الله کریم قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا
تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۴۱)
(پ8، الانعام: 141) ترجمہ کنز الایمان: اور بے جا نہ خرچو بیشک بے جا خرچنے والے
اسے پسند نہیں۔
صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا مفتی محمد نعیم
الدین مراد آبادی رحمۃ الله علیہ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے
ہیں: حضرت مترجم قدّس سرّه یعنی اعلی حضرت امام اہلسنت رحمۃ الله علیہ نے اسراف کا
ترجمہ بے جا خرچ کرنا فرمایا۔
اسراف و فضول خرچی کی تعریف: جس جگہ شرعاً، عادۃً یا مروۃً خرچ کرنا
منع ہو وہاں خرچ کرنا مثلاً فسق وفجور وگناہ والی جگہوں پر خرچ کرنا، اجنبی لوگوں
پر اس طرح خرچ کرنا کہ اپنے اہل وعیال کو بے یارومددگار چھوڑ دینا اسراف کہلاتاہے۔
(باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 301 تا 302 )
اسراف کاحکم :اسراف اور
فضول خرچی خلاف ِشرع ہو تو حرام اورخلافِ مروت ہوتو مکروہ تنزیہی ہے۔ (باطنی
بیماریوں کی معلومات، ص 302)
روایت ہے حضرت سفیان ثوری سے فرماتے ہیں کہ گزشتہ
زمانہ میں مال نا پسند تھا لیکن آج مال مؤمن کی ڈھال ہے اور فرمایا اگر یہ اشرفیاں
نہ ہوتیں تو یہ بادشاہ ہم کو رومال بنا لیتے اور فرمایا کہ جس کے پاس کچھ دولت ہو
تو وہ اسے سنبھالے کیونکہ یہ زمانہ وہ ہے کہ اگر کوئی محتاج ہو جاوے تو پہلی جو
چیز خرچ کرتا وہ اس کا دین ہے فرمایا کہ حلال مال میں فضول خرچی کی گنجائش نہیں۔
روایت ہے حضرت عمر و ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے
وہ اپنے دادا سے روایت فرماتے ہیں فرما یا رسول اللہ ﷺ نے کہ کھاؤ پیو اور خیرات
کرو اور پہنو کہ جب تک فضول خرچی اور تکبر نہ ملے۔ (ابن ماجہ، 4/162، حدیث: 3605)اس
کا مطلب بھی وہ ہی ہے کہ ہر طیب و حلال چیز کھاؤ پہنو بشر طیکہ تکلف اور تکبر سے
خالی ہو، دل ٹھیک رکھو۔
نبی ﷺ حضرت سعد پر گزرے جب وہ وضو کر رہے تھے تو
فرمایا اے سعد یہ اسراف کیسا؟ (فضول خرچی) عرض کیا کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟
فرمایا ہاں۔ اگر چہ تم بہتی نہر پر ہو۔ (ابن ماجہ، 4/49، حدیث: 3352)
حضرت سعد یا تو ضرورت سے زیادہ پانی بہا رہے تھے،
یا بجائے تین کے چار پانچ بار اعضاء دھو رہے تھے، یا اعضاء کی حدود میں زیادتی کر
رہے تھے ان سب سے منع فرما دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وضو میں یہ تمام باتیں منع
ہیں اور ان کا کرنا جرم۔ (مراۃ المناجیح، 1/427)
فضول خرچی کے کئی نقصانات ہو سکتے ہیں، چند درج ذیل
ہیں:
1۔ مالی نقصانات: فضول خرچی سے پیسے کی بدسرفرازی
ہوتی ہے، جس سے آپ کے مالی حالات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ پیسے کو بے معنی چیزوں
پر خرچ کریں تو اس سے آپ کی سرمایہ کاری اور بچت بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
2۔ وقت کا ضائع ہونا: فضول خرچی کرنے سے آپ کا
قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، جو کہ آپ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں لگا سکتے تھے۔
3۔ تناؤ: بعض اوقات، فضول خرچی آپ کو دباؤ اور تناؤ
میں ڈال سکتی ہے، کیونکہ آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ نے بے فائدہ میں وقت یا پیسے
خرچ کیے ہیں۔
4۔ ترقی میں رکاوٹ: فضول خرچی کرنے سے آپ کی ترقی
پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ آپ کے پاس ان وقت یا پیسے کا ضیاع ہوتا ہے جو
آپ اپنے خود کے ترقی اور پیشہ ورانہ پرفارمنس میں لگا سکتے تھے۔
5۔ معاشرتی اثرات: فضول خرچی سے آپ کے دوسروں کے
ساتھ معاشرتی رشتے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، کیونکہ دوسروں کے ساتھ وقت یا پیسے کی
غرض سے بے فائدہ میں خرچ کرنے سے ان کے نظر میں آپ کی قدر کم ہوسکتی ہے۔
6۔ معاشرتی زخم: اگر فضول خرچی آپ کی اپنے ذاتی
ضمیر پر بھی برا اثر ڈالے، تو یہ آپ کے لئے معاشرتی زخم بھی بن سکتی ہے۔ اس سے آپ
کا احترام اور ذاتی اعتماد بھی کم ہوسکتا ہے۔
آج کل اس کا عام رواج پڑتا جا رہا ہے اگر ہم اردگرد ماحول پر نظر دہرائے تو ہمیں
معلوم ہو کہ یہ کس قدر بڑھتا جا رہا ہے شادی کے معاملات میں غور کریں تو حد درجہ
کا اسراف ہوتا ہے، عام دعوتوں پر بھی اتنا کھانے کا اسراف ہوتا ہے کہ الامان و
الحفیظ، پھر اسی طرح اگر ہم غور کریں تو اس کی عام مثالیں ہمیں نظر آئیں گی۔
قرآن پاک میں بھی اسراف سے بچنے کی ترغیب دلائی گئی
یہاں تک کہ اسراف کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا جیسے کہ اللہ پاک کا
فرمان باری تعالیٰ ہے: وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى
حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) (پ
15، الاسراء: 26) ترجمہ کنز العرفان: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور
مسافر کو (بھی دو) اور فضول خرچی نہ کرو۔ یعنی اپنا مال ناجائز کام میں خرچ نہ کرو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
سے تبذیر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جہاں مال خرچ کرنے کاحق ہے ا س کی بجائے کہیں اور خرچ کرنا تبذیر ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص
اپنا پورا مال حق یعنی اس کے مصرف میں خرچ
کر دے تو وہ فضول خرچی کرنے والا نہیں اور
اگر کوئی ایک درہم بھی باطل یعنی ناجائز کام میں خرچ کردے تو وہ فضول خرچی کرنے والا ہے۔ (خازن، 3/ 172)
اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی اس کی مذمّت بیان کی
گئی ہے کہ
حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ حضرت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جب وہ
وضو کررہے تھے تو ارشاد فرمایا: اے سعد!
یہ اسراف کیسا؟ عرض کیا: رسول اللہ ﷺ ! کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟ فرمایا: ہاں
!اگرچہ تم بہتی نہر پر ہو۔ (ابن ماجہ، 4/49، حدیث: 3352)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ہر اس چیز کو
کھالینا جس کا دل کرے یہ اسراف ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ306، 307)
اسراف کاحکم: اسراف اور
فضول خرچی خلاف شرع ہو تو حرام اور خلافِ مروت ہو تو مکروہ تنزیہی ہے۔ (باطنی
بیماریوں کی معلومات،صفحہ307)
اسراف ایک
سبب معاشرے میں اپنی واہ واہ کروانا بھی ہوتا ہے۔ اسکا علاج یہ ہے کہ بندہ لوگوں
سے تعریفی کلمات سننے کی خواہش کو اپنی
ذات سے ختم کرے اور یہ مدنی ذہن بنائے کہ لوگوں میں معزز ہونا کوئی معنی نہیں
رکھتا بلکہ سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار ہے۔ نیز
بندہ حب جاہ کے اسباب و علاج کامطالعہ کرے۔
اسی طرح اسراف کے دیگر اسباب پر غور کر کے اسکا
علاج کیا جائے اگر ہر کوئی اپنی اصلاح کرنے والا بن جائے تو معاشرے میں اسراف کے
ساتھ ساتھ دیگر گناہوں کا خاتمہ بھی ہو
جائے گا۔ ان شاءاللہ الکریم
اللہ پاک ہمیں اسراف سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے
اور تمام اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
فضول خرچی ازبنت میاں محمد یوسف قمر،
جامعۃ المدینہ پاکپورہ جیل روڈ سیالکوٹ
دین اسلام افراط و تفریط سے بچتے ہوئے ہر شعبہ ہائے
زندگی میں سادگی، اعتدال اور میانہ روی کا درس دیتا اور فضول خرچی کی مذمّت فرماتا
ہے، چنانچہ اللہ فرماتا ہے: وَ لَا تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ
لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۴۱)
(پ8، الانعام: 141) ترجمہ کنز الایمان: اور بے جا نہ خرچو بیشک بے جا خرچنے والے
اسے پسند نہیں۔
اسراف کی تعریف: جس
جگہ شرعاً، عادۃً یا مروۃً خرچ کرنا منع ہو وہاں خرچ کرنا مثلاً فسق و فجور و گناہ
والی جگہوں پر خرچ کرنا، اجنبی لوگوں پر اس طرح خرچ کرنا کہ اپنے اہل و عیال کو بے
یار و مددگار چھوڑ دینا اسراف کہلاتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص301 تا
302)
اسراف کا حکم: اسراف اور
فضول خرچی خلاف شرع ہو تو حرام اور خلاف مروت ہو تو مکروہ تنزیہی ہے۔ (باطنی
بیماریوں کی معلومات، ص 307)
متعدد احادیث مبارکہ میں بھی فضول خرچی کی ممانعت
آئی ہے:
1) نبی آخر الزماں ﷺ نے فرمایا: کھاؤ پیو اور خیرات
کرو اور پہنو کہ جب تک فضول خرچی اور تکبر نہ ملے۔ (ابن ماجہ، 4/162، حدیث: 3605)
2) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ہر اس چیز کو کھا
لینا جس کا دل کرے یہ اسراف ہے۔ (ابن ماجۃ، 4/ 49، حدیث: 3352)
اسراف کے معنیٰ: علماء
کرام نے اس کی مختلف تعریفات بیان کی ہیں،ان میں سے 11 تعریفات درج ذیل ہیں:
(1)غیر حق میں صرف کرنا۔ (2) اللہ کے حکم کی حد سے بڑھنا۔ (3) ایسی بات میں خرچ کرنا جو
شرع مطہّر یا مروّت کے خلاف ہو، اول حرام ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی۔ (4) طاعت
الٰہی کے غیر میں صرف کرنا۔ (5)شرعی حاجت
سے زیادہ استعمال کرنا۔ (6) غیر طاعت میں یا بلا حاجت خرچ کرنا۔ (7)دینے میں حق کی
حد سے کمی یا زیادتی کرنا۔ (8) ذلیل غرض میں کثیر مال خرچ کردینا۔ (9) حرام میں سے کچھ یا حلال کو اعتدال سے زیادہ
کھانا۔ (10) لائق وپسندیدہ بات میں لائق
مقدار سے زیادہ صرف کردینا۔ (11) بے فائدہ خرچ کرنا۔ (تفسیر صراط الجنان، 5/ 447)
اسراف کی مختلف صورتیں: مفتی
احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں: اسراف کی بہت تفسیریں ہیں : (1)حلال
چیزوں کو حرام جاننا (2)حرام چیزوں کو استعمال کرنا(3) ضرورت سے زیادہ کھانا پینا
یا پہننا (4)جو دل چاہے وہ کھا پی لینا پہن لینا (5)دن رات میں بار بار کھاتے پیتے
رہنا جس سے معدہ خراب ہو جائے، بیمار پڑ جائے(6) مضر اور نقصان دہ چیزیں کھانا
پینا (7) ہر وقت کھانے پینے پہننے کے خیال میں رہنا کہ اب کیا کھاؤں گا؟ آئندہ کیا
پیوں گا؟ (8)غفلت کیلئے کھانا(9)گناہ کرنے کیلئے کھانا (10)اچھے کھانے پینے، اعلیٰ
پہننے کاعادی بن جانا کہ کبھی معمولی چیز کھا پی نہ سکے (11)اعلیٰ غذاؤں کو اپنے
کمال کانتیجہ جاننا۔ غرضیکہ اس ایک لفظ میں بہت سے احکام داخل ہیں۔ (تفسیر نعیمی،
8/390)
اللہ ہمیں فضول خرچی سے بچنے اور میانہ روی اختیار
کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
ذو رحم رشتہ داروں کے 5 حقوق از بنت
ظفر اقبال،فیضان عائشہ صدیقہ مظفر پورہ سیالکوٹ
حقوق العباد میں ایک حق رشتہ دار سے اچھا سلوک ہے۔ اس
سے مراد یہ ہے کہ اگر ہمارے کسی رشتہ دار کو کسی قسم کی پریشانی اور تکلیف ہے تو
ہم اس کی پریشانی کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں ان کا خیال رکھیں اور ان کی
خاطر داری کریں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ
اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی
الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ
السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ
كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙﰳ (۳۶) (پ 5، النساء: 36) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ
کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ
داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے
ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بے شک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے
والا بڑائی مارنے والا۔
رشتہ داری میں سب سے قریبی ہمارے والدین ہوتے ہیں۔ ہمیں
اپنے والدین سے ایسا سلوک کرنا چاہیے کہ ہم ان کے آگے اف تک نہ کریں اور ان کا
خیال رکھیں۔ ارشاد ہوتا ہے: وَ وَصَّیْنَا
الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًاؕ- (پ 20، العنكبوت:8) ترجمہ: اور
ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں اچھائی کا حکم دیا ہے۔
صلہ رحمی: صلہ رحمی سے
مراد ہے اچھا سلوک اس سے مراد ہر ایک سے اچھا سلوک ہے اس میں والدین، پڑوسی، رشتہ
دار وغیرہ سب شامل ہیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: رحم (رشتہ داری) عرش کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور کہتا ہے جو مجھے
ملائے گا اللہ اسے ملا کے رکھے گا اور جو مجھے کاٹ دے گا اللہ اسے کاٹ دے گا۔ (مسلم،
ص 1062، حدیث: 6519)
عرش سے لٹکا ہوا ہےکا مطلب یہ ہے کہ وہ عرش کا پایا
پکڑے ہوئے اپنے توڑے جانے سے بارگاہ کبریا کی پناہ کا طلبگار ہے اور اس نے اپنے حق
میں اللہ سے جو سنا ہے اس کے مطابق خبردار کر رہا ہے کہ اگر مجھ کو جوڑو گے یعنی
میرے حقوق کو ادا کرو گے تو اللہ کی تم پر رحمت ہوگی اور اگر تم مجھ کو توڑو گے تو
اللہ تمہیں اپنی رحمت سے دور کر دے گا۔
ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا
بیان کرتی ہیں: انہوں نے ایک کنیز کو نبی اکرم ﷺ سے اجازت لیے بغیر آزاد کر دیا، جب
نبی اکرم ﷺ ان کی باری کے دن ان کے گھر تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی، یا رسول
اللہ! کیا آپ جانتے ہیں میں نے اپنی کنیز کو آزاد کر دیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
کیا تم نے ایسا کر دیا، انہوں نے عرض کی: جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا تم اگر اس کو
اپنے ماموں کو دے دیتی تو یہ تمہارے لیے اجر کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہوتا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: تم اپنی نسبوں میں اس قدر سیکھو کہ جس کے ذریعے تم اپنے ناطے داروں کے
ساتھ حسن سلوک کر سکو کیونکہ ناطہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اقرباء میں باہمی
محبت و انس کا سبب مال میں کثرت و برکت کا ذریعہ اور درازی عمر کا باعث بنتا ہے۔
مطلب یہ
ہے کہ تم اپنے باپ، دادا، ماؤں، دادیوں، نانیوں، ان کی اولاد اور دیگر اعزاء و
اقرباء کی پہچان رکھو ان کے ناموں سے باخبر رہو اور ان کے حالات سے واقفیت رکھو۔
ذو رحم رشتہ داروں کے 5 حقوق از بنت
فیاض احمد، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا، ان کے ساتھ حسن سلوک
کرنا،اپنی ہمت کے بقدر ان کے ساتھ تعاون کرنا،ان کی خدمت کرنا،ان کے ساتھ بہتر
تعلقات قائم رکھنا اوران کی ہمدردی و خیرخواہی کے جذبات سے سرشار رہنا شریعت
اسلامیہ میں صلہ رحمی کہلاتاہے اور رشتہ داروں کے ساتھ بدخلقی و بدسلوکی کے ساتھ
پیش آنے کو قطع رحمی کہا جاتا ہے۔
اسلام رشتہ داروں کے ساتھ احسان اور اچھے برتاؤ
کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ سورہ النحل میں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید
کی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ
وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ
الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ-یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۹۰) (پ
14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے
اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی
سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھو۔
رشتہ دار مفلس و محتاج ہوں اور کمانے کی طاقت نہ
رکھتے ہوں تو حسب استطاعت ان کی مالی مدد کرتے رہنا اسی طرح ان کی خوشی و غمی میں
ہمیشہ شریک رہنا، صلہ رحمی کرنا اور کبھی بھی ان کے ساتھ قطع تعلق نہ کرنا اسلام
کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔
1۔ حدیث مبارکہ میں حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قطع رحمی کرنے
والا کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (مسلم، ص 1383، حدیث: 2556)
2۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ
نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ (باغ) اپنے غریب اقارب کو دے دو، پس انہوں
نے وہ حضرت حسان اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو دے دیا (جو ان کے چچا زاد
بھائی تھے)۔ (مسلم، ص 389، حدیث:2316)
3۔ رشتے جوڑنا گھر والوں میں محبّت، مال میں برکت
اور عمر میں درازی ہے۔ (ترمذی، 3/394، حدیث: 1986)
4۔ جو چاہے کہ اس کے رزق ميں وسعت دی جائے اور اس
کی موت ميں دير کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔ (بخاری، 4/97، حديث:5985)
5۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ
اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے۔ (بخاری،
4/136، حدیث: 6138)
ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ میرے بعض رشتہ دار
ایسے ہیں کہ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں لیکن وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں، میں ان کے
ساتھ نیکی کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ متحمل و برد
باری سے پیش آتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جہالت آمیز سلوک کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: اگر تو تم ویسا ہی کرتے ہو جیسا کہہ رہے تو گویا کہ تم ان لوگوں کو گرم
ریت کھلا رہے ہو یعنی تمہارے حسن سلوک کے جواب میں ان کی بد سلوکی ان کیلیے وبال
بن جائے گی اور جب تک تم اسی طرح کرتے رہو گے، اللہ کی طرف سے تمہارے لیے ان لوگوں
کے شر سے بچاؤ کے لیے ایک مدد گار مقرر رہے گا۔ (مسلم، ص 1062، حدیث: 6525)
رشتہ داروں سے ملنا جلنا، تحائف دینا، حاجت روائی
کرنا اور ان کے معاملے میں بدگمانی سے بچنا سب ایسے کام ہیں جو صلہ رحمی کو تقویت
دیتے ہیں۔
ذو رحم رشتہ داروں کے5 حقوق از بنت
طارق محمود،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
رشتہ دار کے لئے عربی میں لفظ اقرب استعمال ہوتا ہے
جس کی جمع اقارب یا اقرباء ہے اور اس کے معنیٰ
قریبی یا نزدیکی کے ہیں اصطلاحاً رشتہ دار یا اقرب اے مراد وہ لوگ ہیں جن کا والدین اولاد
اور زوجین کے بعد ہمارے ساتھ قریبی تعلق ہوتا ہے جیسے چچا،ماموں،خالہ،پھوپھی وغیرہ۔
ان سے حسن سلوک یہ ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ
رحمی کرے اور قطع تعلقی سے بچے اسلام ہمیں صلہ رحمی کی تعلیم دیتا ہے۔ صلہ رحمی سے
مراد قریبی رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا ہے۔ مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ کی روشنی میں
ان کے حقوق پیش خدمت ہیں:
1۔ فرمان آخری نبی ﷺ: بدلہ لینے والا صلہ رحمی کرنے
والا نہیں بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے
جوڑے۔ (بخاری، 4/98، حدیث: 5991)
2۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: مسکینوں پر صدقہ کرنے سے
ایک صدقہ کا ثواب ملتا ہے جبکہ رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے دو صدقوں کا ثواب ملتا ہے۔
(ترمذی، 2 / 142، حدیث: 658)
3۔ حضرت ابو طلحہ نے اپنا پسندیدہ باغ صدقہ کرنے کا
ارادہ کیا اور بارگاہ رسالت میں عرض کی یارسول الله! یہ باغ اللہ کی راہ میں فقراء
اور مساکین کے لئے ہے تو رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارا اجر لازم ہو گیا اب
اسے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔ (مسلم، ص 388، حدیث:2315)
4۔ آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کو یہ بات اچھی لگتی
ہے کہ اس کا رزق فراح ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کیا کرے۔
(بخاری، 4/97، حدیث: 5985)
5۔ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:رشتہ کاٹنے
والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم، ص 1383، حدیث: 2556)
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اسلام ہمیں ان کے
ساتھ مل جل کر رہنے کا درس دیتا ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے علاوہ ان کی
مالی مدد کرنے کی بھی تاکید فرمائی گئی ہے لہٰذا مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ
اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے ان کے ساتھ شفقت اور مہربانی کا
برتاؤ کرے اور ہر موقع پر ان کی خیر خواہی کرے خوشی و غمی میں ان کے ساتھ شریک ہو
ان ے مسائل کو مل بیٹھ کر حل کرے مصیبت کے وقت ان کے کام آئے اگر کوئی بیمار ہو
جائے تو اسکی عیادت کے لئے جائے ہر دکھ درد مصیبت میں ان کی روحانی اخلاقی اور
مالی مدد کی جائے اور ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا جائے۔
الله پاک سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو آپس میں
میل جول کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان کے ساتھ احسن انداز میں رہنے کی
توفیق سے نوازے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
ذو رحم رشتہ داروں کے5حقوق از بنت سجاد
حسین،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اللہ پاک نے خاندانی وسسرالی رشتہ داریوں کو اپنی
نعمت بتایا ہے جس سے انسانوں کو نوازا ہے اور یہ حکم دیا ہےکہ تم رشتہ داریوں کو
جانو پہچانو اور ان رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک اور نیک برتاو کرتے رہو اور اللہ
تعالی نے ان رشتہ داروں سے بگاڑ اور قطعی تعلق کو حرام فرمایا ہے اور حکم دیا ہے
کہ ان رشتہ داریوں کو نہ کاٹو۔ یعنی ایسا مت کرو کہ بھائیوں اور بہنوں وغیرہ سے اس
طرح کا بگاڑ کر لو کہ یہ کہہ دو کہ تم میری بہن نہیں اور میں تمہارا بھائی نہیں
اور یہ کہہ کر بلکل رشتہ داری کا تعلق ختم کر لو۔ ایسا کرنے کو قطعی رحم اور رشتہ
کاٹنا کہتے ہیں۔ (جہنم کے خطرات، ص 96)
یہ شریعت میں حرام اور بڑا سخت گناہ کا کام ہے اور
اس کی سزا جہنم کا درد ناک عذاب ہے۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ
وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ
فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳) (پ 26، محمد:22،
23)ترجمہ کنز الایمان:تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے
تو زمین میں فساد پھیلاو اور اپنے رشتے کاٹ دو یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت
کی اور انہیں حق سے بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
اسی طرح احادیث مبارکہ میں رشتہ داروں کے حقوق ملاحظہ
فرمائیے۔
(1) حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں اور
میں رحمن ہوں، میں نے رشتوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے نام سے اس کے نام کومشتق کیا
ہےتو جو شخص رشتہ ملائے گا میں اس کو ملاؤں گا اور جو اس کو کاٹ دے گا میں اس کو
کاٹ دوں گا۔ (ترمذی،3/363، حدیث: 1914)
(2) حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی نے کہا میں نے رسول ﷺ
کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس قوم پر رحمت نہیں نازل ہوتی جس قوم میں کوئی رشتہ
داریوں کو کاٹنے والا موجود ہے۔ (مشکوۃ المصابیح، 3/61، حدیث: 4931)
(3) کبھی کبھی اپنے رشتہ داروں کے یہاں آتے جاتے
بھی رہیں انکی خوشی اور غمی میں ہمیشہ شریک رہیں۔ اگر رشتہ داروں کی طرف سے کوئی
تکلیف بھی پہنچ جائے،تو اس پر صبر کرنا اور پھر بھی ان سے میل جول اور تعلق کو
برقرار رکھنا بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔ (جنتی زیور، ص 61)
(4) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشتہ کاٹنے والا جنت
میں داخل نہیں ہوگا۔ (مسلم، ص 1383، حدیث: 2556)
(5) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے نسب ناموں کو جان لو تا کہ اس کی وجہ سے تم اپنے
رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ یقین جانو کہ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا
یہ گھر والوں میں محبت اور مال میں زیادتی، اور عمر میں درازی کا سبب ہے۔ (ترمذی، 3/394،
حدیث: 1986)
ان حدیثوں سے سبق ملتا ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ
نیک سلوک کرنے کا کتنا بڑا اجرو ثواب اور دنیا و آخرت میں اس کے فوائد و منافع کس
قدر زیادہ ہیں اور رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی اور ان سے تعلق کاٹ لینے کا گناہ
کتنا بڑا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان مردوعورت پر لازم ہے کہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق
ادا کرنے اور ان کے ساتھ اچھا برتاو اور نیک سلوک کرنے کا خاص طور پر دھیان رکھے۔
یاد رکھیں! شریعت کے احکام پر عمل کرنا ہی مسلمان
کے لیے دونوں جہانوں میں صلاح و فلاح کا سامان ہے۔شریعت کو چھوڑ کر کبھی بھی کوئی
مسلمان دنیا اور آخرت کی بھلائیاں حاصل نہیں کر سکتا۔
ذو رحم رشتہ داروں کے 5 حقوق از ہمشیرہ
جواد احمد، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
صلہ کے لغوی معنیٰ ہیں:کسی بھی قسم کی بھلائی اور
احسان کرنا (الزواجر، 2/156) جبکہ رحم سے مراد قرابت اور رشتہ داری ہے۔ (لسان
العرب،1/1479)
صلۂ رحم کا معنیٰ رشتے کو جوڑنا ہے، یعنی رشتہ
والوں کے ساتھ نیکی اور (حسن) سلوک کرنا۔ (بہار شریعت، 3/558) لہٰذا رشتہ داروں سے
خندہ پیشانی سے ملنا، مالی مشکلات میں ان کی مددکرنا،دکھ سکھ میں شرکت کر کے ان کی
دلجوئی کا سامان کرنا یہ سب صلۂ رحمی میں شامل ہے۔
صلہ رحمی کی اہمیت قرآن کی رو سے صلۂ رحمی کی
اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ قرآن پاک میں اللہ کریم نے تقویٰ اختیار کرنے
کے ساتھ ہی صلۂ رحمی کا حکم دیا ہے۔چنانچہ فرمان الٰہی ہے: وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ
تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ- (پ 4،
النساء: 1) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ
سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو۔
ذو رحم رشتوں کے حقوق: ان کو کسی بات میں تمہاری
اعانت درکار ہو تو اس کا م میں ان کی مدد کرنا، انہیں سلام کرنا، ان سے ملاقات کو
جانا، ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا ، ان سے بات چیت کرنا، ان سےعدل و انصاف کرنا ، ان پر خرچ کرنا ، ہدیہ
و تحفہ دینا ، وراثت میں سے پورا پورا حصہ دینا ، اچھے سلوک سے پیش آنا۔
رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کو یہ پسند ہو کہ
عمر میں درازی اور رزق میں فراخی ہو اور بری موت دفع ہو وہ اللہ پاک سے ڈرتا رہے
اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کرے۔ (مستدرک،5/222، حدیث: 7362)
صلہ رحمی کی اہمیت: حضرت
ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک وقت جب ہم حضور نبی کریم ﷺ کی
خدمت میں حاضر تھے،قبیلہ بنو سلمہ سے ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! کیا میرے
والدین کے مجھ پر ایسے بھی حق ہیں جو مجھے ان کے انتقال کے بعد ادا کرنے چاہئیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں انکے لئے مغفرت و بخشش و رحمت کی دعا کرتے رہنا، انکا اگر کسی
سے عہد معاہدہ ہو تو اسے پورا کرنا ان کے تعلق سے جو رشتے ہوں انکا لحاظ رکھنا اور
انکا حق ادا کرنا اور انکے دوستوں کا احترام و اکرام کرنا۔
یاالٰہی! رشتہ داروں سے کروں حسن سلوک قطع رحمی سے بچوں اس میں
کروں نہ بھول چوک
ان سب کے علاوہ بھی ذو رحم رشتوں کے بہت زیادہ حقوق
ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ذو رحم رشتوں سے صلہ رحمی کرنے انکے حقوق ادا کرنے کی
توفیق عطا فرمائے اور قطع تعلقی سے بچائے۔ آمین
ذو رحم رشتہ داروں کے 5 حقوق از ہمشیرہ
بلال حبیب،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
قرآن مجید میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ الَّذِیْنَ
یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ (پ 13، الرعد:
21) ترجمہ: اور (اہل عقل وہ ہیں) جو اس تعلق (رشتہ داری) کو برقرار رکھتے ہیں جس
کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے رشتہ قرابت میں اپنی رحمت اور برکت
رکھ دی ہے وہ ان بندوں پر جو رشتہ داروں کو مٹنے نہیں دیتے رحمتوں کی بارش کرتا
ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو آدمی چاہتا ہے کہ اس کی عمر بڑھے، رزق کشادہ
ہو، بری موت سے بچے اور اس کی دعا قبول ہو اسے چاہئے کہ رشتہ قرابت کو جوڑے۔
قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی میں اقارب اور ذوی
الارحام کے حصے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور پھر تاکید کی گئی ہے کہ کسی بھی رشتے دار
کو اس کے جائز حق سے محروم نہ کیا جائے۔ ایک خاندان یا برادری کے باہمی تعلق سے
مقصود محبت،ہمدردی اور ایثار کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔
رشتہ داروں کے حقوق درج ذیل ہیں:
1۔مالی اعانت: اسلامی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی
ہے کہ اللہ رب العزت نے والدین اور عزیز و اقارب سے مالی تعاون کی بھی تاکید کی ہے۔
قرآن پاک میں ہے: وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى (پ
2، البقرۃ: 177) ترجمہ: جو اللہ کی رضا کیلئے رشتہ داروں کو مالی امداد دے۔
احادیث مبارکہ میں بھی حضور ﷺ نے قرابت داروں سے ہر
طرح کے تعاون کی تعلیم فرمائی ہے۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی
اللہ عنہ اپنا ایک باغ صدقہ کرنا چاہتے تھے۔ حضور ﷺ نے انہیں حکم فرمایا: اسے اپنے
رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔
2۔قطع تعلقی پر وعید: قرآن و حدیث میں رشتہ داروں
سے قطع تعلق کرنے والوں کی بڑی مذمت کی گئی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ
یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی
الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵) (پ
13، الرعد: 25) ترجمہ: جو لوگ ان رشتوں کو قطع کرتے ہیں جن کے ملانے کا اللہ نے
حکم دیا ہے وہ زمین میں فساد کرتے ہیں ان کیلئے لعنت ہے اور ان کا انجام بہت برا
ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: رشتہ داری کو قطع کرنے والا
جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 1383، حدیث: 2556)
3۔صلہ رحمی: اسلام صلہ رحمی کی تعلیم دیتا ہے صلہ
رحمی سے مراد رشتےداروں سے تعلق جوڑنا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور (عقل مند)
لوگ ان رشتوں کو جوڑے رکھتے ہیں جن کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے۔
4۔ وراثت کا حق: اسلام نے رشتہ داروں کو وراثت میں
حصہ دار بنایا ہے قریبی رشتہ داروں کی عدم موجودگی میں دور کے رشتے دار حقدار قرار
پاتے ہیں قرآن پاک نے قریبی رشتہ داروں کو اقربا یا ذوی القربی اور دور کے رشتہ
داروں کو اولو الارحام کے الفاظ سے یاد کیا ہے قرآن مجید میں قرابت داروں کے حقوق
بڑی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ
الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ ۪- وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ
الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَؕ-نَصِیْبًا
مَّفْرُوْضًا(۷) (پ 4، النساء: 7) ترجمہ: جو ماں باپ اور رشتہ دار
چھوڑ مریں، تھوڑا ہو یا بہت، اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی، یہ
حصے مقرر کئے ہوئے ہیں۔
5۔اقرباء پروری کی حد: اقربا کے ساتھ حسن سلوک، مالی
و روحانی تعاون کا جذبہ قابل تحسین ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ رشتہ داری
کی خاطر جائز اور ناجائز میں تمیز ہی باقی نہ رہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا
عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ
الْعُدْوَانِ۪-
(پ 6، المائدۃ:2) ترجمہ: اور نیکی اور پرہیز گاری کے معاملے میں تعاون کرو اور
گناہ اور زیادتی کے معاملات میں ہرگز تعاون نہ کرو۔
حضور اکرم ﷺ سے کسی نے دریافت کیا: اپنے خاندان سے
محبت رکھنا تعصب میں داخل تو نہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ تعصب یہ ہے کہ آدمی
اپنے خاندان کو ظلم کرنے میں مدد دے۔
ذو رحم رشتہ داروں کے 5 حقوق از ہمشیرہ
محمد آصف مغل،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
ذی القربیٰ وہ لوگ ہیں جن کا رشتہ والدین کے ذریعے
ہو، انہیں ذی رحم بھی کہتے ہیں، ذی رحم تین طرح کے ہیں: ایک باپ کے رشتے دارجیسے
دادا، دادی، چچا، پھوپھی وغیرہ، دوسرے ماں کے رشتے دار جیسے نانا، نانی، ماموں، خالہ۔
تیسرے دونوں کے رشتے دارجیسے حقیقی بھائی بہن۔
ہمیں ہمارے ربّ کریم نے رشتہ داروں کے ساتھ اچّھا
سلوک کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے، چنانچہ پارہ 21 سورۃ الرّوم کی آیت نمبر 38 میں
اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى
حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ
یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ٘- (پ 21، الروم: 38) ترجمہ: تم اپنے
رشتے داروں، مساکین اور مسافروں کو ان کا حق دو اور یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے،
جو اللہ کی خوش نودی چاہتے ہیں۔
پارہ 1 سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 83 میں اللہ پاک
ارشاد فرماتا ہے: وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ
ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ ترجمۂ
کنزالعرفان: اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور
مسکینوں کے۔
ذی رحم رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے حقوق
درج ذیل ہیں:
1۔ ان کو ہدیّہ و تحفہ دینا۔ اگر ان کو کسی جائزبات
میں تمہاری امداد کی ضرورت ہو تو اس کام میں ان کی مدد(Help)
کرنا۔
2۔ انہیں سلام کرنا۔ ان کی ملاقات کو جانا، ان کے
پاس اٹھنا بیٹھنا، ان سے بات چیت کرنا، ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنا۔ (کتاب
الدرر الحکام،1/323)
3۔ پرد یس ہو تو خط بھیجا کرے اگر
یہ شخص پردیس میں ہے تو رشتہ داروں کے پاس خط بھیجا کرے، ان سے خط و کتابت جاری
رکھے تاکہ بے تعلّقی پیدا نہ ہونے پائے اور ہوسکے تو وطن آئے اور رشتہ داروں سے
تعلّقات (Relations)
تازہ کرلے،اس طرح کرنے سے محبّت میں اضافہ ہوگا۔(ردّالمحتار، 9/678)
4۔ رشتے دار حاجت پیش کرے تو ردّ کرد ینا گناہ ہے جب
اپنا کوئی رشتے دار کوئی حاجت پیش کرے تو اس کی حاجت پوری کرے، اس کو رد کردینا
(یعنی حیثیت ہونے کےباوجودمددنہ کرنا)رشتہ توڑناہے۔ (کتاب الدرر الحکام،1/323)
5۔ دشمنی چھپانے والے رشتے دار کو صدقہ دینا افضل
صدقہ ہے۔ بہر حال کوئی ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرے یا نہ کرے ہمیں اس کے ساتھ اچھا
سلوک جاری رکھنا چاہئے۔حدیث پاک میں ہے:سب سے افضل صدقہ وہ ہے جودل میں دشمنی
رکھنے والےرشتہ دار کو دیا جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ دل میں دشمنی رکھنے والے رشتہ
دار کو صدقہ دینے میں صدقہ بھی ہے اوررشتہ توڑنے والے سے اچھا سلوک کرنا بھی۔ (مستدرک، 2/ 27،
حدیث:1515)
ذو رحم رشتہ داروں کے5 حقوق از بنت
محمد ریاض،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
ذو رحم سے مراد؟ مفسرشہیر، حکیم الامّت، حضر ت مفتی احمد یار
خان علیہ رحمۃ الحنّان سورۃ البقرہ کی آیت 83 کے تحت تفسیر نعیمی میں لکھتے ہیں: اور قربیٰ بمعنی قرابت ہے یعنی اپنے
اہل قرابت کے ساتھ احسان کرو، چونکہ اہل قرابت کا رشتہ ماں باپ کے ذریعے سے ہوتا ہے اور ان کا احسان بھی
ماں باپ کے مقابلے میں کم ہے اس لیے ان کا حق بھی ماں باپ کے بعد ہے، اس جگہ بھی چند ہدایتیں ہیں: ذی القربیٰ وہ لوگ ہیں جن کا رشتہ بذریعے
ماں باپ کے ہو جسے ذی رحم بھی کہتے ہیں ، یہ
تین طرح کے ہیں : ایک باپ کے قرابت دار جیسے دادا، دادی، چچا، پھوپھی وغیرہ، دوسرے
ماں کے جیسے نانا، نانی، ماموں ، خالہ،
اخیافی(یعنی جن کا باپ الگ الگ ہو اور ماں ایک ہو ایسے بھائی اور بہن کا) بھائی
وغیرہ، تیسرے دونوں کے قرابت دار جیسے
حقیقی بھائی بہن۔ ان میں سے جس کا رشتہ قوی ہوگااس کا حق مقدم۔ رسول پاک ﷺ نے
ارشاد فرمایا: جس کو یہ پسند ہو کہ اسکی عمر میں درازی اور رزق میں فراخی ہو اور
بری موت دفع ہو وہ اللہ پاک سے ڈرتا رہے اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کرے۔ (مستدرک،5/222،حدیث:
7362)
صلۂ رحمی کاحقیقی مفہوم: صلۂ
رحمی کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی دوسرا حسن سلوک کرے تب ہی اس سے کیا جائے، حقیقتاً
صلۂ رحمی یہ ہے کہ دوسراکاٹے اور آپ جوڑیں،وہ آپ سے بے اعتنائی(بے رخی) برتےلیکن آپ
اس کے ساتھ رشتے کے حقوق کا لحاظ کریں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رشتہ جوڑنے والا وہ
نہیں جو بدلہ چکائے بلکہ جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے
جوڑ دے۔ (بخاری،4/98، حدیث: 5991)
نیکی کی تلقین: رشتہ داروں کی دینی تربیت کرتے رہنا
چاہیے اور ان کو شرعی مسائل سیکھانے چاہیے اور نیکی کی دعوت دینی چاہیے۔
مالی امداد: اگر رشتہ دار غریب ہوں تو ان کی
ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے اور وقتا فوقتا ان کی مال مدد کرتے رہنا چاہیے۔
عیادت کرنا: اگر یہ بیمار ہوں تو ان کی مزاج پرسی
کرنا اور ان کو حوصلہ و تسلی اور صبر و ہمت کی تلقین کرنا۔
غمی اور خوشی میں شریک ہونا: رشتہ داروں کی خوشی
اور غمی میں ضرور شرکت کریں خوشی کے موقع پر مبارک باد دیں اور غمی کے موقع پر صبر
کی تلقین کرنا۔
قطع رحمی سے بچنا: جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ انہوں نے اللہ کے نبی ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: رشتے ناطے کو کاٹنے والا
جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(مسلم، ص 1383، حدیث: 2556)
ذو رحم رشتہ داروں کے 5 حقوق از بنت
محمد خلیل، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
دین اسلام میں حقوق العباد کی بہت زیادہ اہمیت ہے،
بلکہ احادیث میں یہاں تک ہے کہ حقوق اللہ پورا کرنے کے باوجود بہت سے لوگ حقوق
العباد میں کمی کی وجہ سے جہنم کے مستحق ہوں گے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو
کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم اور ساز و
سامان نہ ہو۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز،
روزہ اور زکوٰۃ (وغیرہ اعمال) لے کر آئے اور ا س کا حال یہ ہو کہ اس نے(دنیا میں) کسی کو گالی دی تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی، کسی
کا مال کھایا تھا، کسی کا خون بہایا تھا اور کسی کو مارا تھا تو ان میں سے ہر ایک
کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور ان کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اگر اس کی
نیکیاں (اس کے پاس سے) ختم ہوگئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے،پھر اسے
جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔ (مسلم، ص 1394،
حدیث: 2581)
جہاں دین اسلام میں دیگر لوگوں کے حقوق بیان کیے
گئے ہیں وہیں رشتہ داروں کے بھی حقوق کا بیان ہے۔ اللہ پاک پارہ 5 سورہ النساء کی
آیت نمبر 36 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ
لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی
الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ
الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا
مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا
فَخُوْرَاۙﰳ (۳۶) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کی بندگی کرو اور اس
کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں
اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر
اور اپنی باندی غلام سے بے شک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے
والا۔
خیال رہے رشتہ داروں کے کئی حقوق ہیں جن میں سے چند
یہ ہیں:
حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: توڑنے والا جنت
میں داخل نہیں ہوگا۔ حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:یعنی خونی رشتوں کو توڑنے
والا۔ (مسلم، ص 1383، حدیث: 2556)
رشتہ داروں سے حسن سلوک کرنا: ان سے حسن سلوک یہ ہے
کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کرے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی
اکرم ﷺ نےارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر
لمبی ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ (بخاری، 2 / 10، حدیث: 2067)
صلۂ رحمی کا مطلب بیان کرتے ہوئے صدرالشریعہ
مولانا امجد علی اعظمی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: صلۂ رحم کے معنی رشتہ کو جوڑنا
ہے، یعنی رشتہ والوں کے ساتھ نیکی اور سلوک کرنا، ساری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ
صلۂ رحم واجب ہے اور قطع رحم (یعنی رشتہ کاٹنا) حرام ہے۔ (بہار شریعت، 3 / 558، حصہ: 16)
رشتہ داروں کو نیکی کی دعوت: مسلمانوں کو چاہیے کہ
وہ ایمان اور نیک اعمال پر ثابت قدم رہ کر اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں، عزیز و
اقارب کو جہنم کی آگ سے بچائیں اور اس مقصد کے لئے انفرادی اور اجتماعی دونوں
طریقوں سے نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا چاہئے۔
رشتہ داروں پر صدقہ کرنا: حضرت سلمان بن عامررضی
اللہ عنہ سے مروی ہے،تاجدار رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایارشتہ دار کو صدقہ دینے میں دو
ثواب ہیں ایک صدقہ کرنے کا اورایک صلہ رحمی کرنے کا۔ (ترمذی، 2 / 142، حدیث: 658)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے،سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: سب سے ا فضل صدقہ کنارہ کشی اختیار کرنے والے
مخالف رشتہ دار پر صدقہ کرنا ہے۔ (معجم کبیر، 4 / 138،
حدیث: 3923)
عزت،جان،مال کی حفاظت: ایک مسلمان کی عزت، مال اور
اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، ان کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان
بھائی کی عزت کو پامال کرے، اس کے مال میں ناجائز تصرف کرے یا اس کے خون کی حرمت
کو پامال کرے۔
Dawateislami