تربیتِ
انسانی ایک ایسا ہمہ گیر عمل ہے جس پر فرد و معاشرہ دونوں کی کامیابی و ناکامی کا
دار و مدار ہے۔ نبی آخرالزماں ﷺ کی بعثت کا اصل مقصد یہی تھا کہ انسان کو جہالت کے
اندھیروں سے نکال کر علم و حکمت کی روشنی عطا کی جائے۔ آپ ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں
جو اسالیبِ تربیت اپنائے، وہ ہر زمانے کے لیے رہنما اصول ہیں۔ انہی میں سے ایک نہایت
مؤثر اور کامیاب طریقہ سوالیہ انداز ہے، جسے آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت میں کثرت سے
استعمال فرمایا۔
قرآنِ
مجید میں سوالیہ اسلوب:قرآنِ حکیم میں جگہ جگہ سوالیہ انداز اپنایا گیا تاکہ قاری
و سامع غور و فکر کی طرف مائل ہو۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰) ترجمہ کنزالایمان: بھلائی کا
بدلہ بھلائی کے سوا کچھ اور ہے کیا(الرحمن ،60)
یہ
مختصر سوال دل پر دستک دیتا ہے اور انسان سوچنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہی حکمتِ قرآنی
رسولِ کریم ﷺ کے اندازِ تربیت میں بھی جلوہ گر ہے۔
احادیثِ
مبارکہ سے دلائل:
1۔
مفلس کون ہے: حضور ﷺ
نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا:"أتدرون
من المفلس"(کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے)صحابہ نے عرض کی: جس
کے پاس درہم و دینار نہ ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا:میری امت کا مفلس وہ ہے جو نماز، روزہ
اور زکوٰۃ لے کر آئے مگر ساتھ کسی کو گالی دی، تہمت لگائی، مال کھایا، خون بہایا، یا
مارا ہوگا۔ پھر مظلوموں کو نیکیاں دے دی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی
تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔(صحیح مسلم،
کتاب البر والصلة، حدیث 2581)
سوال نے ذہن جھنجھوڑا، جواب نے سوچ بدل دی۔
2۔سب
سے بڑے گناہ کون سے ہیں: نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:"ألا أنبئكم بأكبر الكبائر"(کیا
میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کی خبر نہ دوں) صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں یا
رسول اللہ ﷺ۔ارشاد فرمایا:اللہ کے ساتھ شرک اور والدین کی نافرمانی۔(صحیح بخاری،
حدیث 2654)
سوال
و جواب نے گناہوں کو سنگینی دلوں سے دور کیا۔
3۔️غیبت
کیا ہے: رسول اللہ ﷺ نے پوچھا:أتدرون ما الغيبة(کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے)صحابہ
نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ارشاد فرمایا:تمہارے بھائی کا
ایسا ذکر جسے وہ ناپسند کرے۔پوچھا گیا: اگر وہ بات حقیقت ہو توآپ ﷺ نے فرمایا: تب یہ
غیبت ہے، اور اگر نہ ہو تو بہتان ہے۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، حدیث 2589)
سوال
کے بعد وضاحت نے تعلیم کو دلنشین کر دیا۔
تربیتی
پہلو
1.
ذہنی بیداری: سوال سننے والے کو غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
2.
یادداشت کی پختگی: سوالیہ انداز جواب کو ذہن میں بٹھا دیتا ہے۔
3.
قلبی اثر: اچانک انکشاف دل پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
4.
معاشرتی اصلاح: برائیوں سے روکنے اور بھلائیوں کی طرف مائل کرنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
عصرِ
حاضر کے لیے سبق:آج اساتذہ، والدین اور خطباء اگر اپنی گفتگو میں سوالیہ
انداز اپنائیں تو ان کی بات زیادہ مؤثر ہوگی۔ جدید تعلیمی ماہرین بھی Interactive
Teaching کو سب سے کامیاب طریقہ قرار دیتے ہیں، جبکہ یہ
وہی اسلوب ہے جو تاجدارِ رسالت ﷺ نے چودہ سو سال پہلے اپنایا۔
رسول
اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز ایک عظیم تربیتی اصول ہے۔ یہ نہ صرف صحابہ کرام کے لیے
روحانی و فکری رہنمائی کا ذریعہ تھا بلکہ آج بھی ہمارے لیے کامیاب زندگی گزارنے کی
مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ تعلیم، نصیحت اور تربیت میں اس اسلوب کو اپنائیں تاکہ
سننے والا صرف سننے والا نہ رہے بلکہ سوچنے والا اور عمل کرنے والا بن جائے۔
Dawateislami