایسی ہو اس میں ہمیشہ برکت ہی رہتی ہے۔ ( مراۃ المناجیح،1/
394تا 395) 5: فجر و
عصر پڑھنے والا جہنم میں نہیں جائے گا: حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ
عنہ فرماتے
ہیں: میں نے مصطفے جانِ رحمت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے ( یعنی نکلنے اور ڈوبنے )سے پہلے نماز ادا کی( یعنی جس نے فجر و عصر کی نماز پڑھی) وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہو گا۔ ( مسلم،ص 250 ،حدیث:
1436)
Dawateislami