پیارے آقا ﷺ سے جس قدر اصحاب کرام علیہم رضوان کو محبت اور عشق تھا اسی قدر بلکہ اس سے کئی گناہ بڑھ کر آقا کریم ﷺ کو اپنی جلیل القدر اصحاب کرام سے محبت تھی۔آقا کریم ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ حسنِ سلوک والا معاملہ فرماتے،ان کی دل جوئی فرماتے،ان کی دعوت کو قبول فرماتے، ان سے نرم لہجہ اختیار فرماتے، ان کے بچوں کے ساتھ پیار فرماتے، ان سے مزاح بھی فرماتے، ان کے بچوں سے کھیلتے اور ان کو گود میں بٹھاتے۔جب کوئی صحابی بیمار ہو جاتا تو اس کی عیادت کے لیے خود تشریف لے جاتے اور کیوں نہ ہوتا کہ اپنے آقا کریم ﷺ پر دل و جان سے قربان ہونے والے یہ پیارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مصائب و مشکلات میں آقا کریم ﷺ کے ساتھ کھڑے رہے، آقا کریم ﷺ کے ہر حکم پر لبیک کہنے کے لیے حاضر رہتے،آپ پر جان قربان کرنے کے لیے حاضر رہتے۔حضور ﷺ بھی اپنے صحابہ کی اس محبت سے واقف تھے اور اسی قدر بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت فرماتے۔ حضور ﷺ کس قدر اپنے اصحاب سے محبت فرماتے تھے۔آئیے! انہی کی   زبانِ مبارک سے ملاحظہ کیجئے۔چنانچہ

حسنِ سلوک :

حضور ﷺ کے خاص خادم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کی دس برس خدمت کی مگر آقائے دو عالم ﷺ نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور یہ کام کیوں نہیں کیا۔(بخاری،4/110،حدیث:6038)

قربان جائیے!یہ بھی آقا ﷺ کا اندازِ محبت ہے کہ کبھی بھی آقا ﷺ نے ان کو کسی بات پر نہیں جھڑکا، نہ ہی ڈانٹا، حالانکہ انسان کتنا ہی صابر کیوں نہ ہو مگر کبھی نہ کبھی وہ پریشانی میں کچھ نہ کچھ بول ہی دیتا ہے مگر آقا ﷺ اپنے اصحاب سے نہایت نرمی و شفقت والا معاملہ فرماتے اور غلطی ہو جانے پر نہ ہی جھڑکتے نہ ہی ڈانٹتے بلکہ احسن انداز سے اصلاح فرماتے۔حضور ﷺ کے اس انداز سے واضح ہوا کہ کس طرح سے حضور ﷺ اپنے اصحاب سےنہ صرف خود محبت فرماتے بلکہ اس کا حکم بھی ارشاد فرمایا ۔جیسا کہ

اصحاب سے محبت کا حکم :

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:میرے صحابہ کے بارے میں اللہ پاک سے ڈرو ،اللہ پاک سے ڈرو ،اللہ پاک سے ڈرو۔میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ پاک کو ایذادی اور جس نے اللہ پاک کو ایذا دی تو قریب ہے اللہ پاک اس کی پکڑ فرمائے۔

( ترمذی ، 5 /302 ،حدیث :3864)

اس سے واضح ہو گیا کہ حضور ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے جب تک محبت نہ ہوگی محبِت رسول کا دم بھرنا لغو ہے۔ نیز حضور ﷺ کے اس فرمان سے واضح ہوا کہ حضور ﷺ کو اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی کتنی فکر اور ان سے کتنی محبت تھی کہ حضور ﷺ نے اپنی امت کو ان سے محبت کرنے حکم دیا۔نیز حضور ﷺ نے مختلف مواقع پر اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی دل جوئی بھی فرمائی۔چنانچہ

انداز دلجوئی :

امیر المومنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے حضور ﷺ سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی تو حضور ﷺ نے اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا:اے میرے بھائی!ہمیں اپنی دعاؤں میں نہ بھول جانا۔حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:یہ کلمات مجھے دنیا کی ہر شے سے زیادہ خوشی دیتے ہیں۔(ریاض الصالحین،ص258،حدیث: 714)

حضور ﷺ کا اپنے اصحاب کے دل میں خوشی داخل کرنے کا یہ عمل نرالہ اور آپ کی شایانِ شان ہے کہ آپ کو معلوم تھا کہ کن کلمات کی وجہ سے میرے صحابی کا دل خوش ہو جائے گا۔چنانچہ آپ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے جو کہ واقعی حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خوشی کا باعث بنے کہ انہوں نے فرما دیا کہ میرے لیے تمام جہان کی نعمتوں اور خوشیوں سے بڑھ کر یہ خوشی ہے۔ورنہ حضور ﷺ کی امت کے لوگوں کی کیا مجال کہ وہ جن کا صدقہ ہمیں ملتا ہے اور جن پر دن رات رحمتوں کے سائے ہیں ان کے لیے دعا فرمائیں۔

اسی طرح کسی موقع پر کسی چیز کی بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو طلب ہوتی تو وہ حضور ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں فوراً حاضر ہو جاتے اور حضور ﷺ ان کی وہ حاجت پوری فرمادیتے۔چنانچہ

حضور کا اصحاب کی حاجات پوری کرنا:

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلحِ حدیبیہ کے دن لوگ پیاسے تھے اور حضور ﷺ کے سامنے ایک پیالہ تھا جس سے آپ نے وضو فرمایا تو لوگ آپ کی طرف دوڑے۔حضور ﷺ نے فرمایا:کیا بات ہے؟ لوگوں نے عرض کی کہ ہمارے پاس وضو کرنے اور پینے کے لیے پانی نہیں ہے مگر یہی جو آپ کے سامنے ہے۔حضور ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اسی پیالہ میں رکھ دیا تو آپ کی مبارک انگشت سے پانی چشموں کی طرح ابلنے لگا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہاں پر موجود تمام لوگوں نے پانی بھی پیا اور اس سے وضو بھی فرمایا جن کی تعداد تقریبا 1500 تھی۔

(بخاری،2/493،حدیث: 3576 )

انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر ندیاں پنجابِ رحمت کی ہیں جاری واہ واہ

افضلیتِ اصحاب:

یہ تھی حضور ﷺ کی الفت کہ ادھر انہوں نے پانی نہ ہونے کی شکایت کی اور ادھر حضور ﷺ نے خاص ان کے لیے اپنے دستِ مبارک سے چشمہ جاری فرما دیا۔صرف یہی نہیں بلکہ حضور ﷺ نے اپنی الفت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کرے تو ان کے ایک مد کو تو کیا آدھے کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔(بخاری،2/522، حدیث:3673)

سبحان اللہ!انہیں کس قدر عظمت عطا ہوئی کہ کوئی چاہے کتنا کثیر ہی مال کیوں نہ راہِ خدا میں خرچ کرے مگر جو اصحابِ رسول خرچ کر چکے ان کے اجر و ثواب کو تم نہیں پہنچ سکتے۔

اگر ہم ہر صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ کے لحاظ سے الگ الگ حضور ﷺ کی ان سے محبت اور فضیلت بیان کریں تو یہ مضمون تو پھر اس کے لیے انتہائی مختصر ہے کہ وہ پہلو تو بہت وسیع ہے،اسی لیےصرف چند اصحاب کی روایات بیان کی گئیں ورنہ ہر صحابی کے اعتبار سے تو پھر کثیر روایات ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کی جائے جن سے حضور ﷺ محبت فرماتے ہیں ورنہ ہدایت کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے اگر ہم کسی ایک بھی صحابی کی اتباع کرلیں تو فرمانِ مصطفےٰ ﷺ کے مطابق ان شاء اللہ فلاح پانے والی ہو جائیں گی۔

اتباعِ اصحاب رسول :

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں،تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے فلاح پاجاؤ گے۔(جامع بیان العلم، ص 361 ،حدیث: 970) نیز اللہ پاک بھی ان سے محبت کرتا ہے کہ جن سے اس کے حبیب ﷺ محبت فرماتے ہیں۔ چنانچہ اللہ پاک قرآنِ مجید میں ان کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:

رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-( پ30،البینہ:8)ترجمہ کنزالایمان :اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔

توجن سے اللہ پاک اوررسولِ پاک ﷺ راضی ان کا ٹھکانا جنت ہے۔ لہٰذاہمیں محبت رکھنے کے اعتبار سے سب کو یکساں ہی رکھنا ہے کیونکہ ہر صحابیِ نبی جنتی جنتی ۔

ربِّ کریم قرآنِ کریم میں حضور ﷺ کے اصحاب کا مرتبہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ- (پ26،الفتح:29) ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے ان کی علامت اُن کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے۔

حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس آیت میں اللہ پاک نے صحابۂ کرام کی عبادات،اُن کے رکوع سجدے، اُن کا آپس میں رحیم وکریم ہونا وغیرہ کا اعلان فرمایا۔ (امیر معاویہ ،ص25)

معلوم ہوا !اللہ پاک بھی حضور ﷺ کے اصحاب سے محبت فرماتا ہے، اسی لیے تو ان کا ذکر خود فرمارہا ہے ۔

ان کے ساتھ آقا ﷺ کی محبت کا عالم کیا ہوگا جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے ،ان سے باتیں کرتے تھے، جنگوں میں جہاد میں ساتھ ہوتے تھے۔حضور ﷺ کی محبت کا عالم تو دیکھئے کہ کسی صحابی کی گود میں سر رکھ کر سو رہے ہیں تو کسی صحابی سے باتیں کرنے کے لیے اس کو یاد فرما رہے ہیں۔محبت میں کسی کو صدیق، کسی کو فاروق ِاعظم تو کسی صحابی کوذوالنورین فرما رہے ہیں۔حضور ﷺ کے بعد کوئی کتنا ہی بڑا پیرِ کامل ہو، چاہے کتنے ہی اعلیٰ اوصاف کا مالک کیوں نہ ہو وہ صحابی کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔حضور ﷺ اپنے اصحاب کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ میرے صحابہ ستارے کی طرح ہیں،ان میں سے کسی کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔ (مشکوۃ المصابیح،2/414،حدیث:6018)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے مجھے ایک دن کسی کام کے لیے بھیجا،میں نے کہا:اللہ پاک کی قسم!میں نہ جاؤں گا اور میرے دل میں تھا کہ میں جاؤں گا جس کا مجھے حضور ﷺ نے حکم دیا ہے۔ چنانچہ میں روانہ ہو گیا،راستے میں بازار میں بچے کھیل رہے تھے اور میں وہاں رک گیا کہ اچانک حضور ﷺ نے پیچھے سے میری گردن پکڑی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے پیچھے دیکھا تو حضور ﷺ مسکرا رہے تھے اور فرمایا:انس!کیا تم وہاں جا رہے جہاں میں نے بھیجا ہے ؟میں نےعرض کی:جی ہاں۔حضور وہیں جا رہا ہوں۔(مسلم،ص972،حدیث:6015 )

خیال رہے!حضور ﷺ کا حضرت انس رضی اللہ عنہ کی گردن پکڑنا لاڈ اور محبت کے طور پر تھا۔(مراۃ المناجیح،8/66،65)خلاصہ یہ کہ حضور ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے ،ان سے محبت کی وجہ سے انہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت سنا دی۔ جن سے میرے حضورﷺ محبت کریں وہ جہنم کی بھنک بھی نہ سنیں گے تو جن کے آقاﷺ ایسی محبت والے ہوں تو پھر کیوں نہ ان پر ہر چیز قربان ہو!

سیرتِ نبوی کا ہر پہلو اپنے اندر بے انتہا رعنائی اور دلکشی رکھتا ہے اور جس پہلو سے بھی دیکھا جائے ہمارے آقا  و مولا حضرت محمد ﷺ اپنے اسوۂ حسنہ کے اعتبار سے یکتا اور بے مثال ہے۔اس مضمون میں مجھے جس پہلو سے کچھ عرض کرنا ہے وہ حضور ﷺ کی اپنے صحابہ کرام علیہم رضوان سے محبت ہے۔حضور ﷺ مکارمِ اخلاق کی بلند تیرین چوٹیوں پر فائز ہیں۔حضور ﷺ کی اپنے اصحاب علیہم الرضوان سے محبت کے بارے میں خاص طور پر یہ آیتِ کریمہ قابلِ توجہ ہے:لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(128)(پ11،التوبہ:128) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔ترجمہ:اے مومنو تمہارے پاس تمہاری ہی قوم کا ایک فرد رسول ہو کر ایا ہے تمہارا تکلیف میں پڑھنا اس پر شاق گزرتا ہے اور وہ تمہارے لیے خیر بھوکا ہے اور مومنوں کے ساتھ محبت کرنے والا اور بہت ہی کرم کرنے والا ہے۔۔

حضرات ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے محبت:

یوں تو نبیِ کریم ﷺ کو اپنے تمام اصحاب ہی بہت پیارے تھے مگر سب سے قریبی اور قدیمی باوفا دوست حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اور ہی مقام تھا جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر وفا کر دکھائی۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:حضور ﷺکے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ارشاد فرمایا: ابو بکر، پھر عمر اور اس کے بعد ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم۔میں نے پوچھا:پھر کون؟تو آپ نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموش ہی رہیں۔(ابن ماجہ،1/75،حدیث:102)

رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے محبت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی محبت کا ذکر فرمایا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ہی حضور ﷺکی دعا کا صدقہ تھا۔رسولِ کریمﷺ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدا داد استدادوں کے باعث ہی ان سے محبت فرماتے اور حوصلہ فضائی کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ فرمایا:تم سے پہلے بنی اسرائیل میں کچھ ایسے لوگ تھے جو( خدا سے )کلام کرتے تھے مگر وہ انبیا نہیں تھے ۔پس اگر ان میں سے میری امت میں بھی کوئی فرد ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔

(بخاری،2/528،حدیث:3689)

حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ ﷺ کی محبت بھی اپنی مثال آپ تھی۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ یکے بعد دیگرے دو بیٹیاں بیاہ دیں۔جب دوسری کا بھی انتقال ہو گیا تو فرمایا:اگر میرے پاس تیسری بیٹی بھی ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی تم سے کر دیتا۔ (شرح عقائدِ نسفیہ، ص319)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:وصفِ نبوت کے علاوہ علی میرے ساتھ اس طرح ہے جس طرح حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے۔

(مسلم،ص1310، حديث:2404)

معلوم ہوا کہ ہمیں حضورﷺ کے ساتھ محبت کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی محبت کا تعلق رکھنا ہوگا۔

رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینے تشریف لائے تو ایک خادم کی ضرورت محسوس ہوئی۔حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو لا کر عرض کی:یا رسول اللہ ﷺ! یہ میرا بیٹا انیس ہے،میرےآپ کی بارگاہ میں اس لئے لائی ہوں تاکہ یہ آپ کی خدمت کرے،لہٰذا اس کے لئے اللہ پاک سے دعا کردیجئے تو نبی کریم ﷺ نے ان کے لئے یوں دعا کی:الٰہی!ان کا مال اور ان کی اولاد زیادہ کر۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:الله پاک کی قسم!بے شک میرا مال بہت زیادہ ہے۔ میری اولاد اور اولاد کی اولاد آج تقریبًا سو سے زیادہ ہے۔ (مسلم،ص1035،حدیث:6376)

والدین کی طرح لاڈ اور پیار کی خاطر حضور ﷺ انس کو بیٹا اور انیس کہہ کر پکارتے۔(مسلم،ص973، حدیث:6015) کبھی ازراہِ مذاق یَا ذَا الْاُذُنَینِ(اے دو کانوں والے)کہہ دیا کرتے۔(ترمذی،3/399، حدیث:1998)اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بھی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا عشق عطا فرمائے۔اٰمین

زندگی میں انسان کا طور طریقہ ،رہن سہن اورملنے جلنے کا انداز بڑی اہمیت کا حامل ہے۔جیسے شمع پروانوں کی توجہ کا مرکز رہتی ہے اسی طرح حُسنِ اخلاق ،ملنساری ،عاجزی و انکساری اور خیر خواہی کی خوشبو میں بسا انسان ہر دل کی دھڑکن بنا رہتا ہے۔ یہ معاملہ تو عام انسانوں کا ہے کہ حُسنِ اخلاق کی چاشنی لوگوں کے کانوں میں رس گھولتی رہتی ہے۔اگر ہم بات کریں ان کی کہ جن کا دہنِ اقدس چشمۂ علم و حکمت ٹھہرا ،جن کی زبان کُن کی کنجی بنی ،جن کی ہر بات وحیِ خدا ہوئی،جن کا مسکرانا ایسا کہ روتے ہوئےبھی ہنس پڑیں،جن کے اخلاق ایسے کہ خود ربِّ اکبر ان کو عظیم فرمائے،ان کا اپنے صحابہ کے ساتھ ہر انداز ہی نرالا ہر ادا ہی پیاری ہے۔برادرِ اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

تری صورت تری سیرت زمانے سے نرالی ہے تری ہر ہر ادا پیارے دلیلِ بے مثالی ہے

آقائے دو جہاں ﷺ کا ایک دیہاتی صحابی سے اندازِ محبت:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:حضور نبیِ کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی صحابی حضرت زاہر رضی اللہ عنہ جب بھی آتے تو ہدیہ لے کر آتے اور حضور نبیِ کریم ﷺ بھی واپسی پر ان کو کچھ نہ کچھ عنایت ضرور کرتے تھے۔حضور نبیِ کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے:زاہر ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں،نیز آپ انہیں بے حد عزیز رکھتے تھے۔حضرت زاہر رضی اللہ عنہ بظاہر خوبصورت نہ تھے،لیکن ایک دن وہ بازار میں اپنا کچھ سامان فروخت کر رہے تھے کہ حضور ﷺ نے پیچھے سے جا کرانھیں گود میں اُٹھا لیا،وہ آپ کو نہ دیکھ سکے اور کہنے لگے:کون ہے؟مجھے چھوڑو!پھر جب انہوں نے نبیِ کریم ﷺ کو دیکھا تو آپ کے سینۂ مبارک سے چمٹ گئے۔حضور نبیِ کریم ﷺ نے اعلان کرنا شروع کیا کہ کون ہے جو اس غلام کوخریدے گا؟حضرت زاہر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ ﷺ!آپ کو میرے بدلے کچھ نہیں ملے گا!حضور اکرم ﷺ نے مسکرا کر فرمایا:اللہ پاک کے نزدیک تیری بڑی قیمت ہے۔

(حضور نبیِ کریم ﷺ کی مسکراہٹیں، ص85)

صحابہ کے ادب و پیروی کا حکم:

حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا:میرے صحابہ کی عزت کرو کہ وہ تمہارے نیک ترین لوگ ہیں۔(مشکاة المصابیح ، 2 /413 ، حدیث : 6012)ایک حدیثِ پاک میں ہے:میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کروگے ہدایت پاجاؤ گے۔(جامع بیان العلم، ص361 حدیث 975) امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

اہلسنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے محبت بھرا انداز:

رسولِ کریم ﷺ مختلف مواقع پر اپنے صحابہ کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے تھے جیساکہ غزوۂ احد میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی تیر چلانے کی مہارت کو دیکھتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی ان لفظوں سے فرمائی:يَا سَعْدُ اِرْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي اے سعد!تیر پھینکو میرے ماں باپ تم پر قربان۔

(بخاری،3/38، حدیث:4059)

یہ وہ مبارک کلمات ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور کے والدین کو اس فضیلت میں جمع نہیں فرمایا۔

(مسند امام احمد،2/357،حدیث:1147)

امامِ اہلِ سنت،اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ بھی کیا ہی خوب فرماتے ہیں:

میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا دریا بہا دیئے ہیں دربے بہا دئیے ہیں

تین لُقمے اور تین مبارک بادیں:

ایک مرتبہ نبیِ کریم ﷺ نے کھانا تیار کیا اور صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم کو بُلایا، سب کو ایک ایک لُقمہ عطا کیا جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہُ عنہ کو تین لُقمے عطا کئے۔حضرت عباس رضی اللہُ عنہ نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا:جب پہلا لقمہ دیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا:اے عتیق!تجھے مبارک ہو ،جب دوسرا لقمہ دیا تو حضرت میکائیل علیہ السلام نے کہا:اے رفیق!تجھے مبارک ہو،تیسرا لقمہ دیا تو اللہ کریم نے فرمایا:اے صدیق!تجھے مبارک ہو۔ ( الحاوی للفتاویٰ، 2/51)

گستاخیِ صحابہ پر فرمانِ مصطفےٰﷺ:

محبتِ صحابہ محبتِ رسول ہے اور بغضِ صحابہ بغضِ رسول ہے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان میں گستاخی کا تصور بھی قابلِ گرفت ہے۔نیز صحابہ کرام علیہم الرضوان جس مقام و مرتبہ پر فائض ہیں انہیں جو ردائے فضیلت عطا کی گئی ہے اس کے پیشِ نظر ان کے بارے میں ہلکی سی بدگمانی کی بھی اجازت نہیں،کیونکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو برا بھلا کہنے کی سختی سے ممانت کر دی گئی ہے۔چنانچہ

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:میرے صحابہ علیہم الرضوان کے بارے میں اللہ پاک سے ڈرو۔میری عدم موجودگی میں انہیں ہدفِ تنقید نہ بنایا کرو کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اورجس نے انہیں تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ پاک کو تکلیف پہنچائی قریب ہے کہ اللہ پاک اسے اپنی گرفت میں لے لے۔

(ترمذی ،5/463،حدیث:3888)

اللہ کریم ہمیں دل و جان، زبان و قلم سے ہر صحابی رضی اللہ عنہ کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور جنّت میں ان کے قدموں میں جگہ عطا فرمائے۔

اٰمین بجاہ ِالنبی الامین ﷺ


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم امتِ مسلمہ کے افضل ترین اور اعلیٰ ترین افراد ہیں۔ان کا مقام بہت بلند اور مرتبہ نہایت عالی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے تمام رسولوں سے مکرم تر رسول حضرتِ محمد مصطفےٰ ﷺ کی صحبتِ بابرکت کا شرف حاصل کیا ہے۔یہ وہ اصحاب تھے جو حضور ﷺ پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے آپ کی تصدیق اس وقت کی تھی جب کہ کفار آپ کی تکذیب کررہے تھے۔حضور ﷺ اپنے جان نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت شفقت و محبت فرماتے تھے۔اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں ان کے اوصاف بیان کیے ہیں اور ان کی تعریف فرمائی ہے ۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک نے  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جو فضائل بیان فرمائے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

ارشادِ باری ہے:یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ (64)(پ10، الانفال:64) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور جو مسلمان تمہارے پیروکار ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(74)(پ10،الانفال:74)ترجمۂ کنزُ العِرفان:اور وہ جو ایمان لائے اورمہاجر بنے اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں ، ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(100) (پ11،التوبہ:100) ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقینِ اولین اوردوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ان سب سے اللہ راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں اور اس نے ان کیلئے باغات تیار کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ،ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے تمام مسلمانوں پر صحابہ کرام کی عزت و شرافت کا اظہار کرنے کے لیے ان کی محبت و تعظیم پر ابھارا اور انہیں گالی دینے سے منع فرمایا جیسا کہ احادیث شریف میں واقع ہے۔چنانچہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے اصحاب کو بُرا نہ کہو،اس لئے کہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ اُن کے ایک مد (یعنی ایک کلو میں 40 گرام کم ) کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا اورنہ اس مد کے آدھے۔(بخاری،2/522،حدیث:3673)ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے صحابہ کرام کی عزت کرو کہ وہ تمہارے بہترین افراد ہیں،پھر وہ جو اِن کے ساتھ متصل ہوں گے،پھر وہ جو ان سے متصل ہوں۔

(مشکاة المصابیح ، 2 /413 ، حدیث : 6012)

فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے: میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ، اِن میں سے جس کی بھی اقتدا (یعنی پیروی )کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔(جامع بیان العلم، ص361 حدیث 975) ایک اور مقام پر فرمایا: اللہ پاک نے میرے صحابہ کو نبیوں اور رسولوں کے علاوہ تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اور میرے تمام صحابہ میں خیر یعنی بھلائی ہے۔(تاریخ اصبہان، 1/ 467،رقم: 929)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر لعن طعن کرنے والوں کے بارے میں بھی آقا ﷺ کے فرامین موجود ہیں۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے:جو میرے صحابہ کو بُرا کہے اُس پر اللہ پاک کی لعنت اور جو اُن کی عزّت کی حفاظت کرے میں قِیامت کے دن اس کی حفاظت کروں گا یعنی اسے جہنم سے محفوظ رکھا جائے گا۔(تاریخ ابن عساکر، 44/222)ایک اور مقام پر فرمایا:اللہ پاک کی اس پر لعنت ہو ،جس نے میرے صَحابہ کو گالی دی۔(معجم کبیر، 12 /، حدیث: 13588)

ان تمام احادیث سے جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت معلوم ہوئی وہیں یہ بھی پتا چلا کہ حضور ﷺ اپنے صحابہ سے کس قدر محبت و شفقت فرمایا کرتے تھے۔اللہ پاک ہم سب کو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائے اور ہمیشہ ان کا باادب رکھے۔ آمین

کیوں نہ ہو رتبہ بڑا اصحاب و اہلِ بیت کا ہے خدائے مصطفےٰ ، اَصحاب و اہلِ بیت کا


سیرتِ نبوی کا ہر پہلو اپنے اندر بے انتہا رعنائی اور دلکشی رکھتا ہے اور جس پہلو سے بھی دیکھا جائے ہمارے آقاو مولیٰ حضرت محمد ﷺ اپنے اُسوۂ حسنہ کے اعتبار سے یکتا اور بے مثال ہیں۔اس مضمون میں مجھے جس پہلو سے کچھ عرض کرنا ہے وہ آپﷺ کی اپنے صحابہ کرام سے محبت و شفقت ہے۔صحابہ کرام وہ ہستیاں ہیں  کہ جن کے اوصافِ حمیدہ کی خود اللہ پاک تعریف فرماتا ہے اور ان کی عظمت اور رفعت کا اندازہ کون لگا سکتاہے۔ان پاک ہستیوں کے بارے میں قرآنِ پاک کی کچھ آیات درج ذیل ہيں:

اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕلَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ(4) (پ9،الانفال:4)تَرجَمۂ کنز الایمان:یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزى۔

ایک اور مقام پر فرمایا:رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(100)(پ11،التوبہ:100)تَرجَمۂ کنز الایمان:اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

ہمارے آقا و مولیٰ، خاتم الا نبیاء، حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی سیرت کو یہ امتیازی مقام حا صل ہے کہ خود خالقِ کائنات نے اس مقدس وجود کی ارفع شان اپنے مقدس کلام میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی ہے۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک فرما تا ہے:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(4)(پ29،القلم:4)ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔

خدائے پاک یہ اعلان کرتا ہے کہ اس کا محبوب رسول،محمد مصطفےٰ ﷺ مکار م اخلاق کی بلند ترین چوٹیوں پر فائز ہے۔عظیم الشان خُلقِ محمدی ہر اعتبار سے ہمہ گیر اور بے مثال جامعیت کا شاہکار ہے۔اپنے صحابہ سے شفقت اور محبت کے بارےمیں خاص طور پر دو آیاتِ کریمہ قابلِ توجہ ہیں۔ایک موقع پر اللہ پاک نے گواہی دی کہ فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ وَ  لَوْ  كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا  نْفَضُّوْا  مِنْ 

حَوْلِكَ۪  (پ4،ال عمران:159)ترجمہ:تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئےاور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے ۔

یعنی اللہ پاک کی رحمتِ کاملہ نے حبیبِ خداﷺ کو مجسمِ رحمت بنایا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ لوگ ہر گز تیرے گرد پروانہ صفت اکٹھے نہ ہوتے۔

ایک اور آیت میں فرمایا:لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(128)(پ11،التوبہ:128)ترجمہ:بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک زندگی میں قدم قدم پر صحابہ کرام سے محبت و شفقت، ہمدردی اور دلداری کے واقعات ملتے ہیں اور ہر واقعہ ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان کے فضائل پر احادیث بھی ملتی ہیں جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے:اللہ پاک نے میرے صحابہ کو نبیوں اور رسولوں کے علاوہ تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اور میرے تمام صحابہ میں خیر یعنی بھلائی ہے۔(تاریخ اصبہان،1/467،رقم: 929)

اس حدیثِ مبارکہ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے نبیوں اور رسولوں کے علاوہ قیامت تک آنے والی تمام امت سے افضل صحابہ کرام علیہم رضوان کو فرمایا ہے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان سے رسولِ پاک ﷺ کی محبت و شفقت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کے قلبِ اطہر میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لیے سچی ہمدردی اور محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔آپ ہر آن اِس بات کے خواہش مند رہتے کہ میرے صحابہ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔اِس کے لیے آپ دعا بھی کرتے اور ہر ممکن کوشش بھی۔صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شانیں بہت بلند ہیں جیسا کہ فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے:میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی بھی اقتدا (پیروی ) کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ۔(جامع بیان العلم،ص361، حدیث:975)

حضور ﷺ کی محبت و شفقت کی دنیا ایک عجیب دنیا تھی کہ ہر وجود محبت کی برسات میں نہلایا ہو اتھا اور وہ جو اُس شمع کے پروانے تھے اُ ن پر تو بطور خاص یہ محبت و شفقت ایک گھٹا بن کرموسلادھار بارش کی ماننددن رات برستی چلی جاتی۔چنانچہ حضرت عمر فاروق ِاعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا:میرے صحابہ کی عزت کرو کہ وہ تمہارے نیک ترین لوگ ہیں۔(مشکوٰۃ المصابیح،2/413،حدیث: 6012)

پیارے آقا ﷺ کی اپنے صحابہ سے محبت پر روایات و احادیث پیش کی گئیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ اتنا وسیع باب ہے کہ اس کا احاطہ کرنا اور اس کو مکمل طور پر بیان کرنا ہرگز ممکن نہیں۔یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔رحمت و کرم کا ایسا چشمہ ہے جس کا فیضان ہر آن جاری و ساری بلکہ ہمیشہ ترقی پذیر ہے۔خدا کرے کہ ہمیں اُن نیک اعمال کی توفیق ملے جو ہمارے آقا ومولیٰﷺ کو محبوب تھے تاکہ میدانِ حشر میں اُن کی پیار بھری نظریں ہم گناہگاروں پر بھی پڑیں،ہم بھی شاہِ مکیّ و مدنیﷺ کی محبت و شفقت اور شفاعت کی حق دار ٹھہریں، ہم بھی خدا کی بارگاہ میں قبولیت کے لائق ٹھہریں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔! اللہ پاک ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین

سب صحابہ سے ہمیں تو پیار ہے ان شآء اللہ دو جہاں میں اپنا بیڑا پار ہے


اللہ پاک ارشاد فرماتاہے:لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(128)(پ 11 ،التوبہ: 128)ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔

بے شک اللہ پاک نے حضور ﷺ کو عظیم اخلاق سے نوازا ہے کہ آپ کا نہ تو کوئی ثانی ہوا اور نہ کبھی ہوسکے گا جیسا کہ ارشاد ہوا:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(4)(پ29،القلم:4) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔

کوئی انسان بھی کما حقہٗ حضور ﷺکے اخلاق کو بیان نہیں کرسکتا۔جب ہم دنیا کی نعمتیں نہیں گن سکتیں جو کہ بہت تھوڑی ہیں چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌۚ(پ5،النسآء:77)ترجمہ:”تم فرماد و کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے۔“تو جسے رب عظیم کہے اسے کیسے گن سکتے ہیں! اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

تِرے خُلْق کو حق نے عظیم کہا تِری خِلْق کو حق نے جمیل کیا

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالقِ حُسن و ادا کی قسم

ان بے شمار خوبیوں اور اداؤں میں سے آپ ﷺ کی اپنے اصحاب کے ساتھ محبت و شفقت بھی ہے۔خیال رہے کہ صحابہ کرام وہ ہستیاں ہیں کہ جن کے بارے میں مصطفےٰ جانِ رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا:میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ،اِن میں سے جس کی بھی اقتدا(یعنی پیروی )کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔(جامع بیان العلم، ص361، حدیث:975) ایک اور مقام پر فرمایا:اللہ پاک نے میرے صحابہ کو نبیوں اور رسولوں کے علاوہ تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اور میرے تمام صحابہ میں خیر یعنی بھلائی ہے۔(تاریخ اصبہان،1/ 467،رقم:929)

ان روایات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضور اپنے اصحاب سے اس قدر محبت فرماتے ہیں کہ بعد میں آنے والی اپنی امت کو ان کی اقتدا کرنے کی تعلیم ارشاد فرما رہے ہیں۔

حضور اقدس ﷺ کی صحابہ کرام سے محبت و شفقت کے چند واقعات:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے۔حضور نے مجھے ایک دن کسی کام کے لیے بھیجا،میں نے کہا:اللہ پاک کی قسم!میں نہ جاؤں گا اور میرے دل میں یہ تھا کہ اس کام کے لئے جاؤں جس کا مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، چنانچہ میں روانہ ہوگیا یہاں تک کہ میں کچھ بچوں پر گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے ،اچانک رسول اللہ ﷺ نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑی،میں نے حضورﷺ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے۔فرمایا: اے انیس !کیا تم وہاں جارہے ہو جہاں جانے کا میں نے تم کو حکم دیا تھا؟ میں نے عرض کی:ہاں!یا رسول اللہ ﷺ! میں جارہا ہوں۔(مسلم،ص972،حدیث:6015 )

شرحِ حدیث:خیال رہے کہ یہ جواب نافرمانی یا مخالفتِ حکم نہیں بلکہ ناز بردار بے نیاز کریم پر نیاز مندانہ ناز ہے۔

کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے

یہاں حضور علیہ السلام کا آپ کی گردن پکڑنا اور آپ کو انیس کہہ کر پکارنا محبت و کرم سے تھا۔(مراۃ المناجیح،8/66،65)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بھوک میں روئے زمین پر اپنے جگر پر اعتماد کرتا تھا اور میں بھوک سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ایک دن میں عام راستہ پر بیٹھا تو گزرنے والے اصحاب سے قرآنِ مجید کی ایک آیتِ کریمہ کے متعلق پوچھنے لگا اور اس سے میرے نیت یہ تھی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں اور کچھ کھلائیں مگر وہ میری مراد کو نہ سمجھے۔پھر حضور رحمتِ عالم ﷺ تشریف لائے اور میرے دل کی کیفیت جان کر مسکراتے ہوئے فرمایا:اے ابو ہریرہ!میں نے عرض کی:لبیک یا رسول اللہ ﷺ! فرمایا:میرے ساتھ چلو اور پھر آپ مجھے کاشانۂ نبوت میں لے گئے۔میں نے وہاں دودھ کا ایک پیالہ دیکھا۔ حضور سیدِ عالم ﷺ کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ فلاں کی طرف سے ہدیہ ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا:اے ابو ہریرہ!میں نے عرض کی: لبیک یا رسول اللہﷺ!فرمایا:جاؤ!اصحابِ صُفہ کو میرے پاس بلا لاؤ۔فرماتے ہیں: جب وہ لوگ آگئے تو حضور ﷺنے فرمایا:اے ابو ہریرہ!میں نے عرض کی:لبیک یا رسول اللہ ﷺ! فرمایا:پیالہ اٹھاؤ اور ان لوگوں کو دے دو۔میں نے پیالہ اٹھا کر انہیں دیا تو یکے بعد دیگرے پیتے پلاتے وہ پیالہ رسولِ اکرم ﷺ تک پہنچا اور سب اصحابِ صُفَّہ خوب سیر ہو چکے تو حضور ﷺ نے پیالہ اپنے مقدس ہاتھ پر رکھا اور میرے طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا:اے ابو ہریرہ!میں نے عرض کی:لبیک یا رسول اللہ ﷺ!فرمایا:اب ہم اور تم باقی رہ گئے ہیں۔پھر فرمایا:بیٹھ جاؤ اور پیو۔تو میں نے پیا۔فرمایا اور پیو۔تو میں نے پھر پیا،آپ برابر یہی فرماتے رہے کہ اور پیو،تو میں اور پیتا رہا یہاں تک کہ میں نے عرض کی:قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا کہ اب دودھ گزرنے کی بھی راہ باقی نہیں رہی۔پھر وہ پیالہ میں نے حضور ﷺ کو پیش کردیا تو آپ نے اللہ پاک کی حمد کی اور بسم اللہ پڑھ کر بچا ہوا دودھ پی لیا۔

(بخاری، 4/234،حدیث:6452ملخصاً)(بزرگوں کے عقیدے ،ص 39تا41 ملخصاً)

کیوں جنابِ بُوہُریرہ تھا وہ کیسا جامِ شِیر جس سے سَتّر صَاحبوں کا دودھ سے مُنھ پھر گیا

قربان جائیے!مصطفےٰ جانِ رحمت ﷺ کی ان اداؤں پر! کہ حضورﷺ اپنے غلاموں کے حالات سے واقف ہیں جبھی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی دلی کیفیت جان کر مسکرانے لگے اور یہ آپ کی محبت و شفقت ہی تھی کہ اپنے اصحاب کی بھوک مٹانے کے بعد دودھ نوش فرمایا۔ان کے علاوہ بھی کئی ایسی روایات و واقعات ہیں کہ جن میں حضور ﷺ کی اپنے اصحاب سے محبت اور ان پر آپ کی شفقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔مولانا مصطفےٰ رضا خان رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:

آپ ہیں شانِ کرم کانِ کرم جانِ کرم آپ ہیں فضلِ اَتم لُطفِ اَعم کی صورت

اللہ کریم ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سچی محبت اور ان کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں حضور جانِ عالم ﷺ کے جود و کرم اور آپ کی شفاعت سے حصہ نصیب فرمائے۔اٰمین بجاهِ خاتمِ النبينﷺ


جن خوش نصیبوں نے ایمان کی حالت میں حضور نبیِ کریم ﷺ کی صحبت کا شرف پایا اور ایمان ہی پر خاتمہ ہوا انہیں صحابی کہتے ہیں۔صحابہ کرام کی قدرومنزلت وہی انسان جاں سکتا ہے جو نبیِ کریم ﷺ کی عظمت و رفعت سے واقف ہوگا۔صحابہ کی تعظیم گویا نبیِ پاک ﷺ کی تعظیم ہے۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ہے: رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕترجمہ کنزالایمان: اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔ ( پ30 ،البینۃ: 8)

پیارے آقا ﷺ کی صحابہ کرام سے محبت احادیث کی روشنی میں:

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میرے صحابہ کے متعلق اللہ سے ڈرو،اللہ سے ڈرو۔میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرو،اللہ سے ڈرو، میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ پاک کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تکلیف دی تو قریب ہے کہ اللہ پاک اسے پکڑے۔( ترمذی ، 5 /302 ،حدیث :3864)

ارشاد فرمایا:جس نے میری وجہ سے میرے صحابہ کی حفاظت اور عزت کی تو میں بروزِ قیامت اس کا محافظ ہوں گااور جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس پر اللہ پاک کی لعنت ہے۔(فضائل صحابہ للامام احمد، 2 /908، حدیث: 1733)

ارشاد فرمایا:میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔(جامع بیان العلم، ص 361 ،حدیث: 970)

ارشاد فرمایا:میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس لیے کہ تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد(یعنی ایک کلو میں 40 گرام کم) کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس کے آدھے۔

(بخاری، 2 / 522،حدیث: 3673)

ارشاد فرمایا:میرے صحابہ کی عزّت کرو کیونکہ وہ تم میں بہترین لوگ ہیں۔(جامع بیان العلم،ص361، حدیث: 970)

اللہ پاک ہمیں پیارے آقا ﷺ کا صدقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عشق عطا فرمائے۔اٰمین


اللہ کریم نے صحابہ سے جنت کا وعدہ فرمالیا ہے۔چنانچہ الله پاک پاره 27 سورۃ الحدید آیت نمبر 10 میں فرماتا ہے:ترجمہ کنز الایمان:تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ کیا اور جہاد کیا،اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

صحابی کی تعریف:حضرت علامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:الصَّحَابِي:مَن لقِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّم مُومِنًا بِهِ ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى الاسلام یعنی جن خوش نصیبوں نے ایمان کی حالت میں اللہ کریم کے پیارے نبی ﷺ سے ملاقات کی ہو اور ایمان ہی پر ان کا انتقال شریف ہوا، اُن خوش نصیبوں کو صحابی کہتے ہیں۔(نخبۃ الفكر، ص111)

صحابہ کرام کی تعداد:اکابر محدثین کے مطابق صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعداد ایک لاکھ سے سوا لاکھ کے درمیان تھی۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نام معلوم نہیں ، جن کے معلوم ہیں ان کی تعداد تقریباً سات ہزار ہے۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص400)

صحابی سے کوئی بھی ولی بڑھ نہیں سکتا:بہارِ شریعت میں ہے:تمام صحابہ کرام رضی الله عنہم بھلائی والے اور عادل ہیں۔ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر (یعنی بھلائی ) ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت (یعنی بُرا عقیدہ رکھنا) بد مذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم (یعنی جہنم کی حق دار ی)ہے کہ وہ ( بد اعتقادی ) حضور اقدس ﷺ کے ساتھ بغض یعنی دشمنی ہے، کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبے کا ہو، کسی صحابی کے رتبے کو نہیں پہنچتا۔(بہارِ شریعت،1/252 ،253)آئیے!فضائلِ صحابہ کے بارے میں حدیثِ مبارک ملاحظہ کرتی ہیں۔

(1)بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں (یعنی صحابہ کرام ) پھر جو لوگ ان کے قریب ہیں ( یعنی تابعین ) ، پھر جو لوگ ان کے قریب ہیں (یعنی تبعِ تابعین )۔(مسند امام احمد،6/393،حدیث:18474)

(2)اس مسلمان کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھایا مجھے دیکھنے والے یعنی صحابہ عَلَيہِمُ الرضوان کو دیکھا۔(ترمذی، 5 /461، حديث:3884)

(3) میرے صحابہ میں سے جو کسی سَر زَمین میں فوت ہوگا تو قیامت کے دن اُن لوگوں کے لیے قائد اور نور بنا کر اٹھایا جائے گا ۔ (ترمذی،5/464 ،حدیث:3891 )

(4)میرے اصحاب کو بُرا نہ کہو،اس لئے کہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ اُن کے ایک مد (یعنی ایک کلو میں 40 گرام کم ) کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا اورنہ اس مد کے آدھے۔

(بخاری،2/522،حدیث:3673)

حضرت مولیٰ علی ،شیرِ خدا رضی اللہ عنہ نے سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر 101 تلاوت فرمائی:اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ (ترجمہ کنز الایمان:بے شک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں۔)پھر ارشاد فرمایا:میں انہی میں سے ہوں۔حضرات ابوبکر،عمر،عثمان،طلحہ،زبیر،سعد اور عبد الرحمن بن عوف رضی الله عنہم بھی انہی میں سے ہیں۔(تفسیر نسفی،ص727)

الله پاک پارہ 19 سورۃ النمل آیت نمبر 59 میں فرماتا ہے:قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰىؕ ﰰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ(59) ترجمۂ کنزالایمان: تم کہو سب خوبیاں اللہ کو اور سلام اس کے چنے ہوئے بندوں پر۔

صحابی ابنِ صحابی حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کردہ آیتِ مبارکہ کے اس حصے:وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰىؕ (ترجمہ کنز الایمان:اور سلام اس کے چنےہوئے بندوں پر ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: چنے ہوئے بندوں سے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام مراد ہیں۔(تفسیر طبری،4/10،رقم: 27060)

فرشتے صحابہ کا استقبال کریں گے:تمام صحابہ کرام رضی الله عنہم اعلیٰ و ادنی ( اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں ) سب جنتی ہیں، وہ جہنم کی بھنک یعنی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔ محشر کی وہ بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی ،فرشتے اُن کا استقبال کریں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔(بہار شریعت،1/25)مزید الله پاک پارہ 17 سورة الانبياء:101 سے 103 میں ارشادفرماتا ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙاُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(101)لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚوَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ(102)لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُؕهٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(103)ترجمہ کنز الایمان:بے شک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنم سے دور رکھے گے ہیں، وہ اس کی بھنک نہ سنیں گے اور اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے۔انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اور فرشتے اُن کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔

آئیے! ایک ایمان افروز حکایت ملاحظہ کرتی ہیں۔ چنانچہ

تابعی بزرگ حضرت عبد الله بن وہب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:جب نبیِ اکرم ﷺ کے پیارے پیارے صحابہ کرام عَلَيْہِمُ الرِّضْوَان مُلکِ شام آئے تو ایک راہب ( یعنی عیسائی عبادت گزار )سے سامنا ہوا،راہب نے انہیں دیکھ کر کہا:اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے!حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری یعنی ساتھی جنہیں سولی دی گئی اور آروں سے چیرا گیا وہ بھی مجاہدے یعنی عبادت وریاضت میں اس مقام تک نہیں پہنچے،جس مقام تک حضرت محمد عربی ﷺ کے صحابہ کرام علیہم الرضوان پہنچے ہوئے ہیں۔حضرت عبد الله بن وہب رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں:میں نے حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی:( راہب نے جن کی تعریف کی تھی ) آپ اُن صحابہ کرام کے نام بتا سکتے ہیں؟تو اُنہوں نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ،حضرت معاذ بن جبل،حضرت بلال اور حضرت سعد بن عبادہ عَلَيہمُ الرضوان کا نام لیا۔(اللہ والوں کی با تیں،6/463)اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔امین ثم آمین

آل و اصحابِ نبی سب بادشاہ ہیں میں فقط ادنیٰ گدا اصحاب واہلِ بیت کا

حضورﷺ نے صحابہ کرام سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ وہ میرے صحابہ سے محبت کرے۔(تفسیر قرطبی،6/203)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے قلوب تقویٰ و طہارت میں نہایت مذکی و مصفی تھے، اس کو قرآنِ کریم یوں بیان کرتا ہے:اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ(پ26،الحجرات:3)ترجمہ:وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے ۔

خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کا عزاز و اکرام کرو کیونکہ وہ تم سے بہتر ہیں پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے۔

(مشکاة المصابیح ، 2 /413 ، حدیث : 6012)

آقا ﷺ مختلف مقامات مواقع پر اپنے صحابہ کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے تھے جیسا کہ غزوۂ اُحد میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کی تیر چلانے کی مہارت کو دیکھتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی ان لفظوں سے فرمائی:اِرْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّيیعنی تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں!تیر مارو۔(مسلم، ص1314، حدیث:2411)

حضرت علی رضی الله عنہ فرماتے ہیں:یہ جملے آقا ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے علاوہ کسی اور کو نہیں فرمائے۔(ترمذی،5/418،حدیث:3774 )


صحابہ کرام علیہم الرضوان کو ہمارے میٹھے میٹھے آقا ﷺ سے بے حد محبت تھی،اسی محبت کی بنا پر وہ آقا ﷺ پر آئی ہر مصیبت خود پر لینے کی کوشش میں رہتے تھے۔جیسا کہ ایک جلیل القدر بزرگ ہستی حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ جن کا تعلق عشرۂ مبشرہ  سے ہے۔ان کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے اسلام کی سر بلندی کے لیے شجاعت و بہادری کے کئی جوہر دیکھائے اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر نبیِ کریمﷺ کی حفاظت کی خاطر کفار سے مقابلہ کیا۔آپ کی ہمت و شجاعت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:غزوۂ اُحد میں جب ہم حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ نبیِ کریم ﷺ کی حفاظت کرتے ہوئے ان کے جسم پر ستر سے زائد چھوٹے بڑے زخم ہیں اور ان کی انگلیاں بھی کٹ چکی ہیں۔(بخاری،20/ 539 ، حدیث:3719)

سبحان اللہ! جب صحابہ کرام اپنے آقا و مولا ﷺ سے اتنی محبت فرمایا کرتے تھے تو آقا ﷺ کا ان سے اندازِ محبت کتنا دلکش ہو گا!آئیے!ذیل میں دی گئی احادیث کی روشنی میں جاننے کی کوشش کرتی ہیں۔چنانچہ

عَنْ أَبِيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ:قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيْفِهِ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبی ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں کا کوئی اُحد(پہاڑ)بھر سونا خیرات کرے تو ان کے ایک کے مُد کو پہنچے نہ آدھے کو۔(بخاری،2/522، حدیث:3673)

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی مثال میری امت میں کھانے میں نمک کی سی ہے کہ کھانا بغیر نمک کے درست نہیں ہوتا۔ حسن نے فرمایا:ہمارا نمک تو چلا گیا ہم کیسے درست ہوں۔(شرح السُّنہ،7/174 ، حدیث :3756)

شرحِ حدیث:یعنی جیسے نمک ہوتا ہے تھوڑا مگر سارے کھانے کو درست کردیتا ہے ایسے ہی میرے صحابہ میری امت میں ہیں تھوڑے مگر سب کی اصلاح انہی کے ذریعہ سے ہے۔ریل کا پہلا ڈبہ جو انجن سے متصل ہے وہ ساری ریل کو انجن کا فیض پہنچاتا ہے،انجن سے وہ کھینچتا ہے اور سارے ڈبے اس کے ذریعہ کھنچتے ہیں۔خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ اب ہم حضرات صحابہ کا دیدار کیسے کریں،ان سے روایات کیسے لیں،ان سے حضور علیہ السلام کے حالات کیسے پوچھیں وہ تو چلے گئے۔اصلاح سے مراد ہے مزیدار یعنی ہمارے اندر وہ لذت سوزوگداز کیسے پیداہو وہ حضرات نہ رہے۔خیال رہے کہ خواجہ حسن بصری کے زمانہ میں ایک سو دس صحابہ موجود تھے مگر چونکہ اب ان کا زمانہ ختم ہورہا تھا اس لیے آپ یہ افسوس فرمارہے تھے۔( مراٰۃ المناجیح ، 8/ 343)

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی قریظہ کے پاس کون جائے گا جو ان کی خبر لائے؟ میں چل دیا۔ پھر جب میں لوٹا تو میرے لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ماں باپ جمع فرما دئیے، فرمایا: تم پر میرے ماں باپ فدا ۔ (بخاری،2/540،حدیث:3720)

سبحان اللہ!اس سے بڑھ کر خوش بختی کیا ہو گی کہ آقاﷺ اپنے صحابہ سے فرمائیں کہ تم پر میرے ماں باپ فدا!خدا کرے! ہم بھی صحیح معنوں میں عاشقاتِ رسول و عاشقاتِ صحابہ بننے میں کامیاب ہو جائیں۔

اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیینﷺ


انسان چونکہ اشرف المخلوقات اور کائنات میں اللہ پاک کا نائب ہے اس لئے اسے بہت سے فرائض سونپے گئے ہیں دین و شریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کے والدین پر حقوق ہیں جس طرح والدین کے ساتھ نیکی کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح اولاد کے ساتھ حسن سلوک کا حکم قرآن  و سنت میں دیا گیا ہے۔یہاں ہم اولاد کے 05 حقوق کو بیان کرنے کی سعی کریں گے۔

1۔والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کا اچھا نام رکھے۔ برا نام نہ رکھے کہ بد فال ہے (برا شگون ہے) عبداللہ، عبدالرحمان، احمد وغیرہ یا عبادت و حمد کے نام یا انبیاء و اولیاء یا اپنے بزرگوں میں جو نیک گزرے ہوں ان کے نام پر نام رکھے کہ مؤجب برکت ہے خصوصاً نام پاک محمدکہ اس مبارک نام کی بے پایاں برکت بچہ کے دنیا و آخرت میں کام آتی ہے۔

نام محمد کی برکتیں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے لڑکا پیدا ہوا اور وہ میری محبت اور میرے نام پاک کی برکت حاصل کرنے کے لیے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اسکا لڑکا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، جزء: 16، 8/175، حدیث: 45215)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے سرکار ﷺ نے فرمایا: جس دستر خوان پر کوئی احمد یا محمد نام کا ہوتو اس جگہ پر ہر روز دو بار برکت نازل کی جائےگی۔ (مسند الفردوس، 2/323، حدیث: 6526)

2۔جب چند بچے ہوں تو جو چیز دے سب کو برابر و یکساں دے ایک کو دوسرے پر بے فضیلت ترجیح نہ دے۔ فتاوی قاضی میں ہے: حضرت اما م ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: اولاد میں سے کسی ایک کو زیادہ دینے میں کوئی حرج نہیں جبکہ اسے دوسری اولاد پر ترجیح و فضیلت دینا دینی فضل وشرف کی وجہ سے ہو لیکن اگر سب برابر ہوں تو پھر ترجیح دینا مکروہ ہے۔ (الخانیہ، 2/ 290)

فتاوی عالمگیری میں ہے : اگر بیٹا حصول علم میں مشغول ہو نہ کہ دنیوی کمائی میں تو ایسے بیٹے کو دوسری اولاد پر ترجیح دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (فتاوی ہندیہ، 4/ 391)

3۔والدین کو چاہیے کہ اولاد کو قرآن مجید پڑھائےاور دینی تعلیم سکھائے خصوصاً فرائض کا علم جن کا ہر مسلمان پر سیکھنا فرض ہے سکھایا جائےاگر باپ بچوں کو دینی تعلیم سکھائے گا تو دونوں کی دنیا و آخرت کا بھلا ہوگا۔ اسلام کی روشن تعلیمات سے منور اولاد دنیا کے ساتھ ساتھ مرنے کے بعد بھی کام آتی ہے چنانچہ فرمان مصطفٰے ﷺ ہے: جب آدمی انتقال کرتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین عمل جاری رہتے ہیں: صدقہ جاریۃ اور جس علم سے نفع حاصل کیا جاتا ہو اور نیک بچہ جو اس کے لیے دعا کرے۔ (مسلم، ص 684، حدیث: 4223)

4۔والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے لیے دعا کرے۔ کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے خصوصاً باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے دعا کرے باپ کی دعا قبول ہوتی ہے چنانچہ فرمان مصطفٰے ﷺ ہے:تین قسم کی دعائیں مقبول ہیں: 1مظلوم کی دعا۔ 2 مسافر کی دعا۔ 3 باپ کی بیٹے کے لیے دعا۔ (ابن ماجہ، 4/281، حدیث: 3862)

5۔اولاد کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ ان کی شادی اچھی جگہ پر کی جائے۔ کیونکہ اولاد کے لیے مناسب رشتے کا انتخاب بھی بہت اہم معاملہ ہے۔ اکثر لوگ رشتے کا انتخاب کرنے میں امیر گھرانے،اعلی دنیاوی تعلیم اور جدت پسندی وغیرہ کو ترجیح دیتے ہیں نیز بعض لوگ اپنے بچوں کی صرف اپنے ہی خاندان میں شادی کرنے پر بضد ہوتے ہیں اگرچہ لڑکا لڑکی رضا مند نہ ہوں باپ کو چاہیے کہ اس معاملے میں اولاد کی رائےبھی ضرور معلوم کرے اور نیک اور نماز روزے کے پابند گھرانے کوترجیح دے۔