دعوتِ اسلامی
خدمتِ دین کرنے، لوگوں کی اصلاح کرنے، انہیں سنتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پابند
بنانے اور علمِ دین حاصل کرنے کا ذہن دینے والی عالمی سطح کی دینی تحریک ہے۔
گزشتہ روز
دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد میں پاکستان مشاورت، شعبہ قافلہ
اور شعبہ رمضان اعتکاف کے ذمہ داران کا مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس میں مرکزی
مجلسِ شوریٰ کے اراکین، نگرانِ شعبہ جات اور صوبائی و ڈویژن ذمہ دار اسلامی
بھائیوں نے شرکت کی۔
اس مدنی مشورے
میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے
دینی کاموں کے متعلق کلام کرتے ہوئے ذمہ داران کی رہنمائی کی اور مختلف موضوعات پر
گفتگو کی جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔
٭سال 2024ء
میں ہونے والے ایک ماہ اور آخری عشرے کا اعتکاف٭سال 2025ء میں اعتکاف کے مقامات٭سابقہ
سال 2024ء اعتکاف اور موجودہ سال 2025ء
اعتکاف کا ڈیٹا۔
اس کے علاوہ
نگرانِ پاکستان مشاورت نے اسلامی بھائیوں کو دیگر مدنی پھولوں سے نوازااور اُن کی
جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دیئے۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالو اپ
ذمہ دار نگرانِ پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
اسلام اتنا پیارا اور خوبصورت دین ہے کہ اس نے ہر
کسی کے حقوق متعین کیے ہیں خواہ والدین ہوں، بہن بھائی ہوں، رشتے دار ہوں، اولاد
ہوں الغرض ہر کسی کے حقوق متعین کیے ہیں آج جن حقوق کے بارے میں تذکرہ ہوگا وہ
اولاد کے حقوق ہیں اور یہ ایک اتنا اہم اور خوبصورت موضوع ہے جس کا اندازہ اس سے
لگایا جاسکتا ہے کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر ایک پورا
رسالہ بنام مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد
تحریر فرمایا ہے۔ آئیے اولاد کے کچھ حقوق ملاحظہ ہوں:
(1)اولاد کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے جو میرے آقا
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ بچے کا اچھا نام رکھا جائے
بہتر یہی ہے کہ محمد یا احمد رکھ لیا جائے اور پکارنے کے لیے کوئی اور نام رکھ لیا
جائے حدیث مبارکہ میں محمد اور احمد نام رکھنے کے بہت فضائل آئے ہیں ملاحظہ ہو:
پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: جس کے یہاں لڑکا پیدا ہو
اور وہ میری محبّت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کیلئے اس کا نام محمد رکھے تو
وہ اور اس کا لڑکا دونوں جنّت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، جزء: 16، 8/175، حدیث: 45215)
(2) دوسرا حق یہ کہ اس کی اولاد کے دل میں حضور ﷺ کی
محبت ان کے اہل بیت کی محبت ڈالے یہ عین ایمان اور اصل ایمان ہے اس بارے میں حدیث
مبارکہ ملاحظہ ہو۔
میرے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بچوں کو تین
چیزیں سکھاؤ: اپنے نبی کی محبّت، اہل بیت کی محبّت اور قرآن پاک پڑھنا۔ (الصواعق
المحرقہ، ص 172)
(3) تیسرا حق علم دین خصوصا نماز روزے کے مسائل، اور
بغض، جسد، تکبر، وعدہ خلافی، گالی گلوچ، کینہ، اور ان جیسی دیگر برائیوں کے رزائل پڑھائے
نیز صدق، عدل، قناعت، زہد، حیا، امانت اور ان جیسی دیگر خوبیوں کے فضائل پڑھائے۔
(4) چوتھا اور سب سے اہم حق عقائد اسلام و سنت
سکھائے کہ لوح سادہ فطرت اسلامی و قبول حق پر مخلوق ہے (اس لیے کہ بچہ فطرتا دین
اسلام اور حق بات قبول کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے) اس وقت کا بتایا پتھر کی لکیر
ہوگا۔
(5) پانچواں حق جب تمیز آئے ادب سکھائے، کھانے، پینے،
ہنسنے، بولنے، اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، پھرنے، حیا، لحاظ بزرگوں کی تعظیم، والدین اور
استاد کا ادب اور دختر کے بھی شر اطاعت کے طرق و آداب طور طریقے بتائے اور سب
زیادہ قرآن کریم کی تعلیم دے۔
یہ پانچ حق پیان ہوئے لیکن یہ موضوع اتنا وسیع ہے
کہ اس کو اس مختصر سے مضمون میں بیان کرنا ممکن نہیں اولاد کے حقوق مزید جاننے کے
لیے میرے اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید ہے ان
شاء اللہ الرحمٰن ڈھیروں معلومات حاصل ہوں گی۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شریعت کی پاسداری
کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر مسلمان کے حقوق کا خیال رکھنے کی توفیق عطا
فرمائے ہماری ہمارے والدین پیر و مرشد اساتذہ کرام اور ساری امت محمدیہ ﷺ کی بے
حساب مغفرت فرمائے۔ آمین
اسلام میں طفل کا تصور بلوغت تک ہے چاہے وہ 13 سال
کی عمر تک ہو چاہے 16 تک۔ طفل کسی نہ کسی کی اولاد ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم و
تربیت کی ذمہ داری ان کے والدین پر ہوتی ہے۔ اگر والدین نہ کر سکیں تو ریاست پر
ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
(1) والدین کا اولاد کو نیک اخلاقی اور دنیاوی
تعلیمات فراہم کرنے کا حق ہے۔
(2) رضاعت کہ ماں کے دودھ نہ ہو تو دائی رکھنا، بے
تنخواہ نہ ملے تو تنخواہ دینا واجب، نہ دے تو جبراً لی جائے گی جبکہ بچے کا اپنا
مال نہ ہو، یو ہیں ما بعد الطلاق و مرورِ عدت (طلاق اور عدت گزرنے کے بعد) بے تنخواہ دودھ نہ پلائے تو اسے بھی تنخواہ دی
جائے گی۔
(3) اپنے نابالغ بچے، پسر خواہ دختر کو غیر کفو سے
بیاہ (شادی کر) دینا، یا مہر مثل میں غبن
فاحش کے ساتھ (یعنی بہت زیادہ کمی یا زیادتی کے ساتھ نکاح کرنا) مثلاً دختر کا مہر مثل ہزار ہے پانسو پر نکاح۔
(4) حضانت (پرورش) کہ لڑکا سات برس، لڑکی نو برس کی عمر تک جن
عورتوں مثلا ماں، نانی، دادی خالہ پھوپی کے پاس رکھے جائیں گے اگر ان میں کوئی بے
تنخواہ نہ مانے اور بچہ فقیر اور باپ غنی ہے تو جبراً تنخواہ دلائی جائے گی۔
(5) ان کیلئے ترکہ باقی رکھنا کہ بعد تعلق حق ورثہ
یعنی بحالت مرض الموت مورث اس پر مجبور ہوتا ہے یہاں تک کہ ثلث سے زائد میں اس کی
وصیت بے اجازت ورثہ نافذ نہیں۔
(6) اولاد کو اخلاقی اور معاشرتی قیمتوں کی تربیت
دینے کا حق ہے۔
شریعت کے مطابق اولاد کی تربیت کریں حجۃ الاسلام
حضرت امام محمد غزالی فرماتے ہیں: اولاد کی تربیت اہم اور تاکید امور میں سے ہے
اولاد والدین کے پاس امانت ہے اس کا پاک دل ایک ایسا جوہر نایاب ہے جو ہر نقش و
صورت سے خالی ہے لہذا وہ ہر نقش کو قبول کرنے والا اور جس طرف اسے مائل کیا جائے
اس کی طرف مائل ہو جانے والا ہے اگر اسے اچھی باتوں کی عادت ڈالی جائے اور اس کی
تعلیم و تربیت کی جائے تو اسی پر اس کی نشونما ہوئی ہے جس کے باعث دنیا اور اخرت
میں سعادت مند ہو جاتا ہے۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ
اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا
مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ
یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶) (پ 28، التحریم: 6) ترجمہ: کنز العرفان:
اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی
اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی
نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
جس طرح اولاد پر والدین کے حقوق ہوتے ہیں اسی طرح
اولاد کے بھی والدین پر ہوتے ہیں والدین پر اولاد کے جو حقوق اعلی حضرت امام اہل
سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان نے بیان فرمائے ہیں ان میں سے چند حقوق پیش خدمت
ہیں۔
1) زبان کھلتے ہی اللہ اللہ پھر پورا کلمہ لا الہ
الا اللہ پھر بھرپور کلمات سکھائیں۔
2) جب تمیز ہے ادب سکھائیں کھانے، پینے، ہنسنے،
بولنے، اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے،حیا،لحاظ، بزرگوں کی تعظیم، ماں باپ استاد اور
دختر کو شوہر کے بھی اطاعت کے طریق و آداب بتائیں۔
3) قرآن پاک
پڑھائیں۔
4) استاد نیک صالح، متقی، صحیح العقیدہ سن رسیدہ کے
سپرد کر دیں اور دختر کو نیک پارسا عورت سے پڑھوائیں۔
5) حضور اقدس رحمت عالم ﷺ کی محبت و تعظیم ان کے دل
میں ڈالیں اصل ایمان و عین ایمان ہے۔
6) حضور پر نور ﷺ کے آل و اصحاب اولیاء علماء کی
محبت و عظمت تعظیم کرے کہ اصل سنت و زیورِ ایمان بلکہ باعث بقائے ایمان ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ تمام والدین کو اپنی اولاد
کے حقوق اچھے طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اولاد کے5 حقوق از بنت شبیر احمد زیدی،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
حضور پاک ﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے: تم سب نگران ہو
اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔بادشاہ
نگران ہے، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے اہل وعیال کا
نگران ہے اس سے اس کے اہل وعیال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری، 2/159،
حدیث: 2554)
اولاد کے حقوق ماں باپ کے فرائض میں شمار ہوتے ہیں
اور یہ حقوق اولاد کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتے ہیں، چنانچہ ام المؤمنین
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی مکرّمﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے
نطفہ کے لئے اچھی جگہ تلاش کرو کہ عورتیں اپنے ہی بہن بھائیوں کے مشابہ بچے پید
اکرتی ہیں۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال، 6/423)
اولاد کے حقوق کی بات کی جائے تو بعض حقوق شرعی
ہوتے ہیں بعض اخلاقی ہوتے ہیں اور بعض حقوق عرفی ہوتے ہیں۔
1۔ جب بچہ پیدا ہو تومستحب یہ ہے کہ اس کے کان میں
اذان واقامت کہی جائے کہ اس طرح ابتداء ہی سے بچے کے کان میں اللہ پاک اور اس کے
پیارے محبوب ﷺ کا نام پہنچ جائے۔ بچے کا نام درست دین کے مطابق رکھا جائے۔
2۔اولاد کو پیدا ہوتے ہی کسی کامل پیر کا مرید بنا
دینا چاہیے۔ دودھ پیتے بچے کو بھی بے پیرا نہیں چھوڑنا چاہیے۔
3۔ بہترین تعلیم و تربیت اولاد کا بنیادی حق ہے۔ آپ
کی اولاد، آپ کے جگر کاٹکڑا اور اپنی ماں کی آنکھوں کا نور سہی لیکن اس سے پہلے اللہ
پاک کا بندہ، نبی کریم ﷺ کا امّتی اور اسلامی معاشرے کا اہم فرد ہے۔ اگر آپ کی
تربیت اسے اللہ پاک کی بندگی، سرکار مدینہ ﷺ کی غلامی اور اسلامی معاشرے میں اس کی
ذمہ داری نہ سکھا سکی تو اسے اپنا فرماں بردار بنانے کا خواب دیکھنا بھی چھوڑ
دیجئے کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جو ایک مسلمان کو اپنے والدین کا مطیع وفرماں بردار
بننے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لئے اولاد کی ظاہری زیب وزینت، اچھی غذا، اچھے لباس اور
دیگر ضروریات کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی وروحانی تربیت کے لئے بھی
کمربستہ ہوجائیے۔
اولاد کی تعلیم و تربیت اس کے بچپن سے ہی شروع کر
دینی چاہیے کیونکہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا دماغ ایک خالی صفحے کی طرح ہوتا
ہے جس پر جو بات لکھ دی جائے چھپ جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اگر اپ بچپن میں بچے کو
اسلام میں پہل کرنا سچ بولنا چغلی نہ کرنا غیبت نہ کرنا سکھائیں تو وہ جلدی سیکھ
جاتے ہیں اور پوری عمر بری عادتوں سے بیزار اور سنتوں کی پابند رہتے ہیں۔ لیکن اس
کے لیے ضروری ہے کہ خود والدین سنتوں کے پابند اور حسن اخلاق کے پیکر ہوں۔ گھر میں
بچے کو مدنی ماحول مہیا کریں۔
4۔والدین کو چاہیے کہ بچے کو حلال روزی کھلائے۔
چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اس لئے حلال کمائی کرتا
ہے کہ سوال کرنے سے بچے، اہل وعیال کے لئے کچھ حاصل کرے اور پڑوسی کے ساتھ حسن
سلوک کرے تو وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح
چمکتا ہو گا۔ (شعب الایمان، 7/298، حدیث: 10375)
5۔ والدین کو چاہیے کہ جب ان کی اولاد سن شعور کو
پہنچ جائے تو اسے ضروری عقائد سکھائے۔ بچے کے ذہن میں جنت کا شوق اور جہنم کا خوف
بٹھائیے۔ اولاد کے دل میں اقا کریم ﷺ کی محبت ڈال لیں۔ ان کے دلوں میں مدینے کی
محبت ڈال لیں۔ قرآن مجید اور بنیادی علوم
سکھائیں۔ اولاد کو نماز پڑھنے کی ترغیب دیجیے روزہ رکھوا ئیں اولاد کے دل میں شوق
علم پیدا کریں اور انہیں آداب سکھائیں۔ جیسا کہ آیت مبارکہ میں ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ
اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ
غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا
یُؤْمَرُوْنَ(۶) (پ 28، التحریم: 6) ترجمہ: کنز العرفان: اے ایمان
والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر
ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی
نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
6۔ اولاد کے جوان ہوجانے پر والدین کی ذمہ داری ہے
کہ ان کی نیک اور صالح خاندان میں شادی کر دیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے
روایت ہے کہ سرور کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا نکاح کرو،
بیٹیوں کو سونے اور چاندی سے آراستہ کرو اور انہیں عمدہ لباس پہناؤاور مال کے
ذریعے ان پر احسان کرو تاکہ ان میں رغبت کی جائے۔ (کنز العمال، 16/191،
حدیث: 45424)
اسلام ایسا پیارا اور متوازن نظام والا دین ہے جو
زندگی کے ہر شعبے میں رہنما اصول فراہم کرتا ہے اسلام نے دیگر حقوق کی طرح والدین
کے حقوق کے ساتھ ساتھ اولاد کے حقوق بھی بیان کیے ہیں۔ چند پیشِ خدمت ہیں:
1: جب بچہ پیدا ہو تو فورا ہی اس کے دائیں
کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پر رہتا کہ بچہ شیطان کے خلل سے محفوظ رہے۔
2: جب بچہ یا بچی سات برس کے ہو جائیں تو
ان کو طہارت اور وضو اور غسل کا طریقہ سکھائیں اور نماز کی تعلیم دیکھ کر ان کو
نمازی بنائیں۔
3: جب بچے بچیاں تعلیم کے قابل ہو جائیں
تو سب سے پہلے ان کو قرآن شریف اور دینیات
کی تعلیم دلائیں۔
4:یہ بھی بچوں کا حق ہے کہ ان کی پیدائش
کے ساتویں دن ماں باپ ان کا سر منڈوا کر بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کرے
اور بچوں کا کوئی اچھا نام رکھے ہرگز کوئی برا نام نہ رکھیں۔
5: بچوں کو اسلامی ادب و اخلاق اور دین و
مذہب کی باتیں سکھائیں اچھی باتوں کی رغبت دلائیں اور بری باتوں سے نفرت دلائیں۔
6: بچے جب کچھ بولنے لگے تو ماں کو چاہیے
کہ انہیں بار بار اللہ پاک اور رسول ﷺ کا نام سنائے ان کے سامنے بار بار کلمہ پڑھے
یہاں تک کہ وہ کلمہ پڑھنا سیکھ جائے۔
اللہ پاک ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے
حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جن کے حقوق ادا کرنا ہم پر لازم ہے۔ آمین
جس طرح اولاد پر والدین کے حقوق ہوتے ہیں اسی طرح
اولاد کے بھی والدین پر حقوق ہوتے ہیں میرے آقا و مولیٰ اعلی حضرت امام اہلسنت
امام احمد رضا خان نے اپنے رسالے مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد اولاد کے حقوق
بیان فرمائے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
1۔ برا نام نہ رکھے کہ بد فال، بد ہے (کہ برا شگون برا ہے) عبد اللہ، عبد الرحمن،
احمد، حامد وغیرہا عبادت وحمد کے نام یا انبیاء، اولیاء یا اپنے بزرگوں میں جو نیک
لوگ گزرے ہوں ان کے نام پر نام رکھے کہ موجب برکت (باعثِ برکت) ہے خصوصاً نام پاک
محمد ﷺ کہ اس مبارک نام کی بے پایاں برکت بچہ کے دنیا و آخرت میں کام آتی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ ارشادفرماتے
ہیں: روز قیامت دو شخص اللہ ربّ العزت کے حضور کھڑے کئے جائیں گے حکم ہو گا انہیں جنت
میں لے جاؤ، عرض کریں گے: الٰہی ! ہم کس عمل کی بدولت جنت کے قابل ہوئے ہم نے
توکوئی کام جنت کا نہیں کیا؟ اللہ پاک فرمائے گا: جنت میں جاؤ میں نے قسم ارشاد
فرمائی ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو دوزخ میں نہ جائے گا۔ (مسند الفردوس، 2/503، حدیث:
8515)
2۔ جب بچہ پیدا ہو فوراً سیدھے کان میں اذان بائیں
میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان اور ام صبیان سے بچے بہتر یہ ہے کہ داہنے کان میں چار
مرتبہ اذان اور بائیں میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔ (بہار شریعت، 3/153،
حصہ: 15)
امّ الصبیان: ایک
قسم کی مرگی ہے جو اکثر بچوں کو بلغم کی زیادتی اور معدے کی خرابی سے لاحق ہوتی ہے
جس سے بچوں کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہو جاتے اور منہ سے جھاگ نکلنے لگتا ہے۔ (فرہنگ آصفیہ،
1/221)
3۔ ساتویں اور نہ ہو سکے تو چودہویں ورنہ اکیسویں
دن عقیقہ کرے، دختر (بیٹی) کیلئے ایک، پسر (بیٹے) کیلئے دو کہ اس میں بچے کا گویا رہن (گروی) سے
چھڑانا ہے۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار
شریعت میں فرماتے ہیں: گروی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس (بچے) سے پورا نفع حاصل نہ ہوگا جب تک عقیقہ نہ کیا
جائے اور بعض نے کہا: بچہ کی سلامتی اور اسکی نشوونما اور اس میں اچھے اوصاف
(خوبیاں) ہونا عقیقہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ مزید ارشاد فرماتے ہیں: لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی میں ایک
بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے اور لڑکے کے
عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی میں بکرا کیا جب بھی حرج نہیں اور عقیقہ میں گائے ذبح
کی جائے تو لڑکے کے لئے دو حصے اور لڑکی کے لئے ایک حصہ کافی ہے، یعنی سات حصوں میں
دو حصے یا ایک حصہ۔ نیز اسی میں ہے: لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریوں کی جگہ ایک ہی بکری
کسی نے کی تو یہ بھی جائز ہے۔ (بہار شریعت، 3/154، 155،
حصہ: 15)
4۔جماع کی ابتداء بسم اللہ سے کرے ورنہ بچہ میں
شیطان شریک ہو جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے فر ماتے ہیں کہ
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے قربت کا ارادہ کرے تو
یہ دعاپڑھے: بسم اللہ اللّٰہمّ جنبنا الشّیطان وجنب الشّیطان ما رزقتنا یعنی
اللہ کے نام سے، اے اللہ ! ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ اور جو (اولاد) تو ہمیں دے
اسکو بھی شیطان سے محفوظ رکھ۔ تو اگر اس
صحبت میں ان کے نصیب میں بچہ ہوا تو اسے شیطان کبھی نقصان نہ دے سکے گا۔ (بخاری، 4/214، حدیث:
6388) اس حدیث مبارکہ کی تشریح میں مفتی احمد
یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: یہ دعا ستر کھولنے سے پہلے پڑھے پھر
فرماتے ہیں: اس صحبت میں نہ شیطان شریک ہو اور نہ بچے کو شیطان کبھی بہکائے، بسم
اللہ سے مراد پوری بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے: خیال رہے کہ جیسے شیطان کھانے پینے
میں ہمارے ساتھ شریک ہوجاتا ہے ایسے ہی صحبت میں بھی، اور جیسے کھانے پینے کی برکت
شیطان کی شرکت سے جاتی رہتی ہے ایسے ہی صحبت میں شیطان کی شرکت سے اولاد نالائق
اور جنّاتی بیماریوں میں گرفتار رہتی ہے اور جیسے بسم اللہ پڑھ لینے سے شیطان
کھانے پینے میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا ایسے ہی بسم اللہ کی برکت سے صحبت میں
شیطان کی شرکت نہیں ہوتی جس سے بچہ نیک ہوتا ہے اور آسیب وغیرہ سے بھی بفضلہ تعالیٰ
محفوظ رہتا ہے، بہتر یہ ہے خاوند بیوی دونوں پڑھ لیں۔ (مراۃ المناجیح، 4/30، 31)
5۔زنگیوں حبشیوں (کالے رنگ والے شیدی لوگوں) میں قرابت نہ کرے کہ ماں کا سیاہ رنگ بچہ کو بد
نما نہ کر دے۔
اسکے علاوہ بھی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اسی
(80) کے قریب حقوق اپنے رسالے میں تحریر فرمائے ہیں جیسے: علم دین خصوصاً وضو،غسل،
نماز و روزہ کے مسائل توکل، قناعت، زہد، اخلاص، تواضع، امانت، صدق، عدل، حیا،
سلامت صدور و لسان وغیرہا خوبیوں کے فضائل، حرص وطمع، حب دنیا، حب جاہ، ریا، عجب،
تکبّر، خیانت، کذب، ظلم، فحش، غیبت، حسد، کینہ وغیرہا برائیوں کے رذائل پڑھائے۔٭
خاص پسر (یعنی بیٹے) کے حقوق سے یہ ہے کہ اسے لکھنا، پیرنا (یعنی کسی فن میں ماہر
ہونا)، سپہ گری سکھائے۔ سورۂ مائدہ کی تعلیم دے۔ اعلان کے ساتھ اس کاختنہ کرے۔٭
خاص دختر (یعنی بیٹی) کے حقوق سے یہ ہے کہ اس کے پیدا ہونے پر ناخوشی نہ کرے بلکہ
نعمت الٰہیہ جانے، اسے سینا،پرونا، کاتنا، کھانا پکانا سکھائے اورسورۂ نور کی
تعلیم دے۔ (فتاویٰ رضویہ، 24 / 454، 455
ملتقطاً)
الله کریم ہمیں ہم پر لازم حقوق کی احسن طریقے سے ادائیگی
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اولاد کے حقوق گویا والدین کے فرائض ہیں جس طرح
اولاد کے والدین پر حقوق ہوتے ہے اسی طرح اسلام نے والدین پر بھی اولاد کے کچھ
حقوق متعین فرمائے ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے والدین کی فطرت میں اولاد کی محبت
پیدا کی ہے لیکن ان کے حقوق کا متعین اسلام نے کر کے انہیں واضح کر دیا اس لیے
ضروری ہے کہ والدین پر اولاد کے حقوق کو اسلام کی طرف سے متعینہ طور پر بیان کر
دیا جائے اسلام سے پہلے اولاد کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا تھا خصوصاً لڑکیوں کے
ساتھ ان کے والدین بہت برا برتاؤ کیا کرتے تھے لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے
اور ان سے پیچھا چھڑا لیا کرتے تھے لیکن قرآن پاک کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے والدین کو اس ناروا
ظالمانہ رویے سے روکا اور انہیں اولاد کی پرورش اور تربیت پر آمادہ کیا۔
قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ
قَتَلُـوْۤااَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ
اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِؕ-قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا
مُهْتَدِیْنَ۠(۱۴۰) (پ 8، الانعام: 140) ترجمہ کنزالایمان) (واقعی ایسے
لوگ برباد ہو گئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بغیر علم کے بیوقوفی سے قتل کردیا اور ان
چیزوں کو جو اللہ نے ان کو روزی کے طور پر بخشی تھیں اللہ پر بہتان باندھتے ہوئے
حرام کر ڈالا بےشک وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت یافتہ نہ ہو گے۔
والدین پر اولاد کا حق ہے کہ ان کی پرورش کی جائے
ان کی محبت اور تندرستی کی حفاظت والدین پر فرض ہے۔ وَ
الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ
اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَؕ-وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ
كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ- (پ 2، البقرة: 233) ترجمہ:اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ
پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ
پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔اگر والدین
موجود نہ ہوں تو باپ پر یہ فرض عائد کیا گیا کہ اولاد کو دودھ پلانے کا انتظام کرے
لڑکے لڑکیوں پر ترجیح نہ دے بلکہ آپ نے لڑکیوں کی پرورش میں فرمایا جو شخص دو
لڑکیوں کی پرورش ان کا بالغ ہونے تک رہا قیامت کے دن میں اور وہ شخص اس طرح قریب
ہو گئے جس طرح دو انگلیاں۔ (مسلم، ص 1085، 6695)
حضرت سراقہ بن مالک سے روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا: کیا
میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: وہ اپنی اس لڑکی پر
صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف (مطلقہ) یا بیوہ (ہونے کے سبب) واپس لوٹ آئی اور تمہارے
سوا کوئی اس کا کفیل نہیں۔(ابن ماجہ، 4/188، حدیث: 3667)
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد
فرمایا: کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے تو اس کے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے
بہتر ہے۔ (ترمذى، 3/382، حدیث:1958)
دین
و شریعت اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ جس طرح والدین
کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کے والدین پر حقوق ہیں جیسے اولاد کی اسلامی
تعلیمات کے مطابق تربیت کرنا استطاعت کے مطابق ان پر خرچ کرنا وغیرہ آئیے اولاد کے
حقوق پر چند حدیث نبوی پڑھتی ہیں:
1۔ والد کا اپنی اولاد کو اس سے بڑھ کر کوئی عطیہ
نہیں کہ اسے اچھے آداب سکھائے۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959)
2۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین دعائیں قبول ہوتی
ہیں: ان (کی قبولیت) میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا
اور والد کی اپنی اولاد کے حق میں دعا۔ (ابن ماجہ، 4/281، حدیث: 3862)
3۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: اپنے بچوں کو
نماز پڑھنے کی تلقین کرو جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور نماز سے غفلت کریں تو اس
پر ان کو سزا دو جب دس سال کے ہو جائیں تو ان کے بستر الگ کر دو۔(ابو داود، 1/208،
حدیث: 494)
4۔ بہترین عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، وہ
قریش کی نیک خواتین ہیں، جو اپنی اولاد کے بچپنے میں اس کا بہت خیال رکھنے والی
اور اپنے خاوندوں کے مال و منال کی حفاظت کرنے والی ہیں۔
رب کائنات نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا جن
میں سے اولاد ایک عظیم نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں اولاد کو والدین کی آنکھوں کی
ٹھنڈک بنایا، بڑھاپے میں ان کا سہارا بنایا اور ان کا مطیع و فرمانبردار رہنے اور
ان کی خدمت کا فرض عائد فرمایا وہیں اولاد کے کچھ حقوق والدین کے ذمے لگائے تاکہ
فطری تقاضے قائم رہیں اور کسی فریق کی حق تلفی نہ ہو۔
موجودہ اور آئندہ نسل کی دنیا و آخرت کی بہتری کے
لیے اولاد کے ان پانچ حقوق کی ادائیگی بے حد ضروری ہے۔
1۔ وجوداولاد سے پہلے: آدمی
کو چاہیے کہ نکاح کے لیے ایسی عورت کا انتخاب کرے جو دیندار ہو اور اچھے اوصاف
والی ہو تا کہ اولادکی اچھی تربیت کر سکے کہ کل کو ماں کی اچھی یا بری خصلتیں
اولاد میں بھی منتقل ہوں گی۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور
ﷺ نے فرمایا: بے شک دنیا بہترین استعمال کی چیز ہے لیکن اس کے باوجود نیک اور
صالحہ عورت دنیا کے مال و متاع سے بھی افضل ہے۔ (ابن ماجہ، 2/412، حدیث: 1855)
2۔ اچھا نام رکھنا: بعداز
پیدائش بچےکا نام اس کے والدین کی طرف سے پہلا اور بنیادی تحفہ ہوتا ہے۔ بچے کا
نام اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے لہذا یونیک(منفرد) نام رکھنے کی بجائے انبیا
ءکرام علیہم السلام،اہل بیت اطہار اورصحابہ وصحابیات کے نام رکھے جائیں۔ حضرت ابو
دردا ءرضی الله عنہ سے مروی ہے: حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تم
اپنے اور اپنے آبا ءکے ناموں سے پکارے جاؤ گے لہذا اپنے اچھے نام رکھا کرو۔ (ابو
داود، 4/374، حدیث: 4948)
3۔ تعلیم: معاشرے کی
ایک بااثر اور مفید شخصیت بنانے اور معاشرے میں تقلیدی کردار ادا کرنے کے لیے
اولاد کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ تعلیم کے
معاملےمیں علم دین کو تمام علو م پر تر جیح دیں جبھی تو اولاد شریعت کے مطابق
بطریق احسن اپنی ذمہ داریاں اور حقوق انجام دینے میں کامیاب ہو سکے گی۔علم دین کے
بعد پھر چاہے تو ایسے دنیاوی علوم سکھائے جن میں شریعت کی خلاف ورزی لازم نہ آتی ہو۔
4۔ تربیت: اولاد کے نیک
یا بد ہونے میں والدین کی تربیت کا بہت دخل ہے۔اللہ رب العزت قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ
اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا
مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ
یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶) (پ 28، التحریم: 6) ترجمہ: کنز العرفان:
اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی
اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی
نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔حضور ﷺ نے یہ آیت مبارکہ
جب صحابہ کرام کے سامنے تلاوت فرمائی تو وہ یوں عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہ ﷺ! ہم
اپنے اہل خانہ کو آتش جہنم سے کس طرح بچا سکتے ہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے اہل و
عیال کو ان چیزوں کا حکم دو جو اللہ کو محبوب ہیں اور ان کاموں سے روکو جو رب تعالیٰ
کو نا پسند ہیں۔ (در منثور، 8/225)
4۔ بری صحبت سے بچانا: والدین
حکمت عملی کے ساتھ اپنے بچوں کی دوستیوں کا بھی مشاہدہ کرتے رہیں کہ ان کے بچے
کیسی صحبت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انکی صحبت ان کے لیے ہلاکت کا ساماں بھی ہوسکتی ہے
اور ذریعہ نجا ت بھی بن سکتی ہے۔لہذا انہیں با ادب، با اخلاق، باکردار اورصحیح
العقیدہ ہم نشیں مہیا کیجیے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے: آدمی اپنے گہرے دوست کے دین پر ہوتا
ہے تو تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ وہ کس کو گہرا دوست بنائے ہوئے ہے۔ (ابو داود، 4/341،
حدیث: 4833)
5۔ جوان ہونے پر شادی کرنا: اس
دورِ پرفتن میں والدین کے لیے اس ذمہ داری کو وقت پر انجام دینا بہت ضروری ہے کہ
جیسے ہی ان کی اولاد جوان ہو تو انہیں کسی نیک صالح خاندان میں بیاہ دیں اور بلا
وجہ تاخیر نہ کریں۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوب ﷺ نے فرمایا: جس
کے ہاں لڑکے کی ولادت ہو اسے چاہیے کہ اس کا اچھا نام رکھے اسے آداب سکھائے جب وہ
بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کر دے اگر بالغ ہونے کے بعد نکاح نہ کیا اور لڑکا مبتلائے
گناہ ہوا تو اس کا گناہ والد کے سر ہوگا۔ (شعیب الایمان، 6/601، حدیث: 8666)
اسلام ایسا پیارا اور متوازن نظام والا دین ہے جو
زندگی کے ہر شعبے میں ہمیں راہ نما اصول فراہم کرتا ہے۔جس طرح اسلام نے دیگر کے
حقوق کے ساتھ ساتھ والدین کے حقوق کو بیان فرمایا تو اولاد کے حقوق کو بھی بیان
فرمایا کہ جس طرح اولاد پر ماں باپ کے حقوق ہیں اسی طرح والدین پر اولاد کے حقوق
ہیں۔اولاد کے حقوق میں سے چند پیش خدمت ہیں:
1۔ جب بچہ پیدا ہو تو فورا ہی اس کے دائیں کان میں
اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھیں تاکہ بچہ شیطان کے خلل سے محفوظ رہے۔ حضرت
عبید الله بن ابی رافع اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول الله ﷺ کو حسن بن
علی کی ولادت کے وقت ان کے کان میں اذان دیتے ہوئے دیکھا جس طرح نماز میں اذان دی
جاتی ہے۔
2۔ یہ بھی بچوں کا حق ہے کہ ان کی پیدائش کے ساتویں
دن ماں باپ ان کا سر منڈا کر بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کریں۔ حدیث مبارکہ
میں ہے: جب حضرت حسن پیدا ہوئے تو حضور ﷺ نے بذات خود ان کا عقیقہ کیا اور سیدہ
فاطمہ رضی الله عنہا کو فرمایا: اے فاطمہ! اس کا سر منڈاؤ اور بالوں کے ہم وزن
چاندی صدقہ کرو۔
3۔ جب بچے بچیاں تعلیم کے قابل ہو جائیں تو سب سے
پہلے ان کو قرآن شریف اور دینیات کی تعلیم
دلائیں۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: والد کا اپنی اولاد کو اس سے بڑھ کر کوئی عطیہ
نہیں کہ اسے اچھے آداب سکھائے۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959)
4۔ ایک حق اولاد کا یہ ہے کہ جب بچہ یا بچی سات برس
کے ہو جائیں تو ان کو طہارت اور وضو و غسل کا طریقہ سکھائیں اور نماز کی تعلیم دے
کر ان کو نمازی بنائیں اور پاکی و ناپاکی اور حلال و حرام اور فرض و سنت وغیرہ کے
مسائل بتائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کی تلقین کرو جب وہ سات
برس کے ہو جائیں اور نماز سے غفلت برتنے پر ان کو سزا دو جب وہ دس سال کے ہو جائیں
اور اس عمر کو پہنچنے کے بعد ان کے بستر الگ کر دو۔ (ابو داود، 1/208، حدیث: 494)
5۔ چند بچے بچیاں ہوں تو جو چیزیں دیں سب کو یکساں
دیں ہر گز کمی و بیشی نہ کریں ورنہ بچوں کی حق تلفی ہوگی۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اللہ کریم اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو یہاں تک
کہ بوسہ لینے میں بھی۔
دینِ اسلام جہاں والدین کے حقوق ادا کرنے پر زور
دیتا ہے وہیں اولاد کے حقوق کی ادائیگی کی بھی تلقین کرتا ہے۔اولاد اللہ کی ایک
عظیم نعمت ہے اس لیے والدین کو چاہیے کہ انکے حقوق ادا کریں۔ کیونکہ انکے حقوق میں
کوتاہی کرنا خیانت ہے۔
اولاد کے حقوق:
زندگی کا حق: والدین
پر لازم ہے کہ اولاد کو زندگی کا حق دیں انہیں قتل نہ کریں۔ اسلام سے قبل اہل عرب
اپنی اولاد کو غربت کی وجہ سے قتل کر دیتے تھے،لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا
لیکن ہمارے پیارے دین اسلام نے اولاد کے حقوق مقرر کر دیئے تاکہ لوگ محض جہالت اور
غربت کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کریں۔ کیونکہ اولاد اللہ پاک کی نعمت ہے اور
اللہ نے اسے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے: وَ
لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ
اِیَّاهُمْۚ-(پ
8، الانعام: 151) ترجمہ: اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی
تمہیں اور انہیں رزق دیتے ہیں۔
اذان دینا: پیدائش کے بعد
اولاد کا ایک حق یہ ہے کہ اسکے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی
جائے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے:جب بچّہ پیدا ہو فوراً سیدھے کان میں اذان، بائیں میں
تکبیر (اقامت)کہے کہ خلل شیطان و امّ الصّبیان سے بچے۔ (فتاویٰ رضویہ،24/452) بہار
شریعت میں ہے: جب بچّہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اس کے کان میں اذان و اقامت کہی
جائے اذان کہنے سے ان شاء اللہ بلائیں دور ہوجائیں گی۔ (بہار شریعت،3/355)
اچھا نام رکھنا: اولاد
کا اچھا نام رکھنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی
اولاد کا اچھا نام رکھیں۔حضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں: بچے کا اچھا نام رکھا جائے، ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں
جن کے کچھ معنیٰ نہیں یا ان کے برے معنیٰ ہیں ایسے ناموں سے احتراز(یعنی
پرہیز)کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصّلوٰۃو السّلام کے اسمائے طیّبہ(یعنی پاک
ناموں)اور صحابہ و تابعین و بزرگان دین(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے نام پر نام
رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ ان کی برکت بچے کے شامل حال ہو۔
دودھ اور غذا کا انتظام کرنا: اولاد
کا حق ہے کہ والدین انکے لیے دودھ اور غذا کا انتظام کریں۔اللہ پاک ارشاد فرماتا
ہے: وَ الْوَالِدٰتُ
یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ
الرَّضَاعَةَؕ-وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ
بِالْمَعْرُوْفِؕ- (پ
2، البقرة: 233) ترجمہ:اور مائیں اپنے
بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ
پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے
ذمے ہوگا۔
تعلیم و تربیت: والدین
کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو دینی و دنیاوی تعلیم دلوائیں اور انکی اچھی تربیت
کریں۔سورہ لقمان میں ہمیں اولاد کی تربیت کا بہترین درس دیا گیا ہے۔ لقمان رحمۃ
اللہ علیہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: یٰبُنَیَّ اَقِمِ
الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى
مَاۤ اَصَابَكَؕ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ(۱۷) (پ21،
لقمٰن: 17) ترجمہ: اے میرے بیٹے نماز قائم کرو اور نیکی کرنے کا حکم دو اور برائی
سے روکو اور تمہیں جو کچھ تکلیف ہو اس پر صبر کرو کیونکہ ایسا کرنا قوت ارادی کی
مضبوطی ہے۔
عدل و انصاف کرنا: والدین
کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف سے کام لیں۔ والد کی ذمّہ داری ہے
کہ وہ ان کی تعلیم و تربیت، شادی بیاہ اور کاروبار وغیرہ کے معاملے میں کسی طرح کی
جانبداری سے کام نہ لے بلکہ سب کے ساتھ برابر کرے نیز جائیداد اور زمین وغیرہ اپنی
زندگی میں تقسیم کرنا چاہے تو عدل و انصاف سے کام لیتے ہوئے سب کو حصّہ دے۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے
میرے والد نے کچھ عطیہ دیا تو (میری والدہ) حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا
بولیں: میں تو راضی نہیں حتّٰی کہ رسول اﷲ ﷺ کو گواہ کر لو تو وہ رسول کریم ﷺ کی
خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں نے اپنے اس بیٹے کو جو عمرہ بنت رواحہ سے ہے،
ایک عطیہ دیا ہے، یا رسول ﷲﷺ! وہ کہتی ہیں کہ میں آپ ﷺ کو گواہ بنالوں۔ فرمایا:
کیا تم نے اپنے سارے بچّوں کو اسی طرح دیا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: اللہ سے ڈرو
اور اپنی اولاد میں انصاف کرو۔ (بخاری، 2/172، حدیث:2587)
شفقت و ہمدردی کا معاملہ: والدین
کو چاہیے کہ اولاد کے ساتھ شفقت و ہمدردی والا معاملہ فرمائیں۔چھوٹوں سے پیار و
محبت اور شفقت و الفت کا جو برتاؤ آپ ﷺ نے کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ برّاق جیسی
اعلیٰ ترین سواری پر سوار ہونے والے آقا ﷺ نے خود اپنے نواسے امام حسن رضی اللہ
عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھایا۔ (ترمذی،5/432، حدیث:3809ماخوذاً)
اسی لئے امام حسن رضی اللہ عنہ کو راکب دوش مصطفےٰ
بھی کہا جاتا ہے۔
اولاد کو وقت دینا: ہر
وقت کی مصروفیت بعض اوقات باپ اور بچّوں میں دوری پیدا کر دیتی ہے۔ جن بچّوں کے
باپ انہیں مناسب توجّہ اور وقت نہیں دیتے وہ دیگر گھر والوں سے بھی الگ تھلگ رہنے
لگتے ہیں۔ لہٰذا باپ کو چاہئے کہ حتی الامکان بچّوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دے۔
Dawateislami