جس طرح والدین کے حقوق اولاد پر شریعت نے لازم کیے
اسی طرح والدین پر بھی اولاد کے مقرر ہیں جن پر عمل کرنا والدین کے لیے ضروری ہے
لیکن آج کے دور میں والدین ان حقوق سے روگردانی کرتے ہیں جن کی بنا پر یہی اولاد
بعد میں والدین کے لیے آزمائش بن جاتی ہے اگر والدین اولاد کو وہ تمام احکامات جو
شریعت نے سکھائے ہیں سکھائیں تو یہی اولاد بڑھاپے میں والدین کے لیے سہارا بن جائے
گی۔
تحنیک یعنی گھٹی کے بارے میں ایک روایت درج ذیل ہے،
چنانچہ دور رسالت میں صحابہ کرام کا معمول تھا کہ جب ان کے گھر کوئی بچہ پیدا ہوتا
تو یہ اسے حضور ﷺ کی بارگاہ میں لاتے اور حضور کھجور اپنے دہن مبارک میں چپا کر
بچے کے منہ میں ڈال دیتے جس سے تحنیک کہتے ہیں یوں بچے کو لعاب دہن کی برکتیں بھی
نصیب ہو جاتی تھیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے: لوگ اپنے بچوں کو حضور کی
بارگاہ اقدس میں لایا کرتے تھے آپ ان کے لیے خیر و برکت کی دعا فرماتے اور تحنیک
فرمایا کرتے تھے۔ (مسلم، ص 1184، حدیث: 2157) اسی
طرح حضرت ابو موسی اشعری بیان کرتے ہیں: میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا میں اس کو لے کر
حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اسے کھجور سے
گھٹی دی۔ (مسلم، ص 1184،
حدیث: 2145)
انہیں احادیث کی بنیاد پر مسلمانوں کا یہ معمول ہے
کہ اپنے بچوں کی صالح اور متقی مسلمانوں سے تحنیک کرواتے ہیں۔ اگر کھجور میسر نہ
ہو تو شہد یا کسی بھی میٹھی چیز سے تحنیک کی جا سکتی ہے۔
قرآن مجید میں ہے: لِیُنْفِقْ
ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖؕ-وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ
مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُؕ-لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ
اٰتٰىهَاؕ-سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠(۷) (پ 28، الطلاق:7)ترجمہ:
صاحب وسعت کو اپنی وسعت (کے لحاظ) سے خرچ کرنا چاہئے اور جس شخص پر اس کا رزق تنگ
کر دیا گیا ہو تو وہ اسی (روزی) میں سے (بطور نفقہ) خرچ کرے جو اسے اللہ نے عطا
فرمائی ہے، اللہ کسی شخص کو مکلف نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جتنا کہ اس نے اسے عطا
فرما رکھا ہے، اللہ عنقریب تنگی کے بعد کشائش پیدا فرما دے گا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی
رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، حاکم بھی نگہبان ہے، رعیت کے بارے میں اس سے
پوچھا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں اس سے
پوچھا جائے گا، عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا
جائے گا اور غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں اس سے
پوچھا جائے گا۔ (بخاری، 2/159، حدیث: 2554)
اس لئے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی پرورش،
ضروریات زندگی، گرمی سردی سے بچاؤ، بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا اچھا اہتمام کریں۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اکرمﷺ نے فرمایا: جس کی دو
بیٹیاں ہوں اور وہ انہیں جوان ہونے تک کھلاتا پلاتا رہے تو وہ دونوں اسے جنت میں
لے جائیں گی۔ (ابن ماجہ 4/189، حدیث: 3670) پرورش کے ضمن میں خوراک، لباس، صاف
ستھرا ماحول، محبت وشفقت کا رویہ ہے
جس طرح والدین کے حقوق اولاد پر شریعت نے لازم کیے
اسی طرح والدین پر بھی اولاد کے مقرر ہیں جن پر عمل کرنا والدین کے لیے ضروری ہے
لیکن آج کے دور میں والدین ان حقوق سے روگردانی کرتے ہیں جن کی بنا پر یہی اولاد
بعد میں والدین کے لیے آزمائش بن جاتی ہے اگر والدین اولاد کو وہ تمام احکامات جو
شریعت نے سکھائے ہیں سکھائیں تو یہی اولاد بڑھاپے میں والدین کے لیے سہارا بن جائے
گی۔
آئیے ہم اولاد کے کچھ حقوق کے متعلق جانتے ہیں:
(1) جب بچہ پیدا ہو تو اس کا اچھا نام رکھے ہو سکے
تو عقیقہ کرے سر کے بال منڈوائے اور بچے کے کان میں اذان دے جب بچّہ پیدا ہو تو
مستحب یہ ہے کہ اس کے کان میں اذان واقامت کہی جائے اذان کہنے سے ان شاء اللہ
بلائیں دور ہوجائیں گی۔ امام عالی مقام حضرت امام حسین ابن علی رضی اللہ عنہما سے روایت
ہے کہ سرکار والا تبار ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: جس شخص کے ہاں بچّہ پید ا ہو اس کے
دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے تو بچّہ امّ الصبیان سے
محفوظ رہے گا۔ (مسند ابی یعلیٰ، 6/32، حدیث: 6747)
حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے نبی
رحمت ﷺ نے فرمایا: اچھوں کے نام پر نام رکھو اور اپنی حاجتیں اچھے چہرے والوں سے
طلب کرو۔ (فردوس بمأثور الخطّاب، 2/58، حدیث: 2329)
افضل نام محمد رکھنا ہے کہ حدیث مبارکہ میں بھی
اسکی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے کہ حدیث مبارکہ میں ہے: جس کے لڑکا پیدا ہو اور وہ
میری محبّت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کیلئے اس کا نام محمد رکھے وہ (یعنی
نام رکھنے والا والد) اور اس کا لڑکا دونوں بہشت(یعنی جنّت) میں جائیں گے۔ (کنز
العمال، 16/175،
حدیث: 45215)
(2) بچے کو ادب سکھائے اللہ کے محبوب ﷺ کا فرمان ہے:
کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے اور وہ اس کے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے افضل
ہے۔ (ترمذى، 3/382، حدیث:1958)
(3) اولاد کو قرآن پاک سکھائے۔ آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بچوں کو
تین چیزیں سکھاؤ: اپنے نبی کی محبّت، اہل بیت کی محبّت اور قرآن پاک پڑھنا۔ (الصواعق
المحرقہ، ص 172)
حضورپاک، صاحب لولاک ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے دنیا
میں اپنے بچے کو قرآن کریم پڑھنا
سکھایابروز قیامت اسے جنت میں ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کے سبب اہل جنت جان لیں گے کہ اس شخص نے دنیا میں اپنے
بیٹے کو قرآن کریم کی تعلیم دی تھی۔
(4) سات برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع
کردے حضرت ابن عبّاس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بچے کو نماز کیلئے بیدار کرو
اگرچہ ایک ہی سجدہ کرلیں۔ (مصنف عبد الرزاق،4/120، رقم: 7328)
(5) جب جوان ہوشادی کردے،شادی میں وہی رعایت قوم
ودین وسیرت وصورت ملحوظ رکھے اولاد کے جوان ہوجانے پر والدین کی ذمہ داری ہے کہ ان
کی نیک اور صالح خاندان میں شادی کر دیں۔ سرور کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے
بیٹوں اور بیٹیوں کا نکاح کرو، بیٹیوں کو سونے اور چاندی سے آراستہ کرو اور انہیں
عمدہ لباس پہناؤاور مال کے ذریعے ان پر احسان کرو تاکہ ان میں رغبت کی جائے (یعنی
ان کے لئے نکاح کے پیغام آئیں)۔ (کنز العمال، 16/191، حدیث 45424)
اولاد کے جوان ہونے پر بلاوجہ نکاح میں تاخیرنہ کی
جائے کہ اللہ کے محبوب ﷺ نے فرمایا: جس کے ہاں لڑکے کی ولادت ہو اسے چاہیے کہ اس
کا اچھا نام رکھے اور اسے آداب سکھائے، جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کی شادی کر دے، اگر
بالغ ہونے کے بعد نکاح نہ کیا اور لڑکا مبتلائے گناہ ہوا تو اس کا گناہ والد کے سر
ہوگا۔ (شعب الایمان، 6/401، حدیث: 8666)
اس کے علاوہ بھی اولاد کے بے شمار حقوق ہیں جیسے
اولاد کے دل میں پیارے آقا ﷺ اور صحابہ کرام و اہل بیت اطہار کی محبت ڈالے، بچہ کو
پاک کمائی سے پاک روزی کھلائے اولاد کو چھوڑ کر اکیلے نہ کھائے بلکہ اپنی خواہش کو
ان کی خواہش کے تابع رکھے چند بچے ہوں تو سب کو برابر و یکساں دے، ایک کو دوسرے پر
دینی فضیلت کے علاوہ ترجیح نہ دے بہلانے کیلئے جھوٹا وعدہ نہ کرے اور وہ بیمار ہوں
تو ان کا علاج کروائے وغیرہ۔
والدین کی ایک تعدادہے جو اس انتظار میں رہتی ہے کہ
ابھی تو بچہ چھوٹا ہے جو چاہے کرے، تھوڑا بڑا ہوجائے تو اس کی اخلاقی تربیت شروع
کریں گے۔
ایسے والدین کو چاہیے کہ بچپن ہی سے اولاد کی تربیت
پر بھر پور توجہ دیں کیونکہ اس کی زندگی کے ابتدائی سال بقیہ زندگی کے لئے بنیاد
کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسلام نے جہاں والدین، رشتہ دار اور پڑوسیوں کے
حقوق بیان کیے ہیں۔ وہی اولاد کے حقوق کو ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔ والدین پر بھی
اولاد کے حقوق ہیں۔ اگرچہ ان حقوق میں سے اکثر کی ادائیگی والدین پر واجب نہیں
لیکن اگر والدین اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنا، انہیں سچا مسلمان بنانا، دنیا اور
آخرت میں انہیں کامیاب و کامران دیکھنا اور خود بھی سرخرو ہونا چاہتے ہیں تو پھر
ان کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا۔
قرآن پاک
اور احادیث مبارکہ میں اولاد کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور اس پر فضائل
بھی بیان کیے گئے ہیں جن میں سے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں:
1) حضور ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب
سکھائے تو اس کے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذى، 3/382، حدیث:1958)
2) اولاد کے لیے باپ کا کوئی عطیہ اچھی تربیت سے
بہتر نہیں ہے۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959)
3) اپنی اولاد کو برابر دو اگر میں کسی کو فضیلت
دیتا تو لڑکیوں کو فضیلت دیتا۔
4) جس کی پرورش میں دو لڑکیاں بلوغ تک رہیں تو وہ
قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ بالکل پاس پاس ہوں گے یہ کہتے ہوئے حضور ﷺ
نے اپنی انگلیاں ملا کر فرمایا کہ اس طرح۔ (مسلم، ص 1085، 6695)
5) کیا میں تم کو یہ نہ بتا دوں کہ افضل صدقہ کیا
ہے؟ اور وہ اپنی اس لڑکے پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف (مطلقہ یا بیوہ ہونے کے
سبب) واپس لوٹ ائی اور تمہارے سوا کوئی اس کا کفیل نہیں۔ (ابن ماجہ، 4/188، حدیث: 3667)
اسی طرح حضور ﷺ نے اولاد کے حقوق کو ادا کرنے کی
ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: باپ کے ذمے میں اولاد کے حقوق ہیں جس طرح اولاد کے
ذمہ باپ کے حقوق ہیں۔
اسی طرح ایک اور جگہ حضور ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد
کا اکرام کرو اور انہیں اچھے آداب سکھاؤ۔ (ابن ماجہ، 4/189، حدیث: 3671)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دین اسلام میں
کس قدر حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھنے کی تلقین کی گئی ہے اولاد کے حقوق میں سب سے
پہلا حق وجود اولاد یعنی اولاد کی پیدائش سے بھی پہلے یہ ہے کہ آدمی اپنا نکاح رزیل
قوم یعنی نیچ ذات سے نہ کرے کہ بری رگ یعنی بری نسل ضرور رنگ لاتی ہے۔ ایک یہ کہ
جب بچہ پیدا ہو فوراً سیدھے کان میں اذان بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان یعنی
شیطانی وسوسے اور ام الصبیان سے بچے۔
ایک یہ کہ چھوہارا وغیرہ کوئی میٹھی چیز چبا کر اس
کے منہ میں ڈالے کہ حلاوت اخلاق کی فالح حسن ہے یعنی مٹھاس اخلاق کے اچھے ہونے میں
نیک شگون ہے۔
ایک یہ کہ بچے کا نفقہ اس کی حاجت کے سب سامان مہیا
کرنا خود واجب ہے جن میں حفاظت بھی داخل ہے۔
بیمار ہو تو علاج کرے۔
اسی طرح دین اسلام میں اولاد کے بہت حقوق بیان کیے
ہیں اللہ پاک ہمیں سب کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اولاد کے 5 حقوق از بنت ارشد احمد اعوان، فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
انسان چونکہ اشرف المخلوقات اور کائنات میں اللہ
پاک کا نائب ہے۔ اس لیے اسے بہت سے فرائض سونپے گئے ہیں۔ ان میں اولاد کی تربیت سب
سے اہم فریضہ ہے۔ اللہ پاک قیامت کے دن اولاد سے والدین کے متعلق سوال کرنے سے
پہلے والدین سے اولاد کے متعلق سوال کرے گا۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر
حقوق ہیں اسی طرح اولاد کے والدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ نے ہمیں والدین کے
ساتھ نیکی کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے ایسے ہی ہمیں اولاد کے ساتھ احسان کرنے کا
حکم بھی فرمایا ہے اولاد کی اچھی تربیت میں کوتاہی کے بہت سنگین نتائج سامنے آتے
ہیں۔ شیرخوارگی سے لڑکپن اور جوانی کے مراحل میں اسے مکمل رہنمائی اور تربیت درکار
ہوتی ہے اس تربیت کا آغاز والدین کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔
والدین پر اولاد کے بہت سے حقوق ہیں جن میں سے چند
یہ ہیں۔
1۔ہر ماں پر لازم ہے کہ اپنے بچوں سے پیار ومحبت
کرے اور ہر معاملہ میں ان کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ کرے اور ان کی دلجوئی و دل بستگی
میں لگی رہے اور ان کی پرورش اور تربیت میں پوری پوری کوشش کرے۔
2۔ جب بچہ یا بچی سات برس کے ہو جائیں تو ان کو
طہارت اور وضو و غسل کا طریقہ سکھائیں اور نماز کی تعلیم دے کر ان کو نمازی بنائیں
اور پاکی و ناپاکی اور حلال و حرام اور فرض و سنت وغیرہ کے مسائل ان کو بتائیں۔
3۔ بچوں کو اسلامی آداب و اخلاق اور دین و مذہب کی
باتیں سکھائیں۔
4۔ اچھی باتوں کی رغبت دلائیں اور بری باتوں سے
نفرت دلائیں۔
5۔ تعلیم و تربیت پر خاص طور پر توجہ کریں اور
تربیت کا دھیان رکھیں۔ کیونکہ بچے سادہ ورق کے مانند ہوتے ہیں۔ سادہ کاغذ پر جو
نقش و نگار بنائے جائیں وہ بن جاتے ہیں اور بچوں بچیوں کا سب سے پہلا مدرسہ ماں کی
گود ہے۔ اس لئے ماں کی تعلیم و تربیت کا بچوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ لہذا ہر
ماں کا فرض منصبی ہے کہ بچوں کو اسلامی تہذیب و تمدن کے سانچے میں ڈھال کر ان کی
بہترین تربیت کرے اگر ماں اپنے اس حق کو نہ ادا کرے گی تو گناہ گار ہوگی!
اولاد کی تربیت کرنے کے معاملے میں والدین کو درج
ذیل امور کا بطور خاص لحاظ کرنا چاہیے:
(1) ان کے عقائد کی اصلاح پر توجہ دینی چاہئے۔
(2) ان کے ظاہری اعمال درست کرنے کی طرف متوجہ ہونا
چاہئے۔
(3) ان کے
باطن کی اصلاح اور درستی کی جانب توجہ کرنی چاہئے۔
(4) ان کی اخلاقیات بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
یہ چاروں چیز میں دنیا اور آخرت کے اعتبار سے
انتہائی اہم ہیں، جیسے عقائد کی درستی دنیا میں بلاؤں اور مصیبتوں سے نجات کا سبب
ہے اور عقائد کا بگاڑ آفتوں مصیبتوں اور بلاؤں کے نازل ہونے کا ذریعہ ہے اور عقائد
کی درستی آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل ہونے جنت میں داخلہ نصیب ہونے کا
مضبوط ذریعہ ہے اور جس کے عقائد درست نہ ہوئے اور گمراہی کی حالت میں مر گیا تو وہ
جہنم میں جانے کا مستحق ہو گیا اور جو کفر کی حالت میں مر گیا وہ تو ضرور ہمیشہ کے
لئے جہنم کی سزا پائے گا۔ اسی طرح ظاہری اور باطنی اعمال صحیح ہوں گے تو دنیا میں
نیک نامی اور عزت و شہرت کا ذریعہ ہیں اور آخرت میں جنت میں جانے کا وسیلہ ہیں اور
اگر درست نہ ہوں گے تو دنیا میں ذلت و رسوائی کا سامان ہیں اور آخرت میں جہنم میں
جانے کا ذریعہ ہیں، یونہی اخلاق اچھے ہوں گے تو معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا
جائے اور لوگ اسکی عزت کریں گے جبکہ برے اخلاق ہونے کی صورت میں معاشرے میں اس کا
جو وقار گرے گا اور بے عزتی ہوگی وہ تو اپنی جگہ الٹا والدین کی بدنامی اور رسوائی
کا سبب ہوگا اور اچھے اخلاق آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا باعث ہیں
جبکہ برے اخلاق اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور لوگوں کی طرف سے اپنے حقوق کے مطالبات
کا سامان ہیں۔
اولاد کے اپنے والدین پر بہت سے حقوق ہیں جن میں سے
5 حقوق بیان کیے جاتے ہیں:
1۔ اولاد کا نام: والدین
پر اولاد کا یہ حق ہوتا ہے کہ وہ ان کا اچھا نام رکھیں، کیونکہ انسان پر نام کا
اثر ظاہر ہوتا ہے، نام انسان کے مزاج میں تبدیلی لاتا ہے، اس کی عادات و اطوار پر
گہرا اثر مرتب ہوتا ہے، اچھے اور عمدہ معنی والے نام انسان کو مثبت سوچ کا حامل
بناتے ہیں جبکہ برے نام انسان کو منفی سوچ میں ڈوبا رکھتے ہیں۔ نام اگر خوبصورت
چیز سے وابستہ ہو تو سرور حاصل ہوتا ہے۔ نام اگر قابل احترام ہستی سے وابستہ ہو تو
سن کر دل و نگاہ عقیدت سے جھک جاتے ہیں۔ جیسے پیارے آقا ﷺ کا نام مبارک نام محمد
(ﷺ) کہ آپ ﷺ کا نام رکھنے سے باپ اور بیٹے دونوں کو پیارے آقا ﷺ نے خود جنت کی
بشارت ارشاد فرمائی ہے۔ چنانچہ
اس ضمن میں چار فرامین صادق و امین ﷺ پیش خدمت ہیں:
1۔ جس کے لڑکا پیدا ہو اور وہ میری محبت
اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کیلئے اس کا نام محمد رکھے وہ (یعنی نام رکھنے
والا والد)اور اس کا لڑکا دونوں بہشت(یعنی جنّت) میں جائیں گے۔ (کنز العمال، جزء:
16، 8/175، حدیث: 45215)
2۔ روز قیامت دو شخص ربّ العزّت کے حضور
کھڑے کئے جائیں گے۔ حکم ہو گا: انہیں جنّت میں لے جاؤ۔ عرض کریں گے: الٰہی! ہم کس
عمل پر جنّت کے قابل ہوئے؟ ہم نے تو جنّت کا کوئی کام کیا نہیں! فرمائے گا: جنّت
میں جاؤ، میں نے حلف کیا (یعنی قسم فرمائی)ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو دوزخ
میں نہ جائے گا۔ (فردوس بمأثور الخطّاب، 5/485، حدیث: 8837)
3۔ تم میں کسی کا کیا نقصان ہے اگر اس کے
گھر میں ایک محمد یا دو محمد یا تین محمد ہوں۔ (طبقات کبریٰ، 5/ 40)
4۔ جب لڑکے کا نام محمد رکھو تو اس کی
عزّت کرو اور مجلس میں اس کیلئے جگہ کشادہ کرو اور اسے برائی کی طرف نسبت نہ کرو۔ (جامع
صغیر، ص49، حدیث: 706)
2۔ اولاد کی پرورش: اولاد
کا یہ حق ہے کہ انکے والدین انکی بہترین پرورش کریں۔ انکو اچھے برے کی تمیز
سکھائیں۔ انکو گناہوں سے دور اور نیکیوں کے قریب کریں کہ یہ بچوں کا حق ہے اگر خدا
نخواستہ آخرت میں گناہوں کی وجہ سے انکی پکڑ ہو گئی تو وہ اپنے والدین کا ہی
گریبان پکڑیں گے تب کچھ نہ کر سکیں گے بہتر ہے ابھی ہی انکی اچھی تربیت کی جائے کہ
حدیث مبارکہ میں ہے: اولاد کے لیے باپ کا کوئی عطیہ اچھی تربیت سے بہتر نہیں ہے۔ (ترمذی،
3/383، حدیث: 1959)
3۔ اولاد کی تعلیم: اولاد
کا یہ حق ہے کہ ان کے والدین ان کو دینی و دنیاوی بہترین تعلیم سے نوازیں۔ انکو
دنیاوی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات جیسے فرض علوم نماز، روزہ، زکوٰۃ،
پاکی کے مسائل، کفریات کا علم، عقائد کا علم، اور دیگر ان جیسے ضروری مسائل سے
انکو روشناس کریں۔ انکو عالم دین بنائیں کہ آخرت میں اپنے والدین کے لیے ذریعہ
نجات بنیں۔ نہ صرف علم سکھائیں انکے عمل پر بھی متوجہ ہوں کہ بچے کو عبادت کا عادی
بنائیں اور جہنم سے نجات دیں کہ قرآن و
حدیث میں اس کا حکم آیا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا
النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ
اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶) (پ
28، التحریم: 6) ترجمہ: کنز العرفان: اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں
کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور
فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں
حکم دیا جاتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنی اولاد کو سات سال کا ہونے پر نماز
کا حکم دو۔ جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز نہ پڑھنے پر مارو اور ان کے
بستر الگ کر دو۔(ابو داود، 1/208، حدیث: 494)
یہاں روزے کو بھی نماز پر قیاس کیا جائے گا۔ جب بچہ
روزہ رکھنے کے قابل ہو جائے تو اسے روزہ رکھنے کے لیے بھی کہا جائے۔ عادت ڈالنے کے
لیے اس سے روزے رکھوائے جائیں۔ باپ کے پاس گنجائش ہو تو بچے کو حج بھی کروایا
جائے۔ اسی طرح ہی دیگر احکام کا معاملہ ہے، اس میں حکمت یہی ہے کہ بچہ شروع ہی سے
یہ احکام سیکھ لے اور نوعمری سے ہی ان کو ادا کرنے کا عادی بن جائے۔
4۔ اولاد کی تربیت: اولاد
کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ انکو ادب و احترام سکھایا جائے۔ بچوں کو معلوم ہو
کہ بڑوں سے کیسے بات کرتے اور چھوٹوں پر کیسے شفقت کرتے۔ انکو بچپن ہی سے اچھے
اخلاق کی تربیت دیں کہ بڑے ہونے تک ان میں ادب و احترام بس جائے۔ حدیث مبارکہ میں
اپنی اولاد کو ادب سکھانے کو صدقہ فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت جابر بن سمرہ رضی
اللہ عنہ نے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: کہ کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے تو اس
کے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذى، 3/382، حدیث:1958)
5۔ اولاد کا اکرام: اولاد
کے حقوق میں سے ہے کہ والدین سب سے برابر کی محبت کریں یوں نہیں ہو کہ کچھ بچے
زیادہ عزیز ہیں۔ سب کے ساتھ یکساں رویہ رکھا جائے۔ اکثر اوقات دیکھا جاتا ہے کہ
بیٹیوں کے ساتھ کچھ اچھا رویّہ نہیں رکھا جاتا جبکہ یہ بہت بری بات ہے کیونکہ
احادیث مبارکہ میں بیٹیوں کی پرورش پر بہت سی فضیلتیں وارد ہیں جن میں سے چند یہ
ہیں:
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کی پرورش میں دو لڑکیاں
بلوغ تک رہیں تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ بالکل اس پاس ہوں گے،
یہ کہتے ہوئے حضور ﷺ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر فرمایا کہ اس طرح۔ (مسلم، ص 1085،
6695)
جو شخص تین لڑکیوں یا تین بہنوں کی پرورش کرے پھر
ان کو ادب سکھائے اور ان کے ساتھ مہربانی کرے یہاں تک کہ خدا ان کو مستغنی کر دے
(یعنی وہ بالغ ہو جائیں اور ان کا نکاح ہو جائے) تو پرورش کرنے والے پر اللہ تعالیٰ
جنت کو واجب کر دے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اور دو بیٹیوں اور دو
بہنوں کی پرورش پر کیا ثواب ہے؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: دو کا ثواب بھی یہی ہے۔
(راوی کہتے ہیں) اگر صحابہ ایک بیٹی یا ایک بہن کے بارے میں دریافت کرتے تو ایک کی
نسبت بھی حضور ﷺ یہی فرماتے۔ (مشكوة المصابیح، 2/214، حدیث: 4975)
نہ صرف حدیث مبارکہ میں شادی سے پہلے بیٹیوں کی پرورش
کی فضیلتیں ہیں بلکہ شادی کے بعد بھی اگر بیٹی بیوہ یا مطلقہ ہو جاتی ہے تب بھی اس
کی دیکھ بھال کا ثواب وارد ہے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو یہ
نہ بتا دوں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ اور وہ اپنی اس لڑکی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری
طرف (مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب) واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا اس کا کوئی کفیل
نہیں۔ (ابن ماجہ، 4/188، حدیث: 3667)
اولاد کے5 حقوق از بنت محمد انور عطاری، جامعۃ
المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
اولاد کے حقوق کی بات کی جائے تو بالغ اور نابالغ
ساری اولاد کو اچھی باتیں سکھانا والدین کا پہلا فرض اور اولاد کا حق ہے۔ زبان کھلنے کے بعد اللہ کا نام سکھائیے۔ جب
بچہ شیر خوار عمر سے نکل کر ذرا ہوشیار ہوجائے اور زبان کھولنے لگے تو سب سے پہلے
خالق ومالک کا اسم ذات اللہ سکھانا چاہیے اور پھر کلمہ طیبہ کا سیکھنا لازم کیا
جائے نیز جیسا کہ حدیث پاک میں آیا ہے روایت ہے حضرت سعد سے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ
کلمات سکھاتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول الله ﷺ نماز کےبعد ان سے تعوذ کرتے تھے
الٰہی میں بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں اور کنجوسی سے تیری پناہ اور ردی عمر سے
تیری پناہ اور دنیا کے فتنوں اور عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
ضروری علم دین سکھائیے والدین کو چاہیے جب اولاد
شعور کو پہنچ جائے تو اسے اللہ تعالیٰ فرشتوں آسمانی کتابوں انبیائے کرام علیہم
السلام قیامت اور جنت و دوزخ کے بارے میں عقائد اہلسنت سکھائیے۔ پھر ایک مسلمان
ہونے کی حیثیت سے والدین کی اولین ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو خوف خدا اور محبت
سرور کائنات سے آشنا کروائے۔ پیارے آقا ﷺ کی مکمل سیرت مبارکہ پڑھائیے۔ کیونکہ
آپکی یہ ننھی سی صورت محض ایک بچہ نہیں بلکہ آئندہ معاشرے کی کامل تصویر ہے۔ دنیا
و آخرت میں کامیابی کے لیے ان کی نس نس میں عشق رسول بسا دیجیے۔ کیونکہ یہی قوت ہے
جو مسلمان کو کبھی پست و ناکام نہیں ہونے دیتی۔
اس کے لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے علم و عمل پر
توجہ دیں اپنی اولاد کو کامل مسلمان بنانے کے لیے دین کے پیروکار بنیں گے تو اولاد
کی صحیح معنی میں نیک تربیت کر سکیں گے اولاد کو صحابہ کرام کی عقیدت اللہ کے
ولیوں کا ادب سکھائیے۔ افسوس فی زمانہ دنیاوی علوم فنون تو بہت سکھائے جاتے ہیں
مگر سنتیں سکھانے کی طرف توجہ ہی نہیں۔ والدین کو چاہیے کہ کم از کم اولاد کو نماز
و روزہ کے مسائل دیگر فرائض و واجبات حلال و حرام حقوق العباد وغیرہ کے شرعی احکام
سکھائیں۔
اولاد کے حق میں ہے کہ ان کو آداب زندگی سکھائے
جائیں۔
اپنی اولاد کو نافرمانی سے بچائیے اولاد پر والدین
کی اطاعت واجب ہے۔ اس لئے اگر وہ والدین کا حکم نہیں مانیں گے تو گناہگار ہوں گے۔ والدین
کو چاہیے کہ جب بھی اپنی اولاد سے کوئی کام کہیں مشورۃ کہیں حکماً نہ کہیں۔ تنبیہ
الغافلین میں ہے کہ ایک بزرگ اپنے بچے کو براہ راست کوئی کام نہیں کہتے تھے بلکہ
جب ضرورت پیش آتی تو کسی اور کے ذریعے کہلواتے۔ جب ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو
فرمانے لگے۔ ہوسکتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کو کسی کام کا کہوں اور وہ نہ مانے تو (والد کی نافرمانی کے سبب) آگ کا مستحق ہو جائے اور میں اپنے بیٹے کو آگ
میں نہیں جلانا چاہتا۔ (تربیت اولاد، ص 174)
اپنے بچوں اور دیگر اہل خانہ پر دل کھول کر خرچ
کیجیے اور بشارت سرور عالم ﷺ کے حق دار بنئے۔ چنانچہ حضرت امامہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ
نے ارشاد فرمایا: جو شخص ناجائز اور مشتبہ چیز سے بچتے ہوئے خود پر خرچہ کرے
گا تو یہ صدقہ ہے اور جو کچھ اپنی بیوی، اولاد اور گھر والوں پر خرچ کرے تو صدقہ
ہے۔ (تربیت اولاد، ص 91)
جیسا کہ روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا
رسول اﷲ ﷺ نے کہ مسلمانوں میں بڑے کامل ایمان والا وہ ہے جو سب میں اچھے اخلاق
والا اپنے بال بچوں پر مہربان ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح، 1/598، حدیث 3263)
تکمیل ضروریات اور آسائشوں کے حصول کے لیے ہرگز
ہرگز حرام کمائی کے جال میں نہ پھنسیں کہ یہ آپکے اور اہل عیال کے لیے دنیا و آخرت
میں خسارے کا باعث ہے۔
اولاد جوان ہو جائے تو جلد شادی کر دیجئے اولاد کے
جوان ہو جانے پر والدین کی ذمہ داری ہے کہ ان کی جلد نیک خاندان میں شادی کر دیں۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سرور کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے
بیٹوں اور بیٹیوں کا نکاح کرو، بیٹیوں کو سونے اور چاندی سے آراستہ کرو اور انہیں
عمدہ لباس پہناؤ اور مال کے ذریعے ان پر احسان کرو تا کہ ان میں رغبت کی جائے
(یعنی ان کے لئے نکاح کے پیام آئیں)۔ (کنز العمال، 16/191، حدیث 45424) اولاد کے جوان ہونے پر بلا وجہ نکاح
میں تاخیر نہ کی جائے۔ اللہ کے محبوب ﷺ نے فرمایا: جس کے ہاں لڑکے کی ولادت ہو اسے
چاہیے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اسے آداب سکھائے، جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی
شادی کر دے، اگر بالغ ہونے کے بعد نکاح نہ کیا اور اولاد نے گناہ کیا تو اس کا
گناہ والد کے سر ہوگا۔
الحمدللہ اللہ پاک نے جہاں والدین کے حقوق رکھے ہیں
وہی اولاد کے بھی بے شمار حقوق ہیں جن میں سے چند ان شاء اللہ بیان کیے جاتے ہیں
ملاحظہ فرمائیں:
حق نمبر 1: جب پیدا ہو
تو اس کے کان میں اذان دی جائے شیطان سے دور رہے گا اور ہو سکے تو بچے کا عقیقہ
ساتویں 21ویں یا تیرویں دن کر دیجئے کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جب
عقیقے کا جانور ذبح کیا جائے تو اس جانور کی اون لے کر اس جانور کی رگوں کے سامنے
کر دی جائے پھر اسے بچے کے سر پر رکھ دیا جائے یہاں تک کہ دھاگے کی مثل خون اس سے
باہر نکلے اس کے بعد اس کے سر کو دھو دیا جائے اور حلق کر دیا جائے۔
ایک اور فرمان ہے کہ ہر لڑکا اور لڑکی عقیقے سے
گروی ہے ساتویں دن ان کے لیے کوئی جانور ذبح کیا جائے اس اور اس کا سر منڈایا جائے۔
(مکاشفۃ القلوب، ص 582) لڑکے کے لیے دو بکرے اور لڑکی کے لیے ایک بکری ذبح کی
جائے۔
حق نمبر 2: بچوں کے حقوق
میں یہ بھی شامل ہے کہ بچوں سے محبت کی جائے ان کے کاموں میں کراہت محسوس نہ کی
جائے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن حضور ﷺ نے مجھ سے
فرمایا کہ اسامہ کا منہ دھو ڈالو میں نے کراہت سے اس کا منہ دھونا شروع کیا تو
حضور ﷺ نے میرے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور اسامہ کو پکڑ کر ان کا منہ دھویا پھر اس کے چہرے کو بوسہ دیا۔ (مکاشفۃ القلوب، ص
583)
حق نمبر 3: زبان کھلتے ہی
اللہ اللہ پھر لا الہ الا اللہ پھر پورا کلمہ طیبہ سکھائیں جب تمیز آئے انہیں ادب
سکھائیں کھانے پینے ہنسنے بولنے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے حیا اور لحاظ بزرگوں کا
احترام ماں باپ استاد کا ادب سکھائیں بچی ہو تو خاوند کی تعظیم بھی سکھائیں قرآن مجید پڑھائیں نیکوں کی صحبت میں بٹھائیں بری
صحبت سے بچائیں، حضور پر نور ﷺ کے آل و اصحاب اولیاء علماء کرام کی محبت اور عظمت
کی تعلیم دے سات برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع کر دیں بری صحبت میں ہرگز
بیٹھنے نہ دیں، اگر سزا دینا مقصود ہو تو منہ پر نہ مارے جب بچہ 10 سال کا ہو جائے
تو اسے مار کر نماز پڑھائیں جب بچہ دس سال کا ہو جائے تو اسے اپنے ساتھ یا کسی کے
ساتھ نہ سلائیں بلکہ علیحدہ بستر پر سلائیں جوان ہوں تو شادی کر دیں شادی کی
رسومات شرعی ہوں سورہ مائدہ کی تعلیم دیں بیٹی کو سورہ نور کی تعلیم دیں، بیٹی کو
نکاح وغیرہ کرنے اور شرعی پردہ کرنے کی تاکید کریں غیر محرموں سے غیر ضروری بات نہ
کرنے دیں۔ (اولاد کے حقوق، ص 93 تا 95)
حق نمبر 4: اللہ پاک قرآن
پاک میں پارہ نمبر 14 آیت نمبر 53 میں
حضرت ابراہیم ﷺ کو عالم بیٹے کی بشارت دیتا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم
بیٹا اللہ پاک کی بڑی نعمت ہے اس میں ہر مسلمان کے لیے نصیحت ہے کہ وہ اپنی اولاد
کو دین کا علم بھی سکھائے اور اس علم کو سکھانے میں اس سے زیادہ توجہ دے جتنی دنیا
کا علم سکھانے پر توجہ دیتا ہے افسوس فی زمانہ مسلمان دین کا علم حاصل کی ہوئی
اولاد جیسی عظیم نعمت کی قدر اور اہمیت کی طرف توجہ نہیں دیتے اور اپنے بیٹوں میں
سے جسے ہوشیار ذہین دیکھتے ہیں اسے دنیا کی تعلیم دلواتے اس کے لیے ماہر اساتذہ
اور اونچے درجے کے اسکول کا انتخاب کرتے ہیں اور دن رات دنیاوی علم و فنون میں اس
کی ترقی کے لیے کوششیں کرتے رہتے ہیں اور اس کے مقابلے میں اسے دلوائی گئی دینی
تعلیم کا حال یہ ہوتا ہے کہ اسے ان عقائد کا علم نہیں ہوتا جن پر مسلمان کے دین و
ایمان اور اخروی نجات کا دارومدار ہے مسلمان کی اولاد ہونے کے باوجود اسے قرآن مجید تک صحیح پڑھنا نہیں آتا فرض عبادات سے
متعلق بنیادی باتیں نہیں جانتا نماز روزے اور حج زکوۃ کی ادائیگی ٹھیک طرح نہیں کر
پاتا اور یہی وجہ ہے کہ صرف دنیاوی علوم و فنون میں مہارت رکھنے والے اکثر دین
اسلام ہی سے بیزار اور اس کے بنیادی احکام پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے نظر آتے
ہیں یہ تو ہوشیار و ذہین بیٹے کے ساتھ طرز عمل ہے جبکہ اس کے برعکس جو بیٹا جسمانی
معذوری یا ذہنی کمزوری کا شکار ہو اسے دنیا کی تعلیم دلوانے کی طرف توجہ کرنے اور
اس پر اپنا مال خرچ کرنے کو بیکار اور فضول سمجھتے ہیں اور اسے کسی دینی مدرسے میں
داخل کروا کر اپنے سر سے بوجھ اتار دیتے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت نصیب
فرمائے۔ آمین
حق نمبر 5: جب بیٹی پیدا
ہو تو برے برے منہ نہ بنائیے کہ ایسا کرنا کفار کا کام ہے، اللہ پاک قرآن کریم پارہ 14 آیت نمبر 58 سورہ نحل میں فرماتا
ہے وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا
وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸) ترجمہ کنز الایمان: اور جب ان میں کسی
کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ
کھاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ لڑکی پیدا ہونے پر رنج کرنا
کافروں کا طریقہ ہے فی زمانہ مسلمانوں میں بھی بیٹی پیدا ہونے پر غمزدہ ہو جانے،
چہرے سے خوشی کا اظہار نہ ہونے، مبارکباد ملنے پر بھڑک جانے، مبارک باد دینے والے
کو باتیں سنا دینے، بیٹی کی ولادت کی خوشی میں مٹھائی بانٹنے میں عار محسوس کرنے،
صرف بیٹیاں پیدا ہونے کی وجہ سے ماؤں پر ظلم و ستم کرنے اور انہیں طلاقیں دے دینے
تک کی وبا عام ہے، حالانکہ بیٹی پیدا ہونے اور اس کی پرورش کرنے کی بہت سی فضیلتیں
ہیں۔
پیاری اسلامی بہنو! یقیناً والدین کے حقوق نہایت
اعظم و اہم ہیں کہ اگر والدین کے حقوق کی ادائیگی میں انسان تمام زندگی مصروف عمل
رہے تب بھی ان کے حقوق کی ادائیگی سے کما حقہ سبکدوش نہیں ہو سکتا کیونکہ والدین
کے حقوق ایسے نہیں کہ چند بار یا کئی بار ادا کر دینے سے انساں بری الزمہ ہو جائے۔
لیکن جہاں شریعت مطہرہ نے والدین کی عزت و عظمت اور مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے
ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا وہیں والدین پر بھی اولاد کے کچھ حقوق گنوائے
ہیں۔
(1)اولاد کا نام رکھنے كا حق اولاد کا برا نام نہ
رکھیں کہ بد فال،بد ہے(کہ برا شگون برا ہے) عبداللہ، عبدالرحمن، احمد،حامد وغیرہ یا
انبیاء، اولیاءیا اپنے بزرگوں میں جو نیک لوگ گزرے ہوں ان کے نام پر نام رکھے کہ
موجب برکت ہے۔ خصوصاً نام پاک محمد ﷺ کہ اس مبارک نام کی بے پایاں برکت بچے کے دنیا
اور آخرت میں کام آتی ہے۔
نام محمد اور احمد کی برکات: حضرت
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس کے لڑکا
پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام پاک سے برکت حاصل کرنے کے لیے اسکا نام
محمد رکھے،تو وہ اور اس کا لڑکا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، جزء: 16، 8/175، حدیث: 45215)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ ارشاد
فرماتے ہیں: روز قیامت دو شخص اللہ رب العزت کے حضور کھڑے کئے جائیں گے حکم ہو گا
انہیں جنت میں لے جاؤ ،عرض کریں گے الہٰی! ہم کس عمل کی بدولت جنت کے قابل ہوئے ہم
نے تو کوئی کام جنت کا نہیں کیا؟اللہ پاک فرمائے گا: جنت میں جاؤ میں نے قسم ارشاد
فرمائی ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو دوزخ میں نہ جائے گا۔ (مسند الفردوس، 2/503، حدیث:8515)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ
سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس دسترخوان پر کوئی احمد یا محمد نام کا ہو،تو اس جگہ
پر ہر روز دو بار برکت نازل کی جائے گی۔ (مسند الفردوس، 2/323،
حدیث: 6525)
جب محمد نام رکھیں تو اس کی تعظیم و تکریم کریں۔
(2)بچے کا نفقہ: بچے
کا نفقہ (بچے کے کھانے، پینے، کپڑے وغیرہ کے اخراجات اور)اس کی حاجت کے سب سامان
مہیا کرنا خود واجب ہے جن میں حفاظت بھی داخل ہے۔ بچے کو پاک کمائی سے پاک روزی دے
کہ ناپاک مال ناپاک ہی عادتیں لاتا ہے۔ نیا میوہ نیا پھل پہلے انہی کو دے کہ وہ
بھی تازے پھل ہیں نئے کو نیا مناسب ہے۔ کبھی کبھی حسب استطاعت انہیں شیرینی وغیرہ
کھانے، پہننے کی اچھی چیز جو کہ شرعاً جائز ہے دیتا رہے۔
نفقہ کہ باپ پر واجب ہو اور وہ نہ دے تو حاکم جبراً
مقرر کرے گا، نہ مانے تو قید کیا جائے گا حالانکہ فروع (اولاد) کے اور کسی دین میں
اصول(یعنی والدین)محبوس نہیں ہوتے۔ فتاویٰ شامی میں ذ خیرہ کے حوالے سے نقل کیا
ہے: والد اپنے بیٹے کے قرض کے سلسلے میں قید نہیں کیا جا سکتا خواہ سلسلہ نسب اوپر
تک بلحاظ باپ اور نیچے تک بلحاظ بیٹا چلا جائے البتہ نان و نفقہ نہ دینے کی صورت
میں باپ کو قیدکیا جائے گا; کیونکہ اس میں چھوٹے کی حق تلفی ہے۔
(3)برابری کا حق: اپنے
چند بچے ہوں تو جو چیز دیں سب کو برابر و یکساں دیں، ایک کو دوسرے پر بے فضیلت
دینی ترجیح نہ دے۔ فتاویٰ قاضی خان میں ہے: حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے: اولاد میں سے کسی ایک کو زیادہ دینے میں کوئی حرج نہیں جبکہ اسے دوسری
اولاد پر ترجیح دینا دینی فضل و شرف کی وجہ سے ہو، لیکن اگر سب برابر ہیں تو پھر
ترجیح دینا مکروہ ہے۔ (الخانیۃ، 2/290)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:اگر بیٹا حصول علم میں
مشغول ہو نہ کہ دنیوی کمائی میں تو ایسے بیٹے کو دوسری اولاد پر ترجیح دینے میں
کوئی مضائقہ نہیں۔ (فتاویٰ ہندیہ، 4/391)
(4) علم دین خصوصاً وضو، غسل، نمازو روزہ کے
مسائل،توكل، قناعت، زہد اخلاص، تواضع، امانت، صدق عدل، حیا، سلامت صد رولسان وغیرہ
اور خوبیوں کے فضائل(پرهائے نیز) حرص و طمع، حب دنیا(دنیا کی محبت)،حب جاه، ریا، عجب،
تکبر، خیانت، کذب، خیانت، فحش، غیبت، حسد،کینہ وغیرہ ہا برائیوں کے رذائل
پڑھاے۔حضور پر نور ﷺ کی محبت و تعظیم ان کے دل میں ڈالے اصل ایمان و عین ایمان ہے۔
اور حضور ﷺ کے آل و اصحاب و اولیاء و علماء کی محبت و عظمت کی تعلیم کرے کہ یہ
باتیں ایمان کی سلامتی اور بقا کا ذریعہ ہیں۔عقائد اسلام و سنت سکھائے کہ لوح سادہ
فطرت اسلامی و قبول حق پر مخلوق ہے (اس لئے کہ بچہ فطرتا دین اسلام اور حق بات
قبول کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے) اس وقت کا بتایا پتھر کی لکیر ہوگا۔ قرآن مجید پڑھائے اور بعد ختم قرآن ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے۔
(5)وراثت کا حق: اولاد
کو میراث سے محروم نہ کیا جائے جیسے بعض لوگ اپنے کسی وارث کو (میراث)نہ پہنچنے کی
غرض سے کل جائیداد دوسرے وارث یا کسی غیر کے نام لکھ دیتے ہیں۔اپنے انتقال کے بعد
بھی ان کی فکر رکھیں یعنی(زندگی)میں کم سے کم دو تہائی ترکہ چھوڑ جائے،ثلث(ایک
تہائی مال) سے زیادہ خیرات نہ کرے۔
دین
اسلام وہ واحد دین ہے جس میں ہر بنی نوع انسان کے حقوق کو واضح فرمایا گیا ہے انہی
میں سے اولاد کے حقوق بھی ہیں۔ اولاد والدین کا قیمتی اثاثہ ہیں لہذا شریعت مطہرہ
کی طرف سے والدین پر کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں جنہیں مستحسن طریقے سے پورا کرنا
ضروری ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ
الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ
اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶) (پ 28،
التحریم: 6) ترجمہ: کنز العرفان: اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں
کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور
فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں
حکم دیا جاتا ہے۔
آئیے
اولاد کے چند حقوق ملاحظہ کرتے ہیں:
1) دینی تعلیم و تربیت: اولاد کا سب سے اہم و مقدم حق
ان کی دینی تعلیم و تربیت ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم اور ارکان کا جاننا ہر مسلمان
پر فرض ہے۔ تربیت اولاد کے متعلق ارشاد نبوی ﷺ ہے: اپنی اولاد کو تین خصلتوں کی
تعلیم دو: اپنے نبی ﷺ کی محبت، اہل بیت کی محبت اورقرآن پاک کی تعلیم۔ (جامع صغیر، ص 25، حدیث:311)
مزید
فرمایا: اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اور انہیں نماز پر
مارو جب وہ دس سال کے ہوں اور علیحدگی کر دو ان کے درمیان خواب گاہوں میں۔ (ابو
داود، 1/208، حدیث: 494)
2) ادب سیکھانا: اولاد کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اسے بڑوں
کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت کا ذہن دیا جائے۔ چنانچہ فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: اولادکا
والد پر یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے۔ (شعب الایمان، 6/400،
حدیث: 8658)
ایک
جگہ مزید فرمایا: کسی باپ نے اپنے بچے کو ایسا عطیہ نہیں دیا، جو اچھے ادب سے بہتر
ہو۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959)
مشہور
مفسر قرآن ،حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے
تحت فرماتے ہیں: اچھے ادب سے مراد بچے کو دیندار،متقی،پرہیزگار بنانا ہے۔ اولاد کے
لئے اس سے اچھا عطیہ کیا ہو سکتا ہے کہ یہ چیز دین و دنیا میں کام آتی ہے۔ ماں باپ
کو چاہئے کہ اولاد کو صرف مالدار بنا کر دنیا سے نہ جائیں، انہیں دیندار بنا کر
جائیں، جو خود انہیں بھی قبر میں کام آوے کہ زندہ اولاد کی نیکیوں کا ثواب مردہ
کوقبر میں ملتا ہے۔ (مراۃ المناجیح،6/565ملتقطاً)
3) نرمی سے پیش آنا: اولاد کا حق یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ نرمی
اختیار کی جائے۔ بلا وجہ سختی سے یہ باغی بھی ہو سکتے ہیں جو کہ ان کے لیے دنیا و
آخرت میں تباہی کا سبب ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کے ساتھ نیک
سلوک کرو۔ (ابن ماجہ، 4/189، حدیث: 3671)
4) دعا کرنا: دعائے خیر کرنا بھی اولاد کا ایک حق ہے
اور کبھی ناگواری کا معاملہ ہو جانے پر بھی بددعا کی طرف رجوع نہ کیا جائے کہ
منقول ہے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر
اپنے بیٹے کی شکایت کی تو آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اس کے لیے بددعا کی ہے؟ اس
نے کہا: ہاں! فرمایا: اس کو تم نے ہی خراب کیا ہے۔ (مکاشفۃ القلوب، ص 594)
5) خرچ کرنا: حق اولاد میں سے یہ بھی ہے کہ ان کی
ضروریات کے مطابق ان پر خرچ کیا جائے۔ جیسا کہ فرمان خاتم النبیین ﷺ ہے: اے ابن
آدم! تیرا ضرورت سے زائد مال کو (راہ خدا میں) خرچ کرنا تیرے لیے بہتر ہے اور تیرا
اس مال کو روکے رکھنا تیرے لیے برا ہے اور بقدر ضرورت روکنے پر تجھے ملامت نہیں
کیا جائے گا اور (خرچ کرنے میں) اپنے اہل و عیال سے ابتدا کر اور اوپر والا ہاتھ
نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔
اللہ
پاک ہمیں سب کے حقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم
النبیین ﷺ
تفصیلی
معلومات کے لیے سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا جامع رسالہ
مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد کا مطالعہ کیجئے۔
اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے اولاد بھی
ایک نعمت ہے اولاد اللہ کی طرف سے عطا کردہ تحفہ ہیں ہمیں چاہئے کہ اپنی اولاد کو
نیک اور پرہیز گار بنائے۔ حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کے رسول اکرم نے فرمایا:
کوئی شحص اپنی اولاد کو ادب دے وہ اسکے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذى،
3/382، حدیث:1958) اسی طرح اولاد کے متعلق اور مختلف حقوق ملاحظہ فرمائیں:
1۔ والدین پر یہ حق ہے کہ اولاد کو اچھی تربیت دیں
یونہی شریعت کا پابند بنائیں انہیں دینی ماحول میں رکھیں اس کے متعلق رسول اکرم ﷺ نے
فرمایا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی بنائیں نصرانی یا
مجوسی۔ (بخاری، 3/298، حدیث: 4775) اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے بچہ تو مسلمان
پیدا ہوتا ہے بعد میں اسکے والدین جس طرح چاہے اسے بنا دیں۔
2۔ والدین پر لازم ہے کہ اولاد کو نماز کا حکم دیں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اور ان
کو نماز چھوڑنے پر ما رو جب وہ دس سال کے ہوں۔ (ابو داود، 1/208، حدیث: 494) عبداللہ
بن مسعود فرماتے ہیں: اپنے بچوں کی نماز کے بارے میں حفاظت کرو۔
3۔ دنیا و آخرت میں بلندی کا باعث اولاد کی نیک
تربیت ہے جس طرح دنیا میں عزت سکون و راحت کا ذریعہ بنتی ہے اس طرح مرنے کے بعد
بھی صد قہ جاریہ بن جاتی ہے، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب انسان فوت ہو جاتا ہے اسکے
عمال ختم ہو جاتے ہیں سوائے تین اعمال کے ان میں سے ایک نیک اولاد ہے۔ (مسلم، ص
684، حدیث: 4223)
4۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تمہاری اولاد دس سال
کی ہو جائے تو اسے نماز چھوڑنے پر مارو اور ان کے بستر الگ کر دو۔(ابو داود،
1/208، حدیث: 494)
5۔ اولاد کا حق وراثت میں اولاد اگر بیٹا ہو تو 2
حصہ اور اگر بیٹی ہو تو ایک حصہ ہے رسول پاک ﷺ نے فرمایا: اولاد زندہ پیدا ہو تو
اس پر نماز بھی پڑھی جائے اور وراث بھی بنایا جائے۔ (ابن ماجہ، 2/222، حدیث: 1508)
اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت
ہے جس کی پیدائش پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا اور اس کے فضل و شکر بجالانا،
تقاضائے بندگی میں ہے، لیکن ان كی تربیت کرنا ہماری ایک اہم ذمہ داری ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ
الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ
اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶) (پ 28،
التحریم: 6) ترجمہ: کنز العرفان: اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں
کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور
فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں
حکم دیا جاتا ہے۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے: یعنی اے ایمان والو! اللہ
تعالیٰ اور ا س کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری اختیار کرکے، عبادتیں بجالا کر، گناہوں سے
باز رہ کر،اپنے گھر والوں کو نیکی کی ہدایت اور بدی سے ممانعت کرکے اور انہیں علم
و ادب سکھا کراپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی
اور پتھر ہیں۔
یہاں آدمی سے کافر اور پتھر سے بت وغیرہ مراد ہیں اور
معنی یہ ہے کہ جہنم کی آگ بہت ہی شدید حرارت والی ہے اور جس طرح دنیا کی آگ لکڑی
وغیرہ سے جلتی ہے جہنم کی آگ اس طرح نہیں جلتی بلکہ ان چیزوں سے جلتی ہے جن کا ذکر
کیا گیا ہے۔
مزید فرمایا کہ جہنم پر ایسے فرشتے مقرر ہیں کہ جو
جہنمیوں پر سختی کرنے والے اور انتہائی طاقتورہیں اور ان کی طبیعتوں میں رحم نہیں،
وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا
جاتا ہے۔ (تفسیر خازن، 4/287)
اسلام نے اولاد کے حقوق مقرر کیے ہیں ان میں سے
پانچ حقوق درج ذیل ہیں:
1۔ والد پر اولاد کا پہلا حق یہ ہے کہ ان کے لیے نیک
ماں کا انتخاب کرے جو اسلام کے اصولوں کے مطابق انکی پرورش کرے۔
2۔ زندگی کی حفاظت یعنی استقرار حمل کے بعد اسے
ضائع کرنے یا ولادت کے بعد اسے قتل کرنے سے پرہیز کرے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا
ہے: وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ
نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْۚ-(پ 8، الانعام: 151) ترجمہ: اور اپنی
اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی تمہیں اور انہیں رزق دیتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟
اللہ کے رسول ﷺ نے جواب دیا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی نے تجھے پیدا
کیا، میں نے کہا: یہ تو بہت بڑا جرم ہے، پھر اسکے بعد کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل
کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا، میں نے عرض کیا: پھر اسکے بعد کیا؟ آپ نے فرمایا: یہ
کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ (جہنم میں لے جانے والے اعمال، 2/474)
3۔ ایک حق یہ ہے کہ بچے کی ولادت کے بعد اسکا اچھا
نام رکھے کہ ولادت کہ بعد نام والد کی طرف سے بچے کے لیے پہلا تحفہ ہے۔
4۔ والدین پر اولاد کا ایک حق یہ ہے کہ انکے لیے
مناسب قیام طعام اور تعلیم و تربیت کا انتظام کرے۔
5۔ اولاد کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اولاد کے ساتھ
نرمی اور شفقت کے ساتھ پیش آے۔
ملک
و بیرونِ ملک اسلامی بہنوں کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والے مدنی کورسز کی رپورٹ
|
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃ
ُوَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّین اَمَّابَعْدُفَاَعُوْذُبِاللہِ مِنَ
الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ِ ط بِسْم ِاللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط |
|||||||||||||||||
|
ملک و بیرونِ ملک
اسلامی بہنوں کے مختلف شعبہ جات میں ہونے والے مدنی کورسز کی ون پیج رپورٹ |
|||||||||||||||||
|
شعبہ مدنی کورسز (ون پیج سمری) |
|||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|
||||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
کورس / سیشن کا نام |
نمبر شمار |
||||||||||
|
شب براء ت کے حوالے سے معلومات ، اس میں عبادت میں گزارنے
کا ذہن و شب براءت میں کی جانے والی عبادت ، آتش بازی کی مذمت |
وارڈ سطح |
فزیکل / آن لائن |
ون ڈے سیشن |
1گھنٹہ |
اسلامی بہنوں کے لیے |
فیضان شب براءت |
1 |
||||||||||
|
رمضان کے آداب و
فضائل ، رمضان المبارک میں عباد کا زوق وشوق ، روزے کے مسائل |
وارڈ سطح |
فزیکل / آن لائن |
5 دن |
1گھنٹہ |
اسلامی بہنوں کے لیے |
استقبال ماہ رمضان |
2 |
||||||||||
|
رمضان کے آداب و
فضائل ، رمضان المبارک میں عباد کا زوق وشوق ، روزے کے مسائل |
وارڈ سطح |
فزیکل / آن لائن |
3 ڈے سیشن |
1گھنٹہ |
بچوں کے لیے |
گیسٹ اف رحمن |
3 |
||||||||||
|
شب براء ت کے حوالے سے معلومات ، اس میں عبادت میں گزارنے
کا ذہن و شب براءت میں کی جانے والی عبادت ، آتش بازی کی مذمت |
وارڈ سطح |
فزیکل / آن لائن |
ون ڈے سیشن |
1گھنٹہ |
بچوں کے لیے |
فرشتوں کی عید |
4 |
||||||||||
|
شعبہ گلی گلی مدرسہ المدینہ (ون پیج سمری) |
|||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|||||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
کورس / سیشن کا نام |
نمبر شمار |
||||||||||
|
واقعہ معراج کی حقیقت |
درجہ سطح |
فزیکل |
1 دن |
1 گھنٹہ |
بچوں کے لیے |
آسمانی سیر |
1 |
||||||||||
|
شعبہ جامعہ المدینہ (ون پیج سمری) |
|||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|||||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
کورس / سیشن کا نام |
نمبر شمار |
||||||||||
|
قرآن کی روشنی میں زکوۃ کی اہمیت و شرعی مسائل کا فہم دیا جائے گا |
جامعۃ المدینہ |
فزیکل |
2 |
1 |
طالبات ودیگراسلامی بہنیں |
فہم قرآن کورس |
1 |
||||||||||
|
شعبہ تجہیز و تکفین (ون پیج سمری) |
|
||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|
|
|||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
کورس / سیشن کا نام |
نمبر شمار |
||||||||||
|
عدت و سوگ کے مسائل |
یوسی سطح |
فزیکل / آن لائن |
ایک دن کا |
40منٹ |
عوام و لواحقات
اسلامی بہنوں کے لئے |
عدت و سوگ کے مسائل |
1 |
||||||||||
|
ایصال ثواب کا طریقہ |
وارڈ سطح اور یوسی
سطح |
فزیکل |
ایک دن کا |
40منٹ |
عوام و لواحقات
اسلامی بہنوں کے لئے |
ایصال ثواب کورس |
2 |
||||||||||
|
پریکٹیکل غسل میت کا طریقہ سکھایا جائے گا |
وارڈ سطح اور یوسی
سطح |
فزیکل |
ایک دن کا |
2 گھنٹے |
عوام اسلامی بہنوں کے لئے |
غسل میت و کفن کورس اجتماع |
3 |
||||||||||
|
کفن کاٹنے اور پہنانے کا طریقہ سلائیڈز کے ذریعے سکھایا جائے گا |
برو / وارڈ |
فزیکل/آن لائن |
1 |
40 منٹ |
عوام و ذمہ داران کے لئے |
تکفین کورس |
4 |
||||||||||
|
شعبہ حج و عمرہ (ون پیج سمری) |
|||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|
||||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
کورس / سیشن کا نام |
نمبر شمار |
||||||||||
|
عمرے کا طریقہ ،احرام کی پابندیاں حج کے احکام وغیرہ |
ڈسٹرکٹ سطح پر |
فزیکل / آن لائن |
بالمشافہ :ون ڈے سیشن /آنلائن :3دن |
3گھنٹہ /بالمشافہ ، 1گھنٹہ ، آن لائن |
حج وعمرہ پر جانے والیوں کے لیے |
حج و عمرہ سیشن |
1 |
||||||||||
|
مکمل حج اور عمرے کا طریقہ ، مختلف کفاروں کے احکام ۔ |
ڈویژن سطح پر |
فزیکل / آن لائن |
26دن |
1گھنٹہ |
ذمہ داران اسلامی بہنوں کے لیے |
رفیق الحرمین |
2 |
||||||||||
|
شعبہ نیو سوسائٹیز (ون پیج سمری) |
|||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|||||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
کورس / سیشن کا نام |
نمبر شمار |
||||||||||
|
سیشن میں واقعہ
میراج کے حوالے سے مفید معلومات،دعاوظائف،ایکٹویٹ وغیرہ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ |
سوسائٹی سطح |
فزیکل |
1دن |
ا گھنٹہ |
بچوں کے لیے |
آسمانی سیر |
1 |
||||||||||
|
زکوٰۃ کس پر فرض ہے ۔ مصارف زکوٰۃ ، دعوتِ اسلامی
کا تعارف وغیرہ |
سوسائٹی سطح |
فزیکل |
2دن |
ا گھنٹہ |
خواتین کے لیے |
احکامِ زکوۃ |
2 |
||||||||||
|
اس سیشن میں حضور ﷺ کی عظمت و شان کا بیان، نورانیتِ مصطفیﷺ اور واقعہ معراج کی
حکمتیں اور مشاہدات رجب المرجب کے فضائل مع عبادات وگیرہ سیکھنے کا موقع ملے گا |
سوسائٹی سطح |
فزیکل |
1دن |
ا گھنٹہ |
خواتین کے لیے |
A Night Journey |
3 |
||||||||||
|
شعبہ قرآن ٹیچر ٹریننگ (ون پیج سمری) |
|||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|||||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
کورس / سیشن کا نام |
نمبر شمار |
||||||||||
|
قرآن پاک سےمشکل سورتوں گی مشق کے ذریعہ تدریسی ٹیسٹ کی
تیاری کروانے کے ساتھ تجوید کے قواعد کو
سمجھنے کے لئے فیضان تجوید بک پڑھائی جائے گی کامیابی پر تدریس و تفتیش کا موقع
دیا جائے گا۔ |
|
دونوں |
3 ماہ |
2 گھنٹے |
ایسی اسلامی بہن جنہو ں نے ناظرہ قرآن پاک تجوید کے ساتھ
پڑھا ہو اور تدریس کی خواہش رکھتی ہو |
تجوید القرآن کورس |
1 |
||||||||||
|
اس کورس میں 6ماہ میں مکمل مدنی قاعدہ و ناظرہ کے پڑھایا
جائے گا، قرآن پاک کو حدر و تدویر ترتیل میں پڑھنے کا طریقہ سکھایا جائے گا ۔
کورس میں فرض علوم کے حوالے سے تربیت کی جائے گی نیز انداز تدریس سکھانے کے ساتھ تعلیمی معیار کو مضبوط بنانے کے حوالے سے مدنی پھول دیے جائیں گے ، کورس کے اختتام پر ناظرہ قرآن اور فرض علوم کا تدریسی ٹیسٹ ہو گا اور کامیابی پر تدریس کا موقع بھی دیا جائے ۔ |
ملک سطح |
دونوں |
6 ماہ |
2 گھنٹے |
اس اسلامی بہن کو داخلہ دیا جائے گا مدنی قاعدہ 30 دن کا
مدنی قاعدہ کورس کرچکی ہو اور ناظرہ قرآن پاک پڑھی ہوئی ہو۔ |
6 ماہ قرآن ٹیچنگ کورس (غیر رہائشی) |
2 |
||||||||||
|
شعبہ تعلیم (ون پیج سمری) |
|||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|||||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
کورس / سیشن کا نام |
نمبر شمار |
||||||||||
|
حیاء کے حوالے سے |
ادارہ سطح پر |
فزیکل / آن لائن |
1دن |
40منٹ |
سٹوڈنٹس،ٹیچرز اور پروفیشنلز،ڈاکٹرز،نرسز |
Say no to valentines |
1 |
||||||||||
|
عدل و انصاف کی اہمیت |
ادارہ سطح پر |
فزیکل / آن لائن |
1دن |
40منٹ |
سٹوڈنٹس،ٹیچرز اور پروفیشنلز،ڈاکٹرز،نرسز |
عدل فاروقی |
2 |
||||||||||
|
شب براءت کے حوالے سے |
ادارہ سطح پر |
فزیکل / آن لائن |
1دن |
60منٹ |
سٹوڈنٹس،ٹیچرز اور پروفیشنلز،ڈاکٹرز،نرسز |
آؤلوٹ آئیں |
3 |
||||||||||
|
رمضان سے متعلق احکامات |
ادارہ سطح پر |
فزیکل / آن لائن |
4دن |
30منٹ |
سٹوڈنٹس،ٹیچرز اور پروفیشنلز،ڈاکٹرز،نرسز |
Ramzan Preps |
4 |
||||||||||
|
رمضان سے متعلق احکامات |
ادارہ سطح پر |
فزیکل / آن لائن |
1دن |
60منٹ |
سٹوڈنٹس،ٹیچرز اور پروفیشنلز،ڈاکٹرز،نرسز |
Wellcme Ramzan |
5 |
||||||||||
|
|
|
|
پروونس |
آن لائن |
ون ڈے سیشن |
45 منٹ |
اسٹوڈنٹس |
qualities of a goid
student |
6 |
|
|||||||
|
شعبہ روحانی علاج (ون پیج سمری) |
|||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|||||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
نمبر شمار |
|||||||||||
|
تعویذات بنانا تعویذات کا طریقہ استعمال تعویذ لکھنے کے
فوائد و احتیا طیں ڈائری کی بریفنگ روحانی علاج کے مدنی پھول روحانی علاج بستے
پہ حاضری کا ڈیمو,دینی کاموں کے لئے انفرادی کوشش |
ڈویژن /ڈسٹرکٹ |
فزیکل |
3دن |
رہائشی |
مدنی انتخاب میں OK ہونے والی اسلامی بہنوں کے لیے |
روحانی علاج کورس |
1 |
||||||||||
|
تعویذات بنانا تعویذات کا طریقہ استعمال تعویذ لکھنے کے
فوائد و احتیا طیں ڈائری کی بریفنگ روحانی علاج کے مدنی پھول روحانی علاج بستے
پہ حاضری کا ڈیمو,دینی کاموں کے لئے انفرادی کوشش |
یوسی |
فزیکل |
5دن |
غیر رہائشی |
مدنی انتخاب میں OK ہونے والی اسلامی بہنوں کے لیے |
روحانی علاج کورس |
2 |
||||||||||
|
شعبہ فیضانِ صحابیات (ون پیج سمری) |
|||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|||||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
کورس / سیشن کا نام |
نمبر شمار |
||||||||||
|
تجوید ، فقہ ، نیک اعمال اور سنتیں یاد
کروانا، تلفظ کی درستی نیز نیک اعمال کی عملی مشق |
فیضان صحابیات |
فزیکل |
12 دن |
01 تا12 فروری 2025 |
تمام اسلامی بہنوں بالخصوص شعبہ اصلاح اعمال ذمہ داران کے لئے |
اصلاح اعمال کور س
(12دن ) |
1 |
||||||||||
|
تجوید ، فقه ، مہاکات ، تربیت اولا د اور پر سکون اور
کامیاب عملی زندگی گزارنے کے طریقے۔ |
فیضان صحابیات |
فزیکل |
03دن |
18تا 20 فروری 2025 |
سب اسلامی بہنیں بالخصوص
(شادی شدہ اسلامی بہنوں کے لئے ) |
اسلامی زندگی کورس (3دن) |
2 |
||||||||||
|
وضو، غسل، تیم کا طریقہ، عورتوں کے شرعی مسائل، مستعمل
پانی، نجاستوں کا بیان، کپڑے پاک کرنے کا طریقہ نیزوں کی پاکیزگی کا نسخہ۔ |
فیضان صحابیات |
فزیکل |
07دن |
22 تا 28 فروری 2025 |
سب اسلامی بہنیں کر سکتی ہیں |
فیضان طہارت کورس(07 دن) |
3 |
||||||||||
|
تجوید،فقہ،اذکارنماز،نمازکی شرائط فراٸض عملی طریقہ اورضروری
مسائل |
_____ |
physical |
3دن |
___ |
سب اسلامی بہنوں کےلیے |
فیضان نمازکورس |
4 |
||||||||||
|
تجوید,فقہ,مہلکات,تربیت اولاد,کامیاب اورپرسکون زندگی گزارنےکاطریقہ |
_____ |
physical |
3دن کا |
__ |
marriedاسلامی بہنوں کےلیے |
Splendid Life course |
5 |
||||||||||
|
شعبہ مدرسہ المدینہ گرلز (ون پیج سمری) |
|||||||||||||||||
|
ماہِ فروری میں آنے والے کورسز کی معلومات |
|
||||||||||||||||
|
کورس میں کیاسکھایا جائے گا |
کس سطح پر ہو گا |
فزیکل / آن لائن |
کورس / سیشن کے ایام |
دورانیہ |
کس کے لئے ہے |
کورس / سیشن کا نام |
نمبر شمار |
||||||||||
|
شعبہ کے متعلق مدنی پھول کی دہرائی /تعلیمی اخلاقی تربیت /
خود کفالت /ڈونیشن اہداف |
ڈسٹرکٹ سطح |
فزیکل |
1 |
8 گھنٹے |
تمام اجیر کے لئے |
آل اسٹاف لرننگ
سیشن |
1 |
||||||||||
|
نظامت کورس کا نصاب ( کتاب ناظم کی ذمہ داریاں /تعلیمی ،
تکمیلی امتحان و اخلاقی امتحان لینے کا طریقہ برائے شعبہ حفظ ، ناظرہ ، قاعدہ / کلاس جائزے کا طریقہ و مدنی پھول / فل ٹائم ناظمہ اور خادمہ کا جدول
اوقات کار و دورانیہ / قرآن خوانی و مشق کے مدنی پھول |
سٹی سطح |
فزیکل |
3دن |
8 گھنٹے |
اجیر اسلامی بہنوں کے لئے |
نظامت کورس |
2 |
||||||||||
|
تجوید کے ساتھ قرآن پاک +فرض علوم و ٹیچنگ اسکلز |
مدرسہ سطح |
فزیکل |
5ماہ |
4 گھنٹے |
تدریس کی خواہشمند اسلامی بہنوں کے لئے |
قرآنک ٹیچر ٹریننگ کورس |
3 |
||||||||||
|
ٹیچر ٹریننگ کورس کا نصاب ( کتاب قرآن سیکھین اور سکھائیں /
کتاب حسن اخلاق/نیک اعمال کا محاسبہ /حاضری رجسٹر، تکمیلی جدول و ڈیلی رپورٹ
کے مدنی پھول ۔ ای ایس ایس پر حاضری لگانے /طبی علاج و اجیر خیر خواہی فند کے حوالے سے
معلومات و درخواست فل کرنے کا طریقہ /ای رسید کا طریقہ /نیز تدریس میں تعلیمی ،
تکمیلی ، تفتیشی ، امتحان و اخلاقی
امتحان لینے کا طریقہ برائے شعبہ حفظ ، ناظرہ و قاعدہ ) |
ڈسٹرکٹ سطح |
فزیکل |
3دن |
8گھنٹے |
اجیر اسلامی بہنوں کے لئے |
ٹیچر ٹریننگ کورس |
4 |
||||||||||
|
شعبہ خصوصی اسلامی بہنیں (ون پیج سمری |
|||||||||||||||||
Dawateislami