محمد
حسنین صدیقی (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی ، پاکستان)
تعلیم
و تربیت انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ایک معلم کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ طلبہ کی
ذہانت کو بیدار کرے اور نصیحت کو دلوں میں بٹھانے کا طریقہ اپنائے۔ تعلیم میں سوال
و جواب کی بڑی اہمیت ہے، یہ ذہن کو متوجہ کرتا ہے، سمجھنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے اور
یادداشت کو پختہ کرتا ہے۔
ہمارے
پیارے نبی ﷺ معلمِ کائنات ہیں، جن کے اندازِ تعلیم کی حکمتیں ہر دور کے لیے مشعلِ
راہ ہیں۔ آپ ﷺ کے کئی تعلیمی طریقوں، اندازوں میں سے ایک انداز سوالیہ انداز تھا،
جس کے ذریعے آپ ﷺ نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توجہ حاصل فرماتے بلکہ علم
کو اُن کے دل و دماغ میں راسخ بھی فرماتے۔
1.
توجہ مرکوز کروانا :رسول اللہ ﷺ کبھی صحابہ کرام سے سوال کر کے ان کی توجہ
کو مکمل طور پر حاصل فرماتے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے
فرمایا:هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللّٰهِ
عَلٰى عِبَادِهترجمہ: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہےانہوں
نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول ہی کو زیادہ علم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بندوں پر حق یہ ہیں کہ بندے خاص اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ
کسی کو شریک نہ بنائیں۔ [صحيح البخاری، كتاب
اللباس،حدیث: 5967]
اس
سوال نے پہلے صحابہ رضی اللہ عنہ کی توجہ حاصل کی اور پھر جواب ان کے دل میں
اتر گیا۔
2. گناہوں کی سنگینی واضح کرنا :کبھی
آپ ﷺ سوال کر کے بات کی سنگینی واضح فرماتے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا:أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِترجمہ:
کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں (آپ ﷺ نے یہ تین
بار کہا) پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور
جھوٹی گواہی دینا۔ [صحيح مسلم/كتاب
الإيمان/حدیث: 259]
اس
کے ذریعے بات کی اہمیت واضح ہو گئی کہ یہ کوئی عام نصیحت نہیں بلکہ بہت اہم مسئلہ
ہے۔
3. تصور کی اصلاح کرنا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ
مَا الْمُفْلِسُ ترجمہ: کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہےصحابہ نے عرض کیا:
ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ سامان۔آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت
کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح
آئے گا کہ (دنیا میں) اس نے اس کو گالی دی ہو گی، اس پر بہتان لگایا ہو گا، اس کا
مال کھایا ہو گا، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا، تو اس کی نیکیوں میں
سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی
ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس
پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم،كتاب البر
والصلۃ والآداب،حدیث: 6579]
صحابہ
کرام کے ذہن میں یہ بات ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی کہ اصل مفلس دنیا کا نہیں بلکہ
آخرت کا مفلس ہے۔
عصرِ
حاضر کے لیے نصیحتیں:
رسول اللہ ﷺ کے اس اسلوب سے آج کے والدین،
اساتذہ اور خطباء کو یہ نصیحت ملتی ہے کہ تعلیم محض معلومات کا انبار نہیں بلکہ
ذہن کو بیدار کرنے کا نام ہے۔
والدین بچوں سے سوال کر کے ان کی توجہ حاصل کریں
اور اسلامی باتوں کو ذہن نشین کرائیں۔
اساتذہ سوالیہ انداز سے سبق کو مزید مؤثر اور
دلچسپ بنائیں۔
خطباء و واعظین سامعین کی توجہ جلب کرنے کے لیے
سوالیہ اسلوب اپنائیں تاکہ پیغام دلوں میں اتر جائے۔
مختصرا
یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ اندازِ تعلیم ایک حکیمانہ اور مؤثر طریقہ ہے۔ اس میں
توجہ حاصل کرنا، سوچ کو جگانا اور یادداشت کو مضبوط کرنا سب شامل ہیں۔ آج کے والدین،
معلمین اور خطباء کو چاہیے کہ وہ اس طریقے کو اپنائیں یوں تعلیم و تربیت زیادہ
بامعنی اور اثر انگیز ہو جائیگی۔
Dawateislami