اسد علی
(درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی ، پاکستان)
رسول
اللہ ﷺ کی زندگی انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے ایسے
انداز اپنائے جو عقل و دل دونوں کو متاثر کرتے تھے۔ان میں سے ایک اہم اسلوب سوالیہ
انداز تھا۔آپ ﷺ سوال کرتے اور صحابہ کرام کو غور و فکر پر آمادہ کرتے۔پھر حقیقت
واضح فرماتے تو وہ بات دل میں اتر جاتی۔یہ طریقہ آج بھی تربیت کے لیے مشعل راہ ہے۔
قرآن
کی روشنی میں: اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ
خُلِقَتْ(۱۷) ترجمہ : تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا (سورۃ
الغاشیہ: 17)
سوالیہ انداز سوچ اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔
احادیث
کی روشنی میں:
حدیث
1:عَنْ
مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا
مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى العِبَادِ، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا
(صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث: 7373) ترجمہ:
"کیا تم جانتے ہو اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے" … فرمایا: "یہ کہ وہ
صرف اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔"
اللہ
کا سب سے بڑا حق توحید ہے۔
حدیث
2:عَنْ
مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:…. أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ (صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث:
7373) ترجمہ: "کیا تم جانتے ہو بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے" فرمایا: "یہ کہ اللہ اس شخص کو عذاب نہ دے
جو اس کے ساتھ شرک نہ کرے۔
شرک
سے بچنا نجات کی ضمانت ہے: حدیث 3:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
ﷺ:«أَتُحِبُّونَ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: أَفْشُوا
السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا
بِاللَّيْلِ، وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ ترجمہ
: "کیا تم چاہتے ہو کہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ" … فرمایا:
"سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتہ داری جوڑو اور رات کو نماز پڑھو جبکہ
لوگ سو رہے ہوں۔(سنن ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث: 2485)
نیکی
کے یہ اعمال جنت میں لے جانے والے ہیں۔
سوالیہ
انداز نے توحید، نجات اور جنت کے راستوں کو نہایت آسان مگر مؤثر طریقے سے بیان کیا۔
یہ انداز تعلیم آج بھی ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
Dawateislami