رسول
اللہ ﷺ کا اسلوبِ تربیت نہایت دلنشین اور مؤثر تھا۔ آپ ﷺ جب سوال پوچھتے تو صحابہ
کرام کے دلوں پر دستک دیتے، تاکہ وہ سوچیں اور اپنی حالت کا جائزہ لیں۔ یہ انداز
محض معلومات دینا نہیں بلکہ روح کو جھنجھوڑ دینا تھا۔ آج ہمیں بھی یہی ضرورت ہے کہ
ہم صرف دین پڑھیں نہیں بلکہ اسے دل سے سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ نبی ﷺ
کی سوالیہ تعلیم اس بات کی ضمانت ہے کہ بات ذہن اور دل دونوں میں گھر کر جاتی ہے۔
ہر
چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں وزن رکھتا ہے۔
احادیث
(1)
أَ تَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ (صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الغیبۃ، حدیث: 2589)
ترجمہ:
غیبت یہ ہے کہ اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے۔ اگر وہ بات موجود
ہے تو یہ غیبت ہے اور اگر نہیں تو بہتان ہے۔
زبان
کی حفاظت ایمان کی بنیاد ہے۔
(2)
أَ تَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ ترجمہ:
مفلس وہ ہے جو نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے مگر دوسروں پر ظلم کر کے سب گنوا بیٹھے۔(صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، حدیث: 2581)
آخرت
میں اصل بربادی حقوق العباد ضائع کرنے سے ہوگی۔
(3)أَتَدْرُونَ أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَفْضَلُترجمہ:
کیا تم جانتے ہو جنت والوں میں سب سے افضل کون ہے فرمایا: وہ کمزور اور عاجز جو
اللہ کے قریب ہو۔(صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا، باب الصفۃ التی یعرف بہا فی
الدنیا أھل الجنۃ، حدیث: 2739)
یہ
احادیث اور قرآنی ہدایات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہماری زبان، ہمارے اعمال اور
دوسروں کے ساتھ برتاؤ سب قیامت کے دن تولا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کے سوالات ہمیں
سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم اپنی نیکیاں ضائع تو نہیں کر رہے ہماری اصل کامیابی
عاجزی، حقوق العباد کی ادائیگی اور دل کی پاکیزگی میں ہے۔ یہی سبق ہمیں آج اپنی
زندگی میں اپنانا ہے۔
Dawateislami