یہ بات مخفی نہیں ہے کہ جب قرابت اور رشتہ داری کے حق کی تاکید ہے تو رشتہ داروں میں زیادہ خاص اور قریبی رشتہ ولادت کا ہے اس لیے اس کے حقوق باقی اقارب سے کئی گنا زائد ہیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: یارسول اللہ! میں کس کے ساتھ بھلائی کروں؟ ارشاد فرمایا: اپنے والدین کے ساتھ، اس نے عرض کی میرے ماں باپ وفات پا چکے ہیں۔ارشاد فرمایا ! اپنی اولاد کے ساتھ بھلائی کرو جیسے تم پر تمہارے والدین کا حق ہے اس طرح تم پر تمہاری اولاد کا بھی حق ہے۔

اولاد کے متعدد حقوق ہیں مگر یہاں اولاد کے پانچ حقوق درج ذیل ہیں:

1۔ باپ پر اولاد کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اچھی طرح ادب سکھائے اور اس کا اچھا نام رکھے۔ (شعب الایمان، 6/400، حدیث: 8658)

2۔ والدین پر اولاد کا حق یہ بھی ہے کہ بچے کی دیندار لوگوں میں شادی کرے کہ بچہ پر اپنے نانا ابو اور ماموں کی عادات و افعال کا بھی اثر پڑتا ہے۔

3۔ جب تمیز آئے ادب سکھائے، کھانے، پینے، ہنسنے، بولنے، اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، پھرنے، حیا، لحاظ، بزرگوں کی تعلیم، ماں باپ، استاد اور دختر کو شوہر کی بھی اطاعت کے طرق و آداب(طور طریقے) بتائے۔

4۔ حضور اقدس ﷺ کی محبت و تعظیم اولاد کے دل میں ڈالے کہ اصل ایمان و عین ایمان ہے۔

5۔ جب جوان ہو شادی کر دے، شادی میں وہی رعایت قوم و دین و سیرت و صورت ملحوظ رکھے۔

یاد رہے کہ حقوق اللہ و حقوق العباد کا بجا لانا ہر مسلمان پر لازم ہے حقوق اللہ میں کوتاہی تو رب تعالیٰ معاف فرما دے گا مگر حقوق العباد میں کوتاہی بندے سے معاف کروانا لازم ہے ورنہ رب تعالیٰ بھی معاف نہیں فرمائے گا اسی لیے حقوق العباد کو پورا کرنے کی سعی کرتے رہیں اور ان حقوق کی زیادہ فکر کرنی چاہیے۔

اللہ پاک ہمیں حقوق العباد کامل طور پر پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامینﷺ

ہمارا اسلام کتنا پیارا ہے کہ ہر شخص کے حقوق کو ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے والدین ہوں یا اولاد رشتہ دار ہوں یا پڑوسی سب کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے ہر ایک کو اس کا حق دلاتا ہے حضور ﷺ کی ولادت سے پہلے بیٹے بیٹیوں میں فرق کیا جاتا تھا بیٹے کو باعزت رکھا جاتا تھا جبکہ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا لیکن جب حضور ﷺ نے بیٹےاور بیٹی میں فرق ختم کیا تو بیٹی کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جانے لگا اسی طرح نہ صرف بیٹے کے حق فراہم کیے بلکہ بیٹی کو بھی اس کے حقوق دیئے تو اس طرح اولاد کے حقوق کو پیش نظر رکھا گیا۔ دین اسلام نے اولاد کے بہت سے حقوق بیان کیے جن میں سے چند تحریر کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔

1۔بیٹا اور بیٹی عام طور پر مسلمان ہونے پھر خاص پڑوسی ہونے پھر قریبی رشتہ داروں نے اور پھر بالخصوص اسی کے کنبہ میں ہونے کی وجہ سے باپ کی سب سے زیادہ خصوصی توجہ کے حقدار ہیں۔

2۔جب بیٹے یا بیٹی کی پیدائش ہو تو سب سے پہلے ان کے کان میں اذان دی جائے تاکہ شیطان کے شر سے محفوظ رہیں۔

3۔اپنے بچے کا نام رکھیں یہاں تک کہ کچے بچے کا بھی نام رکھا جائے اگر کچے بچے کا نام نہ رکھا تو وہ اللہ کے یہاں شاکی ہوگی۔اپنے بچوں کے اچھے نام رکھیں حضور ﷺ نے اچھے نام رکھنے کا حکم دیا اور برے نام رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

4۔بیٹا یا بیٹی ہو دونوں کے ساتھ برابر سلوک کریں کھانے میں پہنانے میں تعلیم میں یہاں تک کہ پیار کرنے میں بھی برابر کا سلوک کریں بہتر یہ ہے کہ بیٹی کو چیز دینے میں پہل کریں کیونکہ بیٹیوں کے دل چھوٹے ہوتے ہیں۔

5۔بیٹیوں کو سلائی کڑھائی کھانا پکانا وغیرہ سکھائیں جوان ہو جائیں تو گھر میں لباس و زیور سے راستہ کریں کہ نکاح کے پیغام رغبت کے ساتھ آئیں اور جب کفو ملے تو دیر نہ کریں بیٹی کی اچھی تربیت ہی سے معاشرہ ترقی کرتا ہے بیٹی کو سورۃ نور کی تعلیم دیں بیٹی رحمت بنا کر بھیجی گئی ہے اسے رحمت ہی سمجھا جائے نہ کہ زحمت۔

دعوتِ اسلامی کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت گزشتہ روز شاہ کوٹ ، ضلع ننکانہ کے  گورنمنٹ ہائی اسکول میں ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے ٹیچرز سمیت دیگر اسٹاف سے ملاقات کی۔

اس موقع پر ٹیچرز کے لئے اسکول میں ہی ایک سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں مبلغِ دعوتِ اسلامی نے اساتذہ کو بنیادی دینی مسائل سیکھنے کے لئے چند اہم باتیں بتائیں اور انہیں دینی کاموں میں حصہ لینے کا ذہن دیا۔مبلغِ دعوتِ اسلامی نے اسکول میں ”احکامِ روزہ کورس“ منعقد کرنے کی ترغیب دلائی جس پر تمام ٹیچرز نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ:ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


اسلام میں اولاد کے حقوق بھی مقرر ہیں آئیے حدیث مبارکہ کی روشنی میں ملاحظہ ہو:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک ہر ذمہ دار سے اسکی رعایا کے بارے میں پوچھے گا کہ اس نے انکے بارے میں اپنی ذمہ داری کو نبھایا، یا ضائع کردیا، حتی کہ بندے سے اسکے اہل و عیال کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔ (صحیح ابن حبان، 6/465 حدیث: 4475)

اولاد والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک، زندگی کی خوشی اور مستقبل کی امید ہیں، انسان کے گھر کی رونق اولاد سے ہے، انکی زندگی میں لذت و سرور، اولاد ہی سے ہے بلکہ شرعی طور پر اولاد ایک ایسا ذخیرہ ہیں کہ انسان کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی باقی رہتا ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب انسان مرجاتا ہے تو اسکے عمل کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے کہ ان کا فیض انہیں پہنچتا رہتا ہے : صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہو اور نیک اولاد جو اسکے لئے دعا کرے۔ (مسلم، ص 684، حدیث: 4223)

لیکن کسی بھی باپ و ماں کو یہ نعمت اس وقت حاصل ہوگی جب وہ اپنے بچوں کے حقوق کو ادا کریں، ذیل میں اولاد کے چند حقوق ذکر کئے جاتے ہیں:

1۔ ماں کا انتخاب: یہ وہ پہلا مرحلہ ہے جہاں سے اولاد کے حقوق شروع ہوتے ہیں، اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: اپنے نطفے کیلئے اچھے رحم کا انتخاب کرو چنانچہ کفو میں اپنے مردوں کی شادی کرو اور لڑکیوں کی شادی میں بھی کفو کا لحاظ رکھو۔ (ابن ماجہ، 2/474، حدیث: 1968)

2۔ زندگی کی حفاظت: یعنی استقرار حمل کے بعد اسے ضائع کرنے یا ولادت کے بعد اسے قتل کرنے سے پرہیز کریں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْۚ-(پ 8، الانعام: 151) ترجمہ: اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی تمہیں اور انہیں رزق دیتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ اللہ کے رسول ﷺ نے جواب دیا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا، میں نے کہا: یہ تو بہت بڑا جرم ہے، پھر اسکے بعد کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا، میں نے عرض کیا: پھر اسکے بعد کیا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ (جہنم میں لے جانے والے اعمال، 2/474)

3۔ رضاعت و حضانت: بچپن اور بلوغت کو پہنچنے کے مرحلے تک والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچے کے کھلانے پلانے کا انتظام کریں: وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَؕ-وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ- (پ 2، البقرة: 233) ترجمہ:اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کے گناہ گار ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ جن کی روزی کا ذمہ دار ہے ان کے حقوق ضائع کردے یعنی نان و نفقہ میں کوتاہی کرے۔

4۔ تعلیم و تربیت: اولاد کا ایک اہم حق یہ ہے کہ والدین انکی تعلیم وتربیت کا خیال رکھیں: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶) (پ 28، التحریم: 6) ترجمہ: کنز العرفان: اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے بچے کو سات سال کی عمر میں نماز سکھاؤ اور دس سال کی عمر میں اس نماز میں کوتاہی کرنے پر انکی گوش مالی کرو۔ (ابو داود، 1/208، حدیث: 494)

5۔ عقیقہ اور نام: پیدائش کے بعد والدین کی سب سےاہم ذمہ داری بچے کا عقیقہ کرنااور اسکے لئے عمدہ نام کا انتخاب کرنا ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی رہتا ہے، ساتویں دن اسکی طرف سے عقیقہ کیا جائے، اس سے گندگی کو دور کیا جائے یعنی اسکے بال اتروائے جائیں اور نام رکھا جائے۔ (ابو داود، 3/141، حدیث: 2837)

اللہ کریم ہمیں شریعت کے احکامات کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


ہر انسان کے دوسرے پر حقوق ہوتے ہیں جیسے کہ پڑوسی کے پڑوسی پر حقوق رشتہ داروں کے حقوق مسافروں کے حقوق اسی طرح اولاد پر والدین کے حقوق اور والدین پر بھی اولاد کے حقوق ہوتے ہیں۔

1: بچوں کے اچھے نام رکھے جائیں۔ پیدائش کے بعد بچوں کے اچھے نام رکھے جائیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ تاجدار رسالت ﷺ نے فرمایا: اچھوں کے نام پر نام رکھو اور اپنی حاجت اچھے چہرے والوں سے طلب کرو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، 2/80، حدیث: 2329)

محمد نام رکھنے کی فضیلت: حدیث مبارکہ میں ہے: پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے لڑکا پیدا ہوا اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لیے اس کا نام محمد رکھے وہ (یعنی نام رکھنے والا والد) اور اس کا لڑکا دونوں بہشت یعنی جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، 14/ 170، حدیث: 40210)

2: جب سمجھدار ہو جائیں تو قرآن پاک پڑھائیں۔ جب اولاد سمجھدار ہو جائے تو ان کو قرآن پاک پڑھائیں اور اولاد کو ادب سکھایا جائے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: باپ پر اولاد کا حق یہ ہے کہ وہ انہیں بہترین ادب سکھائے اور ان کے عمدہ نام رکھے۔ (شعب الایمان، 6/400، حدیث: 8658)

3: اولاد سے محبت کی جائے۔ اپنی اولاد سے محبت کی جائے ان کی جائز خواہشات پوری کی جائیں جناب اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کو اپنے نواسہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو چومتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ میرے دس بیٹے ہیں مگر میں نے کبھی کسی کو نہیں چوما حضور ﷺ نے فرمایا: بے شک جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (مکاشفۃ القلوب، ص 594)

4:بچوں سے نرمی اور بھلائی کی جائے، حضرت عبداللہ بن شہداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سجدہ کی حالت میں آپ کی گردن پر سوار ہو گئے آپ نے سجدہ طویل کر دیا لوگوں نے سمجھا شاید کوئی بات ہو گئی ہے جب آپ نے نماز پوری کر لی تو صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے بہت طویل سجدہ کیا یہاں تک کہ ہم سمجھے کوئی بات واقع ہو گئی ہے آپ نے فرمایا میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تو میں نے جلدی کرنا مناسب نہ سمجھا تھا کہ وہ اپنی خوشی پوری کر لے۔ (مکاشفۃ القلوب، ص 594)

5: اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہیے۔ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنے کسی لڑکے کی شکایت کی آپ نے فرمایا: تم نے اس پر بددعا کی ہے اس نے کہا: ہاں آپ نے فرمایا: تو نے اسے برباد کر دیا اولاد کے ساتھ نیک سلوک اور نرمی کرنی چاہیے۔ (مکاشفۃ القلوب، ص 594)


ضلع ننکانہ صاحب، صوبۂ پنجاب کی تحصیل شاہ کوٹ  میں قائم رفاہ انٹرنیشنل کالج (Riphah International College) میں ایک سیشن منعقد ہوا جس میں پرائیویٹ اسکولوں کے مالکان اور پرنسپلز نے شرکت کی۔

دورانِ سیشن ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے ذمہ دار محمد جنید عطاری نے حاضرین کے درمیان بیان کیا جس میں انہوں نے دعوتِ اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں کے متعلق گفتگو کی اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا تعارف بھی کروایا۔آخر میں مبلغِ دعوتِ اسلامی نے دعا کروائی۔(رپورٹ:ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دھوبی گھاٹ گراؤنڈ، فیصل پنجاب میں دعوتِ اسلامی کے تحت عظیم الشان ”دستارِ فضیلت اجتماع“ کا انعقاد کیا گیا جس میں مدرسۃ المدینہ وجامعۃ المدینہ (بوائز) کے طلبۂ کرام، شعبہ جات کے ذمہ داران، فیصل آباد و اطراف سے آئے ہوئے علمائے کرام اورسیاسی و سماجی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

تلاوت و نعت کے بعد اس اجتماعِ پاک میں رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری کا سنتوں بھرا بیان ہوا جس میں انہوں نے حاضرین کی مختلف امور پر رہنمائی کی۔

دورانِ اجتماع تخصصات، درسِ نظامی، حفظ اور تجوید و قرأت مکمل کرنے والے طلبہ کی دستار بندی کی گئی۔علاوہ ازیں نگرانِ پاکستان مشاورت نے اختتامی دعا کروائی اور اسلامی بھائیوں سے ملاقات بھی کی۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالو اپ ذمہ دار نگرانِ پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


اسلام میں اولاد کے بہت سے حقوق بیان کیے گئے ہیں ان میں سے چند ملاحظہ ہوں۔

1۔ اولاد کی پیدائش سے بھی پہلے یہ حق ہے کہ آدمی اپنا نکاح کسی کم عمر سے نہ کرے بری نسل ضرور رنگ لاتی ہے۔

2۔ دیندار لوگوں میں شادی کرے کہ بچے پر نانا ماموں وغیرہ کے عادات و افعال کا بھی اثر پڑتا ہے۔

3۔ کالے رنگ والے لوگوں میں قرابت نہ کرے کہ کہیں ماں کا کالہ رنگ بچے کو بدنما نہ کر دے۔

4۔ جماع کی ابتداء بسم اللہ شریف سے کرے ورنہ بچے میں شیطان شریک ہو جاتا ہے۔

5۔ اس وقت شرمگاہ یعنی عورت کے مخصوص مقام کی طرف نظر نہ کرے کہ بچے کہ اندھے ہونے کا اندیشہ ہے۔

6۔ زیادہ باتیں نہ کرے کہ توتلے یا گونگے ہونے کا خطرہ ہے۔

7۔ جب بچہ پیدا ہو فوراً سیدھے کان میں اذان دے اور بائیں کان میں تکبیر کہے کہ بچہ خلل شیطان اور ام الصبیان سے محفوظ رہے گا۔ بہتر یہ ہے کہ داہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں کان میں تین مرتبہ اقامت کہے۔

8۔ بچے کا اچھا نام رکھے یہاں تک کہ کچے بچے کا بھی جو کم دنوں کا گر جائے ورنہ اللہ کریم کے یہاں شاکی ہوگا یعنی شکایت کرنے والا ہوگا۔

9۔برا نام نہ رکھے بہتر یہ ہے کہ محمد نام رکھا جائے۔حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے لڑکا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے پاک نام سے برکت حاصل کرنے کے لیے اس کا نام محمد رکھے وہ اور اس کا لڑکا دونوں جنت میں جائیں گے۔(کنز العمال، جزء: 16، 8/175، حدیث: 45215)

اللہ کریم ہماری ہمارے والدین پیر و مرشد اساتذہ کرام اور ساری امت محمدیہ ﷺ کی بے حساب مغفرت فرمائے اور ہمیں شریعت کے احکامات اچھے طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اللھم آمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم

فیصل آباد پنجاب میں موجود دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں پچھلے دنوں پاکستان مشاورت کے تمام شعبہ جات کا ٹریننگ سیشن منعقد ہوا جس میں پاکستان مشاورت آفس کے  تمام ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی شرکت ہوئی۔

ٹریننگ سیشن میں نگرانِ پاکستان مشاورت آفس مولانا حاجی عمر عطاری مدنی نے ”توکل“کے موضوع پر بیان کیاجس میں انہوں نے اسباب کو اپنانے کے ساتھ ساتھ اللہ پاک کی ذات پر توکل کرنے کا ذہن دیا۔

آخر میں نگرانِ پاکستان مشاورت آفس نے نمایاں کارکردگی کے حامل اسلامی بھائیوں کو تحائف سےنوازااور دعا بھی کروائی۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالو اپ ذمہ دار نگرانِ پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


انسان چونکہ اشرف المخلوقات اور کائنات میں اللہ کا نائب ہے اس لیے انسان کو بہت سے فرائض سونپے گئے ہیں ان میں اولاد کی تربیت سب سے اہم فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولا نا اولا د سے والدین کے حقوق کے متعلق پوچھنے سے پہلے والدین سے اولاد کے حقوق کے متعلق پوچھے گا۔ جیسے الله نے والدین کے ساتھ نیکی نے کا حکم دیا ایسے ہی اولاد کے ساتھ بھی نیکی کرنے کا حکم ہے۔ اولاد کے حقوق میں سے کچھ حقوق یہ ہیں:

جب بچہ سال ہو تو سب سے پہلا حق یہ ہے کہ اس کے کان میں اذان دی جائے۔

عقیقہ کرنا۔ بچے کے پیدا ہونے کے ساتویں دن یا اس کے بعد جو جانور اس کے حوالے سے ذبح کیا جاتا ہے اسے عقیقہ کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے عقیقے کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ ہر بچہ اپنے عقیقے کے ساتھ گروی ہے۔ اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے اور بچے کا نام رکھا جائے۔ (ابو داود، 3/141، حدیث: 2837)

اچھے نام کا انتخاب کرنا۔ والدین کا اولین فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کے اچھے نام رکھیں اور ان کو اچھے نام سے پکاریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ باپ پر بچے کا یہ بھی حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو حسن ادب سے آراستہ کرے۔(شعب الایمان، 6/400، حدیث: 8658)

ختنہ کروانا، اولاد کے درمیان عدل و انصاف کرنا یعنی بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق نہ کیا جائے بلکہ بیٹیوں کو بھی بیٹوں کی طرح ہر چیز میں برابر حصہ دیا جائے۔ بیٹوں کے بالغ ہونے پر ان کی مناسب جگہ شادی کی جائے۔

اولاد کی غلطیوں کی نشاندہی کی جائے تاکہ انہیں صحیح اور غلط کی پہچان ہو۔

ان کے لیے دعائے خیر کرنا ، چنانچہ نبی کریم ﷺ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں لے کر دعا کرتے تھے کہ اے الله ! ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔

اولاد کو روزگار کے لائق بنانا تاکہ بڑے ہونے پر وہ خود کما سکیں اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ سکیں۔

آخر میں الله سے دعا ہے کہ الله پاک ہمیں تمام حقوق بر وقت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


بچوں کے حقوق والدین پر بہت اہم ہوتے ہیں۔ قرآن  و حدیث میں بچوں کے حقوق کے بارے میں کئی اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہاں کچھ اہم حقوق کی بات کرتے ہیں:

1 حق تربیت: والدین کا بچوں کی تربیت کرنے کا حق ہوتا ہے۔ وہ بچوں کو نیک اخلاق، دینی تعلیم اور احساس مسئولیت سکھانے کا ذمہ دار ہوتے ہیں۔

2 حق احترام: بچوں کا حق ہوتا ہے کہ وہ احترام اور نوازش کے ساتھ پالے جائیں۔ والدین کو بچوں کے ساتھ محبت، لطف اور توجہ کا اظہار کرنا چاہیے۔

3 حق تعلیم: بچوں کا حق ہوتا ہے کہ وہ مکمل تعلیم حاصل کریں۔ والدین کو بچوں کی تعلیم کیلئے اہتمام کرنا چاہیے۔

2 حق حفاظت: بچوں کا حق ہوتا ہے کہ وہ حفاظت میں رکھے جائیں۔ والدین کو بچوں کی حفاظت، امن و امانت کا خیال رکھنا چاہیے۔

3 حق صحت: بچوں کا حق ہوتا ہے کہ وہ صحتمند رہیں۔ والدین کو بچوں کی صحت یابی کیلئے مناسب غذا، صحت کی نگہداشت اور طبی معائنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

4 حق لذت: بچوں کا حق ہوتا ہے کہ وہ لذت اور کھیل کے وقت کا اندازہ لیں۔ والدین کو بچوں کے لئے مناسب تفریحی مواقع فراہم کرنا چاہیے۔

5 حق تعلیم: بچوں کا حق ہوتا ہے کہ وہ مکمل تعلیم حاصل کریں۔ سرکاری یا نجی تعلیمی اداروں میں ان کو داخل کرنے کا حق ہوتا ہے۔

6 حق حیات: بچوں کا حق ہوتا ہے کہ وہ خوشحال اور مطمئن حیات گزاریں۔ والدین کو بچوں کی خوشیوں اور خوشحالیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

7 حق انصاف: بچوں کا حق ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ سلوک کیا جائے۔ ان کے مسائل اور تنقیدوں کو سنا جائے اور ان کی باتوں کو سمجھا جائے۔

8 حق تشریفات: بچوں کا حق ہوتا ہے کہ وہ تشریفات کے ساتھ پیش آئیں۔ دوسروں کی عزت کی جائے۔

دین اسلام نے والدین،اساتذہ کرام،رشتہ داروں،پڑوسیوں وغیرہ کے ساتھ ساتھ اولاد کے حقوق بھی مقرر کیے ہیں۔ آئیے ہم اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اپنے رسالے مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد میں بیان کردہ کچھ اولاد کے حقوق مع احادیث کریمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

1۔ بچہ کا یہ حق ہے کہ اس کا پیارا سا نام رکھا جائے۔ اسلام سے قبل اہل عرب اپنے بچوں کے عجیب نام رکھتے تھے، حضور نبی اکرم ﷺ نے ایسے نام ناپسند فرمائے اور خوبصورت نام رکھنے کا حکم دیا۔

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روز قیامت تم اپنے ناموں اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤ گے اس لیے اپنے نام اچھے رکھا کرو۔ (ابو داود، 4/374، حدیث: 4948)

2۔اولاد کو قرآن پاک پرھائے۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں اسکی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب معلم بچے سے کہتا ہے کہ پڑھو بسم اللہ الرحمن الرحیم بچہ پڑھنے والا جب پڑھتا ہے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ بچے اور معلم اور بچے کے والدین کے لئے آزادی لکھ دیتا ہے۔

سبحان اللہ! ایک اور حدیث پڑھئے اور ایمان تازہ کیجئے، پیارے پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص بھی دنیا میں اپنے بچے کو قرآن سکھائے، اسے قیامت کے دن تاج پہنایا جائے گا اہل جنت اسے جنت میں اسی حوالے سے جانیں گے کہ وہ شخص ہے کہ اس نے دنیا میں اپنے بچے کو قرآن سکھایا تھا۔

3۔ جب تمیز آئے تو ادب سکھائے یاد رکھئے! قیامت کے دن جس طرح دیگر نعمتوں کے متعلق سوال ہوگا یوں ہی اولاد بھی ایک نعمت ہے اس کے متعلق بھی ہم سے سوال ہوگا۔ اپنی اولاد کی درست اسلامی تربیت کرکے دنیا میں ہی اس سوال کا جواب تیار کرلیجئے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے فرمایا: اپنے بچّے کی اچھی تربیت کرو کیونکہ تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ تم نے اس کی کیسی تربیت کی اور تم نے اسے کیا سکھایا۔ (شعب الایمان، 6 / 400، حدیث: 8662) لہٰذا اپنی اولاد کو وہ کچھ سکھائیے کہ جس سے قیامت کے دن آپ کو رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشادفرمایا: کسی باپ نے اپنے بچّے کو ایسا عطیہ نہیں دیا جو اچّھے ادب سے بہتر ہو۔ (ترمذی، 3 / 383، حدیث: 1959)

4۔اسے میراث سے محروم نہ کرے۔ اسکے متعلق وعید بیان کرتے ہوئے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کو اس کی میراث سے محروم کردے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت سے محروم فرما دے گا۔ (ابن ماجہ، 3/304، حدیث: 2703)

آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں والدین و اولاد کے حقوق کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان حقوق کی ادائیگی میں غلطیوں و کوتاہیوں سے محفوظ فرمائے۔