حافظ عباد علی (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان ابوعطار ملیر کراچی ، پاکستان)
اللہ
تبارک و تعالی نے حضور اکرم ﷺ کو اپنا
محبوب بنایا اور حضور اکرم ﷺ کو کائنات کے
ہر زرے ذرے کی تعلیم عطا کی اور اس تعلیم کو حضور اکرم ﷺ نے دنیا جہاں تک پہنچایا۔اس تعلیم و تعلُّم کے
سلسلے میں حضور اکرم ﷺ نے بہت حسین و جمیل
طرز عمل کو اپنایا کہ اس طریقے سے امت کو تعلیم حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ انہی
خوبصورت اندازوں میں سے ایک طریقہ کار سوالیہ انداز میں تربیت فرمانا ہے۔اس کے
حوالے سے ہم چند احادیث مبارکہ کے پھول سماعت فرماتے ہیں۔
(1)
حسن اخلاق کی تعلیم: حدیث
مبارکہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُقَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي
مَا أَقُولُ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ
يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ ۔(سنن ابی داؤد: باب: غیبت کا
بیان،حدیث نمبر4874)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول
! غیبت کیا ہے آپ نے فرمایا :’’ تمہارا
اپنے بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو ۔‘‘ کہا گیا : جو
بات میں کہہ رہا ہوں اگر وہ میرے بھائی میں ( فی الواقع ) ہو ( تو بھی وہ غیبت ہو گی ) آپ نے فرمایا :’’ اگر اس میں وہ بات موجود ہو
اور تم کہو تب ہی تو غیبت ہے ۔ اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ ہو تو تم نے
اس پر بہتان لگایا ۔
حضور
اکرم ﷺ نے کتنا خوبصورت انداز اپنایا کہ
اس انداز سے آپ ﷺ نے نہ صرف تعریف کو محدود کیا، بلکہ اس برائی کی گہرائی بھی واضح
کر دیا۔
(2)
عبادات کی اہمیت کو واضح کرنا: حدیث
مبارکہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ
سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ
يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ: ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا: لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ:
فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الخَطَايَا (صحیح
بخاری: باب: اوقات نماز کا بیان،حدیث نمبر: 528)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر
جاری ہو ، اور وہ روزانہ اس میں پانچ پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے ۔ کیا
اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی رہ سکتا ہے صحابہ نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! ہرگز نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہی
حال پانچوں وقت کی نمازوں کا ہے ۔ کہ اللہ پاک ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا
ہے ۔
میرے
آقا محمد مصطفی ﷺ کا کتنا ہی دل نشی انداز
ہےسوال کے ذریعے نماز کی اہمیت اور روحانی صفائی کو ایسا واضح کیا کہ بات ذہن میں
بیٹھ گئی۔
(3)
سوال کرنے کے شوق کو بڑھانا ہے: حدیث
مبارکہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَأْخُذُ هَؤُلَاءِ
الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلْ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمْهُنَّ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ قَالَ
أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: أَنَا، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يَدِي فَعَقَدَ فِيهَا خَمْسًا: اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ
النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ، وَأَحْسِنْ
إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ
تَكُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تَكْثُرِ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكَ تُمِيتُ
الْقَلْبَ ( جامع ترمذی: باب: حرام چیزوں سے بچنے والا سب سے بڑا عابد ہے ،حدیث نمبر: 2305)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: ”کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص
کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ
کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا:
تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم
شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بے نیاز رہو گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ
احسان کرو پکے سچے مومن رہو گے۔ اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند
کرتے ہو سچے مسلمان ہو جاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو
مردہ کر دیتا ہے۔
حضور
اکرم ﷺ کا یہ انداز گفتگویہ سوال سیکھنے
کے شوق کو ابھارتا ہے۔ سوال سن کر صحابہ فوراً متوجہ ہو جاتے اور سیکھنے کے لیے تیار
ہو جاتے۔
نبی
کریم ﷺ کا سوالیہ انداز تربیت ایک انتہائی حکیمانہ اور مؤثر طریقہ تھا۔ آپ ﷺ
سوالات کے ذریعے سوچنے پر مجبور کرتے، دلوں میں اثر پیدا کرتے اور تعلیم کو ذہن نشین
کروا دیتے۔اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں حضور اکرم
ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات کو سمجھنے اور پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami