حدیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 2 / 150، حدیث: 2518)

ایک اور روایت میں ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابہ کرام رضی الله عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور مال محفوظ سمجھیں۔ (مسند امام احمد، 2/654، حدیث:6942)

فرمانِ مصطفی ﷺ ہے: جس نے (بلا وجہ شرعی) کسی مسلمان کو ایذا دی اس مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ (معجم اوسط، 2/386، حدیث: 3607)

بے شک کسی مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (ابو داود، 4/ 353، حدیث: 4877)

دوسروں کو تکلیف دینا، ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ مشہور تابعی مفسر حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنمیوں پر خارش مسلط کی دی جائے گی۔ تو وہ اپنے جسم کوب کھجلائیں گے حتی کہ ان میں سے ایک کی( کھال اور گوشت اترنے سے) ہڈی ظاہر ہو جائے گی۔ اسے پکار کر کہا جائے گا: اے فلاں ! کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے ؟ وہ کہے گا: ہاں۔ پکارنے والا کہے گا۔ تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی سزا ہے۔ (احیاء العلوم، 2/242)

احادیث کی روشنی میں یہ حکم روز روشن کی طرح واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسروں کو تکلیف دینا، قبیح حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اسلام کا یہ خوب صورت حکم جس طرح پس پشت ڈالا گیا ہے وہ شرمناک حد تک قابل افسوس ہے۔

فرمان مصطفی ﷺ ہے: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی طرف (یا اس کے بارے میں) اس قسم کے اشارے کنائے سے کام لے جو اس کی دل آزادی کا باعث بنے اور یہ بھی حلال نہیں کہ کوئی ایسی حرکت کی جائے جو کسی مسلمان کو ہراسں یا خوف زدہ کر دے۔ (اتحاف السادۃ المتقين (7/177)

ایک اور جگہ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے دل آزاری کی ممانعت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے دوسرے مسلمان اپنی جان اور اپنے اموال سے بے خوف ہوں اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (مستدرک، 1/185، حدیث: 24)

فرمانِ آخری نبی ﷺ ہے: کسی مسلمان کا دل خوش کرنا جن و انسان کی عبادت سے بھی بہتر ہے۔ (مرقاه المفاتيح،8/748)

کیا ہم مومن ہیں؟ کیا ہماری وجہ سے کسی کی دل آزادی تو نہیں ہوئی۔ غورکر لیں۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں رحم ڈال کہ ہم دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ آمین

آپ ﷺ نے حدیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی طرف( یا اس کے بارے میں) اس قسم کے اشارے کنائے سے کام لے جو جو اس کے دل آزاری کا باعث بنے اور یہ بھی حلال نہیں کہ کوئی ایسی حرکت کی جائے جو کسی مسلمان کو ہر اساں یا خوفزدہ کر دے۔ (اتحاف السادۃ المتقین،  7/177)

فرمانِ مصطفی ﷺ ہے: جس نے بلا وجہ کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ (معجم اوسط، 2/386، حدیث: 3607)

دوسروں کو تکلیف دینا، ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ مشہور تابعی مفسر حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنمیوں پر خارش مسلط کر دی جائے گی تو وہ اپنے جسم کو کھجلائیں گے حتی کہ ان میں سے ایک کی( کھال اور گوشت اترنے سے) ہڈی ظاہر ہو جائے گی۔ اسے پکار کر کہا جائے گا: اے فلاں ! کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے ؟ وہ کہے گا: ہاں۔ پکارنے والا کہے گا۔ تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی سزا ہے۔ (احیاء العلوم، 2/242)

احادیث کی روشنی میں یہ حکم روز روشن کی طرح واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسروں کو تکلیف دینا، قبیح حرم اور کبیرہ گناہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اسلام کا یہ خوب صورت حکم جس طرح پس پشت ڈالا گیا ہے وہ شرمناک حد تک قابل افسوس ہے۔

فرمانِ مصطفی ﷺ ہے: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی طرف (یا اس کے بارے میں) اس قسم کے اشارے کنائے سے کام لے جو اس کی دل آزادی کا باعث بنے اور یہ بھی حلال نہیں کہ کوئی ایسی حرکت کی جائے جو کسی مسلمان کو ہراسں یا خوف زدہ کر دے۔ (اتحاف السادة المتقين، 7/177)

فرمانِ آخری نبی ﷺ ہے: حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کون سا اسلام افضل ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث:11)

ایذا اور تکلیف تو زبان اور ہاتھ کے علاوہ دوسرے اعضا سے بھی پہنچائی جا سکتی ہے اور کسی بھی عضو سے مسلمان کو تکلیف پہنچانا حرام ہے مگر اس حدیث میں خصوصیت کے ساتھ زبان اور ہاتھ کا ذکر اس لیے ہے کہ انسان زیادہ تر اعمال و افعال زبان اور ہاتھ ہی سے انجام پاتے ہیں ہمیں اپنے آپ پر غور کرنا چاہیے کیا ہم کسی کو ایذا تو نہیں دیتے اگر دیتے ہیں تو اللہ پاک سے توبہ کر لینی چاہیے۔

اللہ پاک ہمیں دوسروں کو ایذا دینے سے محفوظ فرمائے۔ آمین

دوسروں کو تکلیف دینا، ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ مشہور تابعی مفسرحضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنّمیوں پرخارش مسلّط کردی جائے گی۔ تو وہ اپنے جسم کوکھجلائیں گے حتّی کہ ان میں سے ایک کی (کھال اور گوشت اترنے سے) ہڈی ظاہر ہو جائے گی۔ اسے پکارکر کہا جائے گا:اے فلاں!کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ پکارنے والا کہے گا: تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی سزا ہے۔ (احیاء العلوم، 2/242)

اگر کسی مسلمان کی ناحق دل آزاری کی ہے تو توبہ کے ساتھ ساتھ اس سے معافی حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

حدیث مبارک میں ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے)شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری،2/150،حدیث:2518)

مومن اور مسلمان میں فرق آقا ﷺ کی زبانی: روایت میں ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے صحابہ کرام سے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے(دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور اموال محفوظ سمجھیں۔ (مسند امام احمد، 2/654، حدیث:6942)

حقیقی اسلامی معاشرہ وہی ہے، جس میں لوگ ایک دوسرے کی راحت و آرام کا خیال رکھیں، مشکل وقت میں دوسروں کے کام آئیں، کسی کو تکلیف نہ دیں۔

فرمان آخری نبی ﷺ : ایک دوسرے سے حسدنہ کرو، گاہک کو دھوکا دینے اور قیمت بڑھانے کیلئے دکان دار کے ساتھ مل کر جھوٹی بولی نہ لگاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، کسی کے سودے پر سودا نہ کرو، اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے، نہ اسے ذلیل ورسوا کرے اورنہ ہی حقیر جانے۔ (پھر) آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا: تقویٰ یہاں ہے، اور(مزید یہ کہ) کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو برا جانے۔ ایک مسلمان، دوسرے مسلمان پر پورا پورا حرام ہے، اس کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت۔ (مسلم، ص 1064، حدیث:6541)

کیا ہم مومن ہیں؟ غور کرلیں۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں رحم ڈال کہ ہم دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائیں۔


مومن کو ستانا سخت عذاب کا باعث ہے، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ(۱۰) (پ 30، البروج: 10) ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جلنے کا عذاب ہے۔

نبی کریم ﷺ نے بے شمار احادیث مبارکہ میں مسلمانوں کو ستانے کی وعید کا ذکر فرمایا ہے چند ملاحظہ فرمائیں:

احادیث مبارکہ:

1۔ جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ پاک کو تکلیف دی۔ (معجم اوسط، 2/ 386، حدیث: 3607)

2۔ وہ شخص ہمارے گروہ میں سے نہیں ہے جو مسلمان کو دھوکا دے، یا تکلیف پہنچائے، یا اس کے ساتھ مکر کرے۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/ 425)

حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنمیوں پر خارش مسلط کر دی جائے گی تو وہ اپنے جسم کو کھجلائیں گے حتی کہ ان میں سے ایک چمڑے سے ہڈی ظاہر ہو جائے گی تو اسے پکارا جائے گا اے فلاں! کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے ؟وہ کہے گا ہاں تو پکارنے والا کہے گا تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی سزا ہے۔ (احیاء علوم الدین، 2/ 242)

حضرت فضیل فرماتے ہیں: کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مومنین و مؤمنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جرم ہے۔ (تفسیر مدراک، ص 950)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے پیاری بہنو! ان تمام احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو تکلیف دینا کتنا بڑا گناہ ہے اللہ رب العزت ہمیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی دل آزاری کرنے سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام رشتوں کے حق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

دل آزاری(یعنی نا حق دل دکھانا)  ہمارے معاشرے میں کیا جانے والا ایک عام، حرام، اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ہماری روز مرہ زندگی میں ان گنت ایسی مثالیں ہیں جن سے مسلمان کی دل آ زاری ہوتی ہے۔ کسی کا نام بگاڑنا، کسی کے رنگ قد جسم کی بناوٹ کا مذاق اڑانا، گلیوں میں شور شرابا کر کے دوسروں کو تنگ کرنا خاص کر کےشادی بیاہ و محافل کے مواقع پر ، کار کو غلط جگہ پارک کرنا، سڑکوں پر کچرا پھینکنا، کسی مسلمان کو کوئی رنج پہنچا اس پر مسرت کا اظہار کرنا، ما تحتوں سے برا سلوک کرنا، قرض ادا نا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ آئیے دل آزاری کے بارے میں چند آیات مبارکہ و احدیث مبارکہ ملاحظہ فرماتی ہیں:

ناحق ایذا دینا: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو لوگ مسلمان مردوں اور عورتوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں، بغیر کچھ کئے (غلط) انہوں نے اپنے اوپر جھوٹے الزام اور کھلے گناہ کا بوجھ ڈال دیا ہے۔

مجھے ایذا دی: حضور ﷺ فرماتے ہیں: جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔ (معجم اوسط، 2 / 386، حدیث: 3607) یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔

نفس کا صدقہ کیا ہے؟ حضرت ابو ذر سے روایت ہے نبی کریم ﷺ ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 2 / 150، حدیث: 2518)

مومن کون ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ صحابہ ٔکرام نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟صحابہ ٔکرام نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ سمجھیں اور مہاجر وہ ہے جو گناہ کو چھوڑ دے اور اس سے بچے۔ (مسند امام احمد، 2/654، حدیث: 6942)

حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مؤمنین و مؤمنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جرم ہے۔ (تفسیر مدارک، ص 950)

اللہ پاک ہمیں حقوق اللہ و حقوق العباد ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

ہم میں سے ہر ایک اس دنیا میں تنہا آتا ہے اور اکیلا ہی رخصت ہوتا ہے لیکن یہاں رہتا تنہا نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے، ہماری ذات سے کبھی کسی کو راحت پہنچتی ہے تو کبھی تکلیف اور کبھی کچھ بھی نہیں یعنی نہ تکلیف نہ راحت اگر دیگر مسلمانوں کو ہم سے راحت پہنچے گی تو نیت خیر ہونے کی وجہ سے ثواب ملے گا بلاوجہ شرعی تکلیف پہنچائیں گے تو عذاب کی حقداری ہے اور تیسری صورت میں یعنی جب ہم کسی کو نہ اذیت دیں گے نہ سکون تو نہ ثواب ملے گا نہ عذاب۔ لیکن کوشش ہونی چاہیے کہ ہم باعث زحمت نہیں بلکہ سبب راحت بنیں۔

دل آزاری کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی تکلیف دینے کو کہتے ہیں آئیے اس کے متعلق فرامین مصطفیٰ سنتے ہیں:

1۔ اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ شریف جلد 24 صفحہ نمبر 342 میں طبرانی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: اللہ کے پیارے حبیب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: جس نے ( بلا وجہ شرعی ) کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ (معجم اوسط، 2/ 386، حدیث: 3607)

اللہ و رسول کو ایذا دینے والوں کے بارے میں ارشاد ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا(۵۷) (پ22، الاحزاب: 57) ترجمہ: بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

ذرا سوچے کہ کون سا مسلمان اس بات کو گوارا کرے گا کہ وہ اللہ و رسول کو ایذا دے اور جہنم کے عذاب کا مستحق قرار پائے!

ہم قہر قہار اور غضب جبّار سے اسکی پناہ مانگتے ہیں

خدایا! کسی کا نہ دل میں دکھاؤں اماں تیرے ابدی عذابوں سے پاؤں

کس قدر بد ترین جرم ہے! حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کتےاور سور کو بھی ناحق ایذا یعنی تکلیف دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو ایذا دینا کس قدر بد ترین جرم ہے۔ (تفسیر مدارک، ص 950)

مسلمان سراپا امن ہوتا ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اصل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں اصل مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان و مال کے بارے میں کوئی خطرہ نہ ہو۔ (شرح سنن نسائی، 6/291، حدیث: 5010)

یہاں حدیث کے پہلے جز میں اس طرف اشارہ ہے کہ مومن اور مسلم محض اس چیز کا نام نہیں کہ کوئی آدمی کلمہ پڑھ لے اور کچھ متعین اعمال ادا کرے بلکہ شریعت اسلامیہ کے تقاضوں کے مطابق بھر پور زندگی گزارے مثلاً حسن سلوک کرنا، دل آزاری نہ کرنا، قطع رحمی نہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اس حدیث میں زبان اور ہاتھ کی تخصیص کی گئی لیکن اس سے ہر وہ چیز مراد ہے جس سے تکلیف ہو اور ان کا بطور خاص اس لیے ذکر کیا گیا کہ زیادہ دل آزاری ان اعضاء کی وجہ سے ہوتی ہے۔

لوگوں کو تکلیف دینے والا ملعون: آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے مسلمان کو تکلیف یا دھوکہ دیا وہ ملعون ہے۔ (اس پر لعنت کی گئی ہے)۔ (ترمذی، 3/378، حدیث: 1984)

برے خاتمے کے اسباب: شرح الصدور میں ہے کہ علماء کرام نے فرمایا کہ برے خاتمے کے 4 اسباب ہیں: 1۔ نماز میں سستی 2۔ شراب نوشی 3۔ والدین کی نافرمانی 4۔ مسلمانوں کو تکلیف دینا۔ (شرح الصدور، ص 27)

مجھے دیدے ایمان پر استقامت پئے سید محتشم یا الٰہی

دو اچھی اور بری خصلتیں: منقول ہے کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ان سے افضل کوئی خصلت نہیں: 1۔ اللہ پر ایمان لانا 2۔ مسلمانوں کو نفع پہچاننا، جبکہ دو ایسی خصلتیں ہے کہ ان سے زیادہ بری کوئی خصلت نہیں: 1۔ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا 2۔ مسلمانوں کو تکلیف دینا۔ (المنبہات، ص3)

پہلی خصلت بری اس وجہ سے ہے کہ یہ حق اللہ کی تلفی ہے کہ بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسکی وحدانیت کا اقرار کریں، جبکہ دوسری اس لیے کہ اس میں حق العباد کی تلفی ہے کیونکہ قرآن و احادیث میں مسلمانوں کے ساتھ صلح رحمی کا حکم دیا گیا۔

دل آزاری میں کیا شامل ہے: اس میں بہت ساری صورتیں شامل ہیں جن سے مسلمانوں کو تکلیف ہو سکتی ہے بلکہ ہوتی ہے مثلاً مسلمانوں کا ایک دوسرے پر ہنسنا برے القابات سے پکارنا، راستے میں تکلیف دہ چیز نہ ہٹانا وغیرہ وغیرہ۔

اللہ پاک ہمیں کسی مسلمان کی دل آزاری کرنے سے بچائے اور جن کی کی ہے ان سے معافی مانگنے کی توفیق عنایت فرمائے اور اللہ تعالیٰ ایمان پر موت نصیب کرے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ 

دل آزاری لوگوں کا دل دکھانا، کسی کو ایسی بات کر دینا جس سے اس کے دل کو تکلیف پہنچے۔ کسی کو degrade کرنا ہمارے معاشرے میں یہ چیز عام ہے کہ اگر کوئی بندہ کچھ نیا کرنا شروع کرے جیسے کاروبار وغیرہ تو اس کو ایسی باتیں کر دیتے ہیں جس سے اس کی دل آزاری ہو جاتی ہے اور اگر کوئی بچہ کچھ نیا کرے تو والدین تک بھی اس کو ایسی باتیں کر دیتے ہیں جس سے بچے کی دل آزاری ہوتی ہے۔ ہم دوسروں کا نام بگاڑ کر بھی ان کی دل آزاری کر دیتے ہیں۔ دل آزاری کرنے میں 2 گناہ ہیں: ایک گناہ تو حقوق العباد کا ہے کہ وہ بندے کا حق تلف کر رہا ہے کیوں کہ مسلمان مسلمان کا محافظ ہوتا ہے دوسرا اللہ پاک کی نافرمانی کر رہا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱) (پ 26، الحجرات: 11) ترجمہ: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔

امام سیرین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے ایک غریب شخص کو یہ کہہ کر پکارا اے مفلس! تو چالیس سال تک میں خود غربت و افلاس میں مبتلا رہا۔ امیر اہلسنت مدنی پھول ارشاد فرماتے ہیں: کسی کو ستانا نہیں چاہئے، کسی کا دل نہیں دکھانا چاہیے۔ کسی بھی غریب اور مسکین کو طعنہ نہیں دینا چاہیے۔ اگر ایسا ہوا ہے تو توبہ کیجئے اور اس بندے سے بھی معافی مانگ لیجئے جس کا دل دکھایا ہو۔ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو لوگ مسلمان مردوں اور عورتوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں، بغیر کچھ کئے (غلط) انہوں نے اپنے اوپر جھوٹے الزام اور کھلے گناہ کا بوجھ ڈال دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے محبت کرنے سے وہ لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دے گا اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے بھی آپ محبوب ہوں گے۔ حدیث شریف میں ہے: لوگوں میں سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچانے والا ہو۔ ضروری نہیں کسی کی مدد کرنے کے لیے آپ کو بڑے بڑے کام کرنے کی ضرورت ہے آپ کسی کے ساتھ چھوٹی چھوٹی نیکیاں کر کے بھی کسی کا دل خوش کر سکتے ہیں۔ جیسے کسی کی طرف مسکرا کر دیکھنا صدقہ ہے، کسی کو اچھا جملہ بول دیں جس سے اس کی حوصلہ افزائی ہو جائے، کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیں۔ اگر آپ کسی کا دل خوش نہیں کر سکتے تو دل دکھائیں بھی مت کسی کے دل کو ہلکا کرنا ایک آرٹ ہے اور یہ آرٹ ہم سب کو آنا چاہیے۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں!

دل آزاری کسی کا دل دکھانا کسی کو تکلیف دینا بہت برا کام ہے کہ کسی کی دل آزاری کرنے سے انسان خوش نہیں ہوتا بلکہ اس کا دل بھی بے چین ہو جاتا ہے، مومن کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے حضرت امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی فرمان مصطفی ﷺ ہے: جس نے مسلمانوں کو تکلیف یا دھوکہ دیا وہ ملعون ہے۔  (ترمذی، 3/378، حدیث: 1984)

مسلمانوں کی عزت کی دھجیاں اڑا کر خوش ہونے والے سنبھل جائیں کہ اس کا انجام بہت برا ہوگا، چنانچہ حضرت یزید بن شجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس طرح سمندر کے کنارے ہوتے ہیں اسی طرح جہنم کے کنارے بھی ہوتے ہیں جس میں بختی اونٹوں جیسے سانپ اور خچروں جیسے بچھو رہتے ہیں اہل جہنم جب عذاب میں کمی کے لیے فریاد کریں گے تو حکم ہوگا کہ کناروں سے باہر نکلو وہ جو ہی نکلیں گے وہ سانپ انہیں اونٹوں اور جب چہروں سے پکڑ لیں گے پھر ان کی کھال تک اتار لیں گے وہ لوگ وہاں سے بچنے کے لیے آگ کی طرف بھاگیں گے پھر ان پر ایک کھجلی مسلط کر دی جائے گی وہ اس قدر کھجائیں گے کہ ان کا گوشت پوست سب جھڑ جائیں گے صرف ہڈیاں رہ جائیں گی پکار پڑے گی: اے فلاں! کیا تجھے تکلیف ہو رہی ہے؟ وہ کہے گا ہاں تو کہا جائے گایہ اس ایذا کا بدلہ ہے جو تم مومنوں کو دیا کرتے تھے۔ (مستدرک، 4/627، حدیث: 6142)

کیا ابھی باز نہیں آئیں گے! ایسا نہ ہو کہ ہم معافی تلافی سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتر جائیں جلدی کیجئے ابھی وقت ہے جس سے ان بن ہو گئی ہو اپ نے اس کی دل آزاری کر دی ہو تو دنیا میں ہی اس کا ازالہ کر دیجئے ورنہ یاد رکھیے آخرت کا عذاب ایک لمحے کے کروڑ میں حصے کے لیے بھی برداشت نہ کیا جائے گا بعض لوگوں کو صرف ترغیب دلانے کی ضرورت ہوتی ہے اگر انہیں نہ کرنے والے کام ہائی لائٹ کر دیئے جائیں تو وہ انہیں نہ کرنے یعنی ان سے بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں شاید ہم بھی انہی میں سے ایک ہوں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں ہو کہ دل آزاری کیسے ہوتی ہے کون کون سے عمل سے ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔


نبیِ کریم ﷺ کی کئی صفات ہیں،آپ کی ایک صفت محبت بھی ہے جو ایک عظیم صفت ہے۔آقا ﷺ بچوں اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت فرماتے تھے۔آئیے!آقا ﷺ کی صحابہ سے محبت کے چند واقعات پڑھتی ہیں۔چنانچہ

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میرے صحابہ کے متعلق اللہ سے ڈرو،اللہ سے ڈرو۔میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرو،اللہ سے ڈرو، میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ پاک کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تکلیف دی تو قریب ہے کہ اللہ پاک اسے پکڑے۔( ترمذی ، 5 /302 ،حدیث :3864)

ہم کو اصحابِ نبی سے پیار ہے ان شاءاللہ اپنا بیڑا پار ہے

حضرت علامہ مولانا سید مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان کو چاہیے کہ صحابہ کرام کا نہایت ادب رکھے،دل میں ان کی عقیدت و محبت کو جگہ دے،ان کی محبت حضور ﷺ کی محبت ہے اور جو بد نصیب صحابہ کرام کی شان میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول ﷺ ہیں۔ مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھیں۔(سوانحِ کربلا، ص 31)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اہلِ سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

(حدائق ِبخشش)

فضائلِ صحابہ کرام:

1-بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر جو لوگ ان کے قریب ہیں،پھر جو لوگ ان کے قریب ہیں۔

( بخاری، 2/194 ،حدیث: 2652)

2-میرے اصحاب کو بُرا نہ کہو۔اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی اس مد کے آدھے کو۔( بخاری، 2/ 522 ،حدیث: 3673)

3-اللہ پاک نے میرے صحابہ کو نبیوں اور رسولوں کے علاوہ تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اور میرے بعد تمام صحابہ میں خیر یعنی بھلائی ہے۔( مجمع زوائد،9/736 ،حدیث: 16383)

ایک مرتبہ رسول اللہﷺنے حضرت علی اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہما کو ایک فرش پر بٹھا کر ان کے دل جوئی فرمائی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یارسول اللہ ﷺ !آپ کو وہ مجھ سے زیادہ پیاری ہے یا میں؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ مجھے تم سے زیادہ اور تم اس سے زیادہ پیارے ہو۔(شان خاتون جنت،ص138)

حضرت جمیع بن عمیر تیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے عرض کی گئی: حضور ﷺ کو کون زیادہ محبوب تھا؟

فرمایا :فاطمہ الزہرا۔ پھر عرض کی گئی: مردوں میں سے؟فرمایا: ان کے شوہر۔جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ بہت روزے رکھنے والے اور کثرت سے قیام کرنے والے ہیں۔( ترمذی، ص872 ،حدیث: 3877)

ان تمام واقعات سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ اپنے اصحاب سے کتنی محبت فرماتے تھے اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ امت کے تمام لوگوں میں ان کی کتنی فضیلت و اہمیت ہے۔

صحابہ وہ صحابہ جن کی ہر دن عید ہوتی تھی                         خدا کا قرب حاصل تھا نبی کی دید ہوتی تھی

صحابی کی تعریف:

جن خوش نصیبوں نے ایمان کی حالت میں اللہ کریم کے پیارے نبی ﷺ سے ملاقات کی ہو اور ایمان ہی پر ان کا انتقال ہوا، ان خوش نصیبوں کو صحابی کہتے ہیں۔ (نخبۃ الفکر، ص111)

صحابہ سے جنت کا وعدہ:

اللہ پاک پارہ 27 سورۂ حدید آیت نمبر 10 میں فرماتا ہے:لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰)(پ27،الحدید:10) ترجمہ کنز الایمان:تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبے میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

صحابی رسول کا مرتبہ:

صحابیِ رسول ہونا اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔بڑے سے بڑا ولی صحابی کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔ہر صحابی عادل اور جنتی ہے۔کوئی شخص بھلے کتنی ہی عبادت کرے وہ کبھی بھی صحابی نہیں بن سکتا ،کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے حضورﷺ کی صحبت پائی،حضورﷺ سے علم و عمل حاصل کیے اورحضور ﷺ کی تربیت پائی۔

صحابہ وہ صحابہ جن کی ہر دن عید ہوتی تھی خدا کا قرب حاصل تھا نبی کی دید ہوتی تھی

رسول اکرمﷺ کی محبت:

نبیِ کریم ﷺ کو اپنے تمام صحابہ سے بے حد محبت تھی۔نبیِ کریم ﷺ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے، ان کے مال ،جان، اولاد میں خیر و برکت کی دعائیں فرماتے اوراپنے صحابہ کی دل جوئی فرماتے ۔چنانچہ

رسولِ اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرمایا:بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں (یعنی صحابہ کرام ) پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں(یعنی تابعین)پھر جو ان کے قریب ہیں(یعنی تبع تابعین۔)(مسند امام احمد،6/393،حدیث:18474)اور فرمایا:اس مسلمان کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا مجھے دیکھنے والے (یعنی صحابہ) کو دیکھا۔ (ترمذی،5/461، حدیث:3884)

نبیِ کریم ﷺ کو یار غار صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے بہت محبت تھی، ان کی فضیلت میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ پاکﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تم حوضِ کوثر پر اور غار میں میرے ساتھی ہو۔(ترمذی،5/378،حدیث:3690)

ابنِ عساکر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی محبت اور ان کا شکر میری تمام امت پر واجب ہے ۔(تاریخ الخلفاء، ص44)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں فرمایا: میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔

(ترمذی،5/385، حدیث: 3706)

حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرےرفیق عثمان ہیں۔ (ترمذی، 5/390،حدیث :3718)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: جس کا میں مولاہوں علی بھی اس کے مولا ہیں۔

(تِرمِذی،5/398،حدیث:3733)

فرمایا:علی مجھ سے اور میں علی سے ہوں اور وہ ہر مومن کے ولی ہیں۔(ترمذی ،5/498،حدیث:3732)

اسی طرح دیگر صحابہ کے فضائل بھی بیان فرمائے۔

ہمیں بھی تمام صحابہ سے پیار ہے ان شاءاللہ ان کے صدقے اپنا بیڑا پار ہے

اللہ پاک ہمیں ان نفوسِ قدسیہ کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیینﷺ


مسلمانوں میں سے جس نے نبی ﷺ کی صحبت پائی یا آپ کو دیکھا وہ حضور ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں۔ اللہ پاک نےقرآنِ پاک میں صحابہ کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى ؕ (پ27:الحدید:10)ترجمہ: اور ان سب سےاللہ جنت کا وعدہ فرماچکا۔

صحابہ وہ صحابہ تھے جن کی ہر صبح عید ہوتی تھی خدا کا قرب حاصل تھا نبی کی دید ہوتی تھی

کریم آقا ﷺ کی اپنے صحابہ سے والہانہ محبت اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ہر صحابیِ نبی جنتی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت ہمارے لیے عشق و محبت کا معیار ہے۔زبانِ مصطفےٰ سے بھی شانِ صحابہ سے تاریخ بھری پڑی ہے۔چنانچہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو،اگر تم میں کوئی احد کے برابر سونا راہِ خدا میں خرچ کرے تو بھی ان کے مُدّ یا نصف مد کو نہیں پہنچے گا۔

(بخاری، 2 / 522،حدیث: 3673)

سعید بن مسیب نے کہا کہ میں نے حضرت سعد کو یہ کہتے ہوئے سُنا کہ نبی ﷺ نے میرے لیے یوم احد فرمایا: يَا سَعْدُ اِرْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي اے سعد!تیر پھینکو میرے ماں باپ تم پر قربان۔

(بخاری،3/38، حدیث:4059)

قال رسول اللہ ﷺ:اصحابی کالنجوم رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔(جامع بیان العلم، ص 361 ،حدیث: 970)

اصحابی کالنجوم کا مژدہ انہیں ملا کیسے بتاؤں آپ کو معیارِ صحابہ

کریم آقا ﷺ کا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے محبت کا یہ انداز تھا کہ نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:عمر جنتیوں کے چراغ ہیں۔(مسند الفردوس،3/55،حدیث:4146)

جب صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے اذان میں حضور ﷺ کے نام محمد کو سنا اور انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگائے تو حضور ﷺ نے فرمایا :مَنْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ خَلِیْلِیْ فَقَدْ حَلَّتْ عَلَیْہِ شَفَاعَتِیْ یعنی جو شخص میرے اِس پیارے دوست کی طرح کرے اُس کے لئے میری شفاعت حلال ہوگئی۔(فیضانِ صدیقِ اکبر،ص187)

ایک دفعہ سرورِ کائنات ﷺ نے صحابہ سے فرمایا:جہاں محبت ہو وہاں کم کم آیا کرو تو صحابہ کرام علیہم الرضوان آتے نماز پڑھتے اور چلے جاتے،صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی کرتے۔ایک دن نبیِ اکرم ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:ابوبکر کہاں مصروف ہیں آج کل؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عرض کرنے لگے: وہ باغ میں کام کر رہے ہیں۔ فرمایا: جاؤ! انہیں بلا کر لاؤ ۔جب صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو نبیِ اکرم ﷺ نے اپنا رخِ زیبا پھیرلیا۔جب صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے چہرۂ انور کی طرف دیکھا تو نبیِ کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو آرہے تھے۔پوچھا: اےابو بکر! تم اتنے دن سے کہاں تھے؟عرض کی:آپ نے خود ہی فرمایا تھا کہ جہاں محبت ہو وہاں کم کم آیا کرو ۔تو نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:اے ابو بکر!تم دوسرے صحابہ کی طرح نہیں ہو۔جب تم میری بارگاہ سے چلے جاتے ہو تو میری ساری توجہ تمہاری طرف ہوجاتی ہے اور جب تم میرے پاس ہوتے ہو تو میری ساری توجہ اللہ پاک کی طرف ہو جاتی ہے۔

اللہ اللہ کرنے سے اللہ نہ ملے اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میرے صحابہ میں سے جو بھی جس خطے میں وفات پائے گا تو وہ قیامت کے دن اس قوم کا قائد اور ان کے لئے نور ہو گا ۔(ترمذی،5/463،حدیث:3891)

اسلام کی عظمت کے ستارے ہیں صحابہ توحید کی شوکت کے کنارے ہیں صحابہ

کیا خوب تعلق ہے انہیں شاہِ عرب سے ہیں چاند محمد تو ستارے صحابہ

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کسی چیز کے متعلق گفتگو کی تو حضور ﷺ نے اسے کسی کام کا حکم فرمایا ،اس نے عرض کی:یا رسول اللہ ﷺ! فرمائیے!اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں۔راوی کا کہنا ہے:گویا وہ یہ کہہ رہی تھی کہ آپ کا وصال ہو جائےتو؟ فرمایا:اگر مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس آنا ۔(بخاری،4/525،حدیث:7360)

سبحان اللہ! کیا انداز ہے میرے آقا ﷺ کا!یہ محبت نہیں تو اور کیا ہے! کہ کریم آقا ﷺ نے اپنے قول و فعل سے یہ واضح کیا کہ میرے صحابہ کرام علیہم الرضوان تمہارے لیے مشعلِ راہ ہیں جو ان سے جڑ گیا وہ فلاح پا گیا اور جس دل میں صحابہ کی عظمت و محبت نہیں وہ دل کسی مومن کا نہیں۔ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر صحابیِ نبی جنتی ہے ۔ہر صحابیِ نبی ،جنتی جنتی ۔


مقرب فرشتوں کے بعد تمام مخلوق میں سب سے افضل و اعلیٰ مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے۔اہلِ سنت کا اسی پر اتفاق ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد تمام عالم میں افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ،ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ،ان کے بعد حضرت علی  رضی اللہ عنہ، پھر عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم،پھر اہلِ بدر رضی اللہ عنہم، ان کے بعد اہلِ احد رضی اللہ عنہم،ان کے بعد باقی اہلِ رضوان اور پھر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم۔یہ اتفاق ابو منصور بغدادی نے نقل کیا ہے۔ (دس اسلامی عقیدے،ص 97)

نبیِ کریم ﷺ نے اپنے اصحاب سے محبت کا اظہار اس طرح فرمایا کہ آپ اکثر ان کا ذکر فرماتے تھے۔آئیے! پہلے صحابی کی تعریف جانتی ہیں۔چنانچہ حضرت علامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جن خوش نصیبوں نے ایمان کی حالت میں حضور نبیِ کریم ﷺ کی صحبت کا شرف پایا اور ایمان ہی پر خاتمہ ہوا انہیں صحابہ کہتے ہیں۔ (دس اسلامی عقید ے، ص 98)

نبیِ کریم ﷺ نے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم کا حکم دیتے ہوئے ان کو امت کے بہترین افراد ہونے کی سند عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا:اَکْرِمُوْا أَصْحَابِي فَاِنَّهُمْ خِيَارُكُم یعنی میرے صحابہ کی عزت کرو کہ وہ تمہارے بہترین لوگ ہیں۔ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے:خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ یعنی میری امت میں سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں اور پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوئے ہیں اور پھر ان کے بعد والے لوگ سب سے بہتر ہیں۔(دس اسلامی عقیدے، ص 100)

نبیِ کریم ﷺ کے تمام صحابہ عادل ہیں اور نیک و پرہیزگار افراد کے سردار ہیں۔نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گےفلاح و ہدایت پا جاؤ گے۔ (دس اسلامی عقیدے،ص 105)

ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے جس میں حضور نبیِ کریم ﷺ نے خواب میں امیر المومنین حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی محبت ظاہر کی۔جیسا کہ عارف باللہ حضرت علامہ امام عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب شواہد النبوۃ میں یارِ غار و یارِ مزار،عاشقِ شہنشاہِ ابرار،خلیفہ اول بلا فصل امیر المومنین حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی مبارک زندگی کے آخری ایام کا ایک ایمان افروز خواب نقل کیا ہے،جس کا کچھ حصہ بیان کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ

امیر المومنین حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ رات کے آخری حصے میں مجھے خواب میں دیدار ِمصطفےٰ کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ نے دو سفید کپڑے زیبِ تن فرما رکھے تھے اور میں ان دونوں کپڑوں کے کناروں کو ملا رہا تھا۔اچانک وہ دونوں کپڑے سبز ہونا اور چمکنا شروع ہو گئے، ان کی چمک دمک آنکھوں کو چکا چوند کرنے والی تھی۔حضور پُرنور ﷺ نے مجھے:السلام علیکم کہہ کر ہاتھ ملانے سے مشرف فرمایا اور اپنا دستِ اقدس میرے سینے پر رکھ دیا جس سے میرےدل کا بے قرار ہونا دُور ہو گیا،پھر فرمایا: اے ابوبکر !مجھے تم سے ملنے کا بہت اشتیاق یعنی خواہش ہے، کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم میرے پاس آجاؤ ؟میں خواب میں بہت رویا یہاں تک کہ میرے اہلِ خانہ کو بھی میرے رونے کی خبر ہوگئی،جنہوں نے بیدار ہونے کے بعد مجھے خواب کی اس گریہ و زاری سے مطلع کیا۔( عاشقِ اکبر، ص 36)

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:بےشک علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور وہ ہر مومن کے ولی ہیں۔ (ترمذی ،5/498،حدیث:3732) تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کی:وانا منکما اور میں تم دونوں سے ہوں۔(مدارج النبوت،2/121،122)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نسب ،مصاہرت، محبت،خصوصیات اور رشتے داری وغیرہ میں پیارے آقا ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں۔

حدیثِ مبارکہ میں فرمایا گیا کہ ہر مومن کے ولی ہیں اس کا مطلب ہے کہ ہر مسلمان کے وَلی اور مولیٰ ہیں۔

(مراٰۃ المناجیح،8/417)

اسی طرح آپ کے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہیں آپ نے جنت کی بشارت دی،ان میں ایک صحابی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں، ان کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا :کون ہے جو قوم کو یوم ِاحزاب کی خبر دے گا؟تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں۔اس پر حضور ﷺ نے فرمایا:ہر نبی کا ایک حواری ہے اور میرا حواری(مخلص دوست)زبیر ہے۔بخاری،3/54،حدیث:4113

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:ہر نبی کا ایک رفیق ہے اور میرے رفیق حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔(ترمذی،5/390، حدیث :3718)

ابنِ ابی ملیکہ فرماتے ہیں:میں نے اُمُّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا:انہوں نے رسول الله ﷺ سے سوال کیا کہ اگر آپ کسی کو خلیفہ بنانا چاہیں تو کس کو بنائیں گے ؟ فرمایا ابوبکر کو۔عرض کی:اس کے بعد؟ فرمایا:عمر کو۔عرض کی:اس کے بعد؟ فرمایا:ابو عبیدہ بن جراح کو۔(مسلم،ص1300، حدیث:238)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا:میری اُمت میں سب سے زیادہ شفیق اور مہربان ابوبکر، دینی معاملات میں سب سے زیادہ سخت عمر، حیاکے معاملے میں سب سے زیادہ سچے عثمان،کتاب اللہ کے سب سے بڑے قاری اُبی بن کعب،علم الفرائض کوسب سے زیادہ جاننے والے زیدبن ثابت اورحلال وحرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سن لو! ہر اُمت میں ایک امین ہوتا ہے اس اُمت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔(ترمذی،4/435،حدیث:3815)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ارشادفرماتے ہیں:بے شک اللہ پاک نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی توحضرت محمد مصطفےٰ ﷺکو اپنا محبوب بنایا۔انہیں ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔اپنی رسالت کاتاج ان کے سر سجایا اور اپنے علم سے ان کا انتخاب فرمایا۔پھر دوبارہ اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو آپ کے لئے جا ں نثار دوستوں کا انتخاب فرمایا اورانہیں اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی ﷺ کا وزیربنایا۔ پس جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ (اللہ پاک کے نزدیک بھی ) اچھاہے اور جسے مسلمان بُرا جانیں وہ برا ہے۔

(مسندابی داودالطیالسی،ص33، حدیث:246)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو کسی کی پیروی کرنا چاہتا ہو وہ اسلاف کی پیروی کرے جو حضورنبیِ اکرم ﷺ کے صحابہ ہیں۔یہی اس امت کے بہترین لوگ ہیں۔ ان کے دل نیکی وبھلائی میں سب لوگوں سے بڑھ کرہیں۔ان کا علم سب سے وسیع اور ان میں بناوٹ ونمائش نہ تھی۔یہ وہ نفوس قدسیہ ہیں کہ جنہیں اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کی صحبت اور دین کی تبلیغ کے لئے منتخب فرمایا۔لہٰذاتم ان کے اخلاق و عادات اور ان کے طور طریقوں پر چلو کیونکہ وہ حضرت محمد مصطفی ، احمدمجتبیٰ ﷺ کے صحابہ ہیں۔ ربّ کعبہ کی قسم!یہی لوگ ہدایت کے سیدھے راستے پرگامزن تھے۔ اے بندے !محض اپنے بدن کی حدتک دنیا سے تعلق قائم کر اور اپنے دل ودماغ کو اس سے دور رکھ کیونکہ تیری نجات کا دارو مدار تیرے عمل پر ہے۔ لہٰذا تو ابھی سے موت کی تیاری کر تاکہ تیرا انجام اور خاتمہ اچھا ہو ۔(حلیۃ الاولیاء،1/378،رقم:1065)

اللہ پاک حضور ﷺ کے صدقے ہمیں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے سچی محبت کرنا نصیب فرمائے اور ان کے طریقے پر چلنے والی بنادے۔اٰمین بجاہِ النبی الامینﷺ