صحابۂ کرام پیارے آقاﷺ کے ساتھی ہیں۔اہلِ بیت پیارے آقا کی اولاد ہیں۔آپ کی لاڈلی شہزادی حضرت بی بی فاطمہ کی اولاد ہیں حبیب خدا سے ہمیں سچی محبت کا اظہار کرنے کے لیے ہمیں اپنے دل میں اہلِ بیت کی محبت رکھنی چاہیے۔ پیارے آقا کا فرمان شفاعت نشان ہے: جو وسیلہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ میری بارگاہ میں اس کی کوئی خدمت ہو جس کےسبب میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں اسے چاہیے کہ میرے اہلِ بیت کی خدمت کرے اور انہیں خوش کرے۔(الشرف المؤبد، ص 54)

جس طرح اہلِ بیت سے محبت کرنا رسول اکرم سے محبت کرنا ہےایسے ہی اہلِ بیت سے دشمنی گویا سرکارﷺ سے دشمنی ہے۔

اہلِ بیت میں کون کون شامل: اہلِ بیت سے مراد رسول اللہ ﷺ کے وہ آل و اولاد مراد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ان میں سیدنا علی کی اولاد، سیدنا جعفر کی اولاد، سیدنا عقیل کی اولاد، سیدنا عباس کی اولاد، بنو حارث بن عبد المطلب اور نبی اکرمﷺ کی تمام ازواج مطہرات اور بنات طاہرات شامل ہیں۔

(1)اہلِ بیت اطہار کے پانچ حقوق: پیارے آقاﷺ نے فرمایا: تم میں سے پل صراط پر سب سے زیادہ ثابت قدم وہ ہوگا جو میرے صحابہ و اہلِ بیت سے زیادہ محبت کرنے والا ہوگا۔ (جمع الجوامع، 1/86،حدیث:454)

حضرت علامہ عبد الرؤف فرماتے ہیں یہ فضیلت اس کے لیے ہے جس کے دل میں صحابہ و اہلِ بیت دونوں کی محبت جمع ہوگی اور وہ اسی حالت میں فوت ہوگیا۔یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے پل صراط سے مراد دین اسلام ہو یعنی تم سب سے زیادہ دین پر ثابت قدم، کامل الایمان وہ ہوگا جو صحابہ و اہلِ بیت سے زیادہ پیار کرنے والا ہوگا۔ لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ و اہلِ بیت کی محبت ایمان کے کامل ہونے کی دلیل ہے۔ہمیں اپنا ایمان کامل کرنے کے لیے صحابہ و اہلِ بیت سے زیادہ پیار کرنا ہوگا۔

(2) پیارے آقاﷺ نے فرمایا: میں تم میں 2 عظیم (بڑی) چیزیں چھوڑ رہا ہوں ان میں سے پہلی تو اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے جس میں ہدایت اور نور ہے تم اللہ کی کتاب پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔ دوسرے میرے اہلِ بیت ہیں اور تین مرتبہ فرمایا: میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے متعلق اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔ (مسلم، ص1008، حدیث6225)

امام شرف الدین فرماتے ہیں: معنیٰ یہ کہ میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کی شان کے حوالے سے اللہ سے ڈراتا ہوں تم سے کہتا ہوں کہ تم اللہ پاک سے ڈرو انہیں تکلیف نہ دو بلکہ ان کی حفاظت کرو۔(شرح الطیبی، 11/196)

(3) اہلِ بیت یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کی محبت و اطاعت ہدایت اور نجات کا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ فرمان مصطفےٰ ﷺ ہے: آگاہ رہو کہ تم میں میرے اہلِ بیت کی مثال جناب نوح کی کشتی کی طرح ہے۔جو اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا۔ ( مسند امام احمد، 1/ 785 حدیث: 1402)

اس حدیث پاک کے تحت مفتی احمد یار خان فرماتے ہیں: جیسے طوفان نوح کے وقت ذریعہ نجات صرف محبت اہلِ بیت اور ان کی اطاعت کی اتباع ہے۔ بغیر اتباع واطاعت دعویٰ محبت بے کار ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ میرے صحابہ تارے ہیں تم جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے گویا دنیا سمندر ہے اس سفر میں جہاز کی سواری اور تاروں کی رہبری دونوں کی ضرورت ہے۔الحمد للہ! اہلسنت کا بیڑا پار ہے کہ یہ اہلِ بیت اور صحابہ دونوں کے قدم سے وابستہ ہیں۔(مراٰۃ المناجیح، 8/494)

(4) پیارے آقاﷺ نے فرمایا: ہمارے اہلِ بیت کی محبت لازم پکڑ لو کیونکہ جو اللہ پاک سے اس حال میں ملا کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے تو اللہ پاک اسے میری شفاعت کے سبب جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! کسی بندے کو اس کا عمل اسی صورت میں فائدہ دے گا جب کہ وہ ہمارا (یعنی میرا اور میرے اہلِ بیت ) کا حق پہچانے۔(معجم اوسط، 1/606، حدیث: 243)

(5) نبی کریمﷺ سے منسوب ہر چیز کا ادب و احترام لازم ہے اہلِ بیت کا بھی ادب لازم ہے اور یہ محبت کا بھی تقاضا ہے، کتب میں اسلاف کرام کے کئی واقعات اس مناسبت سے ملتے ہیں چنانچہ حضورﷺ کے چچازاد حضرت عباس نے ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت کے گھوڑے کی رکاب پکڑ لی تو انہوں نے فرمایا: اے رسول اللہ کے چچا کے بیٹے! یہ کیا ہے؟ (یعنی آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ ) حضرت ابن عباس نےکہا ہمیں ایسی تعلیم دی گئی ہے کہ علماء کا ادب کریں اسی پر حضرت زید بن ثابت نے حضرت ابن عباس کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور فرمایا کہ ہمیں بھی حکم ہے کہ ہم اپنے نبی کے اہلِ بیت اطہار کے ساتھ ایسا ہی کریں۔ (تاریخ ابن عساکر19)

اہلِ بیت سے محبت کا درس: حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں: آل رسول کی ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ (الشرف الموبد، ص 92)

دین اسلام کے لیے اہلِ بیت کی قربانیوں سے کون آگاہ نہیں ان کا صبر، ہمت، جذبہ اور ثابت قدمی مثالی ہے یہ وہ ہیں جن کا خاندان دین اسلام کی سربلندی کےلیے شہید ہوا جنہوں نے کتنی بھوک اورپیاس برداشت کی۔ مشقتیں جھیلیں جس طرح ہر موقع پر صبر سے کام لیا اہلِ بیت سے محبت کرنے والوں کو بھی مشکلات پر واویلا کرنے کی بجائے صبر و ہمت سے کام لینا چاہیے۔


گزشتہ روز  ریسکیو 1122 آفس شیخوپورہ میں افطار اجتماع کا سلسلہ ہوا جس میں شفٹ انچارج سید ندیم ،رانا عدنان سمیت دیگر عملےنے بھر پور شرکت کی۔

افطار اجتماع میں مبلغ دعوت اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کیا جس میں شرکا کی دینی واخلاقی اعتبار سے تربیت کی ۔بعدازاں ذکر ،مناجات اور دعا کا بھی سلسلہ ہوا۔( رپورٹ: شعبہ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ ڈسٹرکٹ شیخوپورہ، لاہور ڈویژن ، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


دعوتِ اسلامی   کی طرف سے ڈسٹرکٹ میانوالی،سرگودھا ڈویژن تھانہ واں بچھراں میں افطار اجتماع کا انعقاد ہوا جس میں ایس ایچ او تھانہ رانا محمد اسد اویس سمیت وہاں موجود دیگر تفتیشی افسران و عملے نے شرکت کی ۔

افطار اجتماع میں سب تحصیل نگران اسلامی بھائی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور پولیس افسران کو نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے انہیں نماز کی پابندی کرنے کا ذہن دیا نیز ہفتہ وار اجتماع میں آنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے اچھے خیالات کا اظہار کیا۔( رپورٹ: امین عطاری کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ،تحصیل میانوالی/ڈسٹرکٹ میانوالی،سرگودھا ڈویژن، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


لودہراں میں 5 مارچ 2023ء کو دعوتِ اسلامی شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے ذمہ دارفداعلی عطاری نے ڈپٹی کمشنرسیدمشہدرضا کاظمی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرایف اینڈپی عامرنزیرکھچی اورانچارج جنرل برانچ ملک ریاض احمداعوان سےملاقات کی۔

فداعلی عطاری نے عامرنزیرکھچی کولودہراں تعیناتی پرمبارک باد دی اور وہاں موجود تمام افسران کو مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہونے والے افطاراجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی نیزمکتبۃ المدینہ کی تصانیف انہیں تحفےمیں پیش کیں جس پر انہوں نے افطار اجتماع میں آنے کی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔( رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے شخصیات لودہراں ، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


14ویں شب  1444 ہجری رمضان المبارک کو سندھ سیکرٹریٹ کے ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر لیاقت علی بھٹی اور ان کے بھائی سینئر رجسٹرار جناح اَسْپَتال ڈاکٹر صدام نے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی کا دورہ کیا۔

اس موقع پر شخصیات نے مدنی مرکز فیضان مدینہ میں موجود شعبہ جات کا وزٹ کیا نیز مدنی مذاکرے میں شرکت کی اور نگرانِ شوریٰ کا بیان سنا۔ بعدازاں رکنِ شوریٰ حاجی محمد امین عطاری سے ملاقات کی۔

دورانِ ملاقات رکنِ شوریٰ نے ڈاکٹر لیاقت علی بھٹی اور ان کے بھائی کو ملک و بیرون ملک میں ہونے والے دعوت اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں کے حوالے سے بریفنگ دیں نیز حالیہ سیلاب و طوفان میں شعبہ FGRF کے امدادی کاموں کے بارے میں بھی بتایا جس پر انہوں خدمات دعوت اسلامی کو سراہتے ہوئے تعاون کرنے کی اچھی نیت کی۔( رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے شخصیات کراچی ، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


عاشقانِ رسول       کی دینی تحریک دعوت اسلامی کے شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز کی جانب سے 7اپریل2023ء کو مدرسۃ المدینہ اور جامعۃ المدینہ بوائزکے ملک بھر کے شفٹ اور ڈویژن تعلیمی ذمہ داران کا آن لائن مدنی مشورہ ہوا۔

مدنی مشورے کا آغاز تلاوت ِ قرآن پاک و نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا۔ بعدازاں نگران مجلس مولانا یاسر عطاری مدنی نے قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے اور زیادہ سے زیادہ اسلامی بھائیوں کو اعتکاف کروانے کی ترغیب دلائی ۔ ساتھ ہی اسلامی بھائیوں کو فطرے وصول کرنے کا ذہن دیا جس پر اسلامی بھائیوں نے اچھی نیتوں کا اظہار کیا نیز اس مشورے میں رکن مجلس سید غلام الیاس عطاری نے بھی شرکا کی تربیت کی۔( رپورٹ: محمد وقار یعقوب عطاری مدنی برانچ ناظم فیضان آن لائن اکیڈمی، کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


ان دنوں   دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حاجی محمدعقیل عطاری مدنی دینی کاموں کے سلسلے میں ملتان کے دورے پر ہیں۔ بروز جمعہ 07اپریل2023 ء کو دعوت اسلامی کے مدنی مرکز فیضان مدینہ شاہ رکن عالم کالونی کے اطراف میں رکنِ شوریٰ کی دعوت پر اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر ایک غیر مسلم نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا ۔

اس موقع پر رکن شوریٰ نے انہیں اسلام سے متعلق چند اہم ضروری باتیں سکھائیں اور مسلمان کرکے ان کا اسلامی نام محمد رمضان رکھا۔(کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


پچھلے دنوں گوجرانوالہ فیضانِ مدینہ میں ہربل ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی کے تحت افطار اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں نگران حاجی محمد دانیال عطاری نے سنتوں بھرابیان کیا۔

اس اجتماع میں 275 معتکفین سمیت گوجرانوالہ کے 80 سے زیادہ اطبائےکرام نے شرکت کی ۔

معلومات کے مطابق اس اجتماع میں حکیم سرفراز بھٹی، پروفیسر حکیم رفیق چشتی، پروفیسر حکیم عظیم عظمی، پروفیسر حکیم یاسین مغل، پروفیسر حکیم غفار قادری صاحب، پروفیسر حکیم قاسم، پروفیسر حکیم عرفان جانی، پروفیسر حکیم طاہر کے ہمراہ 40 کے قریب اطبا نے شرکت کی۔

پاکستان طبی کانفرنس پروفیسر حکیم محسن ضیاء صاحب کے ساتھ پروفیسر ریاض شاہد ، پروفیسر حکیم طاہر ندیم بھلر ، پرنسپل سلطان طبیہ کالج حکیم مشتاق اور حکیم عرفان قاضی کے ساتھ 7 اطبائے کرام نے شرکت کی۔(کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


اہلِ بیت اطہار وہ عظیم ہستیاں ہیں جو ہمارے پیارے آقا ﷺ کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اعلیٰ حضرت حدائق بخشش میں پیارے آقا ﷺ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانہ نور کا

اہلِ بیت اطہار کی عظمت وشان کے کیا کہنےکہ خود قرآن پاک ان کی عظمت وشان بیان فرمارہا ہے، چنانچہ سورۃ الاحزاب، آیت نمبر:33 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳) ترجمہ کنز الایمان: اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور فرمادے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔

اور خود حضورِ انور ﷺ نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے اہلِ بیت کے فضائل بیان فرمائے، چنانچہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تمام نسب منقطع ہوجائیں گے سوائے میرے نسب اور میرے سبب کے۔ (مجمع الزوائد، 8/398، حدیث: 3837)

یاد رہے! اہل بیت کے معنیٰ ہیں گھر والے۔ بیت کی تین قسمیں ہیں: بیتِ نسب، بیت سکن، بیت ولادت، اس لیے اہلِ بیت بھی تین قسم کے ہیں: اہلِ بیت نسب: حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی اولاد اہلِ بیت نسب ہیں۔(بنی ہاشم) اہلِ بیت سکن: گھر میں رہنے والے یعنی ازواج مطہرات۔ اہلِ بیت ولادت: رسول اللہ ﷺ کی اولاد، ان میں خاص کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت علی، حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کہ یہ حضرات فضل وکرامت محبت کے لحاظ سے زیادہ ممتاز ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 8/383)

امتِ مسلمہ پر اہلِ بیت کے بہت سے حقوق ہیں۔ ان میں چند حقوق کا مختصر ذکر اگلی سطور میں کرنے کی سعادت حاصل کروں گی اور حق تو یہ ہے کہ ہم ان نفوسِ قدسیہ کا ایک حق بھی ادا نہیں کر سکتے۔

1) ان سے محبت رکھنا: اہلِ بیت سے محبت کرنے کا حکم خود رب تعالیٰ نے ہمیں ارشاد فرمایا ہے چنانچہ حکم ہوا: قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ- (پ25، الشوری: 23) ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔ اس آیت مبارکہ کی روشنی میں معلوم ہوا کہ اہلِ بیت کی محبت ہم پر واجب ہے۔ ہمیں چاہیے اس حکم ربی پر عمل کرتے ہوئے خود بھی اہلِ بیت کے محبت کےجام پئیں اور اپنی نسلوں کو بھی اس سے سیراب کریں۔ (عقائد ومسائل،ص82)

2) ان کی عزت کرنا: حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں۔ اس کی شرح میں مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یعنی میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق الله سے ڈراتا ہوں،ان کی نافرمانی بے ادبی بھول کر بھی نہ کرنا ورنہ دین کھو بیٹھو گے۔(مراٰۃ المناجیح، 8/388- 389)

3) ان پر درود بھیجنا: ان پر درود بھیجنا یہ ایک ایسا حق ہے کہ اللہ پاک نے نماز کے اندر درود ابراہیم کی صورت میں اسے رکھ دیا۔ اسی کے متعلق امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے اشعار میں لکھتے ہیں۔

یَا اَہلَ بَیت ِرَسُول ِاللہِ حُبُّکُمْ فُرِضَ مِنَ اللہِ فِی الْقُرآنِ اَنْزلَہُ

کَفَاُکمْ مِن عَظیم ِالْقدرِ اَنَّکُمْ مَنْ لَمْ یُصَلِّ عَلیکُمْ لَا صَلٰوۃَ لَہُ

یعنی اے رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت! تمہاری محبت اللہ پاک کی طرف سے فرض ہے۔ اس نے قرآن کریم میں یہ حکم نازل فرمایا ہے۔عظمت مقام سے تمہارے لیے یہ کافی ہےکہ جو تم پر درود نہ بھیجے اُس کی نماز نہیں ہے(یعنی ناقص ہے)۔ (عقائد ومسائل،ص90)

امام دیلمی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ دعا روک دی جاتی ہے یہاں تک محمد ﷺ اور آپ کے اہلِ بیت پر درود بھیجا جائے۔(معجم صغیر،2/303،حدیث:812، عقائد ومسائل،ص90)

4) ان کو حسب نسب میں افضل جاننا: اہلِ بیت حسب نسب میں سب انسانوں سے افضل ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: مجھ سے جبریل علیہ السلام نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے زمین کے مشرق ومغرب کو الٹ پلٹ کر دیکھا، میں نے بنی ہاشم سے بڑھ کر کسی باپ کے بیٹوں کو نہ پایا۔(فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل،2/628)

5) اطاعت وفرمانبرداری: ان کی اطاعت وفرمانبرداری کرنا، ان کی سیرت پر عمل کرنا یہ بھی اہلِ بیت کے حقوق سے ہے چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے درمیان ہمارے اہلِ بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی ہے جو اس میں سوار ہوا نجات پا گیا اور جو سوار نہیں ہوا غرق ہوگیا۔(مستدرک، 3/ 81، حدیث: 3365)

ہم نے اہلِ بیت کی عظمت وحقوق ملاحظہ فرمائے ہمیں چاہیے کہ ان حقوق کو ادا کریں، ان نفوسِ قدسیہ کی محبت اپنے دلوں میں راسخ کریں، ان کی سیرت پر عمل کریں کہ اسی میں دنیاوآخرت کی کامیابی ہے۔

اہل سنت کاہے بیڑا پار اصحابِ حضور نجم ہے اور ناؤ ہے عترت رسول الله کی

اللہ پاک ہمیں صحابہ واہلِ بیت کا سچا عاشق بنائے اور ان کے صدقے ہماری، ہمارے والدین کی بےحساب مغفرت فرمائے۔


مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺکی محبت ہر مسلمان پر اس کے اعزہ و اقربا اور جان و مال سے بڑھ کر لازم و ملزوم منجانب شریعت مطہرہ ہےاور یہ فطری بات ہے کہ انسان جب کسی سے محبت رکھتا ہے تو اس سے متعلقہ (یعنی نسبت رکھنےوالی) ہر شے سے محبت رکھتا ہے نیز وہ اس کے اقوال و افعال وعادات و اخلاق، اس کے وطن، اس کے مکان، اس کی آل واصحاب سے الفت و وارفتگی رکھتا ہے اور محبوب سے قریب تر چیز کو خود کے لیے متبرک جانتا ہے اور اس کا ادب و احترام بجا لاتا ہے۔ چنانچہ اہل بیتِ کرام تو وہ نفوس ِ قدسیہ ہیں کہ جن کے صبح و شام دو جہا ں کےسلطان ﷺ کی معیت میں بسر ہوتے تھے۔ ان کا لمحہ لمحہ جانِ عالم کی ذاتِ والا تبار سے فیض حاصل کرتے گزرتا تھا۔ ان کی تربیت، ان کی حیات سے لے کر وفات کے کہ جملہ امور میں حضور کا دستِ شفقت ان کے سروں پر اور آپ کی نظرِ عنایت ان کے احوال و افعال کو ملاحظہ فرماتی تھیں۔ تو وہ حضرات کس درجہ محبت کے حق دار ہوں گے جن کے لیل و نہار حضور ﷺکی زیارت کرتے بسر ہوتے تھے اور ان کی شان کا تو کیا کہنا کہ جن کے بارے میں اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا: اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳)(پ 22، الاحزاب: 33) ترجمہ کنز الایمان: اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور فرمادے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے: یعنی اے میرے حبیب ﷺکے گھر والو! اللہ پاک تو یہی چاہتا ہے کہ گناہوں کی نجاست سے تم آلودہ نہ ہو۔(مدارک،ص94ملخصاً)

آئیے جانتے ہیں کہ اہل قرابت یعنی (اہل بیت)سے کون کون مراد ہیں؟ اس میں کئی اقوال ہیں: ایک تو یہ کہ اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ وحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا و حسنین کریمین رضوان اللہ علیہم ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ آلِ علی وآل عقیل وآلِ جعفر و آل عباس مراد ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ کے وہ اقارب مراد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور وہ مخلصین بنی ہاشم و بنی مطلب ہیں اور حضور ﷺ کی ازواجِ مطہرات حضور ﷺ کے اہلِ بیت میں داخل ہیں۔(خزائن العرفان،الشوریٰ:23)

اب جب کہ ہم نے یہ جان لیا کہ اہل بیت عظام میں کون شامل ہیں تو اب شریعت کی رو سے اس کا حکم دیکھتے ہیں۔

اہلِ بیت سے محبت کا حکم: حضرت امام طبری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اللہ پاک نے حضور ﷺ کے تمام اَہل بیتِ عظام اور ان کی ذُرِّیت (یعنی اولاد) کی محبت فرض فرمادی ہے۔ (المواہب اللدنیہ، 2/527)

چنانچہ حضور ﷺ کے فرامین سے اہل بیت و اطہار کے حقوق واضح طور پر ثابت ہیں:

اہل بیت و اطہار کے پانچ حقوق:

(1)ان سےمحبت رکھنا: حضور ﷺ نے فرمایا: میری شفاعت میرے اس امتی کے لیے ہوگی جس نے میرے اہل بیت سے محبت کی۔( ماہنامہ ضیائے طیبہ کراچی تحفظِ ناموسِ رسالت،ص12)

(2)ا ن کی تعظیم و توقیر کرنا: چنانچہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ پاک کی قسم دیتا ہوں۔ یہ تین مرتبہ فرمایا(یعنی اہل بیت کی تعظیم و توقیر کرو)۔ (مسلم،ص1008، حدیث:6220)

(3)ان کی لغزشوں سے در گزر کرنا: حضور ﷺنے ارشا دفرمایا: میرے اہل بیت و انصار میرا ظاہر و باطن اور میرے اصحاب میری خوشی کا باعث ہیں اور مجھے ان پر اعتماد ہے۔ پس ان کے مُحسن سے قبول کرو اور ان کے لغزش کرنے والے کو درگزر کرو۔(الطبقات الکبریٰ،2/252)

(4، 5) ان کے دوستوں کو دوست اور دشمنوں کو دشمن رکھنا: نبی آخر الزمان ﷺنے ارشاد فرمایا: جس نے علی ( رضی اللہ عنہ) کو دوست رکھا تو علی بھی اس کے دوست ہیں۔ اے خدا !جس نے ان سے دوستی رکھی تو بھی ان سے دوستی رکھ، جس نے ان سے دشمنی رکھی تو بھی اسے مبغوض رکھے۔(مسند احمد،1/118- 119)

معزز قارئین! محبت اہل بیت میں آخرت کی کامیابی کا رازہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: آلِ نبی کی معرفت دوزخ سے نجات اورآلِ نبی سے محبت صراط پر گزرنے میں آسانی اور آلِ نبی کی ولایت کا اقرار عذابِ الٰہی سے حفاظت ہے۔(الشفاء،ص425)

ہمارے اسلاف کی گھٹی میں اہل بیت سے محبت کرنا، ان کی تعظیم میں پیش پیش رہنا، ان کا ذکر ادب و احترام کے ساتھ کرنا، ا ن کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنا شامل رہا ہے۔ ان صفات سے عاری قلوب کے لیے خسارہ و محرومی کے سوا کچھ نہیں کہ جو دونوں جہاں میں امت کے حق میں عافیت، شفقت،عنایت اور اکرام کی بارش فرمانے والےپیارے محبوب کے جگر گوشوں سے محبت نہ کریں اور ان کا ادب بجا نہ لائیں یقیناً یہ بد نصیبی ہے اور بروزِ محشر امت کے غمخوار ﷺکے سامنے شرمساری و ندامت مقدر کرنے والا افسوس ناک امر ہے۔

ہم اللہ پاک سے ایسی آفت سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ پاک ہم کو پیارےا ٓقا ﷺ کی پاک نسبتوں کا لحاظ رکھنے والااور حقوق اہل بیت کو کما حقہ ادا کرنے والا بنادے۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین ﷺ


امت مسلمہ اپنی ایمانی زندگی میں اہلِ بیت اطہار کی محتاج ہےاور صحابہ کےبھی حاجت مند ہیں امت کے لیے صحابۂ کرام کی پیروی میں ہی ہدایت ہے۔ جو شخص اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ سے محبت کرتا ہے تو وہ ان کی آل سے بھی محبت کرتا ہوگا اور ان کے صحابہ سے بھی محبت کرتا ہوگا اسی لیے کہا گیا ہے کہ اگر کسی کے اندر عشق رسول دیکھنا ہے تو یہ دیکھ کہ اہلِ بیت سے کتنی محبت کرتا ہے۔

(1) جو میرے اہلِ بیت میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا میں قیامت کے دن اسے عطا فرماؤں گا۔(فیضان اہلِ بیت، 24تا 25)

(2) تم میں سے پل صراط پر سب سے زیادہ ثابت قدم وہ ہوگا جو میرے اہلِ بیت و صحابۂ کرام سے زیادہ محبت کرنے والا ہوگا۔ (جمع الجوامع، 1/86،حدیث:454)

(3) میرے اہلِ بیت میری خاص جماعت اورمیرے ہم راز ہیں۔ (فیضان اہلِ بیت،ص 33)

(4) اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہ ہوگا حتّٰی کہ اللہ و رسولﷺ کے لیے تم سے محبت کرے۔ (ترمذی، 5/422، حدیث: 3783)

(5) اس وقت تک کوئی( کامل )مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کی جان سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔ اور میری اولاد اس کو اپنی اولاد سے زیادہ پیاری نہ ہو جائے۔(شعب الایمان، 2/189، حدیث: 1505)


اہلِ بیت میں نبی کریم ﷺ کے گھرانے والے شامل ہیں۔ اہلِ بیت نبوت سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔جو ان سے بغض رکھے پیارے آقا ﷺ نے ان سے ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔ ایک بار حضرت امیر معاویہ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ آباؤ اجداد، چچاو پھوپھی اور ماموں و خالہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ معزز ہیں۔(العقد الفرید، 5/344)

رسول اللہ ﷺ کے احترام کے پیش نظر اہلِ بیت کا احترام کرو۔(بخاری 2/384، حدیث:3712)

حضرت عبد اللہ بن مسعود کی اہلِ بیت سے محبت: حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں: آل رسول کی ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ (الشرف الموبد، ص 92)

نیز آپ فرمایا کرتے تھے اہل مدینہ میں فیصلوں اور وراثت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیت حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ہے۔(تاریخ الخلفاء،ص135)

حضرت ابو ہریرہ کی اہلِ بیت سے محبت: حضرت سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں:میں جب بھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو فرط محبت میں میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔(مسند امام احمد،3/632)

خصوصی کپڑے دیئے: ایک موقع پر سیدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرات صحابہ ٔ کرام کے بیٹوں کو کپڑےعطا فرمائے مگر ان میں کوئی ایسا لباس نہیں تھا جو حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی شان کے لائق ہوتو آپ نے ان کے لیے یمن سے خصوصی لباس منگواکر پہنایا۔اور فرمایا: اب میرا دل خوش ہوا ہے۔ (ریاض النضرۃ، 1/341)

حضرت سیدناعمر نے لوگوں کے وظائف مقرر فرمائے تو حضرات حسنین کریمین کے لیے رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری کی وجہ سے ان کے والد حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے برابر حصہ مقرر کیا۔ دونوں کے لیے پانچ پانچ ہزار درہم وظیفہ رکھا۔(سیر اعلام النبلاء، 3/259)