(1) حضرت سیدنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نماز پڑھی) وہ ہر گز  جہنم میں داخل نہ ہو گا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ فجر و عصر کی پابندی کرنے والا دوزخ میں ہمیشہ رہنے کے لئے نہ جائے گا ، اگر گیا تو عارضی (یعنی وقتی) طور پر۔ لہذا یہ حدیث کے خلاف نہیں کہ بعض لوگ قیامت میں نمازیں لے آئیں گے مگر ان کی نمازیں اہل حقوق (یعنی جن کے حقوق پامال کئے ہوں گے ان ) کو دلوادی جائیں گی۔ دوسرے یہ کہ فجر و عصر کی پابندی کرنے والوں کو ان شاءاللہ باقی نمازوں کی بھی توفیق ملے گی اور سارے گناہوں سے بچنے کی بھی ، کیونکہ یہی نمازیں (نفس پر) زیادہ بھاری ہیں۔ جب ان پابندی کرلی تو ان شاءاللہ بقیہ نمازوں پر بھی پابندی کرے گا ،لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ نجات کے لئے صرف یہ دو نمازیں ہی کافی ہیں باقی کی ضرورت نہیں۔ خیال رہے کہ ان دو نمازوں میں دن رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، نیز یہ دن کے کناروں کی نمازیں ہیں، نیز یہ دونوں نفس پر گراں (یعنی بھاری ) ہیں کہ صبح سونے کا وقت ہے اور عصر کاروبار کے فروغ (یعنی زور وشور) کا ، لہذا ان (نمازوں) کا درجہ زیادہ ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ،1 / 394)

حضرت سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم حضور پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:،، عنقریب (یعنی قیامت کے دن) تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تو اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو نماز فجر و عصر کبھی نہ چھوڑو ۔ پھر حضرت سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت مبارکہ پڑھی : وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَاۚ ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے۔(پ 16، طٰہٰ: 130)(مسلم، ص 239،حدیث: 1434 ملخصا)

حضرت سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور والے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو اسے پابندی سے ادا کریگا اسے دگنا ( یعنیDouble ) اجر ملے گا۔ (مسلم ص 322،حدیث: 1928 ) حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: یعنی پچھلی امتوں پر بھی نماز عصر فرض تھی مگر وہ اسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے ، تم ان سے عبرت پکڑنا۔ ( مراٰۃ المناجیح ، 2 / 166 )

تابعی بزرگ حضرت سیدنا ابو الملیح رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: ایک ایسے روز کہ بادل چھائے ہوئے تھے، ہم صحابی رسول حضرت سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے ، آپ نے فرمایا : نماز عصر میں جلدی کرو کیونکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ، جس نے نماز عصر چھوڑ دی اس کا عمل ضبط ہو گیا۔( بخاری ، 1 / 203 ،حدیث: 553)


دین کے بنیادی امور میں سے ایک اہم ترین امر نماز ہے۔ پانچوں نمازوں میں سے ہر ایک نماز  کی اپنی ایک فضیلت ہے، لیکن علامہ عبدالرءوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :پانچوں نمازوں میں سب سے افضل عصر کی نماز ہے۔(فیض القدیر، 2/53)

نہ صرف قرآن و احادیث میں نماز عصر کی فضیلت بیان کی گئی ہے بلکہ پچھلی آسمانی کتاب تورات میں بھی اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے چنانچہ حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ سے منقول ہے آپ نے فرمایا :میں نے تورات کے کسی مقام میں پڑھا (اللہ پاک فرماتا ہے) : اے موسیٰ عصر کی چار رکعتیں احمد اور ان کی امّت ادا کرے گی تو ساتوں آسمان و زمین میں کوئی فرشتہ باقی نہ بچے گا، سب ہی ان کی مغفرت چاہیں گے اور ملائکہ جس کی مغفرت چاہیں میں اسے ہرگز عذاب نہ دوں گا۔(حاشیہ فتاویٰ رضویہ ،5/52)

بہت سارے مقامات پر احادیث میں بھی نماز عصر کی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے ۔ ان میں سے پانچ فرامین درج ذیل ہیں:

(1) حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے سے پہلے نماز ادا کی (یعنی جس نے فجر اور عصر کی نماز پڑھی) وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

( 2) حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور والے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا تو لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے گا۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)

(3) صحابی رسول حضرت سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :نماز عصر میں جلدی کرو کیونکہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے نماز عصر چھوڑ دی، اس کا عمل ضبط ہوگیا۔ (بخاری ۔1/203، حدیث :553) مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :غالباً عمل سے مراد وہ دنیاوی کام ہے جس کی وجہ سے اُس نے نماز عصر چھوڑی( اور) ضبط سے مراد اس کام کی برکت کا ختم ہونا ہے۔ (مراۃالمناجیح ،1/381)

(4)حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس کی نماز عصر نکل گئی (یعنی جان بوجھ کر نماز عصر چھوڑے) گویا اس کے اہل وعیال و مال وتر ہو (یعنی چھین لیے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

(5) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان معظم ہے :جب مرنے والا قبر میں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے :مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں۔ (ابن ماجہ، 4/503،حدیث:4272)

آج اگر معاشرہ پر نگاہ ڈالی جائے تو عجیب ایک بے چینی کی فضاء دکھائی دیتی ہے، بہت سے لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ دل کا سکون میسر نہیں اور ذہن پریشان رہتا ہے آئیے سنتے ہیں اس کا حل کیا ہے، امام شعرانی فرماتے ہیں :میں نے سیّدی علی خواص رحمۃاللہ علیہ کو فرماتے سنا ہے کہ روح کی غذا یعنی معنوی رزق جو کہ دکھائی نہیں دیتا (یعنی دل و دماغ کا سکون جس پر مبنی ہوتا ہے) اللہ پاک عصر کی نماز سے لیکر غروب آفتاب تک تقسیم فرماتا ہے۔(لواقح الانوارالقدسیۃ،ص67) روایت کا مقصد یہ ہے کے اس وقت کو غفلت میں نہ گزارو بلکہ ذکر وعبادت میں بسر کرو۔

ایک طرف اگر ہم اس وقت کو عبادت میں گزاریں گے تو ڈھیروں ڈھیر ثواب تو ہاتھ آئے گا ہی دوسری طرف اُس کی برکت سے ہمیں دل و دماغ کا سکون بھی عطا کیا جائے گا۔ تو ہمیں چاہیے کہ ویسے تو سارا دن ہی اللہ کی رضا کے کاموں میں گزاریں لیکن بالخصوص عصر کے وقت کو اللہ پاک کی عبادت کرتے ہوئے گزاریں۔

اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ پاک ساری زندگی ہمیں اپنی رضا کے کاموں میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


نماز دینِ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے ہر عبادت کا ایک ستون اور پایہ ہوتا ہے جس پر پوری عمارت کا دارو مدار ہوتا ہے، اگر کبھی اس ستون پر کوئی آفت آجائے تو پوری عمارت زمیں بوس ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سے نماز ایک دیندار انسان کے دین و عقائد کے لئے ایک ستون کے مانند ہے۔پیارے پیارے اسلامی بھائیوں! نمازِ پنجگانہ مسلمانوں کے لئے ایک اہم ترین فریضہ ہے۔ اسلامی عبادات میں سب سے افضل عبادت نماز ہے۔ قرآن و حدیث میں نماز کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں ۔جن میں سے نماز عصر کی اہمیت و افضلیت پر 5 فرامین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ذکر کیے جاتے ہیں:۔

(1) حضرت عمارہ بن روبیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہرگز جہنم میں نہیں جائے گا جو طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے نماز پڑھے یعنی فجر اور عصر کی نماز پڑھے (صحيح مسلم)

(2)حضرت ابن عمر رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی نماز عصرجاتی رہی گویا اس کا گھر بار اور مال لٹ گیا۔(مشکوة المصابیح)حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ الله علیہ اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: یعنی جیسے اس شخص کو وہ نقصان پہنچا جس کی تلافی نہیں ہوسکتی ایسے ہی عصر چھوڑنے والے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

(3)حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نماز عصر چھوڑدے اس کے عمل ضبط ہوگئے۔(مشکوة المصابیح)حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃاللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں:عمل ضبط ہونے سے مراد اس کام کی برکت کا ختم ہونا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جو عصر چھوڑنے کا عادی ہوجائے اس کے لئے اندیشہ ہے کہ وہ کافر ہوکر مرے۔

(4)حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دو ٹھنڈی نمازیں پڑھا کرے جنت میں جائے گا۔(مشکوة المصابیح)مرأة المناجیح میں ہے کہ ٹھنڈی نمازوں سے مراد فجر و عصر ہے۔

(5)حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور والے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کردیا لہذاجو اسے پابندی سے اداکریگا اسے دگنا اجر ملے گا۔(صحیح مسلم)حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: یعنی پچھلی امتوں پر بھی نماز عصر فرض تھی مگر وہ اسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے، تم ان سے عبرت پکڑنا۔

اللہ پاک ہمیں پانچوں وقت کی نماز با جماعت پڑھنےکی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم 


(1) حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں :  ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھیں کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: تم اپنے رب کو دیکھو گے جیسے تم اس چاند کو دیکھتے ہو اور اس کے دیکھنے میں تمہیں کوٸی مشقت نہ ہوگی۔ اگر تمہیں استطاعت ہو تو مغلوب نہ ہوجاٶ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے والی نماز سے ، تو ایسا ضرور کرو ( یعنی ان نمازوں سے غافل کرنے والے اسباب دور کرنے کی کوشش کرو)۔ پھر یہ آیت تلاوت کی :وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ(۳۹) ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے۔(پ 26۔قٓ:39)حضرت اسماعیل نے فرمایا : (یہ نمایں) پڑھو، تم سے یہ فوت نہ ہوجائیں۔(بخاری ،1/ 286 ،حدیث :521 مترجم )

(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے یکے بعد دیگرے آتے رہتے ہیں وہ فجر کی نماز اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں پھر وہ اوپر چلے جاتے ہیں جنہوں نے تمہارے پاس رات گزاری ہوتی ہے تو اللہ پاک ان سے پوچھتا ہے جب کہ وہ فرشتوں سے بہتر نمازیوں کے حالات کو جانتا ہے تم میرے بندوں کو کس کیفیت میں چھوڑ کر آئے ہو وہ کہتے ہیں کہ اب بھی ہم ان کو نماز پڑھتے ہوئے چھوڑ آئے ہیں اور ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بخاری ،1/ 287 ،حدیث :522 مترجم )

(3) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا :اللہ پاک ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے جس طرح انہوں نے ہمیں درمیانی نماز سے روکے رکھا۔(ابن ماجہ ،1/ 225 ،حدیث :675 مترجم )

(4) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس آدمی کی عصر کی نماز فوت ہو جاتی ہے گویا اس کے اہل اور مال چھین لئے گئے۔(ابن ماجہ ،1/ 225 ،حدیث :676 مترجم )

(5) حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔(سنن نسائی،1/ 196، حدیث: 467 مترجم )


فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:تم میں سے کسی کے اہل اور مال میں کمی کردی جائےتو اس کے لئے بہتر ہے کہ اس کی نماز عصر فوت ہوجائے۔(مجمع الزوائد،2/50،حدیث: 1715)

فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم:وہ شخص دوزخ میں نہیں جائے گا جو سورج نکلنے سے پہلے یعنی(فجر)اور سورج ڈوبنے سے پہلے یعنی(عصر)نماز پڑھے گا-(سنن نسائی، 1/ 474)

فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم: جس کی عصر ک نماز جاتی رہی اس کا اتنا بڑا نقصان ہو گیا کہ گویا اس کا خاندان اور مال سب تباہ ہوگا۔(بخاری)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرما یا: اللہ پاک کی رحمت ہو اس بندے پر جو عصر سے پہلے 4رکعتیں پڑھے۔(سنن ترمذی، کتاب مواقیت الصلوۃ باب ما جاء فی العربی قبل العصر ،حدیث:430)


دینِ اسلام میں تمام فرائض کی تکمیل پر انتہائی زور دیا گیا ہے بالخصوص نماز کی ادائیگی کی بہت تاکید کی گئی ہے ۔اس لیے کہ نماز جمیع عبادات کی اصل اور مومن کی معراج ہے۔ پھر نماز میں بھی نمازِ عصر کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کثیر احادیثِ طیبہ میں اس کی تاکید موجود ہے۔ ذیل میں ہم پانچ احادیثِ کریمہ ذکر کرتے ہیں جن سے نمازِ عصر کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

(1)عَنْ ‌عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الَّذِي تَفُوتُهُ ‌صَلَاةُ ‌الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا کہ اس کے اہل و عیال اور اس کا مال لُٹ گیا۔

(2)عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَاتَتْهُ ‌صَلَاةُ ‌الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ» ترجمہ: حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی اس کا عمل برباد ہوگیا۔

(3)عَنْ ‌أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ:«كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ، فَقَالَ: بَكِّرُوا بِصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ ‌صَلَاةَ ‌الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ» ترجمہ: حضرت ابو الملیح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم بادلوں کے دن ایک غزوے میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو آپ نے فرمایا کہ جلدی جلدی عصر کی نماز پڑھو کیونکہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کا عمل برباد ہوگیا۔

(4)عَنْ ‌عَلِيٍّ قَالَ:«قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:شَغَلُونَاعَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى‌صَلَاةِ الْعَصْرِ،مَلَأَ اللهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے احزاب کے دن فرمایا کہ (مشرکین نے) ہمیں صلوٰۃِ وسطٰی ،عصر کی نماز سے مشغول رکھا ، اللہ پاک ان کے گھروں اور قبروں کو آگے سے بھر دے۔

(5)مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَنْ يَلِجَ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» ترجمہ: حضرت ابو بکر بن عمارہ بن رویبہ ثقفی اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص کبھی بھی آگ میں داخل نہیں ہوگا جس نے سورج کے طلوع ہونے(یعنی صبح کی نماز) اور غروب ہونےسے پہلے (یعنی عصر کی )نماز پڑھی۔

اللہ کریم پیارے محبوبِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ہم سب کو نمازِ پنجگانہ باجماعت مسجد کی صفِ اول میں ادا کرنے کی توفیقِ رفیق نصیب فرمائے۔


نماز کو اُمّ العبادات کا درجہ دیا گیا ہے۔ قرآن و احادیث میں نماز پڑھنے کے بہت سے فضائل اور نہ پڑھنے کی بہت سی وعیدیں آئی ہیں۔ خصوصاً  نماز عصر جس کو صلوة الوسطی بھی کہا جاتا ہے اسکی ترغیب پر 5 فرامین مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم درج ذیل ہے :۔

(1) نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں : جب مردہ قبر میں داخل ہوتا ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے ،وہ آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھتا ہے اور کہتاہے:دعونی اصلی یعنی ذرا ٹھہرو ! مجھے نماز تو پڑھنے دو۔(سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد ،3/503،حدیث: 4272)حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ،حدیث پاک کےاس حصے (دعونی اصلی ) کے تحت لکھتے ہیں :یعنی اے فرشتو! سوالات بعد میں کرنا ،عصر کا وقت جا رہا ہے ،پہلے مجھے نما ز پڑھنے دو ۔ یہ وہ کہے گا جو دنیا میں نمازِعصر کا پابند تھا ،اللہ نصیب فرمائے ۔مزید فرماتے ہیں :ممکن ہے کہ اس عرض پر سوال و جواب ہی نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان،کیونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہو چکی۔(مراٰۃ المناجیح ،جلد 1،صفحہ 142)

(2) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا ہواسورج کا انتظار کرتا رہے ،یہاں تک کہ جب پیلا پڑ جائے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جائے تو کھڑا ہو کر چار چونچیں مارے کہ ان میں اللہ کا تھوڑا ہی ذکر کرے۔(مسلم،ص246،حدیث:1412)اس حدیث سے تین مسئلے معلوم ہوئے :ایک یہ کہ دنیاوی کاروبار میں پھنس کر نمازِ عصر میں تاخیر کرنا منافقوں کی علامت ہے ۔ دوسرا یہ کہ سورج غروب ہونے سے 20 منٹ پہلے مکروہ وقت ہے ،عصر کو مستحب وقت میں پڑھنا چاہیے ۔ تیسرایہ کہ رکوع اور سجود بہت اطمینان سے کرنا چاہیے ،حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جلد بازی میں سجدہ کرنے کو مرغے کے چونچ مارنے سے تشبیہ دی جو وہ دانہ چُگتے وقت زمین پر جلدی جلدی مارتا ہے ۔(مراٰۃ المناجیح ، 1/381،حدیث :556)

(3) حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوب ، اللہ کے پیارے پیارے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جس کی نمازِ عصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑ دے ) گویا اس کے اہل وعیال "وَتر " ہو گئے ۔وَتر کا مطلب : حضرت علامہ ابو سلیمان خطابی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :وَتر کا معنی ہے: ’’نقصان ہونا یا چھن جانا،‘‘ پس جس کے بال بچے اور مال چِھن گئے یا اس کا کوئی نقصان ہو گیا گویا وہ اکیلا رہ گیا ۔ لہٰذا نماز کے فوت ہونے سے انسان کو اس طرح ڈرنا چاہیے جس طرح وہ اپنے گھر کے افراد اور مال و دولت کے جانے ( یعنی بربادہونے )سے ڈرتا ہے ۔(اکمال المعلم بفوائد المسلم ،2/590)

(4) حضرت سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور والے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پہلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اس کو ضائع کر دیا لہٰذا جو اسے پابندی سے ادا کرے گا اس کے لیے دُگنا اجر ملے گا ۔(مسلم ،ص322،حدیث:1927)

دُگنا اجر ملنے کی وجوہات:ـپہلا اجر پچھلی امتوں کے لوگوں کی مُخالفت کرتے ہوئے عصر کی نماز پر پابندی کرنے کی وجہ سے ملے گا اور دوسرا اجر عصر کی نماز پڑھنے پر ملے گا جس طرح دیگر نمازوں کا ملتا ہے ۔یا پہلا اجر عبادت پر پابندی کی وجہ سے ملے گا اور دوسرا اجر قناعت کرتے ہوئے خرید و فروخت چھوڑنے پر ملے گا ، کیونکہ عصر کے وقت لوگ بازاروں میں کام کاج میں مصروف ہوتے ہیں ۔ یا پہلا اجر عصر کی فضیلت کی وجہ سے ملے گا کیونکہ یہ صلاۃ الوسطٰی (یعنی درمیانی نماز) ہے اور دوسرا اجر اس کی پابندی کے سبب ملے گا ۔(شرح الطیبی ، 3/ 19 ، مرقاۃ المفاتیح ، 3 / :139)

(5) تابعی بزرگ حضرت سیدنا ابو الملیح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :ایک روز ایسے بادل چھائے ہوئے تھے ، ہم صحابئ رسول حضرت سیدنا بُریدَہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں شریک تھے ، آپ نے فرمایا : نمازِ عصر میں جلدی کرو کیونکہ سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : جس نے نمازِ عصر چھوڑ دی اُس کا عمل ضبط ہو گیا ۔( بخاری ، 1/ 203 ،حدیث : 553)حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث ِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :غالباً عمل سے مراد وہ دنیاوی کام ہے جس کی وجہ سے اس نے نمازِعصر چھوڑی اور "ضبط ہو جانے "سے مراد اس کام کی برکت ختم ہو جانا ہے ۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو عصر کی نماز چھوڑنے کی عادت بنا لے ، اس کے لیے یہ اندیشہ ہے کہ وہ کافر ہو کر مرے گا کہ جس سے اعمال ضبط ہو جائیں گے البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کے عصر کی نماز چھوڑنا کفر و ارتداد ہے ۔(مراٰۃ المناجیح ،1/ 381)نیز! رنج و اَلَم ، پریشانیاں و غَم ،کم یا ختم کرنے کے لیے نماز میں پلکوں کو نَم کیجیے !!!

اللہ پاک ہم سب کو نماز پر استقامت عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طُلُوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نَماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنَّم میں داخِل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں :ایک یہ کہ فجر و عصر کی پابندی کرنے والا دوزخ میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہ جائے گا، اگر گیا تو عارِضی (یعنی وقتی )طور پر۔ لہٰذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ بعض لوگ قیامت میں نمازیں لے کر آئیں گے مگر ان کی نمازیں اہلِ حقوق(یعنی جن کے حقوق پامال کئے ہوں گے اُن) کو دلوادی جائیں گی۔ دوسرے یہ کہ فجر و عصر کی پابندی کرنے والوں کو اِنْ شَآءَاللہ باقی نمازوں کی بھی توفیق ملے گی اور سارے گناہوں سے بچنے کی بھی، کیونکہ یہی نمازیں (نفس پر) زیادہ بھاری ہیں ۔ جب ان پر پابندی کرلی تو اِنْ شَآءَاللہ بقیہ نمازوں پر بھی پابندی کرے گا، لہٰذا اس حدیث پر یہ اعتِراض نہیں کہ نَجات کے لیے صرف یہ دو نمازیں ہی کافی ہیں باقی کی ضَرورت نہیں ۔ خیال رہے کہ ان دو نمازوں میں دن رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں ، نیز یہ دن کے کَناروں کی نماز یں ہیں ، نیز یہ دونوں نفس پر گِراں (یعنی بھاری) ہیں کہ صبح سونے کا وقت ہے اور عصر کا روبار کے فروغ(یعنی زور وشور) کا، لہٰذا ان (نمازوں ) کا دَرَجہ زیادہ ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ،1/394)

حضرت سیدنا ابو بصیرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نوروالے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا اجر ملے گا۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)

حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی پچھلی اُمتوں پر بھی نمازِ عصر فرض تھی مگر وہ اِسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے ،تم ان سے عبرت پکڑنا۔ (مراٰۃالمناجیح ،2/166)

تابعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو الْمَلِیْح رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں : ایک ایسے روز کہ بادَل چھا ئے ہو ئے تھے، ہم صحابیِ رسول حضرتِ سیِّدُنابُرَیْدَہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے، آپ نے فرمایا: نمازِ عصر میں جلدی کرو کیو نکہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔(بخاری ،1/203،حدیث: 553)

صحابی ابنِ صحابی حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صَلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِعصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)


ہر مسلمان عاقل بالغ مرد و عورت پر روزانہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے اس کی فرضیت (یعنی فرض ہونے) کا انکار کفر ہے۔ جو جان بوجھ کر ایک نماز ترک کرے وہ فاسق سخت گناہ گار و عذاب نار کا حقدار ہے۔

پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری امت پر (دن رات میں) پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور میں نے یہ عہد کیا ہے کہ جو اِن نمازوں کے اُن کے وقت کے ساتھ پابندی کرے گا میں اس کو جنت میں داخل فرماؤں گا اور جو پابندی نہیں کرے گا تو اس کے لئے میرے پاس کوئی عہد نہیں۔ (ابو داؤد ،1 /188 ،حديث:430)

علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں پانچوں نمازوں میں سب سے افضل نماز عصر ہے پھر نمازِ فجر پھر عشا پھر مغرب پھر ظہر ۔(فیض القدیر ،2 /53)موضوع سے متعلق نماز عصر کے فضائل ملاحظہ کیجئے:

(1) حضرت سیدنا ابو بصرہ غِفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :یہ نماز یعنی نماز عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہذا جو پابندی سے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا ۔(مسلم، ص322،حدیث:1927)حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :یعنی پچھلی اُمتوں پر بھی نمازِ عصر فرض تھی مگر وہ اِسے چھوڑ بیٹھے اور عذاب کے مستحق ہوئے ،تم ان سے عبرت پکڑنا۔ (مراٰۃالمناجیح ،2/166)

(2) صحابی ابن صحابی حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس کی نماز عصر نکل گئی (یعنی جان بوجھ کر نماز عصر چھوڑے) گویا اس کے اہل و عیال و مال وتر ہو( یعنی چھین لیے) گئے ۔(بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552)

(3) حضرت سیدنا عُمارَہ بن رُوَیبَہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نماز پڑھی) وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔(مسلم، ص250 ،حدیث: 1436)

(4) حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تم میں رات اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں اور فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہو جاتے ہیں پھر وہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہے اوپر کی طرف چلے جاتے ہیں اللہ پاک باخبر ہونے کے باوجود ان سے پوچھتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ عرض کرتے ہیں ہم نے انہیں نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔(بخاری ،1 /203 ،حدیث: 555)

(5) تابعی بزرگ حضرت سیدنا اَبُو المَلِیْح رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں ایک ایسے روز کے بادل چھائے ہوئے تھے ہم صحابی رسول حضرت سیدنا بُرَیْدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں تھے آپ نے فرمایا نماز عصر میں جلدی کرو کیونکہ سرکار صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے نماز عصر چھوڑ دی اس کا عمل ظبط ہوگیا۔( بخاری ،1 /203 ،حدیث: 556)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں پانچوں نمازیں کماحقہٗ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


نمازوں کے اندر نمازِ عصر کو ایک خاص اہمیت حاصل ہےکہ اللہ ربُّ العزت نے قراٰنِ پاک میں ارشاد فرمایا: حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ-وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ(۲۳۸)ترجَمۂ کنزُ الایمان: نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی۔ (پ2، البقرۃ: 238) نمازِ عصر کا الگ سے ذکر فرما کر اس کی اہمیت کو واضح کیا۔ بخاری شریف میں ہے کہ اَلصَّلوٰۃُ الوُسطیٰ سے مراد نمازِ عصر ہے۔ (مسلم،ص248،حدیث:1422)

نمازِ عصر فرض ہونے کی وجہ: نمازِ عصر سب سے پہلے حضرت سلیمان علیہ السّلام نے ادا فرمائی اللہ پاک نے اپنے محبوب کی اس ادا کو اُمّتِ مسلمہ پر فرض کر دیا۔ (فیضانِ نماز،ص29)

نمازِ عصر کے فضائل: آئیے اب ہم نمازِ عصر کے چند فضائل سنتے ہیں:

نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں :جب مردہ قبر میں داخل ہوتا ہے، تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتا ہے، وہ آنکھیں ملتا ہوا اُٹھ بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: ذرا ٹھہرو! مجھے نماز تو پڑھنے دو۔ ( ابنِ ماجہ 4/503، حدیث: 4272)مراٰۃ المناجیح میں حدیثِ پاک کے اس حصے (ذرا ٹھہرو! مجھے نماز تو پڑھنے دو۔) کے تحت ہے:یعنی اے فرشتو! سوالات بعد میں کرنا ، عصر کا وقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔ (مراٰۃ المناجیح ،1/142تا 143)

(2) حضورِ اکرمصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: یہ نماز یعنی نمازِ عصر تم سے پچھلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا لہٰذا جو پابندی سے اسے ادا کرے گا اسے دگنا (یعنی Double) اجر ملے گا۔ (مسلم، ص322،حدیث:1927)

(3) حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کی نمازِ عصر نکل گئی (یعنی جو جان بوجھ کر نمازِ عصر چھوڑے) گویا اُس کے اَہل وعیال و مال ’’وَتر‘‘ ہو (یعنی چھین لئے) گئے۔ (بخاری ،1 /202 ،حدیث: 552، شرح مسلم للنووی،5/126)

(4)ایک اور جگہ ارشادِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے کہ جس نے نمازِعصر چھوڑدی اُس کا عمل ضَبط ہوگیا۔(بخاری ،1/203،حدیث: 553)

(5)حضرت سیِّدُنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصطَفٰے جانِ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جس نے سورج کے طلوع و غروب ہونے (یعنی نکلنے اور ڈوبنے) سے پہلے نماز ادا کی (یعنی جس نے فجر و عصر کی نما ز پڑھی) وہ ہر گز جہنم میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم ،ص250،حدیث: 1436)

اللہ پاک سے ہم دعا کرتے ہیں کہ ہمیں نماز عصر کے ساتھ ساتھ تمام نمازیں باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ صفِ اول میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


انبیاعلیہم السلام کائنات کی عظیم ترین ہستیاں اور انسانوں میں ہیروں  موتیوں کی طرح جگمگاتی شخصیات ہیں۔ جنہیں اللہ پاک نے وحی کے نور سے روشنی بخشی، حکمتوں کے سر چشمے ان کے دلوں میں جاری فرمائے اور سیرت و کردار کی وہ بلندیاں عطا فرمائیں جن کی تابانی سے مخلوق کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ یقیناً اللہ پاک نے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث کرنے کے مقاصد رکھے، جو قرآن پاک میں بھی بیان فرمائے۔ جیسے کہ

(1) اللہ کے حکم سے ان کی اطاعت کی جائے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے:وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ ترجمۂ کنزالعرفان :اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔(پ 5،نساء:64)

(3،2) یہ ایمان و اطاعت پر لوگوں کو جنت کی بشارت اور کفر و نافرمانی پر جہنم کی وعید سنا دیں۔وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸)ترجمۂ کنزالعرفان: اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے ہوتے ہیں تو جو ایمان لائیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ7،انعام:48)

(7،6،5،4) لوگوں کو گمراہی سے نکالیں۔هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ(۲)ترجَمۂ کنزُالایمان: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بےشک وہ اس سے پہلے ضرور کُھلی گمراہی میں تھے۔(پ 28،جمعہ:2)

(8) دین اسلام کو دلائل اور قوت دونوں اعتبار سے دیگر ادیان پر غالب کر دیا جائے۔ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖۙ-وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ(۳۳)ترجَمۂ کنزُالعرفان: وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرک ناپسند کریں ۔(پ 10،توبہ:33)

(9) بارگاہ الٰہی میں لوگوں کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا(۱۶۵)ترجمۂ کنزالعرفان: (ہم نے ) رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے (بھیجے) تاکہ رسولوں (کو بھیجنے) کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کے لئے کوئی عذر (باقی )نہ رہے اور اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔(پ6،النساء:165)

(10) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو قرآن اور شرعی احکام پہنچا دیں۔كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِؕ ترجَمۂ کنزُالایمان:اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے امتیں ہو گزریں کہ تم انہیں پڑھ کر سناؤ جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور وہ رحمٰن کے منکر ہورہے ہیں۔(پ 13،رعد:30)

مذکورہ آیات میں انبیاء علیہم السلام کے تقریبا دس مقاصدِ بعثت بیان کیے گئے ہیں یعنی جن لوگوں نے نیک اعمال کیے انہیں جنت کی بشارت دی اور جنہوں نے برے اعمال اور کفر و شرک کیا انہیں جہنم کی وعید سنائیں۔ ان پر اللہ کی آیتیں پڑھ کر انہیں گمراہی سے نکالیں اور دین اسلام کو دلائل سے دوسرے ادیان پر غالب کر دیں۔ ان کو قرآن کریم میں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کریں۔اللہ پاک ہمیں ان سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان سے محبت کرنے کی اور اللہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا پکا غلام بنائے۔ اٰمین بجاہ النبی لامین صلی اللہ علیہ وسلم

تُو ہے خورشیدِ رسالت پیارے، چھپ گئے تیری ضیا میں تارے

انبیا اور ہیں سب مہ پارے ،تجھ سے ہی نور لیا کرتے ہیں


اللہ پاک نے کئی مقاصد کے لیے انبیاء اکرام علیہم الصلاۃ والسلام کو اس دنیا میں مبعوث فرمایا اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اللہ کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے ان مقاصد کی ادائیگی کے لئے کما حقّہ کردار ادا کیا۔ ان مقاصد میں سے کچھ یہ ہیں:

(1) پیغام توحید: دعوت و توحید نبوت کے مقاصد میں سے ایک اہم ترین مقصد ہے۔ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے اس دعوت کو اپنی اپنی امتوں کی طرف پہنچایا۔ اللہ پاک فرماتا ہے: قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۸)ترجَمۂ کنزُالایمان: تم فرماؤ مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا نہیں مگر ایک اللہ تو کیا تم مسلمان ہوتے ہو۔(پ 17،انبیا:108)

(2) جو لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کو دلائل و براہین سے غیر اللہ کے معبود باطل ہونے کے بارے میں بتانے کے لئے۔ اللہ پاک فرماتا ہے: قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ(۶۶) اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۶۷) ترجَمۂ کنزُالایمان:کہا تو کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے اور نہ نقصان پہنچائے تُف ہے تم پر اور اُن بتوں پر جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔(پ 17 ، انبیا :67،66)

(3) مخلوق کو بتانا کہ عالَم میں موجود ہر چیز اللہ کی بنائی ہوئی ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً۪-وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَ جَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْۚ ترجَمۂ کنزُالایمان: اورجس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو۔(پ 1،بقرہ:22)

(4) مؤمنین کو خوشخبری دینے کے لئے۔ یعنی مؤمنین کے راہِ ہدایت پر ہونے اور ان کو آخرت میں رب العزت کی جانب سے نعمتیں ملنے کی خوشخبری دینے کے لیے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًاۙ-قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُۙ-وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاؕ-وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌۗۙ-وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۵) ترجمۂ کنزالایمان: اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا صورت دیکھ کر کہیں گے یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا اور وہ صورت میں ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لیے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔(پ 1،بقرہ:25)

(5) کافروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے کے لیے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱) ترجَمۂ کنزُالایمان:وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔(پ 3،آل عمران:91)

(6) اللہ کے احکام بتانے کے لیے۔اللہ پاک فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَاْكُلُوا  الرِّبٰۤوا  ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو سود دونا دون نہ کھاؤ۔(پ 4،آل عمران:130)

(7) مؤمنوں کو تقوے کا حکم دینے کے لیے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اتَّقُوا  اللّٰهَ  حَقَّ  تُقٰتِهٖ  وَ  لَا  تَمُوْتُنَّ  اِلَّا  وَ  اَنْتُمْ  مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲) ترجَمۂ کنزُالایمان:اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان۔(پ 4،آل عمران:102)

(8) کافروں کے ذہن میں موجود باطل شبہات کے رد کے لیے۔ اللہ پاک فرماتا ہے :وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗؕ-قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْؕ ترجَمۂ کنزُالایمان: اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں (ف۶۲) تم فرمادو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے۔(پ 6،مائدہ:18)

(9)شعائر اللہ بتانے کے لیے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِۚ ترجمۂ کنزالایمان: بےشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں۔(پ 2،بقرہ:158)

(10) انبیاء کی بعثت (بھیجنے) کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ لوگ ان کو دیکھ کر ان کو اپنے لیے نمونہ سمجھیں تاکہ وہ راہِ خداوندی کو پا سکیں۔ اللہ پاک فرماتا ہے:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔(پ21،احزاب :21)