رسول
اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ میں تعلیم و تربیت کا انداز نہایت جامع، بامقصد اور حکیمانہ
تھا۔ آپ ﷺ نے جہاں خطبات، نصیحتوں، عملی مثالوں اور دعاؤں سے لوگوں کی تربیت فرمائی،
وہیں آپ ﷺ کا سوالیہ انداز بھی ایک مؤثر ذریعہ تربیت رہا۔ سوال کے ذریعے نہ صرف
سامع کی توجہ مرکوز ہوتی ہے بلکہ وہ جواب کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے،
اور یوں بات دل و دماغ میں اتر جاتی ہے۔
سوالیہ
انداز کی حکمت:
سوالات
انسانی ذہن کو متحرک کرتے ہیں، فہم و ادراک کو جِلا بخشتے ہیں، اور علم کی طلب کو
ممیز كرتے۔ رسول اکرم ﷺ نے اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے سوالات کے ذریعے صحابہ
کرام کی تعلیم و تربیت فرمائی۔ آپ ﷺ کا اندازِ سوال ہمیشہ مقصدی، تربیتی اور فہم و
بصیرت بڑھانے والا ہوتا تھا۔ آیئے ہم احادیث مبارکہ کو جانتے ہیں اور ان سے تعلیمات
حاصل کرتے ہیں :
حدیث
نمبر( 1) وَعَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ
اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى
الظَّهْرِ، وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ غَيْرِهِمَا قُلْتُ: بَلَى،
قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ،
فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا۔
ترجمہ
:روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم
کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ملکی ہیں اور ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا در از
خاموشی اور اچھی عادت سے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے
کام نہ کیے ہوں گے ہے.
یعنی
ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں، چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس
لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے، نیز بوجھ پیٹھ پر ہی اٹھائے
جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہر حال کلام بڑا صحیح ہے یا مراد
ہے زبان کی پیٹھ۔
یعنی
کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تو لی جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے
ہو جائیں گے ، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن
بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہو گا۔
خاموشی
سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے اللہ کے ذکر سے خاموشی اچھی
نہیں۔ اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق ادا کرنا، نرم و گرم حالات میں
شاکر و صابر رہنا، چونکہ خاموشی اور صبر و شکر میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ
ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔
کیونکہ
انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے۔ واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر
معاملات کا کوئی کام نہیں، یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے
(كتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4867)
حدیث
نمبر( 2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:
سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ
قَالَ: التَّقْوَى، وَحُسْنُ الْخُلُقِ ، وَسُئِلَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ
قَالَ: الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ، وَالْفَرْجُ
ترجمہ
:روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرما یار سول اللہ ﷺ نے
کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے اللہ سے ڈر
اور اچھی عادت ! کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی
چیز میں منہ اور شرمگاہ ۔ (ترمذی،
ابن ماجہ )
شرح
حدیث: تقویٰ کا ادنی درجہ کفر و بد عقیدگی سے بچنا ہے اور درمیانی درجہ گناہوں سے
بچنا، اعلیٰ درجہ میں غافل کرنے والی چیز سے بچنا ہے۔ یوں ہی خوش خلقی کا ادنی
درجہ یہ ہے کہ کسی کو جانی مالی عزت کی ایذا نہ دے ، اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ برائی کا
بدلہ بھلائی سے کرے یہ بہت اعلیٰ چیز ہے جسے خدا تعالٰی نصیب کرے۔ یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں
کرتا ہے، نوے فی صدی گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں، شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بد ترین
گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ
ہے (کتاب : مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4832)
نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا سوالیہ اندازِ تربیت محض ایک
طرزِ گفتگو نہیں، بلکہ ایک جامع، بامقصد اور بصیرت افروز طریقہ تھا جس سے دلوں میں
اثر، ذہنوں میں سوچ اور عمل میں تبدیلی پیدا ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کے سوالات، مخاطب کو
غور و فکر پر آمادہ کرتے اور اسے خود اپنی اصلاح کی طرف مائل کرتے تھے۔ یہ اندازِ
تربیت آج کے تعلیمی اور تربیتی نظام میں بھی رہنمائی کا عظیم ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے
کہ ہم بھی اپنے بچوں، شاگردوں اور معاشرے کے افراد کی تربیت میں اس سنتِ نبوی ﷺ کو
اپنائیں، تاکہ ہمارا انداز تعلیم، نرمی، حکمت اور اثر انگیزی سے بھرپور ہو۔
دعا
ہے اللہ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھنے، اپنانے اور اس پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرما۔ ہمیں حکمت و دانائی کے ساتھ دوسروں کی تربیت کرنے والا بنا دے۔
اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی محبت، اطاعت اور سنت پر استقامت عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
احمد رضا ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
انسان
کا دل نصیحت سے زندہ ہوتا ہے اور سوال اس نصیحت کو مزید مؤثر بنا دیتا ہے۔ رسول
اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت کے لیے سوالیہ اسلوب اختیار کیا۔ آپ ﷺ سوال
کرتے تاکہ صحابہ سوچیں، غور کریں اور پھر جواب کے ذریعے حقیقت کو دل سے تسلیم کریں۔
آج کے دور میں بھی یہی انداز ہمارے تعلیمی اور معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لیے
بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
قَالَ اللَّهُ تَعَالٰى: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ
الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴) ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر
اُن کے قفل لگے ہیں ۔(محمد: 24)
مفہوم:
یہ آیت سوالیہ انداز میں انسان کے دل کی غفلت کو واضح کرتی ہے اور غور و فکر کی
دعوت دیتی ہے۔
(1)
عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ
مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ
لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ
مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي
قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا،
وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ،
فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ
خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ۔
ترجمہ:
ایک دن اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ارشادفرمایا :'' کیاتم جانتے ہو کہ مفلس
کون ہے ''عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! ہمارے نزدیک
مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ تو دینار ہوں نہ ہی درہم ہوں۔'' تو حضورِ پاک ،صاحب
ِلولاک،سیّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان سے فرمایا:'' ایسا نہیں
ہے بلکہ مفلس تو وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزے، زکوٰۃ ،اور صدقہ لے کر آئے گا
لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی کو تھپڑ مارا ہوگا، کسی کامال دبالیا ہوگا
اور کسی کا خون بہایا ہوگا تو اسے اس کی نیکیاں دی جائیں گی اور پھر ایک شخص آئے
گا اسے بھی اسی طرح اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی یہاں تک کہ لوگو ں کے حقوق ادا
کرنے سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی پھر اسے ان کے گناہ دے دئیے جائیں
گے تواسے ان لوگو ں کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، یہی شخص مفلس
ہے ۔(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، حديث: 2581)
سوالیہ
اسلوب نے اصل مفلس کی حقیقت کو واضح کیا۔
(2)
عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ
مَا الْغِيبَةُ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ
بِمَا يَكْرَهُ ۔(صحيح
مسلم، كتاب البر والصلۃ، حديث: 2589)
ترجمہ:
آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے" صحابہ نے کہا: اللہ اور
اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے بھائی کا ایسا ذکر جو اسے
ناگوار گزرے۔"
سوالیہ
انداز نے غیبت کیسی برائی ہے ، کھول کر بیان کر دیا۔
(3)
عَنْ عَبْدِ
اللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ:
أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ (صحيح
البخاري، كتاب التفسير، حديث: 4477)
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون
سا ہے" صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا حالانکہ وہی تمہارا خالق ہے۔"
مفہوم:
سوالیہ اسلوب نے کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے جرم یعنی شرک کی سنگینی کو واضح کیا۔
رسول
اللہ ﷺ کے سوالات صرف علمی نہیں بلکہ عملی زندگی کے رہنما تھے۔ آپ ﷺ کے سوالیہ
اسلوب نے صحابہ کو سوچنے، توبہ کرنے اور اپنے کردار کو بہتر بنانے پر مجبور کیا۔ یہ
حکمت بھری تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ دین اسلام صرف احکام نہیں دیتا بلکہ سوچنے کی
عادت بھی ڈالتا ہے۔ آج اگر ہم بھی اسی اسلوب کو اختیار کریں تو نصیحت زیادہ مؤثر
ہوگی، رشتے مضبوط ہوں گے اور معاشرہ محبت و انصاف سے بھر جائے گا۔
حافظ عباد علی (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان ابوعطار ملیر کراچی ، پاکستان)
اللہ
تبارک و تعالی نے حضور اکرم ﷺ کو اپنا
محبوب بنایا اور حضور اکرم ﷺ کو کائنات کے
ہر زرے ذرے کی تعلیم عطا کی اور اس تعلیم کو حضور اکرم ﷺ نے دنیا جہاں تک پہنچایا۔اس تعلیم و تعلُّم کے
سلسلے میں حضور اکرم ﷺ نے بہت حسین و جمیل
طرز عمل کو اپنایا کہ اس طریقے سے امت کو تعلیم حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ انہی
خوبصورت اندازوں میں سے ایک طریقہ کار سوالیہ انداز میں تربیت فرمانا ہے۔اس کے
حوالے سے ہم چند احادیث مبارکہ کے پھول سماعت فرماتے ہیں۔
(1)
حسن اخلاق کی تعلیم: حدیث
مبارکہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُقَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي
مَا أَقُولُ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ
يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ ۔(سنن ابی داؤد: باب: غیبت کا
بیان،حدیث نمبر4874)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول
! غیبت کیا ہے آپ نے فرمایا :’’ تمہارا
اپنے بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو ۔‘‘ کہا گیا : جو
بات میں کہہ رہا ہوں اگر وہ میرے بھائی میں ( فی الواقع ) ہو ( تو بھی وہ غیبت ہو گی ) آپ نے فرمایا :’’ اگر اس میں وہ بات موجود ہو
اور تم کہو تب ہی تو غیبت ہے ۔ اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ ہو تو تم نے
اس پر بہتان لگایا ۔
حضور
اکرم ﷺ نے کتنا خوبصورت انداز اپنایا کہ
اس انداز سے آپ ﷺ نے نہ صرف تعریف کو محدود کیا، بلکہ اس برائی کی گہرائی بھی واضح
کر دیا۔
(2)
عبادات کی اہمیت کو واضح کرنا: حدیث
مبارکہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ
سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ
يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ: ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا: لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ:
فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الخَطَايَا (صحیح
بخاری: باب: اوقات نماز کا بیان،حدیث نمبر: 528)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر
جاری ہو ، اور وہ روزانہ اس میں پانچ پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے ۔ کیا
اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی رہ سکتا ہے صحابہ نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! ہرگز نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہی
حال پانچوں وقت کی نمازوں کا ہے ۔ کہ اللہ پاک ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا
ہے ۔
میرے
آقا محمد مصطفی ﷺ کا کتنا ہی دل نشی انداز
ہےسوال کے ذریعے نماز کی اہمیت اور روحانی صفائی کو ایسا واضح کیا کہ بات ذہن میں
بیٹھ گئی۔
(3)
سوال کرنے کے شوق کو بڑھانا ہے: حدیث
مبارکہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَأْخُذُ هَؤُلَاءِ
الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلْ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمْهُنَّ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ قَالَ
أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: أَنَا، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يَدِي فَعَقَدَ فِيهَا خَمْسًا: اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ
النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ، وَأَحْسِنْ
إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ
تَكُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تَكْثُرِ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكَ تُمِيتُ
الْقَلْبَ ( جامع ترمذی: باب: حرام چیزوں سے بچنے والا سب سے بڑا عابد ہے ،حدیث نمبر: 2305)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: ”کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص
کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ
کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا:
تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم
شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بے نیاز رہو گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ
احسان کرو پکے سچے مومن رہو گے۔ اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند
کرتے ہو سچے مسلمان ہو جاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو
مردہ کر دیتا ہے۔
حضور
اکرم ﷺ کا یہ انداز گفتگویہ سوال سیکھنے
کے شوق کو ابھارتا ہے۔ سوال سن کر صحابہ فوراً متوجہ ہو جاتے اور سیکھنے کے لیے تیار
ہو جاتے۔
نبی
کریم ﷺ کا سوالیہ انداز تربیت ایک انتہائی حکیمانہ اور مؤثر طریقہ تھا۔ آپ ﷺ
سوالات کے ذریعے سوچنے پر مجبور کرتے، دلوں میں اثر پیدا کرتے اور تعلیم کو ذہن نشین
کروا دیتے۔اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں حضور اکرم
ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات کو سمجھنے اور پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عبد الرحمن امجد (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
حضور
نبی کریم ﷺ کا اندازِ گفتگو عام طور پر نہایت حکیمانہ،
نرم، مؤثر اور موقع و محل کے لحاظ سے ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے
تعلیم دینے کے لیے سوالیہ انداز (یعنی سوال کرکے بات سمجھانا یا سامعین کو غور و
فکر پر آمادہ کرنا) کو کئی مواقع پر اپنایا۔ اس انداز کو "سوالیہ تعلیم"
(Socratic Method) بھی کہا جا سکتا ہے، جس میں معلم خود سوال
کرتا ہے تاکہ سننے والا غور کرے، سیکھے یا جواب دے۔
یہاں
کچھ احادیث پیش کی جا رہی ہیں جن میں حضور ﷺ نے سوالیہ انداز اختیار کیا:
(1)مفلس
کون : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ» قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ،
فَقَالَ:«إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ
مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ،
وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا
عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي
النَّارِ۔
ترجمہ: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہو مفلس
کون ہے‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے مفلس وہ ہے
جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’میری اُمَّت میں
مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی
دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا
ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں
گی ، پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی
ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن (مظلوموں ) کے گناہ اُس(ظالم) پر
ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ فیضان ریاض الصالحین جلد:3،حدیث نمبر:218
(2)
اللہ کا حق کیا ہے : عَنْ
مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، هَلْ
تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ، وَمَا حَقُّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ، قُلْتُ:
اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى العِبَادِ أَنْ
يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ
لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ
أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ: لاَ تُبَشِّرْهُمْ، فَيَتَّكِلُوا
ترجمہ: روایت ہے حضرت معاذ سےکہ میں ایک دراز
گوش پر حضور کے پیچھے اس طرح سوار تھا کہ میرے آپ کے درمیان پالان کی لکڑی کے سوا
کچھ نہ تھا حضور نے فرمایا کہ معاذ کیا جانتے ہو اللہ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے
اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے میں نے عرض کیا اللہ رسول جانیں فرمایا : اللہ کا
حق بندوں پر تو یہ ہے کہ اُسے پوجیں کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا
حق اللہ پر یہ ہے کہ جو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو اُسے عذاب نہ دے میں نے عرض کیا یارسول
اللہ تو کیا میں لوگوں کو یہ بشارت نہ دے دوں فرمایا یہ بشارت نہ دو ورنہ لوگ اس
پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔( مشکوٰۃ المصابیح، جلد:1، کتاب الایمان ، فصل اول ، صفحہ
نمبر:14حدیث نمبر:21 )
(3)
سب سے بڑا سخی کون : عَنْ أَنَسِ بْنِ
مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَدْرُونَ مَنْ أَجْوَدُ جُودًا قَالُوا:
اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: اللهُ
أَجْوَدُ جُودًا، ثُمَّ أَنَا أَجْوَدُ بَنِي آدَمَ، وَأَجْوَدُهُمْ مَنْ بَعْدِي
رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمِيرًا وَحْدَهُ
أَوْ قَالَ: أُمَّة وَحْدَهُ
ترجمہ: روایت ہے انس بن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اللہ ﷺ نے کیا تم جانتے ہو کہ بڑا سخی کون ہے عرض کیا
اللہ رسول جانیں فرمایا :اللہ تعالٰی بڑا جوّاد ہے پھر اولاد آدم میں مَیں بڑا سخی
داتا ہوں اور میرے بعد بڑا سخی وہ شخص ہے جو علم سیکھے پھر اسے پھیلائے وہ قیامت میں
اکیلا امیر یا فرمایا ایک جماعت ہو کر آئے گا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح،جلد:1 کتاب العلم
، فصل ثالث ، صفحہ :37، حدیث نمبر:241 ، )
(4)رب کریم کیا ارشاد فرماتا ہے : وَعَنْ
زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلّٰى لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى
اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلٰى أَثَرِ
سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ
فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ ربُّكُمْ قَالُوا: اَللهُ وَرَسُولُهٗ
أَعْلَمُ،قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ
قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰهِ وَرَحْمَتِهٖ فَذٰلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ
بِكَوْاكَبَ وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذٰلِكَ
كَافِرٌ بِي وَمُؤمِنٌ بِكَوْاكَبَ۔
ترجمہ:
روایت ہے حضرت زید ابن خالد جہنی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے
حدیبیہ میں نماز فجر پڑھائی اس بار ش کے بعد جو اس رات ہوئی تھی جب فارغ ہوئے تو
لوگوں پر توجہ فرمائی پھر فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا
لوگ بولے اللہ رسول جانیں فرمایا کہ رب نے فرمایا میرے بندوں میں سے مجھ پر مؤمن و
منکر نے صبح پائی جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اس کی رحمت سے بارش ہوئی یہ مجھ
پر مؤمن ہیں ستاروں کے انکاری لیکن جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں برج سے بارش ہوئی
تو یہ میرا منکر ہے تاروں کا مؤمن۔ ( مشکوٰۃ المصابیح، جلد:2، باب الکھانۃ، فصل
اول ، صفحہ:406، حدیث نمبر:4391 )
(5)
سائل کون تھا: ترجمہ:
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب( رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی ﷺ کی
خدمت میں حاضرتھے کہ ایک صاحب ہمارے سامنےنمودارہوئے جن کے کپڑے بہت سفیداور بال
خوب کالے تھے اُن پر آثارِ سفر ظاہر نہ تھے اور ہم سےکوئی اُنہیں پہچانتا بھی نہ
تھایہاں تک کہ حضور( ﷺ ) کے پاس بیٹھے اور
اپنے گھٹنے حضور( ﷺ ) کےگھٹنوں شریف سے مَس کر دیئے اور اپنے ہاتھ اپنے زانو پر
رکھےاور عرض کیا اَےمحمد( ﷺ )مجھے اسلام کے متعلق بتائیے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ
تم گواہی دو کہ ﷲ کےسواءکوئی معبودنہیں اورمحمد ﷲ کے رسول ہیں اور نماز قائم
کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہنچ سکو عرض کیا کہ
سچ فرمایا ہم کو ان پرتعجب ہوا کہ حضور سے پوچھتےبھی ہیں اورتصدیق بھی کرتے ہیں
عرض کیا کہ مجھے ایمان کے متعلق بتائیے فرمایاکہ ﷲ اور اس کے فرشتوں ،کتابوں اور
اس کے رسولوں اور آخری دن کو مانو اور اچھی بُری تقدیرکو مانو عرض کیا آپ سچے ہیں
عرض کیامجھےاحسان کے متعلق بتائیے فرمایا ﷲ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا اُسے دیکھ
رہے ہو اگر یہ نہ ہوسکے تو خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے عرض کیا کہ قیامت کی
خبر دیجئے فرمایا کہ جس سے پوچھ رہے ہو وہ قیامت کے بارے میں سائل سے زیادہ خبردار
نہیں عرض کیا کہ قیامت کی کچھ نشانیاں ہی بتادیجئے فرمایا کہ لونڈی اپنے مالک
کوجنے گی اور ننگے پاؤں ننگے بدن والے فقیروں،بکریوں کے چرواہوں کو محلوں میں فخر
کرتے دیکھو گے راوی فرماتے ہیں کہ پھر سائل چلے گئے میں کچھ دیر ٹھہرا حضور( ﷺ )
نے مجھے فرمایا: يا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ
السَّائِلُ مَیں نےعرض کیﷲ اوررسول جانیں فرمایا یہ حضرت جبریل تمہیں
تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ (مشکوٰۃ المصابیح،جلد:1،باب الایمان، فصل اول ، صفحہ
نمبر:13،حدیث نمبر:1)
حضور
کے سوالیہ انداز سے اج کے جدید دور کہ لوگوں کو جو حکیمانہ اور سبق اموز نکات ملے
وہ درج ذیل ہیں
(1)
سوچنے اور غور و فکر کرنے کی ترغیب ملی
(2)
علم حاصل کرنے کا جذبہ بیدار ہوا
(3)
یادداشت مضبوط ہوئی
(4)
دلچسپی اور توجہ میں اضافہ ہوا
(5)
مکالمے اور بات چیت کا ماحول پیدا ہوا
دعا
ہے اللہ پاک ہم سب کو حضور کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں دوسروں کی
تربیت کرنے اور اپنی ذات کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
ظہور بیگ رحمانی (درجہ اولی جامعۃ المدینہ فیضان ابوعطار ملیر کراچی ، پاکستان)
نبی
اکرم ﷺ کے سوال کرنے کے طریقے اور اسکی حکمت:
نبی
اکرم ﷺ کا سوال کرنے کا انداز ان کے تدریسی طریقہ کار کا ایک قابل قدر پہلو ہے، جیسا
کہ ان کی سیرت سے مختلف احادیث اور واقعات میں واضح ہے۔ یہاں کچھ مثالیں ہیں:
(1)
توجہ اور وضاحت: نبی
اکرم ﷺ اکثر اپنے صحابہ کی توجہ ایمان اور عمل کے اہم پہلوؤں پر مرکوز کرنے کے لیے
سوالات کرتے تھے۔
مثال
کے طور پر یہ حدیث ہے:
وَعَنْ عَمْرِو
بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا قَالُوا: فالنبيونقَالَ:
ومالهم لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ
عَلَيْهِمْ قَالُوا: فَنَحْنُ. قَالَ:ومالكم
لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِن أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيمَانًا لَقَوْمٌ يَكُونُونَ
مِنْ بَعْدِي يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا
روایت
ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تمہارے نزدیک مخلوق میں کون زیادہ پیارے ایمان
والا ہے عرض کیا فرشتے فرمایا وہ کیوں ایمان
نہ لائیں وہ تو اپنے رب کے پاس ہیں بولے تو نبی حضرات،فرمایا وہ حضرات کیوں ایمان
نہ لائیں ان پر تو وحی اترتی ہے لوگوں نے عرض کیا کہ تو ہم،فرمایا تم کیوں ایمان
نہ لاؤ میں تو تمہارے درمیان ہوں فرماتے
ہیں کہ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے ساری مخلوق میں پیاری
ایمان والی وہ قوم ہے جو میرے بعد ہوگی وہ لوگ صحیفے پائیں گے جن میں وہ کتاب ہوگی
وہ کتاب کی ہر چیز پر ایمان لائیں گے۔(مشکوۃ 6288)
(2)
یادداشت کو مضبوط بنانا:
رسول اللہ ﷺ بعض اوقات اپنے اصحاب سے ان کی یادداشت اور اہم
تصورات کو سمجھنے کے لیے سوالات پوچھتے تھے۔
حدیث:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
اپنے صحابہ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں
مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ کوئی درہم ہے نہ جائیداد۔ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: ”میری امت کا مفلس وہ شخص ہو گا جو قیامت کے دن نماز، صوم اور زکوٰۃ لے کر
آئے گا، لیکن اس نے اس شخص کو گالی دی ہو گی، اس پر غیبت کی ہو
گی، اس کا مال ناجائز طور پر کھایا ہو گا اور اس کا خون بہایا ہو گا۔ (مسلم، کتاب
45، نمبر 7157)
یہ
حدیث نہ صرف یادداشت کو مضبوط کرتی ہے بلکہ اخلاقی احتساب کی اہمیت پر بھی زور دیتی
ہے۔والدین، اساتذہ اور مبلغین کے لیے مشورے اور نکات ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال کرنے کا انداز جدید دور میں معلمین اور بات چیت کرنے
والوں کے لیے قابل قدر اسباق پیش کرتا ہے۔ یہاں کچھ تجاویز ہیں:
1۔
تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی کریں: سیکھنے والوں کو تنقیدی سوچنے اور ان کے عقائد
اور اعمال پر غور کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کھلے سوالات کا استعمال کریں۔
2۔
"مجلسی تعلقات کافروغ": جس سے مراد ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کے عمل سے
ہے جو افراد میں فعال شرکت، عزم اور لگن کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جیسے کہ ملازمین
یا طلباء۔ اس میں واضح مواصلات، ترقی کے مواقع فراہم کرنے، کامیابیوں کو تسلیم
کرنے، اور ایک مثبت ثقافت کی تعمیر جیسی حکمت عملیوں کو نافذ کرنا شامل ہے تاکہ یہ
یقینی بنایا جا سکے کہ لوگ قابل قدر، جڑے ہوئے، اور حوصلہ افزائی کا احساس کریں۔
3۔
خود کی عکاسی کو فروغ دیں: سیکھنے والوں کو ان کے اپنے خیالات، احساسات اور اعمال
پر غور کرنے کی ترغیب دینے کے لیے سوالات کا استعمال کریں، ذاتی ترقی اور خود آگاہی
کو فروغ دیں۔
4۔
پیچیدہ تصورات کو واضح کریں: پیچیدہ خیالات کو واضح کرنے کے لیے سوالات کا استعمال
کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیکھنے والے اہم تصورات کو سمجھتے ہیں۔
سید علی حمزہ (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
رسول
اکرم ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز دنیا کے تمام معلمین کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آپ ﷺ نے انسانیت کو نہ صرف عقائد اور عبادات سکھائیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، عدل، مساوات
اور حقوق العباد کی تعلیم بھی دی۔ آپ ﷺ کے اندازِ تربیت میں حکمت و بصیرت
نمایاں نظر آتی ہے۔ انہی اندازوں میں سے ایک اہم انداز سوالیہ طریقۂ تعلیم تھا۔
اس اسلوب کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے ذریعے سامعین کی توجہ مرکوز ہو جاتی، ان میں
غور و فکر کی عادت پروان چڑھتی اور بات دل و دماغ پر زیادہ گہرا اثر ڈالتی۔
(1)
سب سے بڑا گناہ کون سا ہے: صحیح
بخاری اور صحیح مسلم کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے
فرمایا: "کیا میں تمہیں سب سے بڑے
گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں"صحابہ نے عرض کیا: "جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ۔آپ ﷺ نے فرمایا:"اللہ کے ساتھ
شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔" (بخاری، کتاب الشهادات، حدیث: 2654۔
مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 87)
یہ
سوال و جواب کا انداز صحابہ کو چونکا دیتا اور وہ پوری توجہ کے ساتھ آپ ﷺ کے
جواب کو سنتے، یوں وہ بات دل میں راسخ ہو جاتی۔
(2)
سب سے بہتر مسلمان کون ہےرسول اللہ ﷺ نے
سوال کیا گیا: "مسلمان کون ہے"فرمایا:"وہ شخص جس کی زبان اور ہاتھ
سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"(بخاری، کتاب الإيمان، حدیث: 10۔ مسلم، کتاب
الإيمان، حدیث: 40)
یہ
سوالیہ طرز نہ صرف تعلیم تھا بلکہ مسلمانوں کو اپنے کردار کا جائزہ لینے کی طرف بھی
مائل کرتا تھا۔
(3)
افضل عمل کون سا ہےصحیح بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ ایک صحابی نے پوچھا:
"کون سا عمل سب سے افضل ہے"آپ ﷺ نے جواب دیا: "وقت پر نماز
پڑھنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔"(بخاری،
کتاب الإيمان، حدیث: 527۔ مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 85)
یہاں
بھی سوالیہ انداز کے ذریع اعمال کی درجہ بندی اور ان کی اہمیت کو واضح فرمایا گیا۔
نبی
کریم ﷺ کے سوالیہ اندازِ تعلیم کی چند نمایاں حکمتیں یہ ہیں:
1.
طلبہ یا سامعین کی ذہنی توجہ کو بیدار کرنا۔
2.
بات کو سوال کی صورت میں پیش کر کے دلچسپی پیدا کرنا۔
3.
جواب دینے سے پہلے سوچنے پر مجبور کرنا۔
4.
تعلیم کو محض الفاظ نہیں بلکہ یادگار حقیقت بنا دینا۔
5.
مخاطب کو براہِ راست شامل کر کے اس کے اندر اعتماد اور فہم پیدا کرنا۔
نبی
اکرم ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا ایک انمول اصول ہے۔ آپ ﷺ نے
اس طریقے سے صحابہ کرام کے ذہن و فکر کو جِلا بخشی اور ان کی علمی و عملی تربیت کی۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نہ صرف علم میں ممتاز ہوئے بلکہ کردار و عمل میں بھی
بہترین نمونہ بن گئے۔ آج کے اساتذہ اور داعیانِ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی اس
اسلوب کو اپنائیں تاکہ طلبہ میں فکری بیداری اور عمل کی رغبت پیدا ہو۔
مدثر علی عطّاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اللہ
تعالی نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو
دنیا میں مبعوث فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کی تربیت مختلف طریقوں
سے فرمائی کہیں اپنے قول کے ذریعے کہیں پر اپنے فعل کے ذریعے اسی طرح نبی کریم ﷺ نے
سوالیہ انداز کے اندر بھی اپنی امت کی تربیت فرمائی ہے آئیے میں آپ کے سامنے چند
احادیث ذکر کرتا ہوں :
(1) آگ کا حرام ہونا
:روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی ﷺ کجاوہ پر تھے معاذ حضور کے ردیف تھے حضور نے
فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضر ہوں یا رسول الله خدمت میں فرمایا اے معاذ عرض کیا یارسول
الله حاضر ہوں خدمت میں فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضر ہو خدمت میں تین بار فرمایا ایسا
کوئی نہیں جو گواہی دے کہ الله کے سوا معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ الله
کے رسول ہیں سچے دل سے مگر الله اسے آگ پر حرام فرمادے گا۔عرض کی یارسول الله تو کیا
میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں کہ وہ خوش ہوجائیں فرمایا تب تو وہ بھروسہ کر بیٹھیں
گےپھر حضرت معاذ نے گناہ سے بچنے کے لیے اپنی وفات کے وقت خبر دے دی۔(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:25)
(2)سابقہ
گناہوں کا مٹنا:روایت ہے عمر و ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ میں حضور کی
خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ اپنا ہاتھ بڑھایئے تاکہ آپ کی بیعت کروں آپ نے ہاتھ
بڑھایا میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا فرمایا اے عمرویہ کیا میں نے عرض کیا کچھ شرط
لگانا چاہتا ہوں فرمایا کیا شرط میں نے عرض کیا کہ میری بخشش ہوجائے فرمایا اے
عمرو کیا تمہیں خبر نہیں کہ اسلام پچھلے گناہ ڈھادیتا ہے اور ہجرت پچھلے گناہ ڈھادیتی
ہے اور حج بھی پچھلے گناہ ڈھا دیتا ہے یہ مسلم نے روایت کی اور وہ دو حدیثیں جو
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہیں۔فرماتے ہیں فرمایا الله تعالٰی نے کہ میں تمام شرکاء میں
شرک سے غنی تر ہوں اور دوسری یہ کہ عظمت و بلندی میری چادر ہے ہم انہیں ریا اور
کِبر کے بابوں میں ذکر کریں گے اگر الله
نے چاہا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:28)
(3)اصل
چیز کی خبر :روایت ہے حضرت معاذ(ابن جبل)سے فرماتے ہیں کہ میں نے
عرض کیا یارسول الله مجھے ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں داخل اور دوزخ سے دور
کردے فرمایا تم نے بڑی چیز پوچھی ہاں جس پر الله آسان کرے اُسے آسان ہے الله کو
پوجو اورکسی چیز کو اس کا شریک نہ جانو نماز قائم کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ
کا حج کرو پھر فرمایا کیا میں تم کو بھلائی کے دروازے نہ بتادوں روزہ ڈھال ہے خیرات
گناہوں کو ایسا بجھاتی ہے جیسے پانی آگ کو اور درمیانی رات میں انسان کا نماز
پڑھنا پھر یہ تلاوت کی کہ ان کی کروٹیں
بستروں سے الگ رہتی ہیں (یعملونتک)پھر
فرمایا کہ میں تمہیں ساری چیزوں کا سر،ستون،کوہان کی بلندی نہ بتادوں میں نے کہا
ہاں یارسول الله فرمایا تمام چیزوں کا سراسلام ہے اور اس کا ستون نماز اور کوہان کی
بلندی جہاد ہے پھر فرمایا کہ کیا تمہیں ان سب کے اصل کی خبر نہ دے دوں میں نے عرض
کیا ہاں یا نبی الله پس حضور نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا کہ اسے روکو میں نے
عرض کیا کہ یا نبی الله کیا زبانی گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی فرمایا تمہیں تمہاری
ماں روئے اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ آگ میں نہیں گراتی مگر زبانوں کی کٹوتی۔ یہ
حدیث احمد ترمذی ابن ماجہ نے روایت کی۔
(کتاب:مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:29)
(4)
جنتی لوگوں کی خبر :حضرت سَیِّدُنا حارثہ بن وہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : کیا میں تمہیں
جنتی لوگوں کی خبر نہ دوں ہرکمزورجسے کمزورسمجھا جائے اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ (کے
کرم)پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی قسم کو ضرور پورا
کر دے گا۔ کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کی خبر نہ دوں ہر وہ شخص جوسخت مزاج ، بخیل
اورخود کو بڑا سمجھنے والا ہو۔
(کتاب:فیضان
ریاض الصالحین جلد:3 , حدیث نمبر:252)
(5)
شرک خفی :حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :ہم لوگ
مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کہ رسولِ کریم ﷺ تشریف لائے اورارشاد فرمایا’’ میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں جس کا مسیح
دجا ل سے بھی زیادہ میرے نزدیک تم پر خوف ہےہم نے عرض کی:ہاں ، یا رسولَ اللہ ! ﷺ ارشاد فرمایا’’وہ شرکِ خفی
ہے،آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو ا س وجہ سے طویل کرتا ہے کہ دوسرا شخص اسے
نماز پڑھتا دیکھ رہا ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الریاء والسمعۃ، ۴ / ۴۷۰، الحدیث: ۴۲۰۴)
ہارون انصاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
انسانی
فطرت ہے کہ جب اس سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ
ﷺ نے اسی فطری کیفیت کو تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو
براہِ راست حکم دینے کے بجائے سوالات کے ذریعے ان کے دلوں کو بیدار کیا۔ یہ انداز
ا نہ صرف علم میں مضبوط کرتا بلکہ عمل کے لیے بھی تیار کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی یہ حکمت
آج کے انسان کے لیے بھی بہترین نصیحت ہے کہ وہ دوسروں کی اصلاح محبت اور حکمت سے
کرے۔
هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰)
ترجمہ
کنز الایمان: نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی ۔(الرحمٰن: 60)
مفہوم:
یہ آیت سوالیہ انداز میں انسان کو اچھائی کے بدلے میں اچھائی پر اُبھارتی ہے۔
(1
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ
رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ
سِتٌّ قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ،
وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ.
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو مسلمان پر مسلمان کا حق کیا ہے پھر فرمایا:
جب ملاقات کرے تو سلام کرے، جب بلائے تو جواب دے، اور جب خیرخواہی مانگے تو نصیحت
کرے. (صحيح مسلم، كتاب السلام، حديث: 2162)
مفہوم:
سوالیہ انداز نے مسلمانوں کے باہمی حقوق کو دل میں اُتار دیا۔
(2)
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:
قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ۔ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو سب
سے اچھا مسلمان کون ہے" پھر فرمایا: "وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے
مسلمان محفوظ رہیں۔"(صحيح البخاری، كتاب الايمان، حديث: 11)
مفہوم:سوالیہ
انداز نے حقیقی مسلمان کی پہچان کو دلوں میں بٹھا دیا۔
رسول
اللہ ﷺ کے سوالات صرف گفتگو نہ تھے بلکہ ایک نصیحت، ایک دعوت اور ایک بیداری تھے۔
آپ ﷺ کا یہ انداز دلوں کو نرم کر دیتا اور عقل کو سوچنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ آج
بھی اگر ہم تعلیم اور نصیحت میں یہی حکمت اپنائیں تو ہمارے معاشرے میں محبت، عدل
اور بھائی چارہ قائم ہو سکتا ہے۔ سوالیہ انداز نہ صرف علم دیتا ہے بلکہ کردار بھی
سنوارتا ہے، اور یہی اصل تربیت ہے۔
رسول
اللہ ﷺ کا اسلوبِ تربیت نہایت دلنشین اور مؤثر تھا۔ آپ ﷺ جب سوال پوچھتے تو صحابہ
کرام کے دلوں پر دستک دیتے، تاکہ وہ سوچیں اور اپنی حالت کا جائزہ لیں۔ یہ انداز
محض معلومات دینا نہیں بلکہ روح کو جھنجھوڑ دینا تھا۔ آج ہمیں بھی یہی ضرورت ہے کہ
ہم صرف دین پڑھیں نہیں بلکہ اسے دل سے سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ نبی ﷺ
کی سوالیہ تعلیم اس بات کی ضمانت ہے کہ بات ذہن اور دل دونوں میں گھر کر جاتی ہے۔
ہر
چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں وزن رکھتا ہے۔
احادیث
(1)
أَ تَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ (صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الغیبۃ، حدیث: 2589)
ترجمہ:
غیبت یہ ہے کہ اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے۔ اگر وہ بات موجود
ہے تو یہ غیبت ہے اور اگر نہیں تو بہتان ہے۔
زبان
کی حفاظت ایمان کی بنیاد ہے۔
(2)
أَ تَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ ترجمہ:
مفلس وہ ہے جو نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے مگر دوسروں پر ظلم کر کے سب گنوا بیٹھے۔(صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، حدیث: 2581)
آخرت
میں اصل بربادی حقوق العباد ضائع کرنے سے ہوگی۔
(3)أَتَدْرُونَ أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَفْضَلُترجمہ:
کیا تم جانتے ہو جنت والوں میں سب سے افضل کون ہے فرمایا: وہ کمزور اور عاجز جو
اللہ کے قریب ہو۔(صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا، باب الصفۃ التی یعرف بہا فی
الدنیا أھل الجنۃ، حدیث: 2739)
یہ
احادیث اور قرآنی ہدایات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہماری زبان، ہمارے اعمال اور
دوسروں کے ساتھ برتاؤ سب قیامت کے دن تولا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کے سوالات ہمیں
سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم اپنی نیکیاں ضائع تو نہیں کر رہے ہماری اصل کامیابی
عاجزی، حقوق العباد کی ادائیگی اور دل کی پاکیزگی میں ہے۔ یہی سبق ہمیں آج اپنی
زندگی میں اپنانا ہے۔
محمد عدیل (درجہ رابعہ جامعۃُ
المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی ، پاکستان)
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ(۶) وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًاﭪ(۷) ترجمۂ کنزالایمان: کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا اور پہاڑوں کو میخیں۔ (پ30،النباء،6-7)
ترازو
کی سب سے بھاری چیز:مَا مِنْ شَيْءٍ
أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ ترجمہ:
"کیا تم جانتے ہو ترازو میں سب سے بھاری چیز کیا ہے" فرمایا: "اچھا
اخلاق۔"(سنن ابوداؤد، کتاب الادب، حدیث: 4799)
سب
سے افضل جہاد:أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ:
كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرترجمہ: "کیا تم
جانتے ہو سب سے افضل جہاد کون سا ہے" فرمایا: "ظالم حکمران کے سامنے حق
بات کہنا۔"(سنن نسائی، کتاب البیع، حدیث: 4209)
رسول
اللہ ﷺ کا صحابہ رضی اللّٰه عنھم کو سلام کے بارے ارشاد فرمایا:أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ
تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمترجمہ:
"کیا تم چاہتے ہو میں تمہیں ایسی چیز بتاؤں جس سے آپس میں محبت پیدا ہو آپ ﷺ نے فرمایا: "آپس میں سلام کو عام کرو۔"(صحیح
مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 54)
رسول
الله ﷺ نے صحابہ کرام کی تربیت کے لیے مختلف مؤثر طریقے اپنائے، جن میں سے سوالیہ
انداز ایک اہم طریقہ تھا۔ آپ ﷺ کی تربیت کے چند اہم طریقے یہ تھے:
1.
سوالیہ انداز: آپ ﷺ نے سوالات کے ذریعے صحابہ کو سوچنے، غور و فکر کرنے کی ترغیب دی۔
اس طریقہ سے صحابہ خود اپنی اصلاح کرتے اور بہتر فیصلے کرتے۔
2.
مثال کے ذریعے تعلیم: آپ ﷺ نے اپنی زندگی کو عملی نمونہ بنا کر صحابہ کو رہنمائی
فراہم کی۔ آپ ﷺ کی اخلاقی خصوصیات اور عمل صحابہ کے لیے سب سے بہترین درس تھا۔
3.
دعا اور تضرع: آپ ﷺ نے صحابہ کو اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی ترغیب دی۔ دعا،
استغفار اور اللہ کے قریب ہونے کے ذریعے آپ ﷺ نے ان کی روحانیت کو بڑھایا۔
4.
نرمی اور محبت: آپ ﷺ نے صحابہ کے ساتھ نرمی اور محبت کا سلوک کیا، جس سے وہ آپ ﷺ کی
باتوں کو دل سے قبول کرتے اور اس پر عمل کرتے۔
5.
تنبیہہ اور اصلاح: آپ ﷺ نے غلطیوں کی اصلاح کی، لیکن کبھی بھی سختی سے نہیں، بلکہ
حکمت اور نرمی سے انہیں درست راستے کی طرف راغب کیا۔"یہ تمام طریقے صحابہ کی
فکری، روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے آپ ﷺ کے جامع طریقہ کار کا حصہ تھے"۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے
کی توفیق عطا فرمائیں اٰمین یا رب العٰلمین۔
اسد علی
(درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی ، پاکستان)
رسول
اللہ ﷺ کی زندگی انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے ایسے
انداز اپنائے جو عقل و دل دونوں کو متاثر کرتے تھے۔ان میں سے ایک اہم اسلوب سوالیہ
انداز تھا۔آپ ﷺ سوال کرتے اور صحابہ کرام کو غور و فکر پر آمادہ کرتے۔پھر حقیقت
واضح فرماتے تو وہ بات دل میں اتر جاتی۔یہ طریقہ آج بھی تربیت کے لیے مشعل راہ ہے۔
قرآن
کی روشنی میں: اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ
خُلِقَتْ(۱۷) ترجمہ : تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا (سورۃ
الغاشیہ: 17)
سوالیہ انداز سوچ اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔
احادیث
کی روشنی میں:
حدیث
1:عَنْ
مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا
مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى العِبَادِ، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا
(صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث: 7373) ترجمہ:
"کیا تم جانتے ہو اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے" … فرمایا: "یہ کہ وہ
صرف اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔"
اللہ
کا سب سے بڑا حق توحید ہے۔
حدیث
2:عَنْ
مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:…. أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ (صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث:
7373) ترجمہ: "کیا تم جانتے ہو بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے" فرمایا: "یہ کہ اللہ اس شخص کو عذاب نہ دے
جو اس کے ساتھ شرک نہ کرے۔
شرک
سے بچنا نجات کی ضمانت ہے: حدیث 3:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
ﷺ:«أَتُحِبُّونَ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: أَفْشُوا
السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا
بِاللَّيْلِ، وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ ترجمہ
: "کیا تم چاہتے ہو کہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ" … فرمایا:
"سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتہ داری جوڑو اور رات کو نماز پڑھو جبکہ
لوگ سو رہے ہوں۔(سنن ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث: 2485)
نیکی
کے یہ اعمال جنت میں لے جانے والے ہیں۔
سوالیہ
انداز نے توحید، نجات اور جنت کے راستوں کو نہایت آسان مگر مؤثر طریقے سے بیان کیا۔
یہ انداز تعلیم آج بھی ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
احمد رضا انصاری ( دورہ حدیث جامعۃ المدینہ فیضانِ بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
اللہ
پاک نے آخری نبی ﷺ کو معلِّم کائنات بناکر
بھیجا، آپ نے اپنے غلاموں کی مختلف انداز میں تربیت کرنے کا اہتمام فرمایا، تاکہ
علم دین حاصل کرنا اور دین کو سمجھ کر، اس پر چلنا آسان ہو، آخری نبی ﷺ کے جہاں کئی
اندازِ تربیت احادیث مبارکہ میں نظر آتے ہیں، انہی میں سے آپ کا صحابہ کرام علیھم
الرضوان سے سوالات کرکے ان کی علمی پیاس کو بجھانا بھی ہے، ضیاء القاری شرح مختصر
البخاری میں ہے کہ "رسول اللہ ﷺ کی عادت کریمہ تھی جب آپ صحابہ کرام علیھم
الرضوان کے ساتھ ہوتے تو بعض اوقات اُن کی ذہنی صلاحیت جانچنے اور انہیں طلبِ علم
پر ابھارنے کے لیے سوالات فرماتے. (ضیاء القاری فی شرح مختصر البخاری،کتاب
العلم،ج1،ص498، مکتبۃ المدینۃ)
آئیے!
احادیث مبارکہ ملاحظہ کرتے ہیں:
1۔خطائیں
معاف ہوں اور درجے بلند ہوں: اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے صحابہ کرام علیھم الرضوان سے سوالات فرمائیں اور ان
سوالات کے ذریعے کبھی کسی عمل کی اصلاح فرماتے، اور کبھی کسی نیک عمل کی ترغیب
فرماتے، جیساکہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ
الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ یعنی کیا
میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ پاک خطائیں مٹا دے اور درجے
بلند کردےلوگوں نے عرض کیا: ہاں یا رسول اللہ ﷺ! اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد
فرمایا:إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى
الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ
بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ یعنی مشقت میں وضو پورا
کرنا، مسجد کی طرف زیادہ قدم رکھنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہ
سرحد کی حفاظت کرنے کی طرح ہے.
(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل اسباغ الوضو علی المکارۃ، ج1،ص218،رقم:251،دار
احیاء التراث العربی بیروت)
2۔
خطاؤں کا مٹنا:پانچ نمازیں پابندی کے ساتھ ادا کرنے کے کئی فضائل ہیں،
اور اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ گناہوں کی معافی بھی نصیب ہوجاتی ہے، چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے اس فرض کو ادا کرنے پر ایک
خوب صورت انداز میں ترغیب ارشاد فرمائی،چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے سوال
ارشاد فرمایا:أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا
بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى
مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ یعنی بتاؤ! اگر تم لوگوں میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو
اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار غسل کرتا ہو، تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ
جائے گاصحابہ کرام نے عرض کیا: ایسی حالت میں اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی نہ
رہے گا. تو اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللهُ بِهِنَّ
الْخَطَايَابس یہی کیفیت ہے پانچوں نمازوں کی، اللہ پاک ان کے سبب گناہوں کو مٹا دیتا ہے.(صحیح
مسلم،ﻛﺘﺎﺏ اﻟﻤﺴﺎﺟﺪ ﻭﻣﻮاﺿﻊ اﻟﺼﻼﺓ،ﺑﺎﺏ اﻟﻤﺸﻲ ﺇﻟﻰ اﻟﺼﻼﺓ ﺗﻤﺤﻰ ﺑﻪ اﻟﺨﻄﺎﻳﺎ، ﻭﺗﺮﻓﻊ ﺑﻪ اﻟﺪﺭﺟﺎﺕ،ج1،ص462،رقم:667دار احیاء
التراث العربی بیروت)
3۔قران
پاک کی تین آیات قرآن پاک اللہ پاک کی آخری آسمانی کتاب ہے، جو آخری نبی ﷺ پر
نازل ہوئی،اس کو پڑھنا، دیکھنا، چھونا، سننا، سمجھنا اور اس میں غور وفکر کرنا سب
عبادت ہے،چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے اس کی اہمیت اور فضیلت کو
اجاگر (روشن) کرنے کے لیے پوچھا:أَيُحِبُّ
أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ
عِظَامٍ سِمَانٍیعنی کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر
لوٹے تو وہاں تین حاملہ، بڑی اور موٹی اونٹنیاں پائےصحابہ کرام علیھم الرضوان نے
عرض کی: جی ہاں! اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ
نے ارشاد فرمایا: فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ
بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ
سِمَانٍ.تو تین
آیتیں جنہیں کوئی اپنی نماز میں پڑھ لے وہ اسے تین حاملہ بڑی اور موٹی اونٹنیوں سے
بہتر ہیں.(صحیح مسلم،کتاب فضائل القرآن،ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ ﻗﺮاءﺓ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﻲ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﺗﻌﻠﻤﻪ،ج1،ص551رقم:802،دار احیاء التراث العربی بیروت)
4۔
ایک رات میں ایک تہائی قرآن پاک پڑھنا:قرآن پاک کی تلاوت سعادت
اور فضیلت کا باعث ہے، لیکن مخصوص آیات یا سورتیں کچھ منفرد خصوصیات رکھتی ہیں، جن
کی برکت سے اس کی تلاوت کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اسی طرح کے عمل کی رغبت دلاتے
ہوئے، اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے سوال فرمایا:أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ
ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالُوا: وَكَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِیعنی
تم اس بات سے عاجز ہو کہ ہر رات تہائی قرآن پڑھ لیا کرولوگوں نے عرض کی:کیسے تہائی
قرآن پڑھا جاسکتا ہےتو اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:" قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآن "قُلْ ھُوَ اللہ ُ اَحَدٌ"
(مکمل سورۃ اخلاص)تہائی قرآن کے برابر ہے. (صحیح مسلم،کتاب فضائل القرآن،ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ ﻗﺮاءﺓ ﻗﻞ ﻫﻮ اﻟﻠﻪ ﺃﺣﺪ،ج1،ص555رقم:811،دار احیاء
التراث العربی،بیروت)
5۔لمبی
عمر اور اچھے اخلاق والے: اللہ پاک کے
آخری نبی ﷺ نے اپنے حکیمانہ انداز کے ذریعے، اپنی نبوی تعلیمات سے امت کی تعلیم و
تربیت فرمائی، ان میں سے یہ کہ اللہ پاک بندے کو لمبی عمر بھی عطا فرمائے اور ساتھ
حسنِ اخلاق سے متصف بھی ہو،چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے صحابہ کرام علیھم الرضوان
سے سوال فرمایا:أَلَا أُنَبِّئُكُمْ
بِخِيَارِكُمْکیا میں تم کو تمہی میں سے بہترین لوگوں کی خبر نہ دوںصحابہ
کرام علیھم الرضوان نے عرض کی:جی ہاں! اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ
أَخْلَاقًا. یعنی تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں اور
اخلاق اچھے ہوں۔ (مسند احمد،مسند ابی ھریرہ، ج12، ص145، رقم:7211،مؤسسہ الرسالہ،
طبعہ اولی1421ھ،2001)
قارئین
کرام! تعلیم و تربیت کے مؤثر ترین طریقوں میں سے ایک طریقہ سوالیہ انداز اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے تعلیم اور
تبلیغ میں اس انداز کو شامل کریں، اور علم دین کی شمع کو خوب روشن کریں۔
اللہ پاک ہم سب کو آخری نبی ﷺ کی سیرت سے ملنے والے
طریقوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami