محمد
مصباح الدین (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان ابو عطار ملیر کراچی ،
پاکستان)
نبی
اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلمِ انسانیت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو حکمت و
دانائی کے ساتھ تعلیم دی۔ آپ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا ایک اہم انداز "سوالیہ
انداز" تھا، جس کے ذریعے آپ ﷺ صحابہ کرام کے ذہنوں میں بات راسخ فرماتے۔اس
متعلق قران مجید کی آیات مبارکہ سے ثبوت واضح ہو فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ
الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ(۴۳) ترجمہ (کنز الایمان): تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر
تمہیں علم نہیں ۔ سورۃ النحل (43)
(2) اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ
خُلِقَتْ(۱۷) ترجمہ
(کنز الایمان): تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا ۔ سورۃ الغاشیہ (17)
تفسیر
(صراط الجنان): یہ سوالیہ انداز ہے جس میں غوروفکر کی دعوت ہے تاکہ لوگ اللہ کی
قدرت کو پہچانیں۔
مزید
حضور پاک ﷺ کے اس خوبصورت انداز مبارکہ کے متعلق احادیث مبارکہ
ملاحظہ فرمائیے۔
آپ
ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہےصحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا
رسول زیادہ جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے بھائی کا وہ ذکر کرنا جو اسے
ناگوار ہو۔"(صحیح مسلم، حدیث: 2589)
آپ
ﷺ نے فرمایا:"کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے"صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک
مفلس وہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو۔آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو
قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لائے گا لیکن دوسروں کو گالی دی، تہمت لگائی، مارا،
مال کھایا ہوگا، تو ان کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور پھر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔"(ترمذی،
حدیث: 2417)
رسالت
مآب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا:"کیا تم جانتے ہو سب سے
بڑا گناہ کون سا ہے"صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ
ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی۔"(صحیح
بخاری، حدیث: 2654)
حضور
پاک ﷺ کے اس خوبصورت انداز مبارکہ کے متعلق چند حکایات ملاحظہ فرمائیے۔
(1)حضرت
علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبی ﷺ اکثر صحابہ سے سوال فرماتے تاکہ ان کے دل و
دماغ کو جگائیں۔ ایک بار آپ ﷺ نے پوچھا: "کیا جانتے ہو بہترین عمل کون سا
ہے" پھر وضاحت فرمائی کہ وہ ایمان باللہ ہے۔(مسند احمد، ج1، ص123)
(2)حضرت
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی ﷺ نے ایک بار پوچھا: "درختوں میں ایک
درخت ایسا ہے جو مسلمان کی مانند ہے، بتاؤ وہ کون سا ہے" صحابہ نے مختلف درخت
بتائے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ کھجور
کا درخت ہے۔"(بخاری، حدیث: 61)
(3)حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت:نبی ﷺ نے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو جنتی کون
ہے" پھر فرمایا: "جس سے لوگ امن میں رہیں اور وہ لوگوں کو نفع
پہنچائے۔"(مسند احمد، ج3، ص157)
پیارے
اسلامی بھائیو دیکھا اپ نے کہ حضور پاک ﷺ کس طرح صحابہ کرام سے سوالیہ
انداز میں گفتگو فرمایا کرتے تھے اور اپ کی گفتگو کا انداز نہایت ہی نرالا اور
خوبصورت ہوتا تھا جس سے صحابہ کرام کی بات کو بآسانی سن اور سمجھ لیا کرتے تھے ۔
رسول
اللہ ﷺ نے سوالیہ انداز کو تربیت کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ اس سے طلبہ کی سوچ کو
ابھارا جاتا ہے اور علم زیادہ پختہ ہوتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ سوال اور غوروفکر
کے ذریعے سیکھنے کی عادت ڈالیں۔ یہی اسوۂ نبوی ﷺ ہے۔
محمد
فضیل ساگر ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
رسول
اللہ ﷺ کے تربیتی اسالیب میں سے ایک نمایاں اور مؤثر اسلوب سوالیہ انداز ہے۔ اس
انداز کی خاص بات یہ ہے کہ سیکھنے والا صرف سننے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ سوچنے،
سمجھنے اور خود نکالنے کی طرف راغب ہوتا
ہے۔
سوالیہ
انداز سے مراد:سوالیہ انداز میں رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم
سے سوال فرماتے، تاکہ ان کی توجہ مرکوز ہو، وہ غور و فکر کریں اور پھر جواب سن کر
بات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
سوالیہ
انداز کی چند روشن مثالیں :
پہلی
مثال:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضی
اللہ عنہم سے پوچھا:
أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ "کیا
تم جانتے ہو مفلس کون ہے"صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: "ہم میں مفلس وہ
ہے جس کے پاس نہ درہم ہے نہ سامان۔"آپ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا،
وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ
حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ
يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ
فِي النَّارِ
ترجمہ:
"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر
اس نے کسی کو گالی دی ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون
بہایا ہو، کسی کو مارا ہو، تو اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی۔ اگر نیکیاں
ختم ہو گئیں اور مظلوموں کا حق باقی رہا تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے،
پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔"(صحیح مسلم، حدیث: 2581)
دوسری
مثال :حضرت ابوالدراءرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا
عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ
إِنْفَاقِ الذهبِ والوَرِقِ وخيرٍ لكم مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا
أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ " کیا میں تمہارے
سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی
تمہیں خبر نہ دوں وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل
تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم (میدان جنگ میں) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ
تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی" صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: "کیوں نہیں،
یا رسول اللہ!" آپ ﷺ نے فرمایا: ذِكْرُ
اللَّهِ "اللہ کا ذکر۔(سنن الترمذی، حدیث: 3377، صحیح)
سوالیہ
انداز کے فوائد:
1. دلچسپی میں اضافہ: سامع صرف سننے والا نہیں
رہتا بلکہ متجسس ہو جاتا ہے۔
2. یادداشت میں پختگی: جب انسان جواب سوچتا ہے تو
بات دیرپا یاد رہتی ہے۔
3. غور و فکر کا جذبہ: یہ انداز ذہن کو چلاتا ہے
اور تدبر سکھاتا ہے۔
4. خود احتسابی: انسان اپنی حالت پر نظر ڈالنے
لگتا ہے۔
5. دل پر اثر: سادہ الفاظ میں گہری بات ہوتی ہے،
جو دل کو چُھو جاتی ہے۔
رسول
اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز نہایت بامقصد اور پرحکمت تھا۔ آپ ﷺ نے اس اسلوب سے دلوں کو
متاثر کیا، کردار سنوارے اور ایک بہترین تربیتی نظام قائم کیا ۔ آج کے دور میں ہمیں
چاہیے کہ ہم بھی سنتِ نبوی ﷺ کو اپناتے ہوئے سوالیہ انداز سے علم دیں فراہم کریں۔
آخر
میں:اللہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھنے، اس سے سبق لینے اور اپنے
اندازِ تعلیم و تربیت کو سیرت کے مطابق بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد
حسنین صدیقی (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی ، پاکستان)
تعلیم
و تربیت انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ایک معلم کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ طلبہ کی
ذہانت کو بیدار کرے اور نصیحت کو دلوں میں بٹھانے کا طریقہ اپنائے۔ تعلیم میں سوال
و جواب کی بڑی اہمیت ہے، یہ ذہن کو متوجہ کرتا ہے، سمجھنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے اور
یادداشت کو پختہ کرتا ہے۔
ہمارے
پیارے نبی ﷺ معلمِ کائنات ہیں، جن کے اندازِ تعلیم کی حکمتیں ہر دور کے لیے مشعلِ
راہ ہیں۔ آپ ﷺ کے کئی تعلیمی طریقوں، اندازوں میں سے ایک انداز سوالیہ انداز تھا،
جس کے ذریعے آپ ﷺ نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توجہ حاصل فرماتے بلکہ علم
کو اُن کے دل و دماغ میں راسخ بھی فرماتے۔
1.
توجہ مرکوز کروانا :رسول اللہ ﷺ کبھی صحابہ کرام سے سوال کر کے ان کی توجہ
کو مکمل طور پر حاصل فرماتے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے
فرمایا:هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللّٰهِ
عَلٰى عِبَادِهترجمہ: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہےانہوں
نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بندوں پر حق یہ ہیں کہ بندے خاص اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ
کسی کو شریک نہ بنائیں۔ [صحيح البخاری، كتاب
اللباس،حدیث: 5967]
اس
سوال نے پہلے صحابہ رضی اللہ عنہ کی توجہ حاصل کی اور پھر جواب ان کے دل میں
اتر گیا۔
2. گناہوں کی سنگینی واضح کرنا :کبھی
آپ ﷺ سوال کر کے بات کی سنگینی واضح فرماتے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا:أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِترجمہ:
کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں (آپ ﷺ نے یہ تین
بار کہا) پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور
جھوٹی گواہی دینا۔ [صحيح مسلم/كتاب
الإيمان/حدیث: 259]
اس
کے ذریعے بات کی اہمیت واضح ہو گئی کہ یہ کوئی عام نصیحت نہیں بلکہ بہت اہم مسئلہ
ہے۔
3. تصور کی اصلاح کرنا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ
مَا الْمُفْلِسُ ترجمہ: کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہےصحابہ نے عرض کیا:
ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ سامان۔آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت
کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح
آئے گا کہ (دنیا میں) اس نے اس کو گالی دی ہو گی، اس پر بہتان لگایا ہو گا، اس کا
مال کھایا ہو گا، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا، تو اس کی نیکیوں میں
سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی
ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس
پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم،كتاب البر
والصلۃ والآداب،حدیث: 6579]
صحابہ
کرام کے ذہن میں یہ بات ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی کہ اصل مفلس دنیا کا نہیں بلکہ
آخرت کا مفلس ہے۔
عصرِ
حاضر کے لیے نصیحتیں:
رسول اللہ ﷺ کے اس اسلوب سے آج کے والدین،
اساتذہ اور خطباء کو یہ نصیحت ملتی ہے کہ تعلیم محض معلومات کا انبار نہیں بلکہ
ذہن کو بیدار کرنے کا نام ہے۔
والدین بچوں سے سوال کر کے ان کی توجہ حاصل کریں
اور اسلامی باتوں کو ذہن نشین کرائیں۔
اساتذہ سوالیہ انداز سے سبق کو مزید مؤثر اور
دلچسپ بنائیں۔
خطباء و واعظین سامعین کی توجہ جلب کرنے کے لیے
سوالیہ اسلوب اپنائیں تاکہ پیغام دلوں میں اتر جائے۔
مختصرا
یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ اندازِ تعلیم ایک حکیمانہ اور مؤثر طریقہ ہے۔ اس میں
توجہ حاصل کرنا، سوچ کو جگانا اور یادداشت کو مضبوط کرنا سب شامل ہیں۔ آج کے والدین،
معلمین اور خطباء کو چاہیے کہ وہ اس طریقے کو اپنائیں یوں تعلیم و تربیت زیادہ
بامعنی اور اثر انگیز ہو جائیگی۔
تربیتِ
انسانی ایک ایسا ہمہ گیر عمل ہے جس پر فرد و معاشرہ دونوں کی کامیابی و ناکامی کا
دار و مدار ہے۔ نبی آخرالزماں ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد یہی تھا کہ انسان کو جہالت کے
اندھیروں سے نکال کر علم و حکمت کی روشنی عطا کی جائے۔ آپ ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں
جو اسالیبِ تربیت اپنائے، وہ ہر زمانے کے لیے رہنما اصول ہیں۔ انہی میں سے ایک نہایت
مؤثر اور کامیاب طریقہ سوالیہ انداز ہے، جسے آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت میں کثرت سے
استعمال فرمایا۔
قرآنِ
مجید میں سوالیہ اسلوب:قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ سوالیہ انداز اپنایا گیا تاکہ قاری
و سامع غور و فکر کی طرف مائل ہو۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰) ترجمہ کنزالایمان: بھلائی کا
بدلہ بھلائی کے سوا کچھ اور ہے کیا(الرحمن ،60)
یہ
مختصر سوال دل پر دستک دیتا ہے اور انسان سوچنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہی حکمتِ قرآنی
رسولِ کریم ﷺ کے اندازِ تربیت میں بھی جلوہ گر ہے۔
احادیثِ
مبارکہ سے دلائل:
1۔
مفلس کون ہے: حضور ﷺ
نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا:"أتدرون
من المفلس"(کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے)صحابہ نے عرض کی: جس
کے پاس درہم و دینار نہ ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا:میری امت کا مفلس وہ ہے جو نماز، روزہ
اور زکوٰۃ لے کر آئے مگر ساتھ کسی کو گالی دی، تہمت لگائی، مال کھایا، خون بہایا، یا
مارا ہوگا۔ پھر مظلوموں کو نیکیاں دے دی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی
تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔(صحیح مسلم،
کتاب البر والصلة، حدیث 2581)
سوال نے ذہن جھنجھوڑا، جواب نے سوچ بدل دی۔
2۔سب
سے بڑے گناہ کون سے ہیں: نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:"ألا أنبئكم بأكبر الكبائر"(کیا
میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کی خبر نہ دوں) صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں یا
رسول اللہ ﷺ۔ارشاد فرمایا:اللہ کے ساتھ شرک اور والدین کی نافرمانی۔(صحیح بخاری،
حدیث 2654)
سوال
و جواب نے گناہوں کو سنگینی دلوں سے دور کیا۔
3۔️غیبت
کیا ہے: رسول اللہ ﷺ نے پوچھا:أتدرون ما الغيبة(کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے)صحابہ
نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ارشاد فرمایا:تمہارے بھائی کا
ایسا ذکر جسے وہ ناپسند کرے۔پوچھا گیا: اگر وہ بات حقیقت ہو توآپ ﷺ نے فرمایا: تب یہ
غیبت ہے، اور اگر نہ ہو تو بہتان ہے۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، حدیث 2589)
سوال
کے بعد وضاحت نے تعلیم کو دلنشین کر دیا۔
تربیتی
پہلو
1.
ذہنی بیداری: سوال سننے والے کو غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
2.
یادداشت کی پختگی: سوالیہ انداز جواب کو ذہن میں بٹھا دیتا ہے۔
3.
قلبی اثر: اچانک انکشاف دل پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
4.
معاشرتی اصلاح: برائیوں سے روکنے اور بھلائیوں کی طرف مائل کرنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
عصرِ
حاضر کے لیے سبق:آج اساتذہ، والدین اور خطباء اگر اپنی گفتگو میں سوالیہ
انداز اپنائیں تو ان کی بات زیادہ مؤثر ہوگی۔ جدید تعلیمی ماہرین بھی Interactive
Teaching کو سب سے کامیاب طریقہ قرار دیتے ہیں، جبکہ یہ
وہی اسلوب ہے جو تاجدارِ رسالت ﷺ نے چودہ سو سال پہلے اپنایا۔
رسول
اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز ایک عظیم تربیتی اصول ہے۔ یہ نہ صرف صحابہ کرام کے لیے
روحانی و فکری رہنمائی کا ذریعہ تھا بلکہ آج بھی ہمارے لیے کامیاب زندگی گزارنے کی
مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ تعلیم، نصیحت اور تربیت میں اس اسلوب کو اپنائیں تاکہ
سننے والا صرف سننے والا نہ رہے بلکہ سوچنے والا اور عمل کرنے والا بن جائے۔
عبدالمقیم ( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی
کراچی ، پاکستان)
تعلیم
و تربیت کے میدان میں مختلف اسالیب اختیار کیے جاتے ہیں تاکہ متعلم کی توجہ حاصل
ہو اور بات اس کے دل و دماغ پر نقش ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو
اللہ تعالیٰ نے "یُعَلِّمُهُمُ
الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ" کے منصب پر فائز فرمایا۔
آپ ﷺ نے تعلیم کے جو انداز اپنائے، وہ ہمیشہ کے لیے امت کے لیے نمونہ ہیں۔ ان میں
سب سے مؤثر انداز سوال و جواب کا طریقہ ہے، جو ذہن کو بیدار کرتا ہے اور طلبہ کو
غور و فکر پر آمادہ کرتا ہے۔
رسول
اللہ ﷺ کے سوالات کی اقسام:آپ ﷺ نے پوچھا:"أتدرون ما الغيبة"تم جانتے ہو غیبت
کیا ہےصحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا:"ذكرك أخاك بما يكره"۔
(سنن ابی داؤد، حدیث: 4874، صحیح)
یہ
سوال غیبت کی حقیقت کو نہایت سادہ انداز میں واضح کرتا ہے۔
ایک
مرتبہ فرمایا:"ألا أخبركم بأحب
الأعمال إلى الله"کیا میں تمہیں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل نہ
بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ!آپ ﷺ نے فرمایا:"الصلاة على وقتها"۔(صحیح بخاری، حدیث:
527، صحیح مسلم، حدیث: 85)
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ
نے صحابہ سے پوچھا:"من أصبح
منكم اليوم صائماً"آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟حضرت ابو بکر صدیق
نے کہا: میں نے۔پھر پوچھا: "فمن تبع
منكم اليوم جنازة" آج کس نے جنازے کے ساتھ شرکت کی؟ابو بکر نے کہا:
میں نے۔پھر پوچھا: "فمن أطعم
منكم اليوم مسكيناً" آج کس نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا؟ابو بکر نے
کہا: میں نے۔پھر پوچھا: "فمن عاد
منكم اليوم مريضاً"آج کس نے کسی مریض کی عیادت کی؟ابو بکرنے کہا: میں
نے۔آپ ﷺ نے فرمایا:"ما
اجتمعن في امرئ إلا دخل الجنة"۔(صحیح مسلم، حدیث: 1028)
یہ
سوالات تربیت اور امتحان دونوں پہلو رکھتے ہیں۔
آپ
ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:"أرأيتم
لو أن نهراً بباب أحدكم يغتسل فيه كل يوم خمس مرات، هل يبقى من درنه شيء"تمہارا
کیا خیال ہے اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں دن میں پانچ بار غسل کرے
تو کیا اس پر میل کچیل باقی رہے گا؟صحابہ نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا:"فذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا"۔(صحیح بخاری، حدیث: 528، صحیح
مسلم، حدیث: 667)
رسول
اللہ ﷺ نے سوال و جواب کو بطورِ ذریعہ تعلیم اختیار کیا تاکہ صحابہ کرام صرف سامع
نہ رہیں بلکہ فعال شریک بن جائیں۔ یہ انداز نہ صرف ان کی علمی تربیت کا ذریعہ تھا
بلکہ عملی زندگی میں بھی ان کی رہنمائی کرتا رہا۔ آج کے معلمین، والدین اور خطباء
کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے اس اسلوب کو اپنائیں تاکہ تعلیم زیادہ
مؤثر اور دلنشین ہو۔
احسن
رضا (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
اسلامی
تعلیمات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ رسول اللہ
ﷺ نے اپنی امت کی رہنمائی مختلف
اسالیب کے ذریعے فرمائی۔ آپ کا اندازِ تعلیم نہایت حکیمانہ، آسان فہم اور دلوں کو
متاثر کرنے والا تھا۔ انہی مؤثر اسالیب میں سے ایک سوال و جواب کا طریقہ ہے۔ آپ اکثر
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کرتے، پھر ان کے جوابات کی روشنی میں صحیح
رہنمائی فرماتے۔ اس سے نہ صرف ان کے ذہن متحرک ہوتے بلکہ بات زیادہ یادگار اور
دلنشین ہو جاتی ۔
1.
توجہ دلانے اور ذہن نشین کرانے کے لیے سوالات:رسول
اللہ ﷺ سوال کے ذریعے سامعین کی توجہ حاصل کرتے تاکہ وہ پوری دلچسپی کے ساتھ سنیں
اور بات ان کے دلوں پر اثر کرے۔
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا:"أتدرون من المفلس"کیا تم جانتے ہو
کہ مفلس کون ہے۔صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ
سامان۔ آپﷺ نے فرمایا:"إن
المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي وقد شتم هذا وقذف
هذا وأكل مال هذا"یعنی اصل مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نیکیاں تو لے
کر آئے، مگر دوسروں پر ظلم کرنے کی وجہ سے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں اور وہ جہنم
میں ڈال دیا جائے۔(صحیح مسلم، حدیث: 2581)
2.
علم کی رغبت پیدا کرنے کے لیے سوال:رسول اللہ ﷺ سوالات کے ذریعے
صحابہ کرام میں علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کرتے۔ایک مرتبہ آپ نے فرمایا:"ألا أنبئكم بأكبر الكبائر"کیا
میں تمہیں سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤںصحابہ نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ!آپ نے
فرمایا: "الإشراك بالله، وعقوق الوالدين،
وشهادة الزور"۔(صحیح بخاری، حدیث: 2654، صحیح مسلم، حدیث: 87)
3.عمل
کی اہمیت واضح کرنے کے لیے سوال:آپ ﷺ سوالات کے ذریعے اعمال کی
قدر و قیمت واضح فرماتے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ
نے پوچھا:"أتدري ما حق الله على
العباد وما حق العباد على الله"کیا
تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے۔
حضرت
معاذنے عرض کیا: "اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا:"فإن حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئًا،
وحق العباد على الله أن لا يعذب من لا يشرك به شيئًا"۔(صحیح
بخاری، حدیث: 2856، صحیح مسلم، حدیث: 30)
4.
قلبی اثر ڈالنے کے لیے سوال:آپ ﷺ کبھی سوال کے بعد خاموش
رہتے تاکہ سامعین سوچیں، پھر جواب دے کر ان کے دلوں پر اثر ڈالتے۔ایک موقع پر آپ ﷺ
نے صحابہ سے پوچھا:"أيكم مال
وارثه أحب إليه من ماله"تم میں سے کس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ
پسند ہےصحابہ نے کہا: "یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک کو اپنا مال زیادہ
پسند ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:"فإن ماله
ما قدم، ومال وارثه ما أخر"یعنی اصل مال وہ ہے جو
بندہ اللہ کی راہ میں آگے بھیج دیتا ہے، باقی سب وارثوں کا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث:
6442)
رسول اللہ ﷺ کا سوال کے ذریعے تعلیم دینا نہایت
حکیمانہ اور مؤثر طریقہ تھا۔ اس سے نہ صرف صحابہ کرام کے اذہان بیدار ہوتے بلکہ
بات ان کے دل و دماغ میں رچ بس جاتی۔ یہ اندازِ تربیت آج بھی معلمین، والدین اور
مبلغین کے لیے ایک عملی نمونہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
سیدعمرگیلانی عطّاری (دورۂ حدیث ، مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہرٹاؤن لاہور)
رسول
ُاللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا
اُسلوب ِ تربیَت نہایت جامع، حکیمانہ اور
فطری تھا۔ آپ علیہ السلام نے تعلیم و
ارشاد کے لیے مختلف طریقے اختیار فرمائے تاکہ بات صرف کانوں تک محدود نہ رہے
بلکہ دل و دماغ میں راسخ ہو جائے۔ انہی اَسالیب میں ایک مؤثّر اُسلوب سُوالیہ
انداز ہے۔ آپ سُوال کر کے صحابہ کِرام رضی
اللہ عنہم کے ذہنوں کو متوجّہ فرماتے،
انہیں سوچنے پر آمادہ کرتے اور پھر حقیقت کو واضح کرتے۔ اس طریقے میں نہ صرف
علمی ذوق بیدار ہوتا بلکہ بات کا اَثر دیرپا اور ناقابلِ فراموش بن جاتا۔ یہی وجہ
ہے کہ سوالیہ انداز آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تربیتی حکمتِ عملی کا
نمایاں حصّہ رہا۔نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کےاس تربیتی انداز کی تائیدقراٰن پاک سے بھی
ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی قراٰن میں
بارہا سوالیہ انداز اختیار فرمایا تاکہ غور و فکر کی ترغیب ہو چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ(۱۰) تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ
اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْؕ- ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَۙ(۱۱) ﴾
ترجمۂ
کنزالایمان: اے ایمان والو کیا میں بتادوں
وہ سودا گری جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر
اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ (پ28، الصف: 10، 11)
آیئےایسی
5 احادیث پڑھیے جس میں سوالیہ انداز میں تربیَت فرمائی گئی ہے :
(1) نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
فرمایا:کیا میں تمہیں کَبائر (یعنی بڑے گُناہ) نہ بتاؤں؟ عرض کیا:جی ہاں یا رسول
اللہ۔ آپ علیہ السّلام نے فرمایا:اللہ
کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔حضور علیہ السّلام ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر سیدھے ہو کر بیٹھے
اور فرمایا: خبردار! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی دینا۔ آپ علیہ السّلام بار بار یہ دہراتے رہے۔ (بخاری،2/194،
حدیث: 2654)
(2)
نبیِ مکرّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟
صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم نہ سامان ہے
۔ فرمایا: میری اُمّت کا مفلس وہ ہے جو قِیامت
کے دن نَماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی
پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا
ہوگا۔ پھر اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہوجائیں
گی تو ان کے گُناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور وہ جہنّم میں ڈال دیا جائے گا۔
(مسلم،ص1069، حدیث:6579)
(3)
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو غیبت کیا
ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: تمہارا
اپنے بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا کہ وہ ناپسند کرے۔ عرض کیا گیا: اگر وہ
بات اس میں موجود ہو تو؟ فرمایا:اگر وہ بات موجود ہے تو یہ غیبت ہے اور اگر
موجود نہیں تو یہ بہتان ہے۔(مسلم، ص1071، حدیث:6593)
(4)حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ
حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بتاؤ تو! کسی کے دروازے پر
نَہْر ہو وہ اس میں ہر روز پانچ بار غسل کرے کیا اس کے بدن پر میل رہ جائے
گا؟ صحابہ نے عرض کی: نہیں۔ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:یہی
مثال پانچوں نَمازوں کی ہے کہ اللہ ان کے سبب خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔ (بخاری،1/196،
حدیث: 528)
(5)
اسما بنتِ یزید رضی اللہُ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم نے پوچھا: کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟صحابہ
نے عرض کی: کیوں نہیں ۔ آپ نے فرمایا:وہ
لوگ کہ جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ کی یاد آئے،پھر فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے
سب سے بُرے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔ صحابہ نے عرض کی :کیوں نہیں۔ آپ نے
فرمایا :وہ لوگ جو چغلی کرتے ہیں، محبّت والوں کے درمیان فساد ڈالتے ہیں، اور پاک
دامن عورَتوں پر تہمت لگاتے ہیں۔(الادب المفرد،ص89،حدیث:323)
رسولُ
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا
سوالیہ اندازِ تربیَت محض علم دینے کا ذریعہ نہ تھا بلکہ ایمان، کردار اور فکر کی
آبیاری کا مؤثّر طریقہ تھا۔ آج بھی اگر اساتذہ، والدین یا دیگر افراد یہ اُسلوب اپنائیں تو اُمّت میں دینی شعور، اخلاقی پختگی اور فکری
بیداری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
اللہ
پاک ہمیں احادیثِ کریمہ پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ
الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami