انسانی معاشرے کی تعمیر و بقا کا حقیقی انحصار محض مادی ترقی یا سائنسی ایجادات پر نہیں بلکہ اخلاقی بنیادوں پر ہے۔ جب اخلاقیات کمزور ‏پڑتی ہیں تو معاشرہ ظاہری طور پر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ تاریخِ اقوام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اخلاقی ‏انحطاط کسی بھی تہذیب کے زوال کا پیش خیمہ بنتا ہے۔

اسلام نے اخلاق کو دین کا مرکزی ستون قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ میں اخلاقی تعلیمات کو بنیادی حیثیت دی گئی ‏ہے۔ اس لیےمطالعۂ اخلاقیات صرف ایک علمی موضوع نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے جو فرد، معاشرہ اور ریاست‎ ‎تینوں کی بقا ‏کے لیے ناگزیر ہے۔

اخلاقیات کا مفہوم ‏:اخلاقیات (‏Ethics‏) دراصل ان اصولوں اور اقدار کا مجموعہ ہے جو انسان کے قول و فعل کو منظم کرتے ہیں اور اسے خیر و شر کے ‏درمیان امتیاز سکھاتے ہیں۔

امام غزالی علیہ الرحمہ اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:‏الخلق هيئة راسخة في النفس تصدر عنها الأفعال بسهولة ويسر من غير حاجة إلى فكر وروية.‏ترجمہ:‏اخلاق نفس کی ایسی پختہ کیفیت کا نام ہے جس سے افعال آسانی اور بغیر غور و فکر کے صادر ہوں۔‏(احیاء علوم الدین، ج 3، ص 53)‏

اس تعریف سے واضح ہے کہ اخلاقیات محض ظاہری طرزِ عمل نہیں بلکہ باطنی کیفیت کا نام ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ کا اخلاق:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔ (سورۃ القلم: 4)‏

یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ اسلامی تعلیمات میں اخلاق کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اسوۂ حسنہ دراصل عملی ‏اخلاقیات کی مکمل تصویر ہے۔

سرکارِ دو عالَم ﷺ کے اَخلاقِ کریمہ سے متعلق ایک عظیم واقعہ:‏حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ زمانۂ جاہلیَّت میں اپنی والدہ کے ساتھ ننھیال جارہے تھے کہ بنو قین نے وہ قافلہ لوٹ لیا اور ‏حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو مکہ میں لاکر بیچ دیا۔ حکیم بن حزام نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے لئے ان کو ‏خریدلیا۔ جب حضورِ اقدس ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہوا تو انہوں نے زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضورِ ‏اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کر دیا۔ حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے والد کو ان کی جدائی کا ‏بہت صدمہ تھا اور وہ حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی جدائی میں اَشعار پڑھتے اور روتے ہوئے ڈھونڈتے پھر اکرتے تھے۔ اتفاق ‏سے ان کی قوم کے چند لوگوں کا حج کی غرض سے مکہ جانا ہوا تووہاں انہوں نے حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو پہچان لیا اورجب وہ حج ‏سے واپس گئے تو انہوں نے حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی خیر و خبران کے باپ کو سنائی ۔حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے باپ ‏اور چچا فدیہ کی رقم لے کر ان کو غلامی سے چھڑانے کی خاطر مکہ مکرمہ میں حضور پُر نور ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: اے ‏ہاشم کی اولاد! اپنی قوم کے سردار! تم لوگ حرم کے رہنے والے ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے گھر کے پڑوسی ہو،تم خود قیدیوں کو رہا کراتے ‏ہو، بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہو۔ ہم اپنے بیٹے کی طلب میں تمہارے پا س پہنچے ہیں ہم پر احسان فرماؤ اور کرم کرو۔ فدیہ قبول کرو اور ‏اس کو رہا کردو بلکہ جو فدیہ ہو اس سے زیادہ لے لو۔ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: بس اتنی سی بات ہے!عرض کیا حضور! بس یہی عرض ‏ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: زیدکو بلا ؤاور اس سے پوچھ لو اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو بغیر فدیہ ہی کے وہ تمہاری نذرہے اور ‏اگر نہ جانا چاہے تو میں ایسے شخص پر جَبر نہیں کرسکتا جو خود نہ جاناچاہے ۔چنانچہ حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بلائے گئے اور آپ صَلَّی ‏اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تم ان کو پہچانتے ہو ؟عرض کی:جی ہاں پہچانتا ہوں یہ میرے باپ ہیں اور یہ میرے چچا۔ حضور ‏اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ میرا حال بھی تمہیں معلوم ہے۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ میرے پاس رہنا چاہو تو ‏میرے پاس رہو، ان کے ساتھ جانا چاہوتو اجازت ہے۔ حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا :حضور!میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی ‏عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقابلے میں بھلا کس کو پسند کرسکتا ہوں ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے لئے باپ کی جگہ بھی ہیں اور چچا ‏کی جگہ بھی ہیں ۔ ان دونوں باپ چچا نے کہا کہ زید! غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتے ہو؟باپ چچا اور سب گھر والوں کے مقابلہ میں غلام ‏رہنے کو پسند کرتے ہو؟ حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ہاں ! میں نے ان میں ایسی بات دیکھی ہے جس کے مقابلے میں ‏کسی چیزکو بھی پسند نہیں کرسکتا۔ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب یہ جواب سنا تو ان کو گودمیں لے لیا اور فرمایا کہ ‏میں نے اس کو اپنا بیٹا بنا لیا۔حضرت زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے باپ اور چچا بھی یہ منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور خوشی سے ان کو ‏چھوڑ کرواپس چلے گئے۔‏( الاصابہ فی تمییز الصحابہ، حرف الزای المنقوطۃ، زید بن حارثۃ بن شراحیل الکعبی، 2/495)‏

سنتِ نبوی ﷺ میں اخلاقیات کی مرکزیت:بعثتِ نبوی کا مقصد:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الأَخْلَاقِ

ترجمہ: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اچھے اخلاق کو مکمل کر دوں۔ (مسند احمد، حدیث: 8952)‏

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اخلاقیات دینِ اسلام کے مقاصد میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

بہترین مسلمان کی تعریف:إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا

ترجمہ :تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہے۔(صحیح البخاری، حدیث: 3559)‏

یہ معیار بتاتا ہے کہ برتری کا اصل پیمانہ اخلاق ہے، نہ کہ دولت یا نسب۔

مطالعۂ اخلاقیات کی ضرورت:اخلاقیات کا باقاعدہ مطالعہ فرد میں خود احتسابی، دیانت داری، صبر، تحمل اور ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ جب اخلاق علمی بنیاد پر سمجھے ‏جائیں تو وہ جذباتی یا وقتی نہیں بلکہ پائیدار بن جاتے ہیں۔آج کے دور میں جب سوشل میڈیا، مادہ پرستی اور مقابلہ بازی نے انسانی اقدار کو متاثر کیا ہے، اخلاقیات کا مطالعہ ایک حفاظتی حصار کا ‏کردار ادا کرتا ہے۔

معاشرتی استحکام:اخلاقی اقدار کے بغیر قانون بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔ رشوت، دھوکہ دہی، جھوٹ، اور ناانصافی اسی وقت فروغ پاتے ہیں جب اخلاقی ‏تربیت کمزور ہو۔

علامہ ابن خلدون نے "المقدمہ" میں تہذیبوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرتے ہوئے اخلاقی کمزوری کو بنیادی سبب قرار دیا ہے۔‏(المقدمہ، ص 286)‏

تعلیمی اداروں میں اہمیت:تعلیم اگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ معاشرے میں مہذب افراد کے بجائےمجرم پیدا کرتی ہے۔ جدید دنیا میں‏Applied Ethics‏ کو میڈیکل، بزنس اور انجینئرنگ تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جا رہا ہے۔

مطالعۂ اخلاقیات کے فوائد:شخصیت کی تکمیل،انسان میں توازن اور اعتدال پیدا ہوتا ہے۔

قیادت کی صلاحیت،اعلیٰ اخلاق کامیاب قیادت کی بنیاد ہیں۔

روحانی بالیدگی ، اخلاق دل کی پاکیزگی کا ذریعہ ہیں۔

بین الاقوامی ہم آہنگی، برداشت، رواداری اور مکالمہ فروغ پاتے ہیں۔

موجودہ دور میں اخلاقی بحران اور اس کا حل:عصرِ حاضر میں بدعنوانی، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی جیسے مسائل اخلاقی انحطاط کی علامت ہیں ان کا حل ‏صرف قانونی اصلاحات نہیں بلکہ اخلاقی تربیت ہے۔

اسلامی ماڈل میں اخلاقیات کی بنیاد تین عناصر پر ہے:‏عقیدہ،عبادت،معاملات

جب یہ تینوں ہم آہنگ ہوں تو فرد اور معاشرہ دونوں متوازن رہتے ہیں۔

مطالعۂ اخلاقیات محض ایک نظریاتی مشغلہ نہیں بلکہ زندگی کی ناگزیر ضرورت ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح ہے کہ اخلاقی ‏تعلیمات دین کا بنیادی مقصد ہیں۔ فرد کی اصلاح سے معاشرہ بنتا ہے، اور معاشرے کی اصلاح سے ریاست مضبوط ہوتی ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ اخلاقیات کو نصابِ تعلیم، خطباتِ جمعہ، خاندانی تربیت اور سماجی پالیسیوں کا بنیادی جزو بنایا جائے۔ اگر ہم نے ‏اخلاقی بنیادوں کو مضبوط نہ کیا تو مادی ترقی بھی ہمیں زوال سے نہیں بچا سکے گی۔


مطالعۂ اخلاقیات انسان کے ظاہر کو سنوارنے سے بڑھ کر اس کے باطن کو روشن کرنے کا ذریعہ ہے۔ علم اگر کردار میں نہ ڈھلے تو وہ بوجھ بن جاتا ہے، مگر جب وہ اخلاق کے سانچے میں ڈھل جائے تو انسان کو عظمت عطا کرتا ہے۔ اسلام نے عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق کو بھی بنیادی اہمیت دی ہے، کیونکہ اچھے اخلاق ہی وہ زیور ہیں جو انسان کو معاشرے میں معزز، محبوب اور قابلِ اعتماد بناتے ہیں۔ مطالعۂ اخلاقیات انسان کو اپنی کمزوریوں کا شعور دیتا، نفس کی اصلاح کا راستہ دکھاتا اور اسے ایک متوازن اور باوقار زندگی کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

بعثتِ نبوی کا مقصد اور تکمیلِ اخلاق:رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ ترجمہ: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اچھے اخلاق کو مکمل کر دوں۔ (موطا امام مالک، کتاب حسن الخلق، حدیث نمبر 1614)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اخلاقیات دین کا ضمنی حصہ نہیں بلکہ اصل مقصدِ بعثت ہے، اور اس کا مطالعہ انسان کو نبوی مشن سے جوڑ دیتا ہے۔

میزان میں اخلاق کا وزن:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ یعنی قیامت کے دن مومن کے میزان میں سب سے بھاری چیز اچھا اخلاق ہوگا۔ (سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر 2002)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اخلاقیات کا مطالعہ اور اس پر عمل آخرت کی کامیابی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔

قرآن میں اخلاقی کمال کی تعریف:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔ (سورۃ القلم: 4)

یہ آیت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ اخلاق کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے، اور مطالعۂ اخلاقیات دراصل اسی نمونے کو اپنانے کا ذریعہ ہے۔

کامل ایمان اور بہترین اخلاق:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا یعنی مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ (سنن الترمذی، کتاب الرضاع، حدیث نمبر 1162)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کا راستہ اخلاقیات سے ہو کر گزرتا ہے، اور جو شخص اخلاق میں کامل ہو جائے وہی حقیقت میں کامیاب ہے۔

مطالعۂ اخلاقیات انسان کے دل کو نرم، زبان کو شیریں اور عمل کو پاکیزہ بنا دیتا ہے۔ یہ مطالعہ محض نظری نہیں بلکہ عملی تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے، جو انسان کو خود پسندی سے عاجزی، سختی سے نرمی اور بے حسی سے رحم دلی کی طرف لے جاتا ہے۔ جو شخص اخلاقیات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی رحمت بن جاتا ہے، اور یہی وہ حسن ہے جسے دیکھ کر دلوں میں رشک پیدا ہوتا ہے کہ یہ کردار علم کا نہیں بلکہ نور کا اثر ہے۔


اسلام ایک ایسا پیارا اور کامل دین ہے جو انسان کی ظاہری اصلاح کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کو بھی سنوارتا ہے۔ اخلاقیات (اخلاقِ حسنہ) اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہیں۔ اگر انسان کے اخلاق درست نہ ہوں تو اس کی عبادات بھی اپنی روحانیت کھو دیتی ہیں۔ اسی لیے مطالعۂ اخلاقیات نہایت ضروری ہے تاکہ انسان اپنے کردار کو سنوار سکے اور معاشرے میں بھلائی پھلا سکے۔

قرآنِ کریم کی روشنی میں اخلاق کی اہمیت:اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی ﷺ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔ (پارہ 29، سورۃ القلم، آیت 4)

یہ آیتِ مبارکہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بہترین اخلاق اللہ تعالیٰ کو کس قدر پسند ہیں، حتیٰ کہ اس نے اپنے محبوب ﷺ کے اخلاق کو "عظیم" فرمایا۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:اخلاقِ حسنہ کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ

ترجمہ: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اچھے اخلاق کو مکمل کر دوں۔(موطا امام مالک، باب: حسن الخلق،

جلد 2، صفحہ 904، حدیث: 1608)

مزید ارشاد فرمایا:أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا

ترجمہ:مومنوں میں کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔(سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب: ما جاء فی حسن الخلق،جلد 3، صفحہ 370، حدیث: 1162)

آج کے دور میں جب معاشرتی برائیاں عام ہو رہی ہیں، اخلاقیات کا مطالعہ اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

اس کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:انسان کو اچھے اور برے کی پہچان حاصل ہوتی ہے،کردار میں نرمی، بردباری اور حسنِ سلوک پیدا ہوتا ہے،معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنتا ہے،انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا حاصل کرتا ہے۔

مطالعۂ اخلاقیات کو مؤثر بنانے کے لیے چند امور اختیار فرمائیں :قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کا باقاعدہ مطالعہ،سیرتِ مصطفی ﷺ کا مطالعہ،نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا،اپنامحاسبہ کرتے رہنا،ہمیں چاہیے کہ ہم اخلاقیات کا مطالعہ محض معلومات کے لیے نہ کریں بلکہ اس پر عمل بھی کریں تاکہ ہمارا کردار بھی اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار بن جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حسنِ اخلاق اپنانے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


انسانی زندگی کی اصل خوبصورتی اخلاقِ حسنہ سے ہے۔ علم، دولت اور طاقت اس وقت تک فائدہ مند نہیں ہوتے جب تک وہ اچھے اخلاق کے تابع نہ ہوں۔ اسلام نے اخلاقیات کو دین کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے، اور قرآن مجید و سنت میں اس کی بے حد تاکید کی گئی ہے۔

اخلاقیات سے مراد وہ صفات اور عادات ہیں جو انسان کے کردار کو سنوارتی ہیں، جیسے سچائی، دیانت، صبر، عاجزی، عدل اور احسان۔اخلاقیات کا مطالعہ انسان کو اچھے اور بُرے کی تمیز سکھاتا ہے، جس سے اس کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔ایک مہذب معاشرہ صرف اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب افراد اخلاقی اصولوں پر عمل کریں۔اسلامی تعلیمات کا بڑا حصہ اخلاقیات پر مشتمل ہے، اس لیے اس کا مطالعہ دین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔

قرآنِ مجید میں اخلاقیات کی اہمیت: نبی ﷺ کے اخلاق :وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔ (سورۃ القلم: 4)

یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند اخلاق کی گواہی دیتی ہے۔

احادیثِ نبویہ میں اخلاقیات کی اہمیت:بعثت کا مقصدحضور نبی کریم ﷺنے فرمایا:میں اچھے اخلاق کو مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ (مسند احمد: حدیث 8952)

بہترین مسلمان:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ (صحیح بخاری: حدیث 3559)

قیامت کے دن سب سے وزنی چیز:قیامت کے دن مومن کے میزان میں سب سے بھاری چیز اچھے اخلاق ہوں گے۔ (سنن ترمذی: حدیث 2002)

حدیثِ پاک کے مطابق رسول ﷺ کے قریب کون ہوگا؟ تم میں سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن سب سے قریب وہ ہوگا جس کے اخلاق اچھے ہوں گے۔ (سنن ترمذی: حدیث 2018)

مطالعۂ اخلاقیات کے فوائد:(1) شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔(2) معاشرے میں عزت اور اعتماد بڑھتا ہے۔(3) اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔(4) دل کو سکون ملتا ہے۔(5) آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔

مطالعۂ اخلاقیات ہر انسان کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہی وہ علم ہے جو انسان کو ایک مکمل اور کامیاب شخصیت بناتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ اخلاقِ حسنہ ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اچھے اخلاق اپنانے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے انسان کی ظاہری اور باطنی اصلاح کا جامع نظام پیش کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد ہی اخلاق کی تکمیل اور انسان کو اعلیٰ اوصاف سے آراستہ کرنا ہے، چنانچہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: ‏اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْاَخْلَاقِ

ترجمہ: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اچھے اخلاق کو مکمل کر دوں۔ (صحیح الجامع: 2349؛ البخاری فی الأدب المفرد: 273؛ السنن الكبرى للبيهقي: 20782)

یہ حدیث مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اخلاق صرف زبانی بات یا سلیقہ نہیں بلکہ شریعت کا اصل مقصد ہے۔ اسلام نہ صرف عبادات کی تعلیم دیتا ہے بلکہ انسانوں کے باہمی برتاؤ، رویّوں، نرم دلی، تحمل، استقامت اور بھائی چارے جیسے اوصاف کی تکمیل پر زور دیتا ہے۔

امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اخلاق کی ایک جامع اور اہم تعریف بیان کی ہے:

الخُلُقُ: هُوَ هَيْئَةٌ رَاسِخَةٌ فِي النَّفْسِ تَصْدُرُ عَنْهَا الْأَفْعَالُ بِسُهُولَةٍ وَيُسْرٍ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ إِلَى فِكْرٍ وَرَوِيَّةٍ

ترجمہ:اخلاق نفس میں راسخ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس سے اعمال آسانی کے ساتھ بغیر کسی غور و فکر کے صادر ہوں۔(المفردات فی غريب القرآن، ص 159)

اسلام میں اخلاقیات کی اہمیت اس لیے ہے کہ اچھے اخلاق نہ صرف فرد کی شخصیت کو سنوارتے ہیں بلکہ پورے معاشرے میں امن، درگزر، اعتماد اور بندگی کے اعلیٰ اوصاف کو فروغ دیتے ہیں۔ ایک بااخلاق انسان:نرمی اور بردباری اپنے اندر رکھتا ہے،صبر اور سخاوت کا مظاہرہ کرتا ہے،غصے کے وقت خود پر قابو رکھتا ہے،رحم اور نرم دلی سے پیش آتا ہے،لوگوں سے درگزر کرتا ہے،مسلمانوں کی خیر خواہی کرتا ہے،اپنے دل کی پاکیزگی کو برقرار رکھتا ہے۔

امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:بے شک بندہ حسنِ اخلاق کے ذریعے دن میں روزہ رکھنے اور رات میں قیام کرنے والوں کے درجے کو پا لیتا ہے۔ (الاستذکار للقرطبي، باب ما جاء فی حسن الخلق، الحدیث: 1672، ج 8، ص 279)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:میزانِ عمل میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں۔(سنن ابی داؤد، باب فی حسن الخلق، الحدیث: 4799، ج 4، ص 332)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔(سنن ابی داؤد، کتاب السنہ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان)

اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ اچھا اخلاق صرف بڑی باتیں نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں بھی بڑی قدر کی حامل ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:تم لوگوں کو اپنے اموال سے خوش نہیں کر سکتے لیکن تمہاری خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی انہیں خوش کر سکتی ہیں۔(المستدرک للحاکم، کتاب العلم، الحدیث: 435، ج 1، ص 329)

مزید یہ کہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے لیے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔(شعب الایمان للبیہقی، باب فی الزکاۃ، الحدیث : 3328 ، ج 3، ص 204)

یہ سب اوصاف نرمی، بردباری، صبر، سخاوت، خود پر قابو، رحم، نرم دلی، درگزر، خیرخواہی اور دل کی پاکیزگی وہ ربانی خصوصیات ہیں جو ایک مومن کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی دیتی ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسلام نے ہمیں نہ صرف تقویٰ، عبادات اور ایمان سکھایا ہے بلکہ بہترین اخلاق، حُسنِ سیرت، نرمی، محبت، مسکراہٹ اور اچھے برتاؤ کو دین کا معیار بنایا ہے۔ یہ اوصاف نہ صرف فرد کی زندگی میں برکت لاتے ہیں بلکہ پوری انسانیت کی فلاح کا ذریعہ بنتے ہیں۔


اللہ عزوجل نے اس کائنات کو رنگا رنگ نعمتوں سے سجایا اور انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔ اللہ پاک نے اپنی آخری کتاب قرآنِ مجید کے ذریعے ہمیں اخلاقِ حسنہ کا حکم دیا۔ ایک مسلمان کے لیے اخلاقیات کا مطالعہ صرف علم کا حصول نہیں، بلکہ اپنے پیارے آقا ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنانے کا نام ہے۔ آج کے دور میں جب معاشرتی بگاڑ عروج پر ہے، اخلاقیات کے موضوع پر کتب کا مطالعہ ہم پر لازم ہے تاکہ ہم اپنی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔

اللہ عزوجل نے قرآنِ پاک میں سرکارِ دو عالم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کی گواہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔(پارہ 29، سورۃ القلم، آیت 4)

اخلاقیات کی اہمیت کا اندازہ اس فرمانِ نبوی ﷺ سے لگایا جا سکتا ہے: ‏اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْاَخْلَاقِ ترجمہ: مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اچھے اخلاق کو مکمل کر دوں۔ (موطا امام مالک، کتاب حسن الخلق، جلد 2، حدیث 1634، صفحہ 207)

ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے:"تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔"(صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث 6035، صفحہ 103)

ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! سب سے زیادہ کون سی چیز لوگوں کو جنت میں لے جائے گی؟آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تقویٰ اور حسنِ اخلاق۔" (جامع ترمذی، ابواب البر والصلۃ، حدیث 2004، صفحہ 368)

مختصر یہ کہ اخلاقِ نبوی کا دائرہ بہت وسیع ہے، جس میں صبر، شکر، امانت، دیانت، حیا اور عاجزی جیسی صفات شامل ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ جنت کا نمونہ بنے تو ہمیں اخلاقیات کی کتب کا مطالعہ کر کے اپنی عملی زندگی کو سنت کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں اخلاقِ حسنہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔


گناہوں میں سےجس طرح بعض گناہ ظاہری ہوتے ہیں جیسے قتل ،چوری وغیرہ بالکل اسی طرح بعض گناہ باطنی بھی ہوتے ہیں۔اس پر فتن دور میں اول تو گناہوں سے بچنے کا ذہن بہت ہی کم ہے اور جو خوش نصیب اسلامی بھائی گناہوں کے علاج کی کوششیں کرتے بھی ہیں تو ان کی زیادہ تر توجہ ظاہری گناہوں سے بچنے پر ہوتی ہے۔ ایسے میں باطنی گناہوں کا علاج نہیں ہو پاتا حالانکہ یہ ظاہری گناہوں کی نسبت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ ایک باطنی گناہ بے شمار ظاہری گناہوں کا سبب بن سکتا ہے۔ مثلا قتل، ظلم ، غیبت، چغلی ، عیب دری جیسے گناہوں کے پیچھے کینے اور کینے کے پیچھے غصے کا ہاتھ ہونا ممکن ہے۔ انہی باطنی گناہوں میں سے ایک گناہ خود پسندی بھی ہے۔

خود پسندی کی تعریف :اپنے کمال ( مثلاً علم یا عمل یا مال ) کو اپنی طرف نسبت کرنا اور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چھن جائے گا۔ گو یا خود پسند شخص نعمت کو منعم حقیقی ( یعنی اللہ عزوجل ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ (یعنی ملی ہوئی نعمت مثال صحت یا حسن و جمال یا دولت یا ذہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اور یہ بھول جانا کہ سب رب العزت ہی کی عنایت ہے۔ (احیاء العلوم، ج 3، ص 252، شیطان کے بعض ہتھیار 17)

آئیے احادیث مبارکہ کی روشنی میں خود پسندی کی مذمت کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

(1)تین ہلاک کرنے والی چیزیں:دوجہاں کے سرور، مدینے کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تین چیزیں ہلاک کرنےوالی ہیں:بخل جس کی اطاعت کی جائے، خواہِشِ نفس جس کی پیروی کی جائے اور انسان کا خود کو اچھا جاننا۔(شعب الایمان،باب فی الخوف من اللہ 1/475،حدیث:745۔معجم اوسط،4/ 129،حدیث:5442)

(2)بد صورت شکل :ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: خود پسندی اگر کسی مرد کی صورت میں ہوتی تو وہ انتہائی بدصورت مرد ہوتا۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، 2/ 193، الحدیث: 5064)

(4)خود پسندی کا نقصان:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ38)

(5)دین کو نقصان پہنچانے والے:حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔(ترمذی، کتاب الزہد، 43-باب، 4 / 166، الحدیث: 2383)

(6)اعمال کو برباد کر دینا:حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہےنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :خود پسند ی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، 2 / 205، الجزء الثالث، الحدیث: 7666)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر اسلامی بھائی پر ظاہری گناہوں کے ساتھ ساتھ باطنی گناہوں کے علاج پر بھی بھر پور توجہ دینا لازم ہے تا کہ ہم اپنے دار آخرت کو ان کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھ سکیں ۔ باطنی گناہوں کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان علیہ رَحمَۃ الرَّحمن فتاویٰ رضویہ جلد 23، صفحہ 624 پر ارشاد فرماتے ہیں: مُحَرَّمَاتِ بَاطِنِيَّه (یعنی باطنی ممنوعات مثلاً ) تکبر ور یا وعجب ( یعنی غرور ) وحسد وغیر ہا اور ان کے مُعالجات (یعنی علاج ) کہ ان کا علم بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔

لہذا جب خود پسندی کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احسانات کو یاد کرنا فرض ہے جبکہ تمام عام اوقات میں ایسا کرنا مستحب ہے۔عمل میں خود پسندی کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اگر خود پسندی میں مبتلا شخص موت سے قبل توبہ کر لے تو اس کا عمل بچ جاتا ہے اور توبہ نہ کرے تو عمل ضائع ہو جاتا ہے۔اللہ عزوجل علم وعمل کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبینﷺ۔ 


اعمال برباد: حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’خود پسندی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، 2 / 205، الجزء الثالث، الحدیث: 7666)

رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی نیک عمل پر اپنی تعریف کی تو اس کا شکر ضائع ہوا اور عمل برباد ہو گیا۔(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، العجب، 2 / 206، الجزء الثالث، الحدیث: 7674)

ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال:حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں : (1) لالچ جس کی اطاعت کی جائے (2) خواہش جس کی پیروی کی جائے (3) بندے کا اپنے عمل کو پسند کرنا یعنی خود پسندی۔(معجم الاوسط، من اسمہ محمد، 4 / 212، الحدیث: 5754)

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟عرض کی: یا رسولَ اللہ ! ضرور بتائیے۔ ارشاد فرمایا :’’ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔(معجم الکبیر، علی بن رباح عن سراقۃ بن مالک، 7 / 129، الحدیث: 6589)

خودپسندی کی شکل : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، 2/ 193، الحدیث: 5064)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے افعال :حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود پسندی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور جب لوگ آپ کی تعریف کرتے تو آپ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، مجھے اس سے بہتر بنا دے جو کچھ یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ نہیں جانتے میرا وہ عمل بخش دے ۔

اسی طرح جب لوگ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تعریف کرتے تو وہ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کچھ یہ کہتے ہیں اور تجھ سے اس عمل کی بخشش چاہتا ہوں جس کا انہیں علم نہیں۔(تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ، ص241-242)

حضرت عمر بن عبد العزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب منبر پر خطبہ دیتے تو خود پسندی سے ڈرتے ہوئے گفتگو چھوڑ کر اس عمل کی طرف منتقل ہو جاتے جس میں خود پسندی نہ ہو اور بعض اوقات ایسا ہوتا کہ خط لکھتے وقت خود پسندی کے خوف سے پھاڑ دیتے اور کہتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب الخ، ص239-240)


خود پسندی ایک باطنی بیماری ہے۔ انسان جب اپنے علم، عبادت، مال یا حسب نسب پر فخر کرنے لگے اور دوسروں کو حقیر سمجھے تو یہ خود پسندی ہے۔ یہ صفت دل کو سخت کرتی ‏ہے اور بندے کو اللہ تعالیٰ عزوجل سے دور کر دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی تعلیمات میں اس برائی سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔ ذیل میں چند احادیث مبارکہ مع ترجمہ اور ‏مختصر وضاحت پیش کی جاتی ہیں۔

ہلاک کرنے والی چیزیں: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ فَتَقْوَى اللَّهِ فِي السِّرِّ والعلانيةِ والقولُ بالحقِّ فِي الرضى وَالسُّخْطِ وَالْقَصْدُ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ: فَهَوًى مُتَّبَعٌ وَشُحٌّ مُطَاعٌ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ۔

ترجمہ: تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں نجات دینے والی یہ ہیں: پوشیدہ اور ظاہر ہر حال میں اللہ عزوجل سے ڈرنا، خوشی اور غصہ دونوں حالتوں میں سچی بات کہنا، اور مال داری اور تنگ دستی دونوں میں ‏میانہ روی اختیار کرنا۔اور ہلاک کرنے والی یہ ہیں: ایسی خواہش جس کی پیروی کی جائے، ایسا بخل جس کی اطاعت کی جائے، اور آدمی کا اپنے آپ کو پسند کرنا، اور ان میں سب سے زیادہ سخت ‏خود پسندی ہے۔(مشكوة المصابيح،كتاب الآداب،حدیث: 5122)‏

یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ خود پسندی ہلاکت کا سبب ہے۔ جب انسان اپنے عمل پر اتنا خوش ہو جائے کہ اسے اپنی اصلاح کی ضرورت محسوس نہ ہو تو وہ آگے بڑھنا ‏چھوڑ دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ کافی ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ کمزور ہوتا ہے۔

ہر شخص کا اپنی رائے کو اچھا سمجھنا: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ، كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ} [المائدة: 105]قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا، سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، وَهَوًى مُتَّبَعًا، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً، وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، فَعَلَيْكَ - يَعْنِي بِنَفْسِكَ، وَدَعْ عَنْكَ الْعَوَامَّ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الصَّبْرُ فِيهِ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِيهِمْ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ، وَزَادَنِي غَيْرُهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ قَالَ: أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ۔

ترجمہ:‏ حضرت ابو اُمیہ الشعبانی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: سورۃ المائدہ کی آیت عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟انہوں نے فرمایا: تم نے ایک جاننے والے سے سوال کیا ہے۔ میں نے یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:‎‎"نہیں، تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخل کی پیروی کی جا رہی ہے، خواہش نفس کو اختیار کیا جا رہا ہے، دنیا کو ترجیح دی جا ‏رہی ہے اور ہر صاحبِ رائے اپنی رائے کو اچھا سمجھ رہا ہے، تو اس وقت تم اپنی فکر کرو اور عام لوگوں کو چھوڑ دو۔ اس لیے کہ تمہارے بعد صبر کے دن آئیں گے۔ ان ‏دنوں میں صبر کرنا ایسے ہوگا جیسے انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا۔ اس زمانے میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر اجر ملے گا۔"عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ﷺ کیا ان میں سے پچاس کا؟فرمایا: "بلکہ تم میں سے پچاس کا"۔(سنن ابی داود،كتاب الملاحم ،حدیث: 4341)‏

اس حدیث میں خود پسندی کی ایک واضح شکل بیان ہوئی ہے، اعجاب کل ذی رأی برأیہ یعنی ہر شخص کا اپنی رائے کو سب سے بہتر سمجھنا۔‏یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی عقل اور سوچ کو حرف آخر سمجھ لے۔ وہ نہ نصیحت قبول کرتا ہے اور نہ اصلاح۔ یہی خود پسندی معاشرے میں ‏اختلاف، ضد اور گمراہی کو بڑھاتی ہے۔

یہ حدیث ہمیں دو باتیں سکھاتی ہے:

(1) جب تک حالات سازگار ہوں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جاری رکھو۔

(2)جب لوگ اپنی رائے کے اس قدر اسیر ہو جائیں کہ حق سننے کو تیار نہ ہوں، تو اپنے ایمان اور اصلاح کی فکر کرو۔

خود پسندی ایک خطرناک اور ہلاک کرنے والی بیماری ہے۔ یہ انسان کو محاسبہ سے دور کرتی ہے، نصیحت سے محروم کرتی ہے اور آہستہ آہستہ دل کو ‏سخت بنا دیتی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہر نیکی کے بعد اللہ تعالیٰ عزوجل کا شکر ادا کریں اور قبولیت کی دعا کریں۔ اپنی کمزوریوں کو یاد رکھیں۔ دوسروں کی رائے سنیں۔ اگر ‏دل میں یہ خیال آئے کہ میں بہتر ہوں تو فوراً استغفار کریں۔

اصل کامیابی عاجزی میں ہے۔ جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور آخرت کو سامنے رکھتا ہے وہی حقیقی عقلمند ہے۔ اللہ عزوجل ہمیں خود ‏پسندی سے بچائے اور اخلاص و عاجزی عطا فرمائے۔ آمین۔

باطن کی بیماریوں میں سب سے خطرناک مرض وہ ہے جو نیکی کے لباس میں چھپ کر انسان کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ ‏یہی مرض خود پسندی (عُجب) ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں آدمی اپنی عبادت، علم، نسب، دولت یا کسی بھی صلاحیت کو دیکھ کر اپنے ‏آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے۔ بظاہر یہ کیفیت اطمینان یا اعتماد معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک زہر ہے جو اعمال کو ‏کھوکھلا کر دیتاہے۔

حدیثِ نبوی ﷺ میں اس بیماری کی نہایت سخت الفاظ میں مذمت آئی ہے۔ اس تحقیقی مقالے میں ہم خود پسندی کے لغوی، اصطلاحی ‏اور اخلاقی پہلوؤں کو حدیث کی روشنی میں منظم انداز سے پیش کریں گے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اسلام نے اسے کیوں تباہ کن صفت ‏قرار دیا ہے۔

لغوی بحث:عربی زبان میں خود پسندی کے لیے لفظ "العُجب" استعمال ہوتا ہے۔

لسان العرب میں ابن منظور لکھتے ہیں کہ "العُجب" سے مراد ہے: کسی چیز کو دیکھ کر اس سے متاثر ہونا اور اسے عظیم سمجھنا۔ ‏‏(لسان العرب، مادہ: عجب)‏

مفردات القرآن میں راغب اصفہانی کے مطابق: عُجب وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے نفس اور اپنے عمل کو بڑا سمجھتا ہے اور اسے ‏اپنی ذات کا کمال سمجھتا ہے۔ ‏‏(مفردات، مادہ: عجب)

لغوی اعتبار سے یہ لفظ حیرت کے معنی میں بھی آتا ہے، لیکن اخلاقی اصطلاح میں یہ اپنے نفس کی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہونے کو ‏کہتے ہیں۔

اصطلاحی تعریف اور مفہوم:علمائے اخلاق کے نزدیک:‏امام ابو حامد الغزالی نے إحياء علوم الدين میں لکھا کہ عُجب یہ ہے کہ انسان اپنی نعمت یا عمل کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرے اور ‏منعمِ حقیقی (اللہ) کو بھول جائے۔

امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباري میں فرمایا کہ عُجب تکبر سے پہلے کا درجہ ہے؛ کیونکہ متکبر دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، جبکہ خود پسند ‏پہلے اپنے نفس کو عظیم سمجھتا ہے۔

تین ہلاک کرنے والی چیزیں:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ: شُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ہلاک کر دینے والی ہیں: ایسا بخل جس کی پیروی کی جائے، ایسی خواہشِ نفس جس کی ‏اتباع کی جائے، اور آدمی کا اپنے نفس پر فخر کرنا۔

‏ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث: 5930؛ شعب الإيمان للبیہقی)‏

یہ حدیث خود پسندی کو صریح طور پر ہلاکت کا سبب قرار دیتی ہے، یعنی یہ کوئی معمولی اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ روحانی تباہی کا دروازہ ‏ہے۔

گناہ سے بڑا خطرہ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخَشِيتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ: الْعُجْبَ‏ ترجمہ: اگر تم گناہ نہ کرتے تو مجھے تم پر اس سے بھی بڑی چیز کا خوف ہوتا، یعنی خود پسندی کا۔ ‏

‏(شعب الايمان للبیہقی، رقم: 7315)‏

یہاں نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ گناہ کے بعد ندامت انسان کو جھکا دیتی ہے، لیکن خود پسندی انسان کو اندھا کر دیتی ہے، یہاں ‏تک کہ اسے اپنی اصلاح کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ خود پسندی دل کی ایسی بیماری ہے جو بظاہر نیکی کے پردے میں چھپ ‏کر انسان کو ہلاکت تک لے جاتی ہے۔ یہ اخلاص کو ختم کرتی ہے، توبہ کے دروازے بند کرتی ہے اور انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم ‏کر سکتی ہے۔ نجات کا راستہ یہی ہے کہ بندہ ہر نعمت کو اللہ کی عطا سمجھے، اپنے نفس کو خطاکار جانے، اور ہمیشہ خوف و رجاء کے درمیان ‏زندگی گزارے۔

خود پسندی نیک اعمال کو برباد کرنے والی اور عبادت کو خراب کرنے والی ایک باطنی بیماری ہے۔قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں خود پسندی ‏اور خود پسندی کرنے والوں کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔پہلے خود پسندی کی تعریف ملاحظہ ہو پھر اس کے متعلق احادیث مبارکہ ملاحظہ ہو۔

خود پسندی کی تعریف: اپنے نیک عمل کو بڑا سمجھنا خود پسندی ہے۔اِسے یوں بھی تعبیر کیا جاتا ہے کہ بندے کا نیک عمل کے حصول کو اللہ عَزَّ ‏وَجَلَّ کے بجائے کسی اور شے کی طرف منسوب کرنا۔ ( مختصر منہاج العابدین:صفحہ :۲۰۷ )‏

(‏1) تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اگر تم کوئی گناہ نہ کرو تو پھر بھی مجھے ڈر ہے کہ تم اس سے بڑی چیز ’’ خود ‏پسندی ‘‘ میں مبتلا نہ ہو جاؤ ۔ ‘‘ (الترغیب والترہیب،کتاب الادب،باب الترغیب فی التواضع،الحدیث: ۴۴۹۰،ج۳،ص۴۴۲)‏

(‏2) حضورِ اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا :اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب ‏اللام، ۲ / ۱۹۳، الحدیث: ۵۰۶۴)‏

(‏3) حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :خود پسندی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ ‏‏(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، ۲ / ۲۰۵، الجزء الثالث، الحدیث: ۷۶۶۶)‏

(‏4) تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں : (1) بخل جس کی پیروی کی جائے (۲) نفسانی خواہش جس کی اطاعت کی جائے اور (۳) انسان کا خود کو ‏اچھا جاننا۔( شعب الايمان، باب فی الخوف من الله، ۱ / ۴۷۱، الحدیث: ۷۴۵)‏‎ ‎

(‏5) نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اِترا کر چلے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ عَزَّ ‏وَجَلَّ اس پر ناراض ہوگا۔ (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر، الحدیث: ۶۰۰۲،ج۲،ص۴۶۲)‏‎ ‎

(‏6) حضور سید عالم ﷺ نے اس امت کے آخر کا ذکر کرتے ہوئے حضرت سید نا ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: جب تم دیکھو کہ بخل کی ‏اطاعت کی جائے، خواہش نفس کی پیروی کی جائے اور ہر رائے دینے والا اپنی رائے کو پسند کرے تو اس وقت تم اپنی فکر کرو۔( سنن ابی داود، اول ‏کتاب الملاحم، باب الامر والنہی، ۴/ ۱۶۴، الحدیث: ۴۳۴۱)‏

(‏7) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب ﷺ کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے ‏جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔ (شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ج۵، ص۴۳۶، حدیث: ۷۱۷۸۔)‏

قارئین کرام! دیکھا آپ نے کہ خود پسندی ہلاکت میں ڈالنے ، 70 سال کے اعمال کو برباد کرنے اور اللہ عزوجل کو ناراض کرنے کا سبب ‏ہے ۔اور یہ کئی دوسری آفتوں کا سبب ہے۔ اللہ پاک ہمیں ایسی مہلک بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ ‏آمین 

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا: ہر گزگمان نہ کرو ان لوگوں کو جو اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں۔ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے پر خوش ہوتے اور نادان اورجاہل ہونے کے باوجود یہ پسند کرتے کہ انہیں عالم کہا جائے ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۸۸، ۱ / ۳۳۴)

خود پسندی اور حب جاہ کی مذمت : اس آیت میں خود پسندی کرنے والوں کے لئے وعید ہے اوران کے لئے جوحب ِجاہ یعنی عزت ، تعریف ، شہرت کے حصول کی تمنا میں مبتلا ہیں۔ جب کسی شخص کے دل میں یہ آرزو پیدا ہونے لگے کہ لوگ اس کے شیدائی ہوں ، ہر زبان اس کی تعریف میں تر ہو ، سب میرے کمال کے مُعترف ہوں ، مجھے ہر جگہ عزت سے نوازا جائے ، عالم نہیں ہوں پھر بھی علامہ صاحب کہا جائے ، ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کی پھر بھی مِعمارِ قوم کہا جائے، نجات دہندہ سمجھا جائے، محسنِ قوم قرار دیا جائے ، میرا تعارف بہترین القابات کے ساتھ ہو،ملاقات پرتپاک انداز میں کی جائے ، سلام جھک کر کیا جائے تو اسے چاہئے کہ اپنے دل پرغور کر لے کہ کہیں وہ حبِّ جاہ کا شکار تو نہیں ہو چکا،اگر ایسا ہو تو اس آیت سے سبق حاصل کرتے ہوئے فوراً سے پیشتر اُس سے چھٹکارے کی کوشش کرے ۔ یاد رکھئے خود پسندی اور حب جاہ کے مرض میں مبتلا شخص اخروی انعامات سے محرومی کا شکار ہوتا ہے اور دل میں مُنافقت کی زیادتی ، قلبی نورانیت سے محرومی ، دین کی خرابی میں مبتلا ہوجاتا ہے نیز برائی سے منع کرنے اور نیکی کی دعوت دینے سے محرومی، ذلت و رسوائی کا سامنا، اخروی لذت سے محرومی، قلبی سکون کی بربادی اور دولتِ اخلاص سے محرومی جیسے نقصانات کا سامنا کر سکتا ہے، لہٰذا اسے چاہئے کہ دنیا کی بے ثباتی، تعریف پسندی کی مذمت، منصب و مرتبہ کے تعلق سے اخروی معاملات اور بزرگان دین کے حالات و اقوال کا بکثرت مطالعہ کرے تا کہ ان مذموم امراض سے نجات کی کوئی صورت ہو ۔ ترغیب کے لئے ہم یہاں خودپسندی اور حب جاہ سے متعلق چند احادیث اور بزرگان دین کے احوال و اقوال ذکر کرتے ہیں ، چنانچہ

حضرت جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، ۴ / ۲۴۷، الحدیث: ۶۴۹۹)

حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔(ترمذی، کتاب الزہد، ۴۳-باب، ۴ / ۱۶۶، الحدیث: ۲۳۸۳)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔ (الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، ۲ / ۱۹۳، الحدیث: ۵۰۶۴)

حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :خود پسند ی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، ۲ / ۲۰۵، الجزء الثالث، الحدیث: ۷۶۶۶)

حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود پسندی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور جب لوگ آپ کی تعریف کرتے تو آپ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ مجھے اس سے بہتر بنا دے جو کچھ یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ نہیں جانتے میرا وہ عمل بخش دے ۔

اسی طرح جب لوگ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تعریف کرتے تو وہ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کچھ یہ کہتے ہیں اور تجھ سے اس عمل کی بخشش چاہتا ہوں جس کا انہیں علم نہیں۔(تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ، ص۲۴۱-۲۴۲)

حضرت عمر بن عبد العزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب منبر پر خطبہ دیتے تو خود پسندی سے ڈرتے ہوئے گفتگو چھوڑ کر اس عمل کی طرف منتقل ہو جاتے جس میں خود پسندی نہ ہو اور بعض اوقات ایسا ہوتا کہ خط لکھتے وقت خود پسندی کے خوف سے پھاڑ دیتے اور کہتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب الخ، ص۲۳۹-۲۴۰)

حضرت بشر حافی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جو شہرت کا طالب ہو اور اس کا دین برباد نہ ہوا ہو اور ا س کے حصے میں رسوائی نہ آئی ہو۔(کیمیائے سعادت، رکن سوم ، اصل ہفتم، اندر علاج دوستی جاہ وحشمت، ۲ / ۶۵۹)

حضرت محمد بن واسع رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے زمانے کے عبادت گزاروں سے فرماتے تھے: تم پر افسوس ہے ، تمہارے اعمال کم ہونے کے باوجود ان میں خود پسندی داخل ہو گئی اور تم سے پہلے لوگ اپنے اعمال کی کثرت کے باوجود ان پر تکبر نہیں کرتے تھے۔ اللہ کی قسم ! پہلے لوگوں کی عبادت کو دیکھا جائے تو (اس کے مقابلے میں )تم محض کھیلنے والے ہو ۔(تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ، ص۲۴۲)

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی ہر صلاحیت اور نعمت کو اللہ کی عطا سمجھے اور تواضع (عاجزی) اختیار کرے۔