نبی اکرم ﷺ کا سوال و جواب کے ذریعے تعلیم و ترب یت کا انداز اس قدر جامع اور مؤثر تھا کہ اس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ نے اس طریقے سے نہ صرف پیچیدہ احکام اور اخلاقی اصولوں کو عام فہم بنایا بلکہ لوگوں کو خود سوچنے اور حقائق کی گہرائی تک پہنچنے کا درس بھی دیا۔ پہلی احادیث کے بعد یہاں پانچ مزید احادیث پیش کی جا رہی ہیں جو اس خوبصورت تربیتی اسلوب کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔

(1) مفلس کی حقیقت :حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے" صحابہ نے عرض کیا: "ہمارے درمیان مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار اور مال و اسباب نہ ہو۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا۔ پھر اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث:2581)

اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ایک عام فہم تصور "مفلس" کو ایک نیا معنی دیا۔ لوگ عام طور پر مفلس اس شخص کو سمجھتے ہیں جس کے پاس دنیا کا مال و دولت نہ ہو۔ آپ ﷺ نے اسی تصور سے بات شروع کی تاکہ صحابہ کی توجہ حاصل کر سکیں۔ پھر آپ نے اس کی حقیقی تعریف بیان فرمائی: اصل مفلس وہ نہیں جو دنیا میں خالی ہاتھ ہو، بلکہ وہ ہے جو آخرت میں نیکیوں کا پہاڑ لے کر آئے لیکن اخلاقی گناہوں کی وجہ سے سب کچھ گنوا بیٹھے۔ یہ طریقہ ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اصلی نقصان مالی نہیں، بلکہ اخلاقی ہے۔

(2) حقیقی طاقتور کون ہے:حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے نزدیک سب سے زیادہ طاقتور پہلوان کون ہے" لوگوں نے عرض کیا: "جو کسی کو کشتی میں پچھاڑ دے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ نہیں، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔"(صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث: 6114 اورصحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2609)

یہاں آپ ﷺ نے جسمانی طاقت کے عام معیار کو چیلنج کیا۔ لوگوں کے ذہن میں پہلوان یا فاتح طاقتور ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے اسی جواب کو بنیاد بنا کر فرمایا کہ اصل طاقت جسمانی نہیں، بلکہ اخلاقی اور روحانی ہے۔ یہ طاقت ہے اپنے غصے اور جذبات پر قابو پانے کی۔ اس طرح آپ نے ایک عام سی بات (کون طاقتور ہے) کے ذریعے ایک انتہائی اہم اخلاقی سبق سکھایا جو آج بھی معاشرے میں درگزر اور صبر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے علم کو صرف منتقل نہیں کیا بلکہ اسے سوال کے ذریعے ذہن میں راسخ کر کے عملی زندگی کا حصہ بنایا۔


  کہا جاتا ہے کہ سوال بھی آدھا جواب ہوتا ہے اگر سوال سمجھ میں آگیا تو آدھا جواب سمجھ میں آ گیا اور کبھی کبھار سوال اس لئے بھی کیا جاتا ہے تاکہ سامنے والا متوجہ ہوجائے کہ ابھی جو بات ہوگی بہت اہم ہے آئے ملاحظہ کرتے ہیں کہ کیا نبی پاک ﷺ نے بھی سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی :

علم کے بارے آقا ﷺ کا تربیت فرمانا :حضرت سید انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک صاحب ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں سب سے زیادہ جود و کرم والے کے بارے میں خبر نہ دوں اللہ عزو جل سب سے زیادہ جود و کرم والا ہے اور میں اولاد آدم علیہ اسلام میں سب سے زیادہ سخی ہوں اور میرے بعد ان میں سے زیادہ سخی وہ شخص ہے جو علم حاصل کرے پھر اپنے علم کو پھیلائے ، اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا اور ان کے بعد سب سے سخی وہ شخص ہے جو اللہ عزوجل کی رضا کے حصول کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا جائے۔(مسند ابو یعلی، مسند انس بن مالک ، رقم 2782، ج 3، ص 16)

تم ہلاک نہ ہوگے: حضرتِ سیدنا ابو شُرَیْح خُزَاعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہمارے ہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ'' کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ عزوجل کا رسول ہوں ''ہم نے عرض کیا،'' کیوں نہیں ۔''تو فرمایا کہ'' بیشک اس قرآن کا ایک کنارہ اللہ عزوجل کے دست قدرت میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھو ں میں ہے، لہٰذااسے مضبوطی سے تھا م لو کہ اس کے بعد تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے اورنہ ہی ہلاک ہو گے۔(طبرانی کبیر، تم 49، ج 2، ص 188)

سنت کو زندہ کیا سن لو!حضرت سید ناعمروبن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال جان لو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جان لوں فرمایا " جان لو کہ جس نے میری سنتوں میں سے ایک مردہ سنت کو زندہ کیا ، اسے اس سنت پر عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی اور جس نے ایسی بدعت ایجاد کی جس سے اللہ عز وجل اور اس کے رسول ﷺ راضی نہیں تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔( سنن ابن ماجه، کتاب السنته ، باب من احیاءته قد امتیت ، رقم 210 ، ج 1 ص 138)

یہ وہ احادیث مبارکہ ہیں جن میں آقا علیہ السلام نے سوالیہ طریقے سے اپنی امت کی تربیت فرمائی اور پتا چلا کہ سوالیہ انداز سے بھی تربیت کرنی چاہیے کہ اس کے بھی کافی فوائد ہیں۔


حضور نبی کریم  ﷺ نے بہت سے مقامات پر مسلمانوں کی اور صحابہ کرام کی تربیت فرمائی اور آپ ﷺ نے مختلف انداز میں مسلمانوں کی تربیت فرمائی اور انہیں میں سے ہم پانچ احادیث مبارکہ ایسی سنتے ہیں جس نبی کریم ﷺ نے اپنے غلاموں کی سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ہے۔

(1) سب سے بڑے گناہ:حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں وہ اللہ پاک کے ساتھ شرک کرنا والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہے ۔ ( مسند احمد بن حنبل ، جلد نمبر : 7 ، صفحہ نمبر : 306 ، حدیث نمبر : 20407 )

(2) سب سے زیادہ میرا محبوب : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایک مجلس میں تین مرتبہ فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میرا محبوب اور میرے قریب تر مجلس والا کون ہوگا ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔ ( مسند احمد بن حنبل ، صفحہ نمبر : 501 ، حدیث نمبر : 1486 مکتبہ امام احمد رضا )

(3) بندوں پر اللہ عزوجل کا کیا حق ہے : حضرت سیدنا معاذ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دراز گوشت یعنی گدھے پر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا اے معاذ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ عزوجل کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ عزوجل پر کیا حق ہے میں نے عرض کی اللہ عزوجل اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ عزوجل پر حق یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اللہ عزوجل اس کو عذاب نہ دے پھر میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا انہیں یہ بشارت مت دینا ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔(فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : امید کا بیان ، جلد نمبر : 4 ، صفحہ نمبر : 504 ، حدیث نمبر : 426 مکتبتہ المدینہ )

( 4 ) خود کو بڑا سمجھنے والا :حضرت سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کی خبر نہ دوں ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جائے اگر وہ اللہ عزوجل کے کرم پر اعتماد کرتے ہوئے قسم کھا لے تو اللہ عزوجل اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے گا کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کی خبر نہ دوں ہر وہ شخص جو سخت مزاج بخیل اور خود کو بڑا سمجھنے والا ہو ۔( فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : کمزور مسلمانوں کی فضیلت ، جلد نمبر : 2 ، صفحہ نمبر : 378 ، حدیث نمبر : 252 مکتبتہ المدینہ )


نبی اکرم ﷺ کا سوال و جواب کے ذریعے تعلیم و تربیت کا انداز اس قدر جامع اور مؤثر تھا کہ اس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ نے اس طریقے سے نہ صرف پیچیدہ احکام اور اخلاقی اصولوں کو عام فہم بنایا بلکہ لوگوں کو خود سوچنے اور حقائق کی گہرائی تک پہنچنے کا درس بھی دیا۔ پہلی احادیث کے بعد یہاں پانچ مزید احادیث پیش کی جا رہی ہیں جو اس خوبصورت تربیتی اسلوب کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔

(1) دین کی حقیقت:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: "یا رسول اللہ، مجھے بتائیں کہ اللہ نے مجھ پر کیا فرض کیا ہے" آپ ﷺ نے فرمایا: "پانچ نمازیں، مگر تم نفلی نماز بھی پڑھ سکتے ہو۔ رمضان کے روزے، مگر تم نفلی روزے بھی رکھ سکتے ہو۔ زکوٰۃ فرض ہے، اگر تم مزید دینا چاہو تو صدقہ کر سکتے ہو۔ حج فرض ہے، اگر تم مزید کرنا چاہو تو نفل بھی کر سکتے ہو۔" )صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث: 48(

یہ حدیث اس بات کی بہترین مثال ہے کہ آپ ﷺ نے مخاطب کی ذہنی سطح کے مطابق تعلیم دی۔ جب ایک دیہاتی نے سوال کیا تو آپ نے اسے دین کی پیچیدگیوں میں نہیں الجھایا۔ اس کے بجائے آپ نے اسلام کے بنیادی ارکان (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج) کو براہِ راست اور صاف الفاظ میں بیان فرمایا۔

(2)مفلس کی حقیقت:حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے" صحابہ نے عرض کیا: "ہمارے درمیان مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار اور مال و اسباب نہ ہو۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا۔ پھر اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔)صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث2581(

اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ایک عام فہم تصور "مفلس" کو ایک نیا معنی دیا۔ لوگ عام طور پر مفلس اس شخص کو سمجھتے ہیں جس کے پاس دنیا کا مال و دولت نہ ہو۔ آپ ﷺ نے اسی تصور سے بات شروع کی تاکہ صحابہ کی توجہ حاصل کر سکیں۔ پھر آپ نے اس کی حقیقی تعریف بیان فرمائی: اصل مفلس وہ نہیں جو دنیا میں خالی ہاتھ ہو، بلکہ وہ ہے جو آخرت میں نیکیوں کا پہاڑ لے کر آئے لیکن اخلاقی گناہوں کی وجہ سے سب کچھ گنوا بیٹھے۔ یہ طریقہ ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اصلی نقصان مالی نہیں، بلکہ اخلاقی ہے۔

(3)لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: "یا رسول اللہ، لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔")سنن ترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2026(

یہاں سوال بہت عام تھا، اور آپ کا جواب اس سے بھی زیادہ جامع اور عام فہم تھا۔ بجائے اس کے کہ آپ کسی خاص عمل (مثلاً زیادہ نمازیں یا روزے) کا ذکر کرتے، آپ نے انسانی کردار اور اخلاق کو سب سے بہترین قرار دیا۔ آپ ﷺ کا یہ اصول ہے کہ دین کا مقصد اخلاقیات کی تکمیل ہے۔ آپ نے سوال کے جواب میں ایک ایسی بنیادی صفت کی نشاندہی کی جو ہر عمل کی بنیاد ہے۔

(4)حقیقی طاقتور کون ہےحدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے نزدیک سب سے زیادہ طاقتور پہلوان کون ہے" لوگوں نے عرض کیا: "جو کسی کو کشتی میں پچھاڑ دے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ نہیں، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔" ​(صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث: 6114 اورصحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2609)

یہاں آپ ﷺ نے جسمانی طاقت کے عام معیار کو چیلنج کیا۔ لوگوں کے ذہن میں پہلوان یا فاتح طاقتور ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے اسی جواب کو بنیاد بنا کر فرمایا کہ اصل طاقت جسمانی نہیں، بلکہ اخلاقی اور روحانی ہے۔ یہ طاقت ہے اپنے غصے اور جذبات پر قابو پانے کی۔ اس طرح آپ نے ایک عام سی بات (کون طاقتور ہے) کے ذریعے ایک انتہائی اہم اخلاقی سبق سکھایا جو آج بھی معاشرے میں درگزر اور صبر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے علم کو صرف منتقل نہیں کیا بلکہ اسے سوال کے ذریعے ذہن میں راسخ کر کے عملی زندگی کا حصہ بنایا۔


اللہ تعالی نے نبی کریم  ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے آئیے ہم بھی آپ ﷺ کا سوالیہ انداز میں تربیت فرمانا ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) حرمت ظلم کا بیان :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہومفلس کون ہے‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’میری اُمَّت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں گی- پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن کے گناہ اُس پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:3 حدیث نمبر:218 )

(2) خوف خدا کا بیان :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی : ( یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ) (پ30،الزلزال : ) (ترجمۂ کنزالایمان : اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی ۔ ) پھر فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہو زمین کی خبریں کیا ہیں ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم زیادہ جانتے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ” بے شک زمین کی خبریں یہ ہیں کہ وہ زمین کل بروزِ قیامت ہر مَرد اورعورت کے اُن اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کیے اور وہ زمین کہے گی : تو نے فلاں دن یہ عمل کیا اور فلاں دن فلاں کام کیا ۔ یہ ہیں اس کی خبریں ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 , حدیث نمبر:408 )

(3) فضیلت قل ھو اللہ احد : ترجمہ: نبی پاک، صاحب لولاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ہر رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہے ہمیں بہت مشکل ہوئی کہ کہیں آپ ہمیں وہ حکم نہ دے دیں جس کی ہمیں طاقت نہیں لہٰذا ہم خاموش ہی رہے تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: کیا تم عاجز ہو پھر ارشاد فرمایا: جس نے رات میں اَللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ(یعنی سورۃٔ اخلاص)پڑھی یقیناً اس نے رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کی۔ ( صحیح بخاری شریف کتاب: ابواب فضائل قران جلد 2 صفحہ نمبر 255 حدیث نمبر 5015 )

(4) تقدیر پر ایمان لانے کا بیان : حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضورِ اکرم ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے، دستِ اَقدس میں دو کتابیں تھیں۔ اِستِفسار فرمایا:”کیا تم جانتے ہو ان کتابوں میں کیا ہے“صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان عرض گزار ہوئے:”یارسولَ اللہ ﷺ ! آپ کے بغیر بتائے نہیں جانتے۔“حضورِ اکرم ﷺ نے داہنے ہاتھ کی کتاب کے بارے میں ارشاد فرمایا:”یہ کتاب ربُّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں جنتیوں، ان کے آباء واجداد اور قبیلوں کے نام ہیں، آخرمیں اس کا ٹوٹل لگادیاگیاہے پس ان میں کمی ہوسکتی نہ زیادتی۔ “پھر بائیں ہاتھ والی کتاب کے متعلق ارشاد فرمایا:”یہ کتاب ربُّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں دوزخیوں، ان کےآباء واجداداورقبیلوں کے نام ہیں پھرآخر تک کا حساب لگادیا گیا پس ان میں کمی ہوسکتی نہ زیادتی۔“صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:”یارسولَ اللہ ﷺ ! اگر یہ معاملہ انجام پاچکا ہے تو ہم عمل کیوں کرتے ہیں“ارشاد فرمایا:”سیدھے رہو اور قربِ الٰہی حاصل کرو(یعنی نیک اعمال اور دُرست عقائد پرقائم رہو) جنتی کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے کچھ عمل کرے اور یقیناً دوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے کچھ عمل کرے۔“پھر دونوں کتابوں کو دست مبارک میں دبالیا اور ارشاد فرمایا:”تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّ بندوں کے متعلق فیصلہ فرماچکا ہے سیدھی جانب والا گروہ جنتی ہے اور اُلٹی جانب والا دوزخی ہے۔ ( کتاب: مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:96 )

(5)باب: الحب فی اللہ والبغض فی اللہ :حضرت ابوذررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام ہم لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے پسندیدہ ہے کسی نے کہا نماز اور زکوۃ، کسی نے کہا جہاد ، حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل ’’الْحُبُّ فِی اللہ وَالْبُغْضُ فِی اللہ ‘‘ہے یعنی خدا ہی کے لیے کسی سے محبت کرنا اور خدا ہی کے لیے کسی سے بیزار رہنا۔(انوار الاحادیث مکتبۃ المدینہ)

اللہ تعالی ہمیں نبی کریم ﷺ کی ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( ٰامین)


نبی پاک ﷺ  نے اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی مختلف انداز میں تربیت فرمائی کبھی اشارے سے کبھی نقشہ بنا کر اور بھی بہت سارے طریقوں سے تربیت فرمائی اور ان میں سے ایک بہت ہی مفید طریقہ سوال کر کے تربیت کرنا ہے آئیے ان میں سے چند احادیث سنتے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ نے اس انداز سے تربیت فرمائی:

(1)روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لکڑی اپنے سامنے گاڑی اور دوسری اس کے برابر اور تیسری اس سے بہت دور پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے صحابہ نے عرض کیا ﷲ رسول خوب جانیں،فرمایا یہ انسان ہے اور یہ موت ہے۔ مجھے خیال ہے کہ فرمایا اوریہ امید ہے انسان امیدوں میں مشغول رہتا ہے مگر اسے امید سے پہلے موت پہنچ جاتی ہے ۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 ، حدیث نمبر:5278 )

(2)روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول الله ﷺ تشریف لائیے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کون سا عمل الله تعالٰی کو زیادہ پسند ہے کسی کہنے والے نے کہا کہ نماز اور زکوۃ اور کسی کہنے والے نے کہا جہاد نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالٰی کو بہت پیاراعمل الله کی راہ میں محبت اور الله کی راہ میں عداوت ہے ۔ (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:5021)

(3)روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ. (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4832)

(4)حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہومفلس کون ہے‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’میری اُمَّت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن (مظلو موں ) کے گناہ اُس(ظالم) پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:3 , حدیث نمبر:218)


رسول اللہ نے ہماری تربیت مختلف انداز سے فرمائی کبھی اشارے سے اور کبھی مثالوں سے اور کبھی سوالیہ انداز میں آج میں کچھ احادیث وہ ذکر کرتا ہوں جس میں رسول اللہﷺ نے سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی:

(1) حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم ﷺ ہم سے پوچھنے لگے اسلام کی کون سی رسی سب سے زیادہ مضبوط ہے صحابہ کرام نے عرض کیا نماز نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت خوب اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا زکوۃ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت خوب اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا جہاد نبی کریم ﷺ نے بہت خوب کہہ کر فرمایا ایمان کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ تم اللہ تعالی کی رضا کے لیے کسی سے محبت یا نفرت کرو۔( مسند امام احمد بن حنبل جلد 7 حدیث نمبر1146 کتب خانہ امام احمد رضا)

(2) حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا کیا میں تمہیں بڑے گناہوں کے بارے میں خبر نہ دوں صحابہ کرام نے عرض کی کیوں نہ یا رسول اللہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا والدین کی نافرمانی کرنا۔ (صحیح بخاری جلد 1حدیث نمبر 2654)

(3) معاذ بن جبل فرماتے ہیں ہم رسول الله کے ساتھ سفر میں تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہاری خیر کے دروازے پر رہنمائی نہ فرماوں روضہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو ایسے مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بندے کی آدھیرات کی نماز ۔[جامع ترمزی ابواب الایمان جلد 2حدیث نمبر2570]

(4) زید بن خالد فرماتے ہیں رسول الله ﷺنے حدیبیہ کے مقام پر صبح کی نماز پڑھائی آسمان کے ساۓ کے نیچے رات کو پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوے پس فرمایا کیا تم جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتا ہے راوی فرماتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا میرے بندوں میں سے مجھ پر ایمان لانے والا اور میرا انکار کرنے والا صبح کرتا ہے پس جو کہتا ہے ہم پر بارش برسی اللہ کے فضل سے اور رحمت سے پس وہ اسی کے ساتھ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستاروں کا انکار کرنے والا ہے بہر حال جو کہے ہم پر بارش برسی ایسے ایسے وہ میرا انکار کرنے والا ہے اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے۔[ موطا امام مالک باب الاستمطار بانجوم حدیث 445مکتبہ شبیر برادرز]

[5]حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ کاایک بھیڑکےمرے ہوئے بچے پر گزرہوا فرمایا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ یہ اسے ایک درھم کے بدلے ملے صحابہ نے عرض کیاہم نہیں چاہتے کہ یہ ہمیں کسی بھی چیز کے عوض ملے تو فرمایا اللہ کی قسم دنیا اللہ کو اس سے زیادہ ذلیل ہےجیسے یہ تمہارے نزدیک۔ [مشکوۃ المصابیح باب الرقاق فصل اول حدیث نمبر 4927]

یہ وہ چند احادیث جو میں نے ذکر کی ہیں جس میں رسول اللہ نے سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ہے۔


انسانی عقل و شعور کو بیدار کرنے کے لیے سوال ایک نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔ جب کسی کے سامنے سوال رکھا جائے تو اس کا ذہن فوراً متوجہ ہو جاتا ہے، سوچنے پر مجبور ہوتا ہے اور جواب تلاش کرنے لگتا ہے۔ یہی حکیمانہ انداز سب سے زیادہ کارگر ہے، کیونکہ اس سے سننے والا محض سامع نہیں رہتا بلکہ شریکِ گفتگو بن جاتا ہے۔ یہی اندازِ تربیت نبی کریم ﷺ نے اپنایا۔ آپ ﷺ نے سوالیہ اسلوب کے ذریعے صحابۃ کرام رضی اللہ عنہم کو نہ صرف علم عطا فرمایا بلکہ ان کے دلوں میں معانی و مفاہیم راسخ کر دیے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی تربیت یافتہ جماعت علم و کردار کے اعتبار سے دنیا کی سب سے عظیم جماعت بن کر ابھری۔

چند روشن مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

(1) اللہ کا بندے پر اور بندے کا اللہ پر حق:حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا:اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے"میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے جو شرک سے بچے رہیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 2856؛ صحیح مسلم، حدیث: 144)

(2)حقیقی مفلس کونتاجدارِ رِسالت ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:کیا تم لوگ جانتے ہو کہ مفلس کون ہےصحابہ نے عرض کی: جس شخص کے پاس درہم اور دوسری قسم کا مال نہ ہو وہ مفلس ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میری امت میں سب سے بڑا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسی نیکیاں لے کر آئے گا مگر اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا… پھر سب لوگ اس کی نیکیاں لے جائیں گے اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(صحیح مسلم، حدیث: 6579)

(3)مومن مرد کی مثال درخت:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:ہم حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:مجھے اس درخت کے بارے بتاؤ جو مردِ مومن کی مثل ہے، اس کے پتے نہیں گرتے اور وہ ہر وقت پھل دیتا ہےحضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن بڑے صحابہ خاموش تھے اس لیے میں بھی خاموش رہا۔ جب سب نے جواب نہ دیا تو حضور ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم بتا دیتے تو مجھے بہت خوشی ہوتی۔(صحیح بخاری، حدیث: 4698)

(4) نماز کی مثال:رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گاصحابہ نے عرض کی: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں نمازوں کی ہے، اللہ پاک ان کے ذریعے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 528)

پیارے اسلامی بھائیو! سوالیہ اندازِ تربیت دراصل ایک ایسی حکمتِ نبوی ہے جو تعلیم کو مؤثر اور پائیدار بنا دیتی ہے۔ رسولُ اللہ ﷺ نے اس انداز سے اُمت کو یہ سبق دیا کہ علم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ فکر کو جگانا، دل کو نرم کرنا اور کردار کو سنوارنا ہے۔ آج کے اساتذہ، والدین اور داعیانِ دین اگر اپنے طرزِ گفتگو اور تربیت میں اس سنت کو زندہ کریں تو ان کی بات بھی لوگوں کے دلوں میں اترے گی، سننے والے سوچنے پر مجبور ہوں گے اور عملی زندگی میں تبدیلی آئے گی۔اللہ پاک ہمیں بھی اپنی انفرادی اور اجتماعی تربیت میں یہ مبارک سنت اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری زبان و قلم کو ایسا اثر عطا کرے جو دلوں کو بدل دے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین ﷺ۔


اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت اور ہادی بنا کر بھیجا۔ حضور ﷺ نے خود ارشاد فرمایا:" اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا"ترجمہ: مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے.(سنن ابن ماجہ، کتاب ال، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم،حدیث 229)۔

انسان کی فطرت ہے کہ وہ سوال کے جواب کو زیادہ توجہ سے سنتا اور یاد رکھتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے مؤثر طریقوں میں سے ایک طریقہ سوالیہ انداز ہے۔ قرآن پاک میں بھی یہ طریقہ استعمال کیا گیا ہے اور حضور ﷺ نے بھی صحابہ کی اس انداز میں تربیت فرمائی۔ سوالیہ انداز کے بارے میں قرآن پاک کی ایک آیت اور تین احادیث ملاحظہ کیجئے:

اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ پر وحی نازل فرمائی کہ آپ اہل کتاب سے پوچھیں:

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَؕ-اُولٰٓىٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ(۶۰)

ترجمہ کنز العرفان: اے محبوب! تم فرماؤ: کیا میں تمہیں وہ لوگ بتاؤں جو اللہ کے ہاں اس سے بدتر درجہ کے ہیں ، یہ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو بندر اور سور بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی عبادت کی، یہ لوگ بدترین مقام والے اور سیدھے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ۔ (سورۃ مائدہ، آیت 60)

نماز کی فضیلت بتانا:حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بتاؤ تو! کسی کے دروازے پر نہر ہو وہ اس میں ہر روز پانچ بار غسل کرے کیا اس کے بدن پر میل رہ جائے گا" صحابہ نے عرض کی: نہیں۔حضور ﷺ نے فرمایا: "یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے کہ اللہ ان کے سبب خطاؤں کو مٹا دیتا ہے"۔ (صحیح بخاری، کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الصلوات الخمس کفارہ، صفحہ 139، حدیث 528، دار ابن کثیر)

بہترین اور بدترین لوگ:اسما بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے "رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: أَلَا أُخْبِرُکُم بِخِیَارِکُم کیا میں تمہیں تمھارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں صحابہ نے عرض کی: کیوں نہیں ۔آپ نے فرمایا"وہ لوگ کہ جب ان کو دیکھا جاۓ تو اللہ کی یاد آۓ" پھر فرمایا:أَفَلَا أُخْبِرُکُم بِشِرَارِکُم "کیا میں تمہیں تمہارے سب سے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں"۔صحابہ نے عرض کی :کیوں نہیں۔آپ نے فرمایا "وہ لوگ جو چغلی کرتے ہیں، محبت والوں کے درمیان فساد ڈالتے ہیں، اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں"۔ (الادب المفرد، باب النمام, حدیث 323، صفحہ 115/116، دار الصدیق)

مفلس کون ہے:حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: "أَتَدْرُوْنَ مَا الْمُفْلِسُ" کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ نے عرض کی: "ہم میں سے مفلس وہ ہے کہ جس کے پاس درہم اور سامان نہ ہو"۔آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے گا مگر ساتھ ہی اس نے کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر تہمت لگائی ہوگی کسی کا مال کھایا ہوگا تو اس کی نیکیاں اُن لوگوں کو دے دی جائیں گی یہاں تک کہ اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور پھر اُن کے گناہ اِس پر ڈالے جائیں گے پھر اِسے جہنم میں ڈال دیا جائےگا"۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ ولآداب، باب تحریم الظلم، صفحہ 829، حدیث 2581، دار الحضارۃ)

حضور ﷺ نے اپنی امت کی تربیت کے لیے سوالیہ انداز کے طریقے کو بھی اپنایا کیونکہ یہ انداز نہ صرف دلچسپ بلکہ سننے والے کے ذہن پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اسی لیے ہمارے مبلغین و واعظین کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اس طریقے کو اپنائیں۔تاکہ سننے والا علم دین سیکھنے میں دلچسپی لے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز انتہائی مؤثر، حکمت سے بھرپور اور جامع تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی ذہنی سطح اور نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف طریقوں سے انہیں دین کی باتیں سکھائیں، اور انہی طریقوں میں سے ایک اہم طریقہ سوالیہ انداز تھا۔ اس طریقے میں آپ ﷺ براہِ راست حکم دینے کے بجائے خود سوال کرتے تھے یا کسی اور کے سوال کے جواب میں حکمت کی باتیں بیان فرماتے تھے۔ اس طریقہ کار کے پیچھے کئی اہم مقدمات (مقاصد یا وجوہات) کارفرما تھے:

(1)مال کا استعمال :ابو اسحاق ابو احوص سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس میلے کپڑوں کے ساتھ آیا تو اس شخص کے لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس مال ہے عرض کی جی ہاں ہر طرح کا مال ہے تو آپ نے فرمایا کون سا مال ہے تو عرض کی کہ اللہ تعالی نے مجھے اونٹ گائے بکریاں گھوڑے اور غلام عطا کیے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ تبارک و تعالی تجھے مال عطا فرماتا ہے تو وہ آپ پر اپنی نعمت کا اثر کو پسند فرماتا ہے۔(سنن النسائی ج،2 باب زینت ، الجلاجل ، حدیث 5224، ص 751)

(2)صلہ رحمی کرنا:امیر المومنین حضرت سیدنا مولا مشکل کشا شیر خدا کرم اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا میں اگلوں اور پچھلوں کے بہترین اخلاق کے متعلق تمہاری رہنمائی نہ کروں میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ضرور ارشاد فرمائیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کر دو جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو۔(شعبۃ الایمان باب تہداریوں کو برقرار رکھنے کے بارے میں ج 6 ص 222)

(3) اچھا اخلاق:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تمہیں یہ بات نہ بتا دوں کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میری نگاہوں میں محبوب اور میرے قریب تر مجلس والا کون ہوگالوگ خاموش رہے نبی کریم ﷺ نے دو تین مرتبہ اس بات کو دہرایا تو لوگ کہنے لگے جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔(مسند امام احمد بن حنبل مترجم ج،3 ص، 390 حدیث 1194 مکتبہ کتب خانہ امام احمد رضا خان )

(4)محبت بڑھنا:عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْئٍ إِذَا فَعَلْتُمُوہُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو تمہارے درمیان محبت بڑھے اور وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو رواج دو۔ (انوار الحدیث باب المصالحہ ص،377 مکتبۃ المدینہ)


(3) پانچوں نمازوں کی مثال:  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی شخص کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں ہر دن میں پانچ مرتبہ غسل کرے کیا اس پر کوئی میل باقی رہے گی تو انہوں نے کہا اس پر میل باقی نہیں رہے گی تو فرمایا کہ یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ اللہ اس کے ساتھ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے ۔(صحیح بخاری جلد 1،باب صلاۃ الخمس۔۔۔۔حدیث نمبر528)

(4) نماز کا انتظار : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : حضور انور ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ ختم کر دے اور درجات میں اضافہ فرمائی صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول الله ! ہاں ' آپ ﷺ نے فرمایا: جب طبیعت مائل نہ ہو اس وقت بہترین وضو کرنا زیاده قدم چل کر مسجد میں جانا اور ایک نماز سے فراغت پر دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی تیاری ہے ' یہی تیاری ہے ' یہی تیاری ہے۔ (كتاب : الترغيب والتربيب ، باب : كتاب الطهارة ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 174 ، حدیث نمبر : 305 ، مکتبہ شبیر برادرز )

(5) جنتی کلمہ: حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ میں تیری رہنمائی ایسے کلمے پر نہ کروں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کون سا کلمہ ہے تو ارشاد فرمایا کہ وہ کلمہ لا حول ولا قوة الا باللہ ہے۔ (صحیح مسلم، كتاب الذكر باب استحباب، جلد 1،حديث 2704)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ان احادیث میں جو کچھ بیان ہوا اس پر عمل کرنے اور دوسروں پر انفرادی کوشش کر کے ان کو عمل کروانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین


اسلام صرف ایک عبادتی نظام نہیں، بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اور نبی کریم محمد  ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلّمِ کامل اور مربیِ اعظم بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امت کو سکھانے کے لیے ایسے ایسے مؤثر طریقے اپنائے جو تعلیم و تربیت کی دنیا میں آج بھی رہنمائی کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔

آپ ﷺ کی تعلیمات کا انداز نہ صرف حکمت و دانائی سے بھرپور تھا، بلکہ انتہائی فطری، نفسیاتی، اور سنجیدہ بھی تھا۔ انہی میں سے ایک مؤثر طریقہ "سوالیہ انداز سے تربیت فرمانا" تھا۔ نبی کریم ﷺ سامعین کی توجہ مبذول کرانے، ان کے ذہنوں کو متحرک کرنے، اور انہیں غور و فکر پر آمادہ کرنے کے لیے اکثر سوالات فرمایا کرتے تھے۔

(1)سب سے بڑے گناہ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِثلاثًا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَجَلَسَ، وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ، أَلَا وَشَهَادَةُ الزُّورِ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں" (یہ بات آپ نے تین بار دہرائی)صحابہ نے عرض کیا: "جی ہاں، یا رسول اللہ!"آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک، والدین کی نافرمانی۔"پھر آپ ﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا: "خبردار! جھوٹی بات کہنا، جھوٹی گواہی دینا!"(یہ بات اتنی بار دہرائی کہ صحابہ نے تمنا کی کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔)(صحیح البخاری، حدیث: 5976 ص 409 ج2)

( 2 )مفلس کون ہے: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:"کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے"صحابہ نے عرض کیا: "ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ مال ہو، نہ سامان۔"آپ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکات لے کر آئے گا، لیکن کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا... تو اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی، اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"(صحیح مسلم، حدیث: 2581)

( 3 ) کیا تمہیں معلوم ہے غیبت کیا ہے: أَنَّهُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْغِيبَةُقَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے پوچھاگیا غیبت کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا:"تم اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرو جسے وہ ناپسند کرے ۔(سنن ابی داؤد، حدیث: 4874)

رسول اللہ ﷺ کا اندازِ تربیت ہر پہلو سے کامل اور ہمہ گیر تھا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف سکھایا بلکہ ایسے طریقے سے سکھایا کہ وہ تعلیم دل میں اتر جائے اور عمل میں ڈھل جائے۔ ان میں سے سب سے مؤثر انداز، جسے آج کی تعلیمی دنیا میں بھی مثالی سمجھا جاتا ہے، وہ تھا سوالیہ انداز سے سمجھانا اور سکھانا۔

نبی کریم ﷺ کے یہ سوالات محض علم جانچنے کے لیے نہیں ہوتے تھے، بلکہ سامع کو سوچنے، رکنے، اور حقیقت کو پہچاننے پر مجبور کر دیتے تھے۔اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں ان تمام احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہین خاتم النبیین ﷺ