عید الفطرعالم اسلام کا ایک مذہبی تہوار ہے جسے  ہر سال پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان رمضان کے روزے رکھنے کے بعد بڑی عقیدت و جوش وخروش سے یکم شوال کو مناتے ہیں۔

عید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی” خوشی ،جشن، فرحت اور چہل پہل“ کے ہیں جبکہ فِطر کے معنی ”روزہ کھولنے“ کے ہیں یعنی روزہ توڑنا یا ختم کرنا۔ عید الفطر کے دن روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہےاس روز اللہ پاک بندوں کو روزہ اور عبادتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتا ہے اسی وجہ سے اس تہوار کو عید الفطر قرار دیا گیا ہے۔ عید الفطر کے دن نماز عید پڑھی جاتی ہے، جسے جامع مسجد یا کسی کھلے میدان یعنی عیدگاہ میں ادا کیا جاتا ہےعیدالفطر کا یہ تہوار جو پورے ایک دن پر محیط ہے اسے ”چھوٹی عید“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جبکہ اس کی یہ نسبت عیدالاضحیٰ کی وجہ سے ہے کیونکہ عید الاضحیٰ تین روز پر مشتمل ہے اور اسے ”بڑی عید“ بھی کہا جاتا ہے۔ عمومی طور پر عید کی رسموں میں مسلمانوں کا آپس میں "عید مبارک" کہنا اور گرم جوشی سے ایک دوسرے سے نہ صرف ملنا بلکہ مرد حضرات کا آپس میں بغل گیر ہونا، رشتہ داروں اور دوستوں کی آؤ بھگت کرنا شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بڑے بوڑھے بچے اور جوان نت نئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ایک دوسرے کی دعوت کرتے ہیں، مختلف قسم کے کھانے پکائے جاتے ہیں۔خصوصی طور پر مسلمان صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے بیدار ہوتے ہیں اور نماز فجر ادا کرتے ہیں پھر دن چڑھے نماز عید سے پہلے چند کھجوریں کھاتے ہیں جو سنت رسول ہے۔ (بُخاری ج۱ ص ۳۲۸ حدیث ۹۵۳) اوریہ اس دن روزہ کے نہ ہونے کی علامت ہے۔ مسلمانوں کی ایسے مواقع پر اچھے یا نئے لباس زیب تن کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ نئے اور عمدہ لباس پہن کر مسلمان اجتماعی طور پر عید کی نماز ادا کرنے کے لیے مساجد؛ عید گاہوں اور کھلے میدانوں میں جاتے ہیں۔ نماز عید الفطر میں آتے اور جاتے ہوئے آہستہ آواز سے تکبیریں (اللہ اکبر ،اللہ اکبر، لا الہ اِلہ اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، واللہ الحمد) کہنا اور راستہ تبدیل کرنا سنت ہے۔عید کے روز غسل کرنا، خوشبو استعمال کرنا اور اچھا لباس پہننا سنت ہے۔(بہارِ شریعت ج۱ص۷۷۹تا۷۸۱، عالمگیری ج۱ص۱۴۹،۱۵۰ وغیرہ تِرمذِی ج۲ص۶۹حدیث۵۴۱) ۔ عیدالفطر کی نماز کے موقع پر خطبہ عید کے علاوہ بنی نوع انسانیت کی بھلائی اور عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ سے کوتاہیوں اور گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی مدد اور رحمت مانگی جاتی ہے، دعا کے اختتام پر اکثر لوگ اپنے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے مسلمان بھائیوں کو عید مبارک کہتے ہوئے بغل گیر ہو جاتے ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگ اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور جان پہچان کے لوگوں کی طرف ملاقات کی غرض سے جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنے پیاروں کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے قبرستان کی طرف جاتے ہیں۔بلاشبہ وہ افراد نہایت خوش قسمت ہیں کہ جنھوں نے ماہِ صیام پایا اور اپنے اوقات کو عبادات سے منور رکھا۔پورا ماہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھی اور بارگاہِ ربّ العزّت میں مغفرت کے لیے دامن پھیلائے رکھا۔یہ عید ایسے ہی خوش بخت افراد کے لیے ہے اور اب اُنھیں مزدوری ملنے کا وقت ہے۔تاہم، صحابہ کرا م رضی اللہ عنہ اور بزرگانِ دین اپنی عبادات پر اِترانے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دُعائیں کیا کرتے تھے۔بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے مقبول بندے تو فرمایا کرتے تھے کہ’’ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو آراستہ کیا، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ گئے اور اُس کے عذاب و عتاب سے ڈر گئے۔ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے بہت زیادہ خوشیاں منائیں، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جنھوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اُس پر قائم رہے۔ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے بڑی بڑی دیگیں چڑھائیں اور دسترخوان آراستہ کیے، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جنھوں نے نیک بننے کی کوشش کی اور سعادت حاصل کی۔ عید اُن کی نہیں، جو دنیاوی زیب و زینت اور آرئش و زیبائش کے ساتھ گھر سے نکلے، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جنھوں نے تقویٰ، پرہیزگاری اورخوفِ خدا کو اختیار کیا۔ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے اپنے گھروں میں چراغاں کیا، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جو دوزخ کے پُل سے گزر گئے۔‘‘

سیدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی عید:

حضرتِ علامہ مولانا عبد المصطفٰی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : عید کے دِن چند حضرات مکانِ عالی شان پر حاضر ہوئے تو کیا دیکھا کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ در وا زہ بند کرکے زَارو قطار رو رہے ہیں ۔ لوگوں نے حیران ہوکر عرض کی: یاامیرَالْمُؤمِنِین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ !آج تو عید ہے جو کہ خوشی منانے کا دِن ہے ، خوشی کی جگہ یہ رونا کیسا؟آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے آنسو پونچھتے ہوئے فرمایا: ’’ھٰذا یَوْمُ الْعِیْدِ وَھٰذا یَوْمُ الْوَعِیْد‘‘یعنی یہ عید کا دِن بھی ہے اور وَعید کا دِن بھی ۔ جس کے نَمازو روزے مقبول ہوگئے بلا شبہ اُس کے لئے آج عید کا دِن ہے،لیکن جس کے نَمازو روزے رَد کر کے اُس کے منہ پر ماردیئے گئے اُس کیلئے تو آج وَعید کا دِن ہے۔

حضور غوث اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی عید:

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بندوں کی ایک ایک ادا ہمارے لئے موجب صد درسِ عبرت ہوتی ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ہمارے حضور سَیِّدُنا غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی شان بے حد اَرفع واعلیٰ ہے ، اِس کے باوجودآپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ہمارے لئے کیا چیز پیش فرماتے ہیں ! سنیئے اور عبرت حاصِل کیجیئے ۔ ؎

خلق گَوید کہ فر د ا روزِ عید اَسْت خوشی دَررُوحِ ہر مؤمن پدید اَسْت

دَراں رَوزے کہ بااِیماں بمیرم مِرادَر مُلک خودآں رَوزِ عید اَسْت

یعنی ’’لوگ کہہ رہے ہیں ،’’کل عید ہے!کل عید ہے!‘‘او رسب خوش ہیں ۔ لیکن میں تو جس دِن اِس دنیا سے اپنا اِیمان سلامت لے کر گیا ، میرے لئے تو وُہی دِن عید ہوگا ۔‘‘

سُبْحٰنَ اللہِ !( عَزَّوَجَلَّ) سُبْحٰنَ اللہِ !( عَزَّوَجَلَّ)کیا شانِ تقوی ہے ! اتنی بڑی شان کہ اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے سردار! اور اِس قَدَر تواضع واِنکِسار ! اس میں ہمارے لئے بھی دَرْسِ عبرت ہے اور ہمیں سمجھا یا جا رہا ہے کہ خبردار! ایمان کے مُعامَلے میں غفلت نہ کرنا، ہر وَقت ایمان کی حِفاظت کی فِکر میں لگے رہنا، کہیں ایسا نہ ہوکہ تمہاری غفلت اور معصیت کے سَبَب ایمان کی دَولت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے ۔

کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں’’ چاند رات‘‘ کو ایک لحاظ سے شرعی پابندیوں سے فرار کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، حالانکہ چاند رات کو ’’لَیْلَۃُ الْجَائِزۃ‘‘ یعنی انعام والی رات‘‘ کہا گیا ہے ۔ جو لوگ پورے ماہِ مقدّس میں تقویٰ و پرہیزگاری کی راہ پر کاربند رہے، اُن میں سے بھی بہت سے لوگ اس رات لہو ولعب میں مشغول ہوکر اپنی ساری محنت اکارت کر بیٹھتے ہیں۔دراصل، شیطان آزاد ہوتے ہی خلقِ خدا کو تقویٰ و پرہیزگاری کے راستے سے ہٹا کر فسق وفجور کی طرف مائل کرنے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے اور بدقسمتی سے بہت سے لوگ اُس کے پُرفریب جال میں پھنس جاتے ہیں۔

اے لوگو لائقِ عذاب کاموں کااِرْتکاب کر کے ’’یومِ عید“ کو اپنے لئے ’’یومِ وَعید‘‘ نہ بناو ۔ اور یادرکھو! ؎

لَیْسَ الْعِیدُ لِمَنْ لَّبِسَ الْجَدِیْد اِنَّمَاالْعِیْدُ لِمَنْ خَافَ الْوَعِیْد

(یعنی عید اُس کی نہیں ،جس نے نئے کپڑے پہن لئے ،عید تو اُس کی ہے جو عذابِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے ڈر گیا )

اِس میں کوئی شک نہیں کہ عید کے دِن غسل کرنا ، نئے یا دُھلے ہوئے عمدہ کپڑے پہننا اور عطرلگانا مستحب ہے،یہ مستحبات ہمارے ظاہری بدن کی صفائی اور زینت سے متعلق ہیں ۔لیکن ہمارے اِن صاف ،اُجلے اور نئے کپڑوں اور نہائے ہوئے اور خوشبو ملے ہوئے جسم کے ساتھ ساتھ ہماری روح بھی ہم پر ہمارے ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان خدائے رَحمنعَزَّوَجَلَّکی محبت و اِطاعت اور امّت کے غمخوار، دو جہاں کے تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم کی اُلفت وسُنَّت سے خوب سجی ہوئی ہونی چائیے ۔

یومِ عید اپنی اصل میں ایک مذہبی تہوار ہے، اس لیے اِس روز ہونے والی تمام سرگرمیوں کو اسی تناظر میں ترتیب دیا جانا چاہیے۔تاہم یہ بھی ذہن میں رہے کہ اسلام نے خوشی کے اظہار سے منع نہیں کیا اور نہ ہی اسلام کے نزدیک تقویٰ وپرہیزگاری کا مطلب خشک مزاجی اور رُوکھا پن ہے۔البتہ، اسلام نے تہواروں اور تفریحات کو کچھ حدود وقیود کا پابند ضرور بنایا ہے تاکہ بے لگام خواہشات اور نفس پرستی کی راہ روکی جا سکے۔عید کا آغاز، دو رکعت نماز سے ہوتا ہے، جو اس بات کا اظہار ہے کہ کوئی بھی مسلمان اپنی مذہبی اور تہذیبی روایات میں اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے لاپروا نہیں ہوسکتا۔

عید کے اس پُرمسرّت موقع پر ہمارا ایک کام یہ بھی ہونا چاہیے کہ آس پڑوس اور رشتے داروں پر نظر دوڑائیں کہ کہیں اُن میں سے کوئی ایسا تو نہیں، جو اپنی غربت اور تنگ دستی کے سبب عید کی خوشیوں میں شامل ہونے سے محروم ہے۔ اگر ایسا ہے، تو یقین جانیے، ہم خواہ کتنے ہی اچھے کپڑے پہن لیں، طویل دسترخوان سجا لیں، عیدیاں بانٹتے پِھریں، ہماری عید پھر بھی پھیکی ہی رہے گی، جس میں دیگر افراد شامل نہ ہوں۔

عید کی خوشیاں دوبالا ہوگئیں

سلسلۂ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے عظیم بُزرگ حضرت سِری سَقطی رحمۃُ اللہِ علیہ (بطورِ عاجزی)فرماتے ہیں کہ میں دل کی سختی کے مرض میں مبتلاتھا لیکن حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہِ علیہ کی دُعا کی برکت سے مجھے چھٹکارا مل گیا۔ ہوا یوں کہ میں ایک بار نمازِ عید پڑھنے کے بعد واپس لوٹ رہا تھا تو حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہِ علیہ کو دیکھا۔ آپ کے ساتھ ایک بچہ بھی تھاجس کے بال بکھرے ہوئے تھےاوروہ ٹوٹے دل کے ساتھ رورہا تھا ۔ میں نے عرض کی : یاسیدی! کیا ہوا؟ آپ کے ساتھ یہ بچہ کیوں رو رہا ہے؟ آپ نے جواب دیا : میں نے چند بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھاجبکہ یہ بچہ غمگین حالت میں ایک طرف کھڑا تھا اوراُن بچوں کے ساتھ نہیں کھیل رہا تھا ۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں یتیم ہوں ، میرےابوجان انتقال کر گئے ہیں ، ان کے بعد میرا کوئی سہارا نہیں اور میرے پاس کچھ رقم بھی نہیں کہ جس کے بدلے اَخروٹ خرید کر اِن بچوں کے ساتھ کھیل سکوں ۔ چنانچہ میں اس بچےکو اپنے ساتھ لے آیا تاکہ اِس کے لئے گٹھلیاں جمع کروں جن سے اخروٹ خرید کر یہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل سکے۔ میں نے عرض کی : آپ یہ بچہ مجھے دے دیں تاکہ میں اِس کی یہ خراب حالت بدل سکوں ۔ آپ نے فرمایا : کیا تم واقعی ایسا کرو گے؟میں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : چلو اسے لے لو ، اللہ پاک تمہارا دل ایمان کی برکت سے غنی کرے اور اپنے راستے کی ظاہری و باطنی پہچان عطا فرمائے۔ حضرت سِری سقطی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ میں اس بچے کو لےکر بازار گیا ، اسے اچھے کپڑے پہنائے اوراخروٹ خرید کر دیئے جن سے وہ دن بھر بچوں کے ساتھ کھیلتا رہا۔ بچوں نے اس سے پوچھا کہ تجھ پر یہ احسان کس نےکیا؟ اُس نے جواب دیا : حضرت سری سقطی رحمۃُ اللہِ علیہ اور معروف کرخی رحمۃُ اللہِ علیہ نے۔ جب بچے کھیل کود ‏کے بعد چلے گئے تو وہ خوشی خوشی میرے پاس آیا۔ میں نے اس سے پوچھا : بتاؤ! تمہاراعید کا دن کیسا گزرا؟اس نے کہا : اے چچا ! آپ نے مجھے اچھے کپڑے پہنائے ، مجھے خوش کر کے بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لئے بھیجا ، میرے غمگین اور ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑا ، اللہ کریم! آپ کو اپنی بارگاہ سے اس کا بدلہ عطا فرمائے اور آپ کے لئےاپنی بارگاہ کا راستہ کھول دے۔ حضرت سری سقطی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : مجھے بچے کے اس کلام سے بے حد خوشی ہوئی اور اس سے میری عید کی خوشیاں مزید بڑھ گئیں ۔ (الروض الفائق ، ص185)

اللہ ربُّ العزّت کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ایک یتیم بچے سے ہمدردی اور خیرخواہی کی ایمان اَفروز حکایت آپ نے پڑھی۔ عید الفطر کی خوشیاں ہیں ، خُوب نعمتوں کی کثرت ہے ، گھر میں کھانے کےلئےایک سے ایک لذیذ ڈِش تیار ہورہی ہے ، بہترین عمدہ لباس پہنے ہوئےہیں ، گھر میں مہمانوں کاآنا جانا اورعیدیاں لینے دینے کاسلسلہ جاری ہے ، ایسےمیں کیا ہی اچھا ہوکہ پڑوسیوں ، غریبوں ، یتیموں اورسفید پوش عاشقانِ رسول کے گھروں میں بھی خوشی و راحت پہنچانے کی کوئی صورت ہوجائے تاکہ یہ ’’عید ‘‘ہمارے لئے’’سعید‘‘یعنی سعادت مندی کاسبب بن جائے۔ کاش!ایسا ہوجائے۔

از: سید شعیب رضا عطاری

(المدینہ العلمیہ ، دعوت ِ اسلامی )


شعبہ کفن دفن کے تحت پچھلے دنوں ڈویژن سخی حسن میں قائم جامع مسجد بہزاد میں بعد نماز  تراویح مدنی حلقہ ہوا جس میں امام صاحب معتکفین اور کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

عزیر عطاری رکن مجلس فیضان مدینہ نے’’ غسل میت دینے کے فوائد ‘‘ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا۔ اس کے بعد غسل میت کا عملی طریقہ کفن کاٹنے اور پہنانے کا طریقہ بھی بتایا۔(رپورٹ: عزیر عطاری شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ: رمضان رضاعطاری )


گزشتہ دنوں فیصل آبادمدنی مرکز فیضان مدینہ میں  دعوت اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن ونگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران کاآن لائن مدنی مشورہ کیا جس میں شعبہ تعلیم ، مدنی کورسز ، اصلاح اعمال اور مدرسۃالمدینہ بالغان کے نگران مجالس اور ذمہ داران نے شرکت کی ۔

نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے آخری عشرے کے اعتکاف کی تعداد اور انتظامات کے مسائل اور تجاویز کے بارے میں مدنی مشورہ کیا ۔ ذمہ داراسلامی بھائیوں نے اعتکاف کے دوران پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے کے لے اپنے عزم کا اظہار کیا ۔ نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے اعتکاف انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے کے حوالے سے مدنی پھول بھی دیئے۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالواپ ذمہ دار، کانٹینٹ:شیخ محمد مصطفیٰ انیس انصاری)


گزشتہ دنوں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فیصل آباد قیصر عباس رند نے فیصل آباد میں قائم دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کا دورہ کیا، اس دوران انہوں نے دعائے افطار اجتماع میں شرکت کی۔

بعد اجتماع قیصر عباس رند کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری سے ملاقات ہوئی، نگرانِ پاکستان مشاورت نے انہیں دعوت اسلامی کی دینی، فلاحی و سماجی خدمات کے بارے میں بتایا نیز ’’ڈیجیٹل قراٰنِ پاک‘‘ کا بھی تفصیلی تعارف کروایا جس پر انہوں دعوتِ اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں کو سراہا۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالواپ ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


گزشتہ دنوں فیصل آباد مدنی مرکز فیضان مدینہ میں دعوت اسلامی کے پر وفیشنل ڈپارٹمنٹ کے  تحت تاجر حاجی عبد اللہ سندھی نے فیضان مدینہ فیصل آباد کا وزٹ کیا ۔

حاجی عبد اللہ نے فیضان مدینہ میں نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری سے ملاقات کی ، دوران ملاقات نگران پاکستان نے صدقۂ فطر کے احکا مات بیان کئے اور حاجی عبد اللہ کو اپنا صدقہ ٔفطر دعوت اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں میں استعمال کے لئے جمع کروانے کا ذہن دیا ۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالواپ ذمہ دار، کانٹینٹ:شیخ محمد مصطفیٰ انیس انصاری)


23 اپریل 2022ء کو کراچی کے علاقے شادمان ٹاؤن میں بعد تراویح نور محمدی مسجد میں مدنی حلقہ ہوا جس میں مبلغ دعوت اسلامی نے غسل میت دینے کے فوائد بیان  کئے نیز غسل میت کا عملی طریقہ، کفن کاٹنے اور پہنانے کا طریقہ بتایا۔

شرکا میں امام صاحب اورمعتکفین و کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔(رپورٹ: عزیر عطاری شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ: رمضان رضاعطاری )


گزشتہ دنوں فیضان مدینہ فیصل آباد میں معتکفین اسلامی بھائیوں کے سیکھنے سکھانے کے لئے مدنی حلقے کا اہتمام لگایا جس  میں نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے معتکفین کو نماز کا عملی طریقہ سکھایا اور عاشقان رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی اور مدنی پھولوں سے نوازا ۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالواپ ذمہ دار، کانٹینٹ:شیخ محمد مصطفیٰ انیس انصاری


دعوتِ اسلامی کے شعبہ کفن دفن کے زیر اہتمام 23 اپریل 2022ء کو نارتھ کراچی سیکٹر 7۔سی حرا مسجد میں بعد تراویح مسجد میں سیکھنے سکھانے کا  حلقہ ہوا جس میں معتکفین و کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی ۔

مبلغ دعوت اسلامی عزیر عطاری رکن مجلس فیضان مدینہ نے غسل میت کا عملی طریقہ، کفن کاٹنے اور پہنانے کا طریقہ بتایا نیز شرکا کو دعوت اسلامی کی ملک و بیرون ملک میں ہونے والی خدمات کے حوالے سے معلومات فراہم کیں ۔ (رپورٹ: عزیر عطاری شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ: رمضان رضاعطاری )


پنجاب پاکستان کے شہر فیصل آباد میں قائم دعوت اسلامی کے مدنی مرکز فیضان مدینہ میں دعوت اسلامی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے تحت صحافی اسلامی بھائیوں کے لئے مناجاتِ افطار کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈسٹرک فیصل آباد پریس کلب کے ممبران، وائس پریزیڈنٹ، سیکرٹری جنرل، فیصل آباد جرنلسٹ اور مختلف نیوز چینل کے بیوروچیف سمیت صحافیوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر دعوت اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہدعطاری نے آنے والے صحافی اسلامی بھائیوں کے درمیان سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئےشرکا کو نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کے بارے مدنی پھول ارشاد فرمائے نیز اعتکاف کے فضائل بھی بیان کئے۔بعدازاں صحافی اسلامی بھائیوں نے نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری سے ملاقات بھی کی۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالواپ ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری) 


رمضان المبارک کی سعاتوں کو عبادتوں میں گزارنے کے لئے  عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں17 اپریل 2022ء کو مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں معتکفین اور دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی۔

امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےعاشقان رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائے۔

بعد نماز عصر ہونے والے مدنی مذاکرے کے مدنی پھول

سوال: اللہ پاک اوراُس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت میں رونا کیسا ؟

جواب : اللہ پاک کے خوف ،اُس کی محبت اورنبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عشق میں رونا بہت سعادت کی بات ہے ۔

سوال: گناہوں سے کیسے بچیں؟

جواب:اپنے دل میں اللہ پاک کا خوف پیداکریں ، اللہ پاک سے گناہوں سے بچنے کی دعاکریں ،گناہوں سے بچنے کی بھرپور کوشش بھی کریں۔

سوال: اسمِ اعظم سے کیامرادہے؟

جواب: اسمِ اعظم،اللہ پاک کاو ہ نام جس کاوِردکرنے سے دعاقبول ہوتی ہے ،اسمِ اعظم سے مراد اللہ پاک کا کون سانام ہے ،اس میں کئی اقوال ہیں مثلاً لفظاللہ ، یَاحَیُّ یَا قَیُّومُ،یَا ذَالْجَلاَلِ وَالْاِکْرَام ،ان تینوں کو اسمِ اعظم کہا گیا ہے ۔

سوال : اسلام میں کتنے غوث ِاعظم ہیں اورسب سے پہلے غوث ِاعظم کون ہیں؟

جواب: نواسۂ رسول،جنّتی جوانوں کے سردار حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ،صحابیِ رسول ، قطب الاکبراوراسلام کے پہلے غوثِ اعظم ہیں،دوسرے غوثِ اعظم پیرومرشد حضرت شیخ سیدعبدالقادرجیلانی حسنی رحمۃ اللہ علیہ اورتیسرے غوثِ اعظم امام مہدی رضی اللہ عنہ ہوں گے۔

بعد نماز تراویح ہونے والے مدنی مذاکرے کے مدنی پھول

سوال: کیا علماء کی تعظیم کرنا ضروری ہے ؟

جواب :جی ہاں !علم دین کی وجہ سے علماءکی تعظیم کرنا فرض ہے ،علمِ دین کی وجہ سے علماء عوام سے ممتازہوتے ہیں ،علماء کی وجہ سے قرآن وحدیث کی باتیں عوام تک پہنچتی ہیں ،اگرعلماءکو معاشرے سے کم (Minus)کردیا جائےپھرتَو کچھ بھی نہیں بچے گا،نہ صرف دنیا بلکہ جنت میں بھی عوام کو عالم کی ضرورت پڑے گی،جب اللہ پاک جنّتیوں سے فرمائے گا کہ مانگوتو یہ علماء کے پاس جاکرپوچھیں گےکہ ہم اللہ پاک سے کیا مانگیں؟ تو علماء ان کی رہنمائی کریں گے۔

سوال: علمِ دین حاصل کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟

جواب:علمِ دین انمول خزانہ ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ،علماء دنیامیں بھی پُر سکون ہوتے ہیں ،غیرعالم کو مال کی طلب ہوتی ہے ، اسی وجہ سےوہ بے سکون ہوتا ہے ۔

سوال: صحت اورسکون غریبوں میں زیادہ ہے یا امیروں میں؟

جواب: صحت اورسکون عام طورپر غریبوں میں زیادہ ملے گا،بعض امیرلوگ ہاتھ پیرنہ چلانے(یعنی خود کام کاج نہ کرنے) کی وجہ سے جسمانی بیماریوں میں مبتلاہوجاتے ہیں اورغریب محنت مزدوری کرکے بیماریوں سے بچے رہتے ہیں ،کیونکہ ان کے بدن کی مکمل ورزش ہوتی رہتی ہے۔

سوال : ایک گھر میں کتنے بچے عالم ہونے چاہئیں ؟

جواب: سب بچوں کو عالم بنائیں ،اگرسب کو عالم نہ بناسکیں تو کم ازکم ایک ذہین بچے کو عالمِ دین ضرور بنائیں،عید کے بعد شوال المکرم میں دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ میں داخلے کھلیں گے ،اس میں بچوں کو درسِ نظامی (عالم کورس کرنے کے لیے)داخل کروائیں ۔

سوال: حضورنبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کون سی سبزی اورکون ساپھل پسندتھا ؟

جواب: کدّوشریف پسندتھا ،ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کھانے کی دعوت پیش کی ،حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ میں بھی گیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم چُن چُن کر کدّو تناول فرما رہے تھے، لہٰذا اس دن سے میں بھی کدّوشوق سے کھانے لگا۔ (بخاری،ج3،ص536، حدیث:5433مفہوماً) ،ایک مرتبہ کسی نے عرض کی: کیا آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ہاں ،یہ میرے بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔ ( بیضاوی، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۶، ۵ / ۲۷)

حضورنبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کھجور،انگوراورخربوزہ پسندتھے ،(1) سردارِ عرب و عجم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کھجور شوق سے تناول فرماتے تھے ،خاص طور پر عجوہ  کھجور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بہت پسند تھی۔(2)نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے انگور(Grapes) کھانا بھی ثابت ہے چنانچِہ  حضرتِ ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کے لئے گیا تو دیکھا کہ آپ انگور تناول فرمارہے تھے۔ (معجم کبیر، ج12،ص115،حدیث:12727) (3)حضرت سیّدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صاحبِ معراج صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خربوزےکو تَر کھجوروں کے ساتھ تناول فرماتے اور ارشاد فرماتےکہ خربوزے کی ٹھنڈک کھجور کی گرمی کو ختم کردے گی۔ (سبل الہدٰی و الرشاد،ج7،ص209)

سوال: بُرے خاتمے کے اسباب میں سب سے بڑاسبب کیا ہے ؟

جواب: بُرے خاتمے کا سب سے بڑاسبب دوسروں پر ظلم کرنا ہے۔

سوال: خالی پیٹ ہوتو تلی ہوئی(Fried) چیزیں کھانا کیسا ؟

جواب :تلی ہوئی چیزیں ہضم کرنے کے لحاظ سے بھاری(Heavy) ہوتی ہیں ،خالی پیٹ میں ایسی چیزیں ڈالنا ہاضمہ خراب کرتاہے ۔

سوال: اگر فوت شدہ والدین خواب میں اچھی حالت میں نظر نہ آئیں تو کیا کرنا چاہئے؟

جواب: ان کے لیے ایصالِ ثواب اوردُعائے مغفرت زیادہ کر دی جائے۔

سوال: ہم اللہ پاک کی رحمت کیسے حاصل کرسکتے ہیں ؟

جواب: ساری مخلوق کو اللہ پاک کی رحمت کاحصہ ملاہواہے ،اگر ہمیں اللہ پاک کی رحمت حاصل نہ ہوتی تو ہم جیسے گنہگار زندہ کیسے رہ سکتے تھے؟ مزید یہ کہ بندہ اللہ پاک کی بارگاہ میں اُس کی رحمت کا سوال کرتارہے ۔

سوال : بسااوقات کسی چیز کا خوف بندے کو اُس سے دُورکردیتاہے ،پھر اللہ پاک کا خوف کیوں ضروری ہے؟

جواب: اللہ پاک کے خوف کا یہ معاملہ نہیں ،ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کا خوف اللہ پاک کے قُرب کا ذریعہ ہے، اللہ پاک کا جتناخوف ہوگابندہ اُتنی ہی زیادہ عبادت کرے گا،نیکیوں کی طرف مائل ہوگا اورگناہوں سے بچے گا ۔

سوال: کیا نبیِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جانورپالے تھے ؟

جواب: جی ہاں ! بکریاں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضررہتی تھیں ،اس دورمیں سواری کےلیے جانور ہوتے تھے ،آپ کے پاس سواری کے لیے اُونٹنی بھی تھی۔

سوال: کیا بچوں کو گھرکے کاموں میں امی ابوکا ہاتھ بٹاناچاہئے ؟

جواب:جی ہاں! سمجھداربچوں کو چاہئے کہ گھرکے کاموں میں شوق سے اپنی امی ابوکا ہاتھ بٹائیں ،امی ابوبھی تو کام کرکے تھک جاتے ہیں۔


ہرمسلمان مردو عورت کو علم دین سیکھنا نہایت ضروری ہے اس کے لئے جو بھی مناسب طریقہ میسر آئے اسے اپنالیا جائے۔ مدنی چینل بھی علم دین سیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے جس میں رمضان المبارک کی برکتوں کو لوٹنے کے لئے بعد نماز عصر اور بعد نماز تراویح عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی سے براہ راست مدنی مذاکرے کا اانعقاد کیا جارہا ہے۔

اسی سلسلے میں 16 اپریل 2022ء کو مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں معتکفین اور دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی۔

امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےعاشقان رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائے۔

بعد نماز عصر ہونے والے مدنی مذاکرے کے مدنی پھول

سوال:کیاایک دوسرے کو اچھے ناموں سے پکارنا چاہئے ؟

جواب:جی ہاں !حدیث پاک میں اچھے ناموں سے پکارنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ۔ہمیں اس پر عمل کرنا چاہئے۔ مثلاً کسی کا نام محمدنعیم ہوتو اسے صرف نعیم کہیں گے تو وہ ناراض نہیں ہوگامگرمحمد نعیم کہیں گے تو وہ خوش ہوگا ،اسی طرح اگرکوئی حاجی یا حافظ ہوتو حاجی فلاں اورحافظ فلاں کہیں گے تو وہ بہت خوش ہوگا۔

سوال: صبرکی کیا فضیلت ہے ؟

جواب: صبرکرنے والے کو اللہ پاک کا ساتھ اورقُرب حاصل ہوگا، سورۂ بقرہ،آیت :153میں ہے : اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ترجمہ: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے ۔

سوال:اس ماہ ِرمضان میں شبِ قدرکون سی ہے؟

جواب: شبِ قدرچُھپی ہوئی ہے،حضرت ابوالحسن عراقی رحمۃ اللہ علیہ کے قول اورتجربے کے مطابق اگراتوارکو پہلا روزہ ہوتوشبِ قدر 29ویں شب ہوتی ہے ، امامِ اعظم ابوحنیفہ اوردیگرکثیرعلماء رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک شبِ قدر رمضان المبارک کی 27ویں رات ہوتی ہے ، "اگر قدر دانی ،ہر شب ،شبِ قدر است" یعنی اگرقدرکی جائے تو ہرشب شبِ قدرہے ۔

بعد نماز تراویح ہونے والے مدنی مذاکرے کے مدنی پھول

سوال: شرم وحیا کسے کہتے ہیں ؟

جواب :عیب لگانے کے خوف سےجھجھکنا ،شرمانا ،اس سے مرادوہ خوبی ہے جواُن کاموں سے روک دے جواللہ پاک اورمخلوق کے ہاں ناپسندیدہ ہوں ،مخلوق سے حیا کرنا عوامی برائیوں سے بچائے گا،علماءاوردینی لوگوں سے حیا کرنا دینی برائیوں سے بچائے گا۔مگر حیا وہی درست ہوگی کہ جب مخلوق سے شرماکر کسی کام سے رک جانے میں خالق (اللہ پاک ) کی نافرمانی نہ ہو،نہ کسی کے حقوق کی ادائیگی میں وہ حیا رکاوٹ بنے،اللہ پاک سے حیایہ ہے کہ اللہ پاک کی ہیبت اورخوف دل میں بٹھائے اورہراس کام سے رکے جس میں اللہ پاک کی ناراضی کا اندیشہ ہو۔

سوال: نواسۂ رسول،جنّتی جوانوں کے سردارحضرت امامِ حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کا یوم ولادت کیا ہےاورآپ کی کنیت کیا ہے؟

جواب: امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کا یومِ ولادت 15رمضان المبارک اورکنیت ابومحمدہے۔

سوال:دنیا میں قابلِ رشک کون ہے؟

جواب: خداکی قسم !قابلِ رشک وہ ہے جو اپنا ایمان سلامت لے کرقبرمیں اُترگیا۔

سوال : سب سےانمول چیز کیا ہے؟

جواب: سب سے انمول خزانہ ایمان ہے۔

سوال : عبادت ونیکی کے لیے ایمان کیوں ضروری ہے ؟

جواب: اللہ پاک نے ایمان لانے کا حکم دیا ہے ،نیکی وہی ہے جس سے رب راضی ہو،ایمان سب سے بڑی نیکی ہے ،یہ ہوتو دیگرنیکیاں قبول ہوں گی ،جنت میں جانے کے لیے ایمان شرط ہے ،جنت ہے ہی ایمان والوں کے لیے ۔

سوال: سلام کس طرح کرنا چاہئے اورسلام کرنے کے کیا کیا فوائدہیں ؟

جواب:جب ملاقات ہوتوسب سے پہلے سلام کریں ،سلام کرتے وقت تلفظ بھی درست ہوں اورادائیگی بھی ،اتنی جلدی سلام نہ کیا جائے کہ الفاظ پورے ادانہ ہوں ،سلام دعاہے ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کا معنی ہے آپ پر سلامتی ہو۔سلام کرتے وقت دل میں یہ نیّت ہوکہ جس کو سلام کرنے لگا ہوں اس کا مال اورعزت وآبروسب کچھ میری حفاظت میں ہے اورمَیں اِن میں سےکسی چیز میں دخل اندازی کرنا حرام جانتاہوں،دن میں کتنی ہی بارآمناسامناہو،کسی کمرے وغیرہ میں باربارجانا ہووہاں موجودمسلمانوں کو ہربارسلام کرنا کارِ ثواب ہے ،سلام میں پہل کرنا سنت ہے، سلام میں پہل کرنے والا تکبرسے آزادہے ۔

سوال: جب والدین کوغُصہ آجائے توبچوں کو کیا کرنا چاہئے ؟

جواب : خاموش ہوجائیں،بچے جس چیز کی ضداورڈِیمانڈ کررہے ہیں اسے چھوڑدیں۔مکتبۃ المدینہ کے اس رسالے"ماں باپ لڑیں تو اولاد کیا کرے؟" کا مطالعہ کریں،اس کی برکت سے بچوں کو اپنے والدین کے بارے میں بہت ساری معلومات حاصل ہوں گی ۔انْ شاۤء اللہُ الکریم

سوال: بچے والدین کے لیے کیا کیا دعائیں کریں؟

جواب:یہ دعائیں کریں ، یااللہ پاک !ہمارے والدین کا سایہ عافیت کے ساتھ ہم پر قائم رکھ، تندرستی دے، بیماریوں سے بچا ،ہم مل کر حج پرجائیں ،ہمارے والدین کاایمان سلامت رکھ ،ان کی بخشش ہوجائے ۔

سوال: والدین بچوں کی تربیت کس طرح کریں ؟

جواب: جتنا ہوسکے بچوں کو موبائل سے بچائیں ،ان کو اپنی اطاعت کا ذہن دیں ،گھرکی بات باہر نہ کرنے کا کہیں ،رازکی بات ان کے سامنے بھی نہ کریں ،بچوں کی عادتیں خراب نہ ہوں، اس کی کوشش کریں ۔ مکتبۃ المدینہ کا رسالہ"تربیتِ اولاد" حاصل کرکے اس کا مکمل مطالعہ کریں ،بہت فوائد حاصل ہوں گے ۔انْ شاۤء اللہُ الکریم

سوال : قرآنِ کریم میں اِعراب( زیر،زبر،پیش )کا رواج کب شروع ہوا ؟

جواب: حجاج بن یوسف ثقفی نے قرآنِ مجید میں اِعراب لگوائے اور ایک روایت کے مطابق اسلام کے چوتھے خلیفہ، امیرالمؤمنین حضرت مولاعلی مشکل کشا رضی اللہ عنہ کے شاگر دِ رشید حضرت ابوالاسود دوئلی نے لگائے ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” امیرِاہلِ سنّت سے نمازِ وترکے بارے میں سوال جواب “ پڑھنے یاسُننے والوں کوجانشینِ امیرِاہلِ ِسُنّت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:ياربّ المصطفےٰ! جو کو ئی  14 صفحات کا رسالہ ” امیرِاہلِ سنّت سے نمازِ وترکے بارے میں سوال جواب“ پڑھ یا سُن لے اُسے باجماعت نماز کی پابندی نصیب فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔


ہمارے اسلاف کا طریقہ رہاہے کہ انہو ں نے اپنی ساری زندگی علم دین سیکھنے اور مسلمانوں کو اس کے نور سے فیض یاب کرنے کے لئے وقف کردیں۔ اسی طریقے کو عاشقان رسول میں عام کرنے کے لئے  عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں15 اپریل 2022ء کو مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں معتکفین اور دیگر عاشقان رسول نے شرکت کی۔

امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےعاشقان رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائے۔

بعد نماز عصر ہونے والے مدنی مذاکرے کے مدنی پھول

سوال: ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کون سے نبی علیہ السلام کا رتبہ ہے ؟

جواب: حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا۔

سوال: کیا جمعرات کو روحیں گھرمیں آتی ہیں؟

جواب:جمعرات کو روحیں گھر میں آتی ہیں ،ان کوایصالِ ثواب کرناچاہئے۔

سوال: کیا جمعہ کو نیکی کا ثواب زیادہ ملتاہے ؟

جواب: جمعہ کی ایک نیکی کا ثواب 70گنا ملتاہے،اللہ پاک اخلاص دیکھتاہے،اس لیے صدقہ وخیرات میں جمعہ کا انتظار کرنا مناسب نہیں، جمعہ کا انتظار کرتے کرتےکہیں ذہن بدل نہ جائے ۔

سوال:جسم میں دردکی وجہ سے نیندنہ آتی ہوتو کونساوِردکریں ؟

جواب:’’ یَامُغْنِیْ‘‘ پڑھ کر ہاتھوں پر دم کرکے دردکی جگہ ملنے سے دردمیں افاقہ ہوگا۔

سوال: بچے کوڈرلگتاہوتوکیا پڑھیں؟

جواب: قرآن مجید کی سب سےآخری دوسورتیں" سورۂ فلق اورسورہ ٔناس" پڑھ کربچے کو دم کردیں۔

بعد نماز تراویح ہونے والے مدنی مذاکرے کے مدنی پھول

سوال: شجر کاری (Tree Planting)کیا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے ؟

جواب:جی ہاں! سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے لیےکھجوروں کے99 درخت لگائے ،پہلے اس باغ کی زیارت ہوجاتی تھی ،اب نہیں ہوسکتی کہ وہاں عمارت تعمیرہوگئی ہے ،فضاکی زیارت ہوسکتی ہے ۔

سوال: کیا ہمیں شریف کے ساتھ شریف اوربدمعاش کے ساتھ بدمعاش رہنا چاہئے ؟

جواب: بے سہاروں کےسہارا،غریبوں کے داتا صلی اللہ علیہ والہ سلم پرظلم ہوئے ،پتھرمارے گئے مگرآپ سراپا شرافت تھے ،اس لیے ہم نےبھی شریف بننا ہے،دنیا میں اب بھی شریف لوگ ہیں ،اگرزمین شریفوں سے خالی ہوجائے تو یہ ختم ہوجائے ،شریف سے لوگ دل سے محبت کرتے ہیں ،بدمعاشوں سے دلی نفرت کرتے ہیں ،اگرخوف سے احترام بھی کریں تو ان کے شرسے بچنے کے لیے کرتے ہیں ،اچھے مسلمان کا کام نہیں ہے کہ وہ لوگوں کوتکلیف دے ،ایذارسانی کرے۔ شرافت کا زمانہ تھا ،ہے اوررہےگا۔بدمعاشی سے آپ ایک کوبھی نمازی نہیں بناسکتے ،پیارومحبت اورعاجزی سے نمازکی دعوت دے کرہی مسجد میں لاسکتے ہیں ۔

سوال: کلاس روم(Class Room) میں مذاق مسخری کرنا کیسا؟

جواب: کلاس روم اورگھر میں ایک دوسرے سےایسا مذاق نہ کیاجائے کہ جس سے کسی کو تکلیف پہنچے مثلاً کوئی بیٹھنے لگے تو اس کے نیچے سے کرسی کھینچ لینا وغیرہ ،اس سے تو وہ گِرجائے گا ،اگرچہ وہ بھی ہنسےگا مگروہ اپنی جھینپ مٹانے کے لیے ہنستاہے ،نہ کہ خوش ہوکر۔گرنے سے سخت چوٹ بھی آسکتی ہے اگرکوئی بوڑھا ہواتو وہ گِرکر مربھی سکتاہے ۔فرمانِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ):جس نے (بِلاوجہ شرعی)کسی مسلمان کوتکلیف دی اُس نے مجھے تکلیف دی اورجس نے مجھے تکلیف دی اُس نے اللہ پاک کو اِیذا(تکلیف)دی۔ (معجم اوسط،2/387،حدیث3607)

سوال : آپ کوکون سی کتاب پسندہے ؟

جواب: مجھے بچپن سے مسائل کی کتاب (جس میں شرعی مسائل لکھے ہوتے ہیں )پسندہے۔

سوال: بچوں کو نیک کیسے بنائیں ؟

جوا ب :بچوں کونیک بنانا چاہتے ہیں تو خود نیک بنیں ،کیونکہ والدین کو دیکھ کراولاد عمل کرتی ہے ،اپنے بچوں کو مدرسۃ المدینہ اورجامعۃ المدینہ میں داخل کروائیں ،چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ،کرنے سے ہوتاہے ۔محاورہ ہے :اَلسَّعْیُ مِنَّا وَ الِاتْمَامُ مِنَ الله یعنی کوشش کرنا ہماراکام ہے ،کام کومکمل کرنا اللہ پاک کے دستِ قدرت میں ہے ۔

سوال: حضرت جبرائیلِ امین علیہ السلام حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں کتنی بارحاضر ہوئے ؟

جواب: 24ہزارمرتبہ ۔

سوال: حضرت جبرائیلِ امین علیہ السلام کا مقام کون ساہے؟

جواب : سِدْرَۃُ الْمُنْتَہیٰ۔

سوال: لیٹے لیٹے مدنی چینل دیکھنا یا کتاب پڑھنا کیساہے؟

جواب: لیٹے لیٹے مدنی چینل دیکھنے یا کتاب پڑھنے سے آنکھوں کو نقصان ہوسکتاہے ۔

سوال: کیا نبیِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں گنتی تھی ؟

جواب: جی ہاں۔

سوال : ہم امی ابوکا غُصہ کیسے ٹھنڈاکرسکتے ہیں ؟

جواب: ان کو غصہ دلانا ہی نہیں چاہیے ،انہیں غصہ آجائے تو دعا دے دیں ،مثلاً اللہ پاک آپ کو میٹھا مدینہ دکھائے ۔