جب کسی شخص کے دل میں یہ آرزو پیدا ہونے لگے کہ لوگ اس کے شیدائی ہوں ، ہر زبان اس کی تعریف میں تر ہو ، سب میرے کمال کے مُعترف ہوں ، مجھے ہر جگہ عزت سے نوازا جائے ، عالِم نہیں ہوں پھر بھی علامہ صاحب کہا جائے ، ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کی پھر بھی مِعمارِ قوم کہا جائے، نجات دہندہ سمجھا جائے، محسنِ قوم قرار دیا جائے ، میرا تعارف بہترین القابات کے ساتھ ہو،ملاقات پُرتپاک انداز میں کی جائے ، سلام جُھک کر کیا جائے تو اسے چاہئے کہ اپنے دل پر غور کر لے کہ کہیں وہ حبِّ جاہ کا شکار تو نہیں ہو چکا ، اگر ایسا ہو تو اس آیت سے سبق حاصل کرتے ہوئے فوراً سے پیشتر اُس سے چھٹکارے کی کوشش کرے ۔ یاد رکھئے خود پسندی اور حب جاہ کے مرض میں مبتلا شخص اخروی انعامات سے محرومی کا شکار ہوتا ہے اور دل میں مُنافقت کی زیادتی ، قلبی نورانیت سے محرومی ، دین کی خرابی میں مبتلا ہوجاتا ہے نیز برائی سے منع کرنے اور نیکی کی دعوت دینے سے محرومی، ذلت و رسوائی کا سامنا، اخروی لذت سے محرومی، قلبی سکون کی بربادی اور دولتِ اخلاص سے محرومی جیسے نقصانات کا سامنا کر سکتا ہے، لہٰذا اسے چاہئے کہ دنیا کی بے ثباتی، تعریف پسندی کی مذمت، منصب و مرتبہ کے تعلق سے اخروی معاملات اور بزرگان دین کے حالات و اقوال کا بکثرت مطالعہ کرے تا کہ ان مذموم امراض سے نجات کی کوئی صورت ہو ۔ ترغیب کے لئے ہم یہاں خودپسندی اور حب جاہ کی تعریف اور اس سے متعلق چند احادیثِ کریمہ ذکر کرتے ہیں۔

خود پسندی کی تعریف:شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ صفحہ17 پر’’عُجُبْ یعنی خود پسندی ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اپنے کمال (مثلاً عِلم یا عمل یا مال) کو اپنی طرف نسبت کرنا اور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔

گویا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔

(1) امُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، الله پاک کے سب سے آخری نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب ، باب اللام ، جلد 2 صفحہ نمبر 193 حدیث نمبر 5064)

(2) الله عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی الله تَعَالٰی علیہ وَالہ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا الله عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِر ہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا الله عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی کا مُنْتَظِر ہوتا ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات ، صفحہ نمبر 38 ، المدینہ العلمیہ )

(3) حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔ (ترمذی، کتاب الزہد، صفحہ166 ، حدیث نمبر 2383)

حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود پسندی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور جب لوگ آپ کی تعریف کرتے تو آپ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، مجھے اس سے بہتر بنا دے جو کچھ یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ نہیں جانتے میرا وہ عمل بخش دے ۔

اسی طرح جب لوگ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تعریف کرتے تو وہ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کچھ یہ کہتے ہیں اور تجھ سے اس عمل کی بخشش چاہتا ہوں جس کا انہیں علم نہیں۔(تفسیر صراط الجنان ، سورۃ آل عمران تحت الایہ ، 188)

حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :’’صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے زُہْد وتقوٰی کے باوجود یہ تمنا کیا کرتے کہ کاش وہ مٹی،بھوسہ یا پرند ہوتے۔ تو صاحبِ بصیرت شخص کیسے اپنے عمل پرخود پسندی کرسکتا ہے یااِترا سکتا ہے اور کیونکر اپنے نفس سے بے خوف ہوسکتاہے؟ یہ خود پسندی کا علاج ہے جس سے خود پسندی کا مادہ بالکل جڑ سے کٹ جاتا ہے۔جب خود پسندی میں مبتلا شخص اس طریقہ علاج کے مطابق خود پسندی کا علاج کرتا ہے تو جس وقت اس کے دل پرخود پسندی غالب آتی ہے تو سَلْبِ نعمت کا خوف اسے اترانے سے بچاتا ہے بلکہ جب وہ کافروں اور فاسقوں کو دیکھتا ہے کہ کسی گناہ کے بغیر ان کو ایمان اور اِطاعَتِ الٰہی کی دولت سے محرومی ملی ہے تووہ ڈرتے ہوئے یہ سوچتا ہے کہ جس ذات کو اس بات کی پروا نہیں کہ وہ بغیر کسی جرم کےکسی کومحروم کردے یا بغیر کسی وسیلے کےکسی کو عطا کرے تووہ دی ہوئی نعمت کو واپس بھی لے سکتا ہے۔ کتنے ہی ایمان والے مرتد ہوکر اور اطاعت گزار فاسق ہوکر برے خاتمے کا شکار ہوئے۔ جب آدمی اس طرح سوچے گا تو خود پسندی اس میں باقی نہیں رہے گی۔(باطنی بیماریوں کی معلومات صفحہ 40 ، 41)

اللہ پاک ہمیں خود پسندی جیسی بری عادت سے بچائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ۔

حب جاہ و خود پسندی کی مٹا دے عادتیں یا الہی! باغِ جنت کی عطا کر راحتیں


خود پسندی ایک ایسی باطنی آفت ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے غافل کر دیتی ہے اور اسے اپنی ہی نظر میں بڑا بنا دیتی ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس میں انسان اپنے علم، عبادت، مال یا خوبیوں پر فخر کرتے ہوئے دوسروں کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر نعمت اللہ کی عطا ہے اور بندہ اس کا محتاج ہے۔ خود پسندی نہ صرف اعمال کے حسن کو ضائع کر دیتی ہے بلکہ دل میں تکبر، حسد اور بے رحمی کو بھی جنم دیتی ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی امت کو اس مہلک مرض سے بچانے کے لیے بار بار تنبیہ فرمائی اور عاجزی و انکساری کی تعلیم دی۔

اپنے اعمال پر غرور ہلاکت کا سبب:رسول الله ﷺ نے فرمایا: لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخِفْتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ: الْعُجْبُ یعنی اگر تم گناہ نہ کرتے تو مجھے تم پر اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز کا خوف ہوتا، اور وہ ہے خود پسندی۔ (شعب الايمان للبیہقی، حدیث نمبر 6895)

اس حدیث میں خود پسندی کو گناہ سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا گیا کیونکہ گناہ پر ندامت آسکتی ہے مگر خود پسندی انسان کو اپنی اصلاح سے روک دیتی ہے۔

اعمال کی قبولیت میں اخلاص کی شرط:رسول الله ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ یعنی اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر 2564)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اصل معیار دل کی کیفیت ہے، اور خود پسندی دل کو کھوکھلا کر دیتی ہے جس سے اعمال کی روح ختم ہو جاتی ہے۔

عاجزی بلندی کا ذریعہ ہے:رسول الله ﷺ نے فرمایا: وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ یعنی جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند فرما دیتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر 2588) یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حقیقی بلندی خود پسندی میں نہیں بلکہ انکساری میں ہے، اور جو خود کو بڑا سمجھتا ہے وہ دراصل اللہ کی نظر میں چھوٹا ہو جاتا ہے۔

خود پسندی انسان کے باطن کو اندھا اور دل کو سخت بنا دیتی ہے، جبکہ عاجزی اسے نور، سکون اور قبولیت کی طرف لے جاتی ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو قابو میں رکھتا، اپنی کمزوریوں کو پہچانتا اور ہر نعمت کو اللہ کا فضل سمجھتا ہے وہی حقیقی کامیاب ہے۔ ایسی زندگی نہ صرف اللہ کے قریب لے جاتی ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں بھی محبت اور عزت پیدا کرتی ہے، اور یہی وہ وصف ہے جسے دیکھ کر اہلِ دل رشک کرتے ہیں کہ یہ بندہ اپنے رب کے حضور جھکا ہوا اور مخلوق کے لیے سراپا رحمت بن گیا ہے۔

خودپسندی ایک نہایت ہی خطرناک باطنی بیماری ہے جو انسان کو ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جاتی ہے۔ جب بندہ اپنی ملی ہوئی نعمتوں، جیسے صحت، حسن و جمال، دولت، ذہانت یا کسی منصب کو اپنا کمال سمجھنے لگتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب ربُّ العزّت کی عطا ہے، تو وہ عُجب یعنی خودپسندی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ باطنی مرض انسان کو شکر گزاری سے دور اور غرور و تکبر کے قریب کر دیتا ہے۔

عجب یعنی خود پسندی کی تعریف: شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ صفحہ17 پر’’عُجُبْ یعنی خود پسندی ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اپنے کمال (مثلاً عِلم یا عمل یا مال) کو اپنی طرف نسبت کرنااور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔گویا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ (احیاء العلوم، کتاب ذم الکبر والعجب، بیان حقیقۃ العجب، ج 3، ص، 454) (یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صِحّت یاحسن و جمال یا دولت یا ذِہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اوریہ بھول جانا کہ سب ربُّ العزّت ہی کی عنایت ہے)۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ36،37)

آئیے! ہم خودپسندی کی مذمت کے بارے میں چند احادیثِ مبارکہ پڑھتے ہیں۔

(1) 70 سال کے اعمال برباد : حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :خودپسندی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین،2 / 205، الجزء الثالث، الحدیث: 7666)

( 2)شکل انسانی میں سب سے بدصورت : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، 2 / 193، الحدیث: 5064)

(3) دین کیلئے نقصان دہ باطنی بیماری : حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔(ترمذی، کتاب الزہد، 43-باب، 4 / 166، الحدیث: 2383)

(4)اللہ عزوجل کی ناراضگی کا مستحق : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔(شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ج5، ص436، حدیث: 7178)

( 5)بروز قیامت ذلیل و خار ہوگا :حضرت جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :جو شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، 4 / 247، الحدیث: 6499)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے کہ خودپسندی کو مذکورہ احادیث مبارکہ میں ایک مذموم صفت قرار دیا گیا ہے آئیے ہم اس کے حکم کے متعلق جانتے ہیں۔

عجب یعنی خود پسندی کا حکم: عُجُب یعنی خود پسندی ناجائز وممنوع و گناہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اگرچہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف ہے اور وہ ہے عُجُبْ ، عُجُبْ یعنی خود پسندی۔"اس فرمان مبارک میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عُجُبْ کو بہت بڑا گناہ قرار دیا۔ (احیاء العلوم، کتاب ذم الکبر والعجب، باب ذم العجب۔۔۔الخ، ج3، ص453) اور کسی بھی ظاہری وباطنی گناہ سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

خود پسندی کا ایک مجرب علاج: حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :’’صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے زُہْد وتقوٰی کے باوجودیہ تمنا کیا کرتے کہ کاش وہ مٹی،بھوسہ یا پرند ہوتے۔ تو صاحب ِ بصیرت شخص کیسے اپنے عمل پرخود پسندی کرسکتاہے یااِترا سکتا ہے اور کیونکر اپنے نفس سے بے خوف ہوسکتاہے؟یہ خود پسندی کا علاج ہے جس سے خود پسندی کا مادہ بالکل جڑ سے کٹ جاتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ40)

اللہ پاک ہمیں عجب(خودپسندی ) جیسی باطنی بیماریوں سے بچنے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔

پیارے اسلامی بھائیو ! ہمارے ہاں لوگوں نے اپنے اپنے لحاظ سے کامیابی کے مختلف معیار مقرر کر رکھے ہیں ، کسی کے نزدیک مالدار ہو جانا کامیابی ہے ، کسی کے نزدیک شہرت مل جانا کامیابی ہے ،الغرض ہر ایک نے کامیابی کے الگ الگ معیار مُقرَّر کر رکھے ہیں،مگر رَبِّ کائنات کے ہاں کامیاب وہ شخص ہے جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا ، اپنے نفس کو بُرے عقائد ، بُرے اَخْلاق ، بُری عادات اور ظاہری و باطنی گناہوں سے پاک کر لیا ، باطنی امراض میں سے ایک خود پسندی بھی ہے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ظاہری اعمال کا باطنی اوصاف کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔ اگر باطن خراب ہو تو ظاہری اعمال بھی خراب ہوں گے اور اگر باطن حسد ، ریا اور تکبر ، (خود پسندی)وغیرہ عیوب سے پاک ہو تو ظاہری اعمال بھی درست ہوتے ہیں۔ ( منہاج العابدین، ص 13 ملخصا)

خود پسندی کی تعریف: اپنے کمال ( مثلاً علم یا عمل یا مال ) کو اپنی طرف منسوب کرنا اور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چھن جائے گا۔ گو یا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عزوجل) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ ( یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صحت یا حسن و جمال یا دولت یا خوش الحانی یا منصب و غیر کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اور یہ بھول جانا کہ سب ربُّ العزت ہی کی عنایت ہے)۔ (شیطان کے بعض ہتھیار ص 17 مکتبہ المدینہ کراچی)

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲) ترجمہ کنز العرفان:تو تم خود اپنی جانوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے اسے جو پرہیزگار ہوا۔(پ 27 النجم 32)

صدر الافاضل حضرت علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رَحمۃ اللهِ الهادی اس آیت مبارکہ کے تحت خزائن العرفان میں فرماتے ہیں: یعنی تفاخرا ًاپنی نیکیوں کی تعریف نہ کرو کیونکہ اللہ تعالٰی اپنے بندوں کے حالات کا خود جاننے والا ہے۔

وہ ان کی ابتداء ہستی سے آخر ایام کے جملہ احوال جانتا ہےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرامین میں بھی خود پسندی کی مذمت کو بیان فرمایا آپ بھی 5 فرامین مصطفیٰ پڑھیے :

(1) ناراضگی کا منتظر :حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گناہوں پر نادم ہونے والا الله پاک کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسندی کرنے والا اللہ عزوجل کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے ۔( شعب الایمان ،باب فی معالجۃ كل ذنب بالتوبۃ ، ج 5، ص 436، حدیث: 7178)

(2) بڑا جرم :اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وَالہ وَسلم نے ارشاد فرمایا: اگر چہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف ہے اور وہ ہے عجب یعنی خود پسندی ہے ۔(احياء العلوم، كتاب ذم الكبر والعجب باب ذم العجب الخ، ج 3، ص 253)

(3) ہلاکت کا شکار:خود پسندی کی وجہ سے بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مدد و توفیق سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ خود پسندی میں مبتلا ہونے والا ذلت ورسوائی اٹھاتا ہے اور جب بندے سے مدد اور توفیق الہی کا تعلق ٹوٹ جائے تو بندہ بہت تیزی سے ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے حضور سرورِ عالم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّى اللهُ تَعَالَى علیہ وَالہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں : (1) بخل جس کی اطاعت کی جائے ، (2) خواہش نفس جس کی پیروی کی جائے اور(3) خود پسندی ۔(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ ،ج 1 ص 471)

(4) ثواب سے محروم :حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کوئی بندہ آسمان و زمین والوں کے عمل کے برابر نیکی اور تقویٰ لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو اور اس میں یہ تین برائیاں ہوں (1)خود پسندی۔ (2)مومنوں کو ایذا دینا۔ (3) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا۔ تو ا س کے اعمال کا وزن ایک ذرے کے برابر بھی نہ ہو گا۔(مسند الفردوس، باب العین، 3 / 364، الحدیث: 5102)

(5) جہنمی شخص :نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟عرض کی: یا رسولَ اللہ ! ضرور بتائیے۔ ارشاد فرمایا :ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔(معجم الکبیر، علی بن رباح عن سراقۃ بن مالک، 7 / 129، الحدیث: 6589)

خود پسندی ایک مذموم باطنی مرض ہے اور فی زمانہ مسلمانوں کی ایک تعداد اس میں مبتلا نظر آتی ہے۔ اپنے علم وعمل پر ناز کرنا، کثرت عبادت پر اترانا، عزت، منصب اور دولت پر نازاں ہونا، فنی مہارت پر کسی کی انگشت نمائی برداشت نہ کرسکنا، کسی اور کو خاطر میں ہی نہ لانا بہت عام ہے۔ جو کہ سنگین گناہ اور جہنم میں داخلے کا سبب ہے ۔

پیارے اسلامی بھائیو ! ذرا سوچئے کہ اس خود پسندی کا کیا حاصل ! محض لذت نفس ، وہ بھی چند لمحوں کے لئے ! جبکہ اس کے نتیجے میں اللہ ورسول کی ناراضگی، مخلوق کی بیزاری، دل میں مُنافقت کی زیادتی ، قلبی نورانیت سے محرومی ، دین کی خرابی، ذلت و رسوائی کا سامنا، اخروی لذت سے محرومی، قلبی سکون کی بربادی، میدان محشر میں ذلت ورسوائی ، رب کی رحمت اور انعامات جنت سے محرومی اور جہنم کا رہائشی بننے کا سبب بن سکتی ہے کامیابی اور اخروی نجات خود پسندی سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں ہے ۔

خود پسندی کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے کہ اگر خود پسندی علم وعمل ، عبادت و ریاضت ، مال و دولت، حسب و نسب، عہدہ و منصب، کامیابی و کامرانی، حسن و جمال کی وجہ سے ہے تو یہ سب نعمتیں تو الله پاک نے دی ہیں، ان پر اترانا کیسا ؟ اگر خدانخواستہ اس بلا وجہ اترانے پر کل بروز قیامت رب کریم ناراض ہو گیا اور جہنم میں شدید آگ کا عذاب دیا گیا، تو اسے کیسے برداشت کریں گے ؟

اللہ پاک دیگر باطنی امراض کے ساتھ ساتھ خود پسندی جیسے موذی مرض سے بھی بچائے۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔


خود پسندی (عُجب) ایک باطنی اخلاقی بیماری ہے جو انسان کے دل میں خاموشی سے جنم لے کر اس کی روحانی زندگی کو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی خوبیوں، عبادتوں، علم یا کسی بھی کمال کو اپنی ذات کا کمال سمجھ کر دوسروں پر برتری محسوس کرنے لگتا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی نفسیاتی کیفیت معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا سے دور اور ہلاکت کے قریب کر دیتی ہے۔ اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے نہ صرف تکبر بلکہ اس کی جڑ یعنی خود پسندی کی بھی سخت مذمت فرمائی ہے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر نعمت اور ہر کمال اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور بندے کا اصل مقام عاجزی، انکساری اور شکرگزاری ہے۔ جب انسان اپنی صلاحیتوں کو اپنی محنت کا نتیجہ سمجھ کر ان پر فخر کرنے لگتا ہے تو وہ درحقیقت اللہ کی عطا کو بھول جاتا ہے۔ یہی غفلت آہستہ آہستہ اسے تکبر، ریاکاری اور دوسروں کی تحقیر جیسے مہلک امراض میں مبتلا کر دیتی ہے۔

عجب یعنی خود پسندی کی تعریف:شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ صفحہ۱۷ پر’’عُجُبْ یعنی خود پسندی ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اپنے کمال (مثلاً عِلم یا عمل یا مال) کو اپنی طرف نسبت کرنااور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔گویا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔

یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صِحّت یاحسن و جمال یا دولت یا ذِہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اوریہ بھول جانا کہ سب ربُّ العزّت ہی کی عنایت ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۳۶،۳۷)

عجب یعنی خود پسندی کا حکم:عُجُب یعنی خود پسندی ناجائز وممنوع و گناہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگرچہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف ہے اور وہ ہے عُجُبْ ، عُجُبْ یعنی خود پسندی۔‘‘اس فرمان مبارک میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عُجُبْ کو بہت بڑا گناہ قرار دیا۔

احادیث مبارکہ میں خود پسندی کی وعیدات موجود ہیں چنانچہ خود پسندی کا نقصان کے متعلق۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۳۸)

خود پسندی کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں:(1) بخل جس کی پیروی کی جائے،(2) خواہش نفس جس کی اتباع کی جائے،(3) اور انسان کا اپنے آپ کو بڑا سمجھنا (خود پسندی)(شعب الایمان للبیہقی، حدیث: 7316)

بلاشبہ خود پسندی ایک بہت بڑا گناہ اور باطنی مرض ہے اس کے برعکس عاجزی بڑی نعمت اور فضیلت والی چیز ہے چنانچہ عاجزی اختیار کرنے کی فضیلت کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"جو اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند فرما دیتا ہے۔"(صحیح مسلم، حدیث: 2588)

خود پسندی کا ایک مجرب علاج بیان کرتے حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :’’صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے زُہْد وتقوٰی کے باوجودیہ تمنا کیا کرتے کہ کاش وہ مٹی،بھوسہ یا پرند ہوتے۔ تو صاحب ِ بصیرت شخص کیسے اپنے عمل پرخود پسندی کرسکتاہے یااِترا سکتا ہے اور کیونکر اپنے نفس سے بے خوف ہوسکتاہے؟یہ خود پسندی کا علاج ہے جس سے خود پسندی کا مادہ بالکل جڑ سے کٹ جاتا ہے۔جب خود پسندی میں مبتلا شخص اس طریقہ ٔ علاج کے مطابق خود پسندی کا علاج کرتاہے تو جس وقت اس کے دل پرخود پسندی غالب آتی ہے تو سَلْب ِ نعمت کا خوف اسے اترانے سے بچاتا ہے بلکہ جب وہ کافروں اور فاسقوں کو دیکھتا ہے کہ کسی گناہ کے بغیران کو ایمان اور اِطاعَت ِالٰہی کی دولت سے محرومی ملی ہے تووہ ڈرتے ہوئے یہ سوچتا ہے کہ جس ذات کو اس بات کی پروا نہیں کہ وہ بغیر کسی جرم کےکسی کومحروم کردے یا بغیر کسی وسیلے کےکسی کو عطا کرے تووہ دی ہوئی نعمت کو واپس بھی لے سکتا ہے۔ کتنے ہی ایمان والے مرتدہوکراور اطاعت گزار فاسق ہوکربرے خاتمے کا شکارہوئے۔ جب آدمی اس طرح سوچے گا تو خود پسندی اس میں باقی نہیں رہے گی۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۴۰،۴۱)

قرآن و حدیث میں بار بار عاجزی اختیار کرنے اور تکبر سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ سراپا انکساری تھی، حالانکہ آپ ﷺ تمام مخلوق سے افضل تھے۔ اس کے باوجود آپ ﷺ نے کبھی اپنی ذات پر فخر نہ فرمایا بلکہ ہمیشہ اللہ کی بندگی اور عاجزی کو اختیار کیا۔ یہی طرزِ عمل امت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔لہٰذا خود پسندی سے بچنا اور دل میں عاجزی پیدا کرنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہی صفات انسان کو اللہ کے قریب اور آخرت میں کامیاب بناتی ہیں۔

اسلام ایک ایسا پیارا دین ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کی بھی اصلاح فرماتا ہے۔ باطنی بیماریوں میں ایک نہایت خطرناک مرض خود پسندی (عُجب) ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس میں انسان اپنی عبادت، علم، حسنِ اخلاق یا کسی بھی خوبی کو دیکھ کر اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے اور بندے کے اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم فرقان حمید میں رب تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲)

ترجمہ کنزالایمان: تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں۔ (پارہ 27، سورۃ النجم، آیت 32)

اس آیتِ مبارکہ میں خود پسندی سے صاف منع فرما دیا گیا کہ اپنے آپ کو پاک اور کامل سمجھنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔

حضور امام الانبیاء خاتم النبیین سرور عالم سید عالم جان عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باطنی بیماری کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت محمد ﷺ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:

ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ: شُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ

ترجمہ: تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں:(1) ایسا بخل جس کی پیروی کی جائے(2) خواہشِ نفس کی اتباع

(3) آدمی کا اپنے آپ کو پسند کرنا۔(المعجم الاوسط، للطبرانی، باب: ما جاء فی المهلکات،جلد 6، صفحہ 47، حدیث: 6167)

مزید ایک مقام پر ارشاد فرمایا:لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخِفْتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذٰلِكَ: الْعُجْبُ

ترجمہ: اگر تم گناہ نہ کرو تو مجھے تم پر اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز کا خوف ہے، اور وہ خود پسندی ہے۔

(شعب الایمان، للبیہقی، باب: فی ذم العجب،جلد 5، صفحہ 430، حدیث: 7255)

خود پسندی کے نقصانات:

خود پسندی کے کئی روحانی نقصانات ہیں:یہ انسان کو تکبر میں مبتلا کر دیتی ہے،دوسروں کو حقیر سمجھنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے،اعمال ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،اصلاحِ نفس کا دروازہ بند ہو جاتا ہے،اس مہلک بیماری سے بچنے کے لیے درج ذیل امور اختیار کیے جائیں:

اپنی ہر نیکی کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھا جائے،اپنے گناہوں کو یاد رکھ کر توبہ و استغفار کیا جائے،عاجزی اور انکساری کو اپنایا جائے،نیک لوگوں اور اولیائے کرام کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خود پسندی جیسے خطرناک مرض سے محفوظ فرمائے، ہمیں عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری نیکیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔


خود پسندی یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنے فضل و کرم سے دینی یا دنیاوی کوئی نعمت عطا کی ہو وہ یہ تصور کرے کہ اس نعمت کا ملنا میری ذاتی کاوش کا نتیجہ ہے اور اس پر ناز کرنے لگے۔ خود پسندی ایک مذموم باطنی مرض ہے فی زمانہ مسلمانوں کی اکثریت اس میں مبتلا نظر آتی ہے اپنے علم و عمل پر ناز کرنا کثرت عبادت پر اترانا عزت منصب اور دولت پر نازاں ہونا فنی مہارت پر کسی کی انگشت نمائی برداشت نہ کر سکنا کسی اور کو خاطر میں ہی نہ لانا بہت عام ہے ایسے حضرات کو چاہیے کہ ان روایات کا بغور مطالعہ کریں۔

(1)خود پسندی ہلاکت کا سبب ہے:عن عبدالله ابن عمر فقال: ثلاث مهلكات: شح مطاع وهوى متبع وإعجاب المرء بنفسهترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں :(1) لالچ جس کی اطاعت کی جائے (2 )خواہش جس کی پیروی کی جائے(3)بندے کا اپنے عمل کو پسند کرنا یعنی خود پسندی۔(معجم الاوسط جلد نمبر 6 حدیث نمبر 5754 صفحہ نمبر 47 دارالحرمین)

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ہلاکت اور لالچ سے بچائیں اور ایسی خواہشات سے اپنے آپ کو بچائیں کہ جس کی پیروی کی جائے اور خود پسندی سے دور رہیں۔

(2)خود پسندی کی بدولت اعمال کا ضائع ہونا:عن عبد العزيز عن ابيه قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم من حمد نفسه على عمل صالح فقد ضل شكره وحبط عمله

حضرت عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی نیکی پر اپنی تعریف کی تو اس کا شکر ضائع ہوا اور اس کا عمل برباد ہو گیا۔(کنزالعمال کتاب الاخلاق قسم الاقوال حدیث نمبر 7677 صفحہ نمبر 515 )

اللہ تبارک و تعالی کی دی ہوئی نعمتوں پر اللہ تبارک و تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی نسبت اپنی طرف نہ کرے بلکہ اللہ تبارک و تعالی کی طرف کرنی چاہیے تاکہ ہمارے اعمال محفوظ رہیں ۔

(3)خود پسندی کی وجہ سے اپنے دین کا نقصان :عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ والشرف لدينِهِ

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لیے نقصان دہ ہے۔(ترمذی کتاب الزھد حدیث نمبر 2376 صفحہ نمبر 565 دارالکتب العلمیہ بیروت)

مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے مال اور مرتبے پر حرص اور غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اللہ تبارک و تعالی کا دیا ہوا مال ہے تاکہ ہمارے دین میں نقصان نہ ہو بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہو اس میں خود پسندی پائی جاتی ہے خود کو اعلی اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کی بو آتی ہے اس لیے یہ روش اللہ تبارک و تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں ہے غرور ،تکبر و خودپسندی وہ گناہ ہیں جو بہت ہی معیوب ہے اس سے ہم سب کو بچنا چاہیے کیونکہ جو بھی ہمارے پاس نعمتیں اور کمالات ہیں تمام اللہ تعالی کی طرف سے دیئے ہوئے ہیں ہمیں ان پر غرور وتکبر نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے اللہ تعالی ہمیں حرص، غرور ، تکبر اور خود پسندی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

حب جاہ کی تعریف :امام غزالی رحمۃ الله الوالی فرماتے ہیں:حب جاہ ومنصب کا مطلب شہرت اور ناموری ہے جوکہ مذموم ہے۔(احیاالعلوم جلد 3 صفحہ نمبر 606)

حب جاہ کی حدیث پاک میں بڑی سخت وعیدے آئی ہے۔

خود پسند شخص کی قیامت میں عیوب کی تشہیر:حضرت جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :جو شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، ۴ / ۲۴۷، الحدیث: ۶۴۹۹)

خود پسندی کا نقصان:حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔(ترمذی، کتاب الزہد، ۴۳-باب، ۴ / ۱۶۶، الحدیث: ۲۳۸۳)

خود پسندی بدشکل میں :ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، ۲ / ۱۹۳، الحدیث: ۵۰۶۴)

خود پسندی کئی اعمال کی بربادی کا سبب ہے: حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’خود پسند ی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، ۲ / ۲۰۵، الجزء الثالث، الحدیث: ۷۶۶۶)

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا خود پسندی سے خوف:حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود پسندی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور جب لوگ آپ کی تعریف کرتے تو آپ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، مجھے اس سے بہتر بنا دے جو کچھ یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ نہیں جانتے میرا وہ عمل بخش دے ۔

اسی طرح جب لوگ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تعریف کرتے تو وہ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کچھ یہ کہتے ہیں اور تجھ سے اس عمل کی بخشش چاہتا ہوں جس کا انہیں علم نہیں۔(تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ، ص۲۴۱-۲۴۲)

خود پسندی سے عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا خوف:حضرت عمر بن عبد العزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب منبر پر خطبہ دیتے تو خود پسندی سے ڈرتے ہوئے گفتگو چھوڑ کر اس عمل کی طرف منتقل ہو جاتے جس میں خود پسندی نہ ہو اور بعض اوقات ایسا ہوتا کہ خط لکھتے وقت خود پسندی کے خوف سے پھاڑ دیتے اور کہتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ، ص۲۳۹-۲۴۰)

خود پسندی سے دین کی بربادی:حضرت بشر حافی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جو شہرت کا طالب ہو اور اس کا دین برباد نہ ہوا ہو اور ا س کے حصے میں رسوائی نہ آئی ہو۔(کیمیائے سعادت، رکن سوم ، اصل ہفتم، اندر علاج دوستی جاہ وحشمت، ۲ / ۶۵۹)

حضرت محمد بن واسع رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے زمانے کے عبادت گزاروں سے فرماتے تھے: تم پر افسوس ہے ، تمہارے اعمال کم ہونے کے باوجود ان میں خود پسندی داخل ہو گئی اور تم سے پہلے لوگ اپنے اعمال کی کثرت کے باوجود ان پر تکبر نہیں کرتے تھے۔ اللہ کی قسم ! پہلے لوگوں کی عبادت کو دیکھا جائے تو (اس کے مقابلے میں )تم محض کھیلنے والے ہو ۔(تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ، ص۲۴۲)


عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت اسلامی بہنوں کو شرعی مسائل سکھانے، انہیں دینِ اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور اُن کی تربیت و رہنمائی کرنے کے لیے مختلف کورسز و سیشنز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق مئی 2026ء میں دعوتِ اسلامی کے تحت پاکستان سمیت دنیا بھر کی اسلامی بہنوں کے درمیان مختلف کورسز و سیشنزمنعقد ہوئے جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

ماہِ مئی میں اسلامی بہنوں کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والے کورسز کی مجموعی کارکردگی کچھ یوں رہی

کورسز کی تعداد:65

مقامات کی تعداد:3 ہزار 886 (3, 886)

شرکاء کی تعداد :75 ہزار 703 (75, 703)

سیشنز کی تعداد: 49

مقامات کی تعداد:24 ہزار 510 (24, 510)

شرکاء کی تعداد: 1 لاکھ 97 ہزار 91 (1, 97, 091)

(1)شعبہ مدرسۃ المدینہ گرلز:

مئی 2026ء، بیرونِ ملک میں ٹیچرزکے لیے ٹیچرٹریننگ کورس منعقد کیا گیا۔ یہ کورس آن لائن اور اردو زبان میں کروایا گیا۔

پاکستان میں اجیر اسلامی بہنوں کے لئے ٹیچرٹریننگ کورس اور نظامت کورس منعقد کیے گئے۔ یہ کورسز فزیکل اور زبان میں کروائے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 2

مقامات کی تعداد:5

شرکاء کی تعداد: 58

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 2

مقامات کی تعداد:5

شرکاء کی تعداد: 58

(2)شعبہ رہائشی کورسز :

مئی 2026ء، بیرونِ ملک میں تمام اسلامی بہنوں کے لیے Islamic life course ، Islamic leadership development course اور دینی کام کورسز منعقد کیے گئے۔ یہ کورسز رہائشی اور اردو اور بنگلہ زبان میں کروائے گئے۔

پاکستان میں اصلاحِ اعمال کورس،فیضانِ ایمانیات کورس ،نور کی چابی کورس،نیو ائیر نائٹ کورس،روشن راہیں (دارالمدینہ طالبات کے لئے)کورس فزیکل اور اردو زبان میں منعقد کیے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 6

مقامات کی تعداد:13

شرکاء کی تعداد: 825

اوورسیز

کورس کی تعداد: 5

مقامات کی تعداد:10

شرکاء کی تعداد: 325

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 11

مقامات کی تعداد:23

شرکاء کی تعداد:1 ہزار 150 (1, 150)

(3)شعبہ قرآن ٹیچر ٹریننگ:

مئی 2026ء، بیرونِ ملک میں اسلامی بہنوں کے لئے(جنہوں نے مدنی قاعدہ پڑھا ہو اور ناظرہ قرآن کریم پڑھ سکتی ہوں) مدنی قاعدہ کورس، قرآن ٹیچنگ کورس اور تجوید القرآن کورس منعقد کیے گئے۔ یہ کورسز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورسز اردو، بنگلہ، انگلش، پرتگال، تامل اور ہندی زبان میں منعقد کیے گئے۔

پاکستان میں بیسک تجوید کورس ، قرآن ٹیچنگ کورس ، تجوید القرآن کورس ، رہائشی کورس ، موقوف کیفیت اسلامی بہنوں کی تربیت کورس فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورسز اردو،انگلش،سندھی اور بلوچی زبان میں کروائے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 5

مقامات کی تعداد:345

شرکاء کی تعداد:7 ہزار 914 (7, 914)

اوورسیز

کورس کی تعداد: 3

مقامات کی تعداد:71

شرکاء کی تعداد: 359

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 8

مقامات کی تعداد:416

شرکاء کی تعداد:8 ہزار 273 (8, 273)

(4)شعبہ روحانی علاج:

مئی 2026ء، بیرونِ ملک میں اسلامی بہنوں کے لیے دہرائی اجتماع سیشن اور روحانی علاج کورس ہوا جبکہ پاکستان میں مدنی انتخاب میں سلیکٹ ہونے والی اسلامی بہنوں کے لیے روحانی علاج کورس منعقد کیا گیا۔یہ کورس فزیکل اور اردو زبان میں کروایا گیا۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:10

شرکاء کی تعداد: 107

اوورسیز

کورس کی تعداد:1

مقامات کی تعداد:1

شرکاء کی تعداد:6

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:2

شرکاء کی تعداد:4

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 2

مقامات کی تعداد:11

شرکاء کی تعداد: 113

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:2

شرکاء کی تعداد:4

(5)شعبہ کفن دفن :

مئی 2026ء، بیرونِ ملک میں عوام و ذمہ داران کے لیے غسل میت و کفن کورس اور مستعمل پانی کے شرعی احکام سیشن منعقد کیے گئے۔ یہ سیشن و کورس فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشن و کورس اردو،انگلش اور بنگلہ زبان میں منعقد کیے گئے۔

پاکستان میں اسراف ،ایصال ثواب کورس ،نوحہ اور شریعت، تکفین کورس ،غسل میت و کفن کورس اجتماع یہ سیشنز و کورس فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشنز و کورس اردو زبان میں منعقد کیے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:1 ہزار 675 (1, 675)

شرکاء کی تعداد:33 ہزار 813 (33, 813)

سیشنز کی تعداد: 4

مقامات کی تعداد:9 ہزار 860 (9, 860)

شرکاء کی تعداد:36 ہزار 118 (36, 118)

اوورسیز

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:76

شرکاء کی تعداد:1 ہزار 308 (1, 308)

سیشنز کی تعداد:1

مقامات کی تعداد:36

شرکاء کی تعداد:746

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 2

مقامات کی تعداد:1 ہزار 751 (1, 751)

شرکاء کی تعداد:35 ہزار 121 (35, 121)

سیشنز کی تعداد: 5

مقامات کی تعداد:9 ہزار 896 (9, 896)

شرکاء کی تعداد:36 ہزار 864 (36, 864)

(6)شعبہ مدنی کورسز :

مئی 2026ء، بیرونِ ملک میں بچوں،تمام اسلامی بہنوں اور ذمہ داران کے لئے طہارت کورس، متفرق تفسیر کورسز، عشرہ مبشرہ ، فیضان ایمانیات، کفن دفن ، فیضان زکوۃ کورس، سیشن اندھیرےسےاجالے،سیشن عیدعبادت اور قربانی،اے ایمان والو،علم نور ہے،8 دینی کام،قرآن اور سائنس،ایثارکے رنگ،مسافر کی نماز، نماز درست کیجئے ،اسلامک ہیروز،عقائد ختم نبوت،میراراستہ میری منزل، اسلامی بہنوں کی نماز، غسل کا طریقہ، حیض و نفاس، اسراف اور مہنگائی ،مستعمل پانی ، صحت مند زندگی، نیکی اور نیت، جنت اور جہنم،باطنی امراض، جنازہ اور اسلام،تصوف اور تقلید،حج، Weekend Wisdom, role of daughter , Eid of Sacrifice, Social Media, path of Jannah, Other Language, Ture Friend’s Shine, Moral Development Stage of life, healhy life, winter camp, Blessed life of the last Prophet،story of Hazrat Ibrahim and ismail، Marrige in Islam, سیشنز اور کورسز منعقد کیے گئے۔یہ سیشنز و کورسز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشنز و کورسز انگلش،اردو،بنگلہ،تامل،کریول،عربی اور بلوچی زبان میں منعقد کیے گئے۔پاکستان میں یہ سیشنز و کورسز فزیکل اور آن لائن منعقد کیے گئے نیز یہ سیشنز و کورسز اردو زبان میں کروائے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 18

مقامات کی تعداد:1ہزار 21 (1, 021)

شرکاء کی تعداد:15 ہزار 104 (15, 104)

سیشنز کی تعداد: 16

مقامات کی تعداد:4ہزار 595 (4, 595)

شرکاء کی تعداد:65 ہزار 9 (65, 009)

اوورسیز

کورس کی تعداد: 19

مقامات کی تعداد:131

شرکاء کی تعداد:2 ہزار 212 (2, 212)

سیشنز کی تعداد: 33

مقامات کی تعداد:393

شرکاء کی تعداد:6 ہزار 996 (6, 996)

مجموعی کارکردگی

کورس کی تعداد: 37

مقامات کی تعداد:1 ہزار 152 (1, 152)

شرکاء کی تعداد:17 ہزار 316 (17, 316)

سیشنز کی تعداد: 49

مقامات کی تعداد:4 ہزار 988 (4, 988)

شرکاء کی تعداد:72 ہزار 5 (72, 005)

(7)شعبہ گلی گلی مدرسۃ المدینہ:

مئی 2026ء، پاکستان میں بچوں کے لیے آؤ قرآن سیکھیں، عید اور قربانی سیشن منعقد کیے گئے۔ یہ سیشن فزیکل اور اردو زبان میں کروائے گئے۔بیرونِ ملک میں آؤ قرآن سیکھیں، عید اور قربانی اردو اور کریول زبان میں منعقد کئے گئے۔

پاکستان

سیشنز کی تعداد:2

مقامات کی تعداد:9 ہزار 159 (9, 159)

شرکاء کی تعداد:75 ہزار 362 (75, 362)

اوورسیز

سیشنز کی تعداد: 2

مقامات کی تعداد:25

شرکاء کی تعداد: 668

مجموعی کارکردگی

سیشنز کی تعداد: 4

مقامات کی تعداد:9 ہزار 184 (9, 184)

شرکاء کی تعداد:76 ہزار 30 (76, 030)

(8)شعبہ جامعۃ المدینہ گرلز:

مئی 2026ء، پاکستان میں طالبات، ناظمات اور معلمات کے لئے فہم ِقرآن سیشن منعقد کیا گیا ۔ یہ سیشن فزیکل کروایا گیا نیز یہ سیشن اردو اور انگلش زبان میں منعقد کیا گیا ۔

پاکستان

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد: 277

شرکاء کی تعداد:9 ہزار 313 (9, 313)

(9)شعبہ تعلیم:

مئی 2026ء، بیرونِ ملک میں اسٹوڈنٹس کے لئے Exam success without stress, Kapre pahenne ki sunnatein آدابِ طعام، صبح کس حال میں کی، سلام کرنے کی سنتیں اور آداب، حج کا ثواب دلانے والے اعمال، Introduction of Dawate islami اور Quality of a good students کورسز و سیشنز منعقد کیے گئے۔ یہ کورسز و سیشنز فزیکل اور آن لائن کروائے گئے نیز یہ کورسز و سیشنز انگلش،اردو اور بنگلہ زبان میں منعقد کیے گئے۔

اوورسیز

کورس کی تعداد:2

مقامات کی تعداد:2

شرکاء کی تعداد: 140

سیشنز کی تعداد: 18

مقامات کی تعداد:125

شرکاء کی تعداد:2 ہزار 45 (2, 045)

(10)شعبہ حج و عمرہ:

مئی 2026ء، پاکستان میں عمرہ پر جانے والیوں اور ذمہ داران اسلامی بہنوں کے لیے حج/عمرہ سیشن اور رفیق الحرمین کورس منعقد کیا گیا۔ یہ سیشن اور کورس فزیکل اور آن لائن کروایا گیا نیز یہ سیشن اور کورس اردو زبان میں منعقد کیے گئے۔

پاکستان

کورس کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد: 572

شرکاء کی تعداد:13 ہزار 532 (13, 532)

سیشنز کی تعداد: 1

مقامات کی تعداد:9

شرکاء کی تعداد:76

(11)شعبہ مدرسۃ المدینہ بالغات:

مئی 2026ء، بیرونِ ملک میں اسلامی بہنوں کے لیےعید عبادت اور قربانی،آؤ قرآن سمجھیں سیشنز فزیکل اورآن لائن کروائے گئے نیز یہ سیشنز اردو اور کریول زبان میں منعقد ہوئے۔

بیرونِ ملک

سیشنز کی تعداد:2

مقامات کی تعداد:29

شرکاء کی تعداد:754


نبیِ کریم رؤوف الرحیم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:” جسم میں کوئی ایسا عُضو نہیں کہ اللہ پاک سے زبان کی تیزی کی شکایت نہ کرتا ہو“۔(احیاء العلوم،3/135) بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین کا بھی یہی معمول رہا ہے کہ وہ اپنی زبان کی بہت زیادہ حفاظت کرتے اور زبان کی آفتوں سے ڈرتے تھے۔

عاشقانِ رسول کو زبان کی آفتوں سے بچانے اور انہیں اپنی زبان پر قابو پانے کی ترغیب دلاتے ہوئے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ زبان کی حفاظت کی اہمیتپڑھنے/سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔

دعائے عطار

یااللہ پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہزبان کی حفاظت کی اہمیتپڑھ یا سن لے اُسے زبان سے ہونے والے اور دیگرتمام گناہوں سے بچا، اپنا پسندیدہ بندہ بنا اور اُس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے ۔ آمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو اخلاق، معاملات اور وعدوں کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان کی علامت اور اعلیٰ اخلاق کی نشانی ہے جبکہ بد عہدی (وعدہ خلافی) کو قرآن مجید نے سخت ناپسند فرمایا ہے۔ بد عہدی نہ صرف معاشرتی اعتماد کو ختم کرتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا سبب بھی بنتی ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بد عہدی کرنے والوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے۔

عہد کا لغوی معنی ہے: وعدہ، امان، ذمہ داری اور پختہ بات۔ (لسان العرب، ابن منظور، مادہ: (عہد)، جلد 3، صفحہ 313)

عہد کا مطلب ہے کسی چیز کی حفاظت کرنا اور اس کی مسلسل رعایت کرنا۔(المفردات، امام راغب اصفہانی، صفحہ 561)

بد عہدی سے مراد یہ ہے کہ انسان وعدہ کرنے کے بعد اسے پورا نہ کرے۔(تفسیر قرطبی، جلد 1، صفحہ 256 )

(1)الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-

ترجمۂ کنزالعرفان:وہ لوگ جو اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں ۔ (پ1، البقرۃ:27)

وضاحت:اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو نافرمان اور نقصان اٹھانے والا قرار دیا ہے کیونکہ وہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

(2) اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ

ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو اللہ کے وعدے اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں ،اِن لوگوں کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ۔ (پ3، اٰل عمران:77)

وضاحت:دنیاوی فائدے کے لیے وعدہ توڑنے والوں کے لیے آخرت میں سخت محرومی اور عذاب کی وعید ہے۔

(3) فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پ10، التوبہ:77)

وضاحت:یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ خلافی نفاق کی علامت ہے اور یہ انسان کے ایمان کو نقصان پہنچاتی ہے۔

(4) وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا

ترجمہ کنز العرفان: اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی عہد کرو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو ۔

(پ14، النحل:91)

وضاحت:اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے کہ وعدہ کرنے کے بعد اسے توڑنا سخت گناہ ہے اور یہ اللہ کے حکم کی نافرمانی ہے۔

(5) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (پ15، الاسراء:34)

وضاحت:قیامت کے دن انسان سے اس کے وعدوں کے بارے میں سوال ہوگا، اس لیے وعدہ پورا کرنا ضروری ہے۔

قرآن مجید کی ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ وعدہ پورا کرنا ایمان کی اہم صفت ہے جبکہ بد عہدی نفاق، اللہ کی ناراضی اور آخرت میں محرومی کا سبب بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ خلافی کرنے والوں کے لیے سخت وعید بیان فرمائی ہے۔ ایک سچے مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو ہر حال میں پورا کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں وعدے کی پابندی کریں تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں قول و فعل میں سچائی کا درس دیتا ہے۔ وعدے کی پاسداری ایمان کی علامت ہے، جبکہ بد عہدی اور وعدہ خلافی منافقت کی نشانی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے والوں کے لیے سخت وعیدات بیان فرمائی ہیں۔

(1) عہد کے بارے میں باز پرس:قیامت کے دن انسان سے اس کے کیے گئے وعدوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃبنی اسرائیل: 34)

یہ آیت اس بات پر مہر ثبت کرتی ہے کہ وعدہ محض زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جس کا حساب دینا ہوگا۔

(2) اللہ کی لعنت اور دل کی سختی:جو لوگ اللہ سے کیا گیا پختہ عہد توڑ دیتے ہیں، وہ اللہ کی رحمت سے دور کر دیے جاتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-

ترجمہ کنزالایمان: تو اُن کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور اُن کے دل سخت کردئیے ۔(سورۃ المائدہ: 13)

اس وعید سے معلوم ہوتا ہے کہ بد عہدی کا وبال انسان کے دل پر پڑتا ہے، جس سے اس کا دل نیکیوں کے لیے سخت ہو جاتا ہے۔

(4) دنیا و آخرت میں خسارہ:قرآن کریم نے عہد توڑنے والوں کو "خاسر" یعنی نقصان اٹھانے والا قرار دیا ہے۔ سورۃالبقرہ میں ارشاد فرمایا:الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں ۔ (سورۃ البقرہ: 27)

ان تمام وعیدات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بد عہدی صرف ایک اخلاقی عیب نہیں بلکہ ایک سنگین گناہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو اپنی زبان کا پاسبان ہو اور ہر حال میں اپنے عہد کو پورا کرے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں وعدوں کی پاسداری کرنے اور بد عہدی کی نحوست سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔