اللہ تعالی نے نبی کریم  ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے آئیے ہم بھی آپ ﷺ کا سوالیہ انداز میں تربیت فرمانا ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) حرمت ظلم کا بیان :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہومفلس کون ہے‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’میری اُمَّت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں گی- پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن کے گناہ اُس پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:3 حدیث نمبر:218 )

(2) خوف خدا کا بیان :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی : ( یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ) (پ30،الزلزال : ) (ترجمۂ کنزالایمان : اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی ۔ ) پھر فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہو زمین کی خبریں کیا ہیں ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم زیادہ جانتے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ” بے شک زمین کی خبریں یہ ہیں کہ وہ زمین کل بروزِ قیامت ہر مَرد اورعورت کے اُن اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کیے اور وہ زمین کہے گی : تو نے فلاں دن یہ عمل کیا اور فلاں دن فلاں کام کیا ۔ یہ ہیں اس کی خبریں ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 , حدیث نمبر:408 )

(3) فضیلت قل ھو اللہ احد : ترجمہ: نبی پاک، صاحب لولاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ہر رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہے ہمیں بہت مشکل ہوئی کہ کہیں آپ ہمیں وہ حکم نہ دے دیں جس کی ہمیں طاقت نہیں لہٰذا ہم خاموش ہی رہے تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: کیا تم عاجز ہو پھر ارشاد فرمایا: جس نے رات میں اَللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ(یعنی سورۃٔ اخلاص)پڑھی یقیناً اس نے رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کی۔ ( صحیح بخاری شریف کتاب: ابواب فضائل قران جلد 2 صفحہ نمبر 255 حدیث نمبر 5015 )

(4) تقدیر پر ایمان لانے کا بیان : حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضورِ اکرم ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے، دستِ اَقدس میں دو کتابیں تھیں۔ اِستِفسار فرمایا:”کیا تم جانتے ہو ان کتابوں میں کیا ہے“صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان عرض گزار ہوئے:”یارسولَ اللہ ﷺ ! آپ کے بغیر بتائے نہیں جانتے۔“حضورِ اکرم ﷺ نے داہنے ہاتھ کی کتاب کے بارے میں ارشاد فرمایا:”یہ کتاب ربُّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں جنتیوں، ان کے آباء واجداد اور قبیلوں کے نام ہیں، آخرمیں اس کا ٹوٹل لگادیاگیاہے پس ان میں کمی ہوسکتی نہ زیادتی۔ “پھر بائیں ہاتھ والی کتاب کے متعلق ارشاد فرمایا:”یہ کتاب ربُّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں دوزخیوں، ان کےآباء واجداداورقبیلوں کے نام ہیں پھرآخر تک کا حساب لگادیا گیا پس ان میں کمی ہوسکتی نہ زیادتی۔“صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:”یارسولَ اللہ ﷺ ! اگر یہ معاملہ انجام پاچکا ہے تو ہم عمل کیوں کرتے ہیں“ارشاد فرمایا:”سیدھے رہو اور قربِ الٰہی حاصل کرو(یعنی نیک اعمال اور دُرست عقائد پرقائم رہو) جنتی کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے کچھ عمل کرے اور یقیناً دوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے کچھ عمل کرے۔“پھر دونوں کتابوں کو دست مبارک میں دبالیا اور ارشاد فرمایا:”تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّ بندوں کے متعلق فیصلہ فرماچکا ہے سیدھی جانب والا گروہ جنتی ہے اور اُلٹی جانب والا دوزخی ہے۔ ( کتاب: مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:96 )

(5)باب: الحب فی اللہ والبغض فی اللہ :حضرت ابوذررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام ہم لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے پسندیدہ ہے کسی نے کہا نماز اور زکوۃ، کسی نے کہا جہاد ، حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل ’’الْحُبُّ فِی اللہ وَالْبُغْضُ فِی اللہ ‘‘ہے یعنی خدا ہی کے لیے کسی سے محبت کرنا اور خدا ہی کے لیے کسی سے بیزار رہنا۔(انوار الاحادیث مکتبۃ المدینہ)

اللہ تعالی ہمیں نبی کریم ﷺ کی ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( ٰامین)