آپ ﷺ نے پوری زندگی اپنی امت کو ہدایت کے راستے کی طرف چلنے کی ترغیب دلائی آپ نے مختلف انداز سے لوگوں کو اسلام کے دعوت دی اور مختلف انداز سے ان کی تربیت فرمائی جو لوگ مسلمان ہوئے آپ نے ان کو دین کی سمجھ بوج عطا فرمائی آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو مختلف انداز سے دین کا علم سکھایا کبھی سوالیہ انداز میں کبھی اشارتا کبھی قول و فعل کے ذریعے وغیرہ، آج ہم احادیث کی روشنی میں حضور ﷺ کا سوالیہ انداز سے صحابہ کرام کو تربیت دینے کے متعلق پڑھتے ہیں ۔ (مشکوٰۃ المصابیح،کتاب: آداب کا بیان،باب: حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان،حدیث نمبر: 4867)

عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظَّهْرِ، وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ غَيْرِهِمَا قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا۔

ترجمہ:انس رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ ابوذر! کیا میں تمہیں دو خصلتیں نہ بتاؤں جو پشت پر (انسان کے عمل کے لحاظ سے) بہت ہلکی ہیں جبکہ میزان میں بہت بھاری ہیں‘‘ وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، جی ہاں! بتائیں، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ خاموش رہنا اور اچھے اخلاق اختیار کرنا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مخلوق نے ان جیسے دو عمل نہیں کیے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح،کتاب: آداب کا بیان،باب: حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان،حدیث نمبر: 4832)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ قَالَ تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ قِيلَ فَمَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ قَالَ الْأَجْوَفَانِ الفم والفرج ترجمہ:ابوہریرہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ تر لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی (پھر فرمایا) اللہ کا تقوی اور حسن خلق، کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ تر لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی (پھر فرمایا) دو چیزیں، منہ اور شرم گاہ۔‘‘ (اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و ابن ماجہ)

ان احادیث میں آپ ﷺ نے بہت ہی احسن انداز سے صحابہ کرام کو تربیت فرمائی آپ ﷺ نے سوالیہ انداز سے فرمایا کہ کہ کون سی چیز انسان کو جنت کی طرف لے جائیں گی اور کون سی چیز جہنم کی طرف لے جائیں گی ہمیں بھی اس حدیث اور دیگراحادیث میں جن میں صحابہ کرام کو تربیت فرمائی گئی سیکھنے عمل کرنے اور دوسرے مسلمانوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

حضور  ﷺ نے امت کی کئی طرح سے رہنمائی فرمائی ہے کبھی اپنے مبارک ملفوظات کے ذریعے کبھی قرآنی آیات کے ذریعے تو کبھی شریعت کے احکام کے ذریعے لیکن بعض دفع مزید زیادہ آسانی سے بات سمجھ آ جائے اس کے لئے آپ نے سوالیہ انداز میں بھی تربیت فرمائی ہے آئے چند آحادیث ملاحظہ فرماتے ہیں اور برکتیں لینے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل کرنے کی نیت بھی کر لیتے ہیں۔

حدیث 1:حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کو رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا تو فرمایا کہ جب تجھے کوئی معاملہ پیش آئے تو تُو کیسے فیصلہ کرے گا۔ حضرت سیدنا معاذرضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ میں اﷲ عزوجل کی کتاب کے ساتھ حکم کروں گا۔ آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر اﷲ عزوجل کی کتاب میں تو اس کا حکم نہ پائے تو پھر کیا کرے گا۔ انہوں نے عرض کی کہ رسول کریم صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر تو رسول علیہِ السّلام کی سنت میں بھی اس حکم کو نہ پائے تو پھر کیا کرے گا انہوں نے عرض کی کہ میں اپنی عقل او ر رائے کے ساتھ اجتہاد کروں گا اور طلب ثواب میں کمی نہ کروں گا۔ (کتاب:اربَعیْنِ حَنفِیَّہ , حدیث نمبر:2 )

حدیث 2: حضرت ابو موسٰی اَشْعَری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ ! عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کون سا اسلام افضل ہے تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت رہیں۔ (کتاب:منتخب حدیثیں , حدیث نمبر:4 )

حدیث 3:روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتےہیں کہ ایک دیہاتی حضورعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ کروں تو جنتی ہوجاؤں فرمایا الله کو پوجو اُس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز قائم کرو،زکوۃ فرض دو،رمضان کے روزے رکھو وہ بولے قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کبھی اس سے کچھ گھٹاؤں بڑھاؤں گا نہیں پھرجب وہ چل دیئے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو جنتی مردکو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:14 )

حدیث 4:حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں عرض کی: مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘ اس نے کئی بار یہی عرض کی تو آپ نے (وہی)ارشاد فرمایا کہ ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘

(شرح اربعین نوویہ(اردو) , حدیث نمبر:16 , غصہ نہ کرو)

اللہ تعالی کی پاک بارگاہ میں دعا ہے کہ جو ہم نے احادیث پڑھی اور سنی اس پر ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اللہ عزوجل اپنے بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے وقتا فوقتا اپنے مقدس انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرماتا رہا اور سب سے آخر میں اس نے اپنے پیارے محبوب  ﷺ کا مبعوث فرمایا جو عرب و عجب میں بے مثل اور اصل و نسل حسب و نسب میں سب سے زیادہ پاکیزہ ہے الغرض آپ ﷺ کو ایسے فضائل و محاسن اور مناقب کے ساتھ مخصوص کیا ہے جس کا احاطہ ممکن نہیں آئیے رسول اللہ ﷺ کے فرامین پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

(1) گناہ کبیرہ کی خبر دینا:حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں وہ اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے آپ ٹیک لگائے تشریف فرما تھے پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا سنو !اور جھوٹ بولنا بھی ہے۔ (احیا العلوم جلد 3 صفحہ نمبر 410 مکتبۃ المدینہ مترجم)

(2) جھوٹ کے بارے میں خبر دار کرنا:حضرت سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اس وقت میں چھوٹا تھا کھیلنے کے لیے باہر جانے لگا تو میری والدہ نے آواز دی یہاں آؤ میں تمہیں کچھ دوں گی آپ ﷺ نے استفسار فرمایا تم اسے کیا دینا چاہتی ہو عرض کی کھجور ارشاد فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتی تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا ۔ (احیا العلوم جلد 3 صفحہ 410 مترجم مکتبہ المدینہ)

(3) معاف کرنے کی رغبت:سرکار مدینہ قرار قلب و سینہ ﷺ نے دریافت فرمایا اے جبرائیل یہ معاف کرنا کیا ہے عرض کی اللہ عزوجل آپ کو حکم فرماتا ہے کہ جو آپ پر ظلم کرے اسے معاف کر دیں جو آپ سے تعلق توڑے اس سے جوڑے اور جو آپ کو محروم کرے اسے عطا کرے۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ 467 مترجم مکتبۃ المدینہ )

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے اور آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی امین ﷺ ۔


رسول اللہ ﷺ  نے کئی طریقوں سے صحابہ کرام علیہم رضوان کی تربیت فرمائی اور وہی تربیت آج تک ہم سب کو مل رہی ہے جیسا کہ رسول ﷺ کا اشارے سے تربیت فرمانا مثال دے کر تربیت فرمانا اسی طرح حضور ﷺ نے کئی جگہ پر صحابہ کرام علیہم رضوان اور اپنی امت کو سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ہے ۔ جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے:

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے اللہ سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو اگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ ۔ (کتاب مرآۃ المنا جیح شرح مشکات المصابیح جلد:6 حدیث نمبر 4832)

جیسا کہ اس حدیث مبارکہ میں حضور ﷺ نے تربیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کون سی چیز جنت میں لے جاتی ہے اور کون سی چیز دوزخ میں لے جاتی ہے یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے 90 فیصد گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بدترین گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے ۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکے ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتی ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔ (کتاب مراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 6 حدیث نمبر 4867)

یعنی ان پر عمل کرنا اسان ہے کچھ مشکل نہیں چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس لیے عمل کے لیے پیٹ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے نیز بوجھ پیٹ پر ہی اٹھائے جاتے ہیں پیٹ ہی ہلکا باری بوجھ محسوس کرتی ہے بہرحال کلام بڑا فصیح ہے مراد ہے زبان کی پیٹھ جیسا کہ حدیث مبارکہ سے ہمیں پتہ چلا ہے کہ بروز قیامت میں خصلتیں جب گناہوں سے تولی جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہو جائیں گے قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہوگا کیونکہ ان کے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر معاملات کا کوئی کام نہیں یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔ 


سوال انسانی ذہن کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ یہ تجسس پیدا کرتا ہے، غور و فکر کو ابھارتا ہے اور دل کو متوجہ کرتا ہے۔ سوال ایسا چراغ ہے جو شعور میں روشنی بھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے معلمین سوالیہ اسلوب ‏کو تعلیم کا مؤثر ترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اس اسلوب کی سب سے اعلیٰ، حسین اور کامل صورت ہمیں رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ‏میں ملتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے محض معلومات فراہم نہیں کیں بلکہ ذہنوں کو بیدار اور قلوب کو زندہ کیا۔ آپ ﷺ کا سوال  پہلے سامع کو چونکا دیتا، ‏پھر سوچ پر مجبور کرتا اور آخر میں ایسا جواب عطا فرماتے جو دل پر مہر ثبت کر دیتا۔ یہی وہ انداز تھا جس نے صحابہ کرام‏‎ ‎رضی اللہ عنہ کے ‏اذہان کو جلا بخشی اور ان کے کردار کو نکھار دیا۔

تعلیم کو عملی زندگی سے جوڑنا:آپ ﷺ نے سوالیہ انداز کو محض تعلیمی نہیں بلکہ تربیتی اور اصلاحی ذریعہ بنایا۔ سوالات کے ذریعے آپ ﷺ نے عملی زندگی کی سمت ‏طے کی، لوگوں کے ذہنوں کو کایا پلٹ دی اور دلوں میں دین کی گہرائی راسخ کی۔

مفلس کی حقیقت:ایک موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:‏‏"أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہےصحابہ نے کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و سامان نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت ‏کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا حق مارا ہوگا اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی۔‏(الترمذی،محمد بن عیسی،الجامع الکبیر،ج:4،ص:419،رقم الحدیث: 2585،(الناشر: دارالرسالۃ العالمیہ ،1430 ھ )

اس سوال اور جواب نے صحابہ کرام کے تصورِ مفلس کو بدل دیا اور عمل کی اصلاح کا محرک بن گیا۔

بڑے گناہوں کا تصور:اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:‏أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کی خبر نہ دوںصحابہ نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ۔آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک اور والدین کی نافرمانی۔" ‏‏(البخاری،محمد بن اسماعیل بن ابراھیم،ج:8،ص:168،رقم الحدیث:6281(الناشر:دار التاصیل،القاہرھ ،1433 ھ)‏

یہ سوال صحابہ کے دل و دماغ کو متوجہ کرنے کے بعد ایسا جواب لایا جس نے ان کی روحوں پر لرزہ طاری کر دیا اور انہیں گناہوں سے بچنے ‏کے لیے متنبہ کر دیا۔

بہترین مسلمان کون:ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:‏‏"أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ" (سب سے بہترین مسلمان کون ہے)۔جب صحابہ خاموش ہوئے تو آپ ﷺ نے جواب دیا: "وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" ‏‏(القشیری،مسلم بن حجاج،صحیح مسلم،ج:1،ص47،رقم الحدیث40(دار الطباعۃ العامرۃ، ترکیا،1434ھ))‏

یہ سوال صحابہ کو عملی معیار عطا کر گیا کہ مسلمان ہونے کی اصل پہچان عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار میں ہے۔

اسلوبِ نبوی کا اعجاز:رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز محض الفاظ نہ تھے بلکہ دلوں کو جھنجھوڑنے اور کردار سنوارنے کا ذریعہ تھے۔ آپ ﷺ کے سوال سامع کو ‏سوچنے پر مجبور کرتے اور جواب روح پر مہر ثبت کر دیتا۔ یہ اسلوب اس تعلیمی حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ اصل علم وہی ہے جو فکر کو بیدار ‏کرے۔ آپ ﷺ نے سوال کو صرف تعلیم نہیں بلکہ تربیت اور اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ یہی پیغام آج بھی معلمین اور خطباء کے لیے ہے کہ ‏اگر دلوں کو منور اور اذہان کو روشن کرنا ہے تو نبوی اسلوب کو اختیار کرنا ہوگا۔


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اکرم  ﷺ نے ہماری کئی انداز سے تربیت فرمائی مثلا نصیحت کے ذریعے کبھی واقعات کے ذریعے کبھی سوالیہ انداز سے آئیے ہم قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ سنتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ہماری کس طرح سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی:

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

ترجمہ :روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ۔(ترمذی، ابن ماجہ)

شرح حدیث :تقویٰ کا ادنی درجہ کفر و بدعقیدگی سے بچنا ہے اور درمیانی درجہ گناہوں سے بچنا،اعلیٰ درجہ میں غافل کرنے والی چیز سے بچنا ہے۔یوں ہی خوش خلقی کا ادنی درجہ یہ ہے کہ کسی کو جانی مالی عزت کی ایذا نہ دے،اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ برائی کا بدلہ بھلائی سے کرے یہ بہت اعلیٰ چیز ہے جسے خدا تعالٰی نصیب کرے۔ یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے،نوے فی صدی گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں،شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بدترین گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4832 )

وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا

ترجمہ:روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم کو ایسی دو

خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔

شرح حدیث:یعنی ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں،چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے،نیز بوجھ پیٹھ پر ہی اٹھائے جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہرحال کلام بڑا فصیح ہے یا مراد ہے زبان کی پیٹھ۔ یعنی کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تولی جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہوجائیں گے، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہوگا۔ خاموشی سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے الله کے ذکر سے خاموشی اچھی نہیں۔اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق اداکرنا،نرم وگرم حالات میں شاکر و صابر رہنا،چونکہ خاموشی اور صبروشکر میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔ کیونکہ انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے۔واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر معاملات کا کوئی کام نہیں،یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4867 )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو دیکھا آپ نے کہ حضور علیہ السلام نے کس طرح سوالیہ انداز میں ہماری تربیت فرمائی ہمیں چاہیے کہ ہم حضور علیہ السلام کے حکم پر عمل کریں اور دوسروں کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب دیں ہم سب کا مدنی مقصد کیا ! مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ان شاءاللہ عزوجل! دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاھل خاتم النبیین ﷺ 


نبی کریم ﷺ نے تعلیم و تربیت کے لئے سوالیہ انداز (سوال کرکے جواب دینا) کو بہت زیادہ استعمال فرمایا

ہے تاکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توجہ بڑھے اور وہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔ یہاں چند احادیث درج ذیل ہیں :

( 1)سب سے بڑا ظالم کون ہےنبی ﷺ نے پوچھا:کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہےصحابہ نے کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ مال ہو نہ سامان۔آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا... پھر اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(صحیح مسلم حدیث 2581 جلد 4 صفحہ 1997)

( 2 )سب سے بڑا گناہ کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا:کیا تم جانتے ہو کبیرہ گناہ کون سے ہیںصحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور جھوٹی گواہی دینا۔(صحیح بخاری حدیث 2654، جلد 3 صفحہ 1065)

( 3)سب سے بہتر عمل کون سا ہےنبی کریم ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:اسلام میں سب سے بہتر عمل کون سا ہے صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، ان کو بھی جنہیں تم جانتے ہو اور ان کو بھی جنہیں نہیں جانتے۔(صحیح بخاری، کتاب حدیث 12 جلد 1 صفحہ 14)

( 4) بدترین شخص کون ہےنبی ﷺ نے پوچھا:کیا تم جانتے ہو لوگوں میں سب سے برا شخص کون ہےصحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص جو دو رُخی والا ہے، ایک کے پاس ایک بات کرتا ہے اور دوسرے کے پاس دوسری بات۔(صحیح بخاری حدیث 6058 جلد 5 صفحہ 2229)

( 5) درخت کی مثال::آپ ﷺ نے فرمایا:درختوں میں ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے، اور وہ مسلمان کی مثال ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہےصحابہ سوچنے لگے پھر فرمایا "وہ کھجور کا درخت ہے۔( صحیح بخاری حدیث 61 جلد 1 صفحہ 31)


بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں سوالیہ انداز میں سمجھانا مفید ہوتا ہیں، یعنی اگر کسی چیز کی اہمیت بیان کرنی ہو، اہم بات سمجھانی ہو یا کوئی طالبِ علم سوال کرے تو جواباً طلبہ سے ایسا سوال کرنا جس کا جواب وہ جانتے بھی ہوں اور اس کا بتائی جانے والی بات سے تعلق بھی ہو جیسا کہ بہت سی احادیث میں نبی کریم  ﷺ نے سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی ہے.آئیے ان میں سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:

(1)نماز کی اہمیت کے متعلق سوال: رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز کے ذریعے گناہوں کے ختم ہونے کی ایک مثال بیان فر ماتے ہوئے صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے ارشاد فرمایا: بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے پر نہرہو اور اس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گاصحابۂ کرام نے عرض کی:اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی نہیں رہےگا۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں نمازوں کی ہے۔ اللہ پاک اس کے ذریعے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔(صحیح بخاری،ج 1،ص196، حدیث:528)

(2)جنتی کلمہ:حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ میں تیری رہنمائی ایسے کلمے پر نہ کروں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کون سا کلمہ ہے تو ارشاد فرمایا کہ وہ کلمہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔(صحیح مسلم،کتاب الذکر،باب استحباب،جلد 1،حدیث 2704)

(3)شانِ مومن کے متعلق سوال :اسی طرح ایک موقع پر مؤمن کی شان و عظمت سمجھانے کے لئے سوال فرمایا: مؤمن کی مِثال اس دَرخت کی سی ہے جس کے پتےّ نہیں گِرتے، بتاؤ وہ کونسا دَرَخت ہے حاضِرین مُختلف درختوں کے نام عرض کرنے لگے۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما بہت ذہین تھے، فرماتے ہیں کہ میرے ذِہن میں آگیا کہ کَھجور کا درخت ہے لیکن میں نے بتانے سے حَیا محسوس کی۔ پھر حاضِرین نے عرض کی: یارسولَ اﷲ! آپ ہی ارشاد فرما دیجئے تو حضورِ پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ وہ کَھجور کا دَرَخت ہے۔

(مسلم،ص1157، حدیث:7098)

(4)دو اچھی اور بری چیزوں کے متعلق سوال :سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم جانتے ہو لوگوں کو کیا چیز زیادہ آگ میں لے جائے گی“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو کھوکھلی چیزیں شرمگاہ اور منہ، اور جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ دخول جنت کا باعث ہو گی وہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہے۔[الادب المفرد،حدیث 289]

(5)اچھے گواہ کے متعلق سوال : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے اچھے گواہ کے بارے میں نہ بتا دوں سب سے اچھا گواہ وہ آدمی ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے“۔(سنن ترمذي،كتاب الشهادات عن رسول الله صلى الله علیہ وسلم،حدیث: 2295)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں ان احادیث پر عمل کرنے اور ان کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


حضور نبی کریم  ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہونے کے ساتھ ساتھ معلم کائنات بھی ہیں۔ حضور علیہ السلام نے اپنے امتیوں کی مختلف مواقع پر مختلف انداز میں اصلاح و تربیت کی ہے۔ نبی کریم علیہ السلام نے اپنے امتیوں کی تربیت کبھی اپنے قول سے کبھی فعل سے کبھی سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی ۔

آئیے ہم بھی کچھ احادیث پڑھتے ہیں ۔

( 1 ) نماز کا انتظار : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : حضور انور ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ عزوجل خطاؤ ں کو مٹاتا اور گناہوں کومعا ف فرماتا ہے۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،'' یا رسول اللہ! ضرور بتائیے۔''ارشاد فرمایا،'' مشقت کے وقت کامل وضو کرنا اور مسجدکی طرف کثر ت سے آمد ورفت رکھنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔

(الترغیب والترہیب ،باب : کتاب الطھارۃ ، جلد نمبر :1 ، صفحہ نمبر : 174 ، حدیث نمبر : 305 ، مکتبہ شبیر برادرز )

( 2 ) اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا : حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں وہ اللہ پاک کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔(ارکان اسلام ، باب : ایمانیات قرآن وحدیث کی روشنی میں ، صفحہ نمبر : 14 ،مکتبۃ المدینہ )

( 3 ) نیک اعمال : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے حوالے سے نہ بتاؤں لوگوں نے عرض کیا : ہاں ’ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں میں سے بہترین وہ لوگ ہیں'جن کی عمر طویل اور اعمال اچھے ہیں۔(الترغیب والترہیب ، باب : کتاب التوبہ ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 540 ، حدیث نمبر : 5069 ، مکتبہ شبیر برادرز )

(4) جنتی کلمہ :حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ میں تیری رہنمائی ایسے کلمے پر نہ کروں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کون سا کلمہ ہے تو ارشاد فرمایا کہ وہ کلمہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔(صحیح مسلم شریف ، کتاب الذکر،باب استحباب،جلد نمبر : 1 ، حدیث نمبر : 2704 )

اختتامیہ : اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے ہر طریقے پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


پیارے پیارے اسلام بھائیو! اللہ پاک کے پیارے آخری نبی محمد عربی ﷺ  نے ہماری ہر طرح سے تربیت فرمائی کبھی اشارے کے ساتھ اور کبھی خط کھینچ کر تربیت فرمائی کبھی مثال کے ذریعے تربیت فرمائی اور کبھی سوالوں کے ذریعے تربیت فرمائی ۔آئیے چند احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1)کیا گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی:عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! اَخْبِرْنِيْ بِعَمَلٍ يُّدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِيْ مِنَ النَّارِ. قَالَ: ’’لَقَدْ سَاَلْتَ عَنْ عَظِيْـمٍ وَّاِنَّهٗ لَيَسِيْرٌ عَلٰى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ؛ تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا وَّتُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَـيْتَ.‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَااَدُلُّكَ عَلٰى اَبْوَابِ الْخَيْرِ؛ اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ وَّالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيْئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَآءُ النَّارَ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ.‘‘ ثُمَّ تَلَا: ’’ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ‘‘ حَتّٰی بَلَغَ ’’ یَعْمَلُوْنَ ‘‘. ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَا اُخْبِرُكَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ وَعَمُوْدِهٖ وَذِرْوَةِ سَنَامِهٖ‘‘ قُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! قَالَ: ’’رَاْسُ الْاَمْرِ اَلْاِسْلَامُ وَعَمُوْدُهٗ اَلصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهٖ اَلْجِهَادُ.‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَا اُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذٰلِكَ كُلِّهٖ‘‘ قُلْتُ:بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم !. فَاَخَذَ بِلِسَانِهٖ. ثُمَّ قَالَ: ’’ كُفَّ عَلَيْكَ هٰذَا.‘‘ قُلْتُ :يَا نَبِيَّ اللهِ! وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهٖ فَقَالَ: ’’ثَكِلَتْكَ اُمُّكَ؛ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِيْ النَّارِ عَلٰى وُجُوهِهِمْ. اَوْ قَالَ: عَلٰى مَنَاخِرِهِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِهِمْ.‘‘

حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور آگ (جہنم) سے دور کردے۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:’’تم نے بہت بڑی بات کے بارے میں پوچھا ہے بےشک وہ اسی پر آسان ہے جس کے لئے اللہ پاک آسان فرمادے۔ (وہ یہ ہے)تم اللہ پاک کی عبادت اس طرح کرو کہ کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بَیْتُ اللہ کا حج کرو۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں بھلائی کے دروازوں کی طرف تمہاری راہ نمائی نہ کروں روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو ایسے مٹادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور بندے کا رات کے درمیانی حصہ میں نماز پڑھنا۔‘‘ پھر آپ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے یہ آیات مبارکہ تلاوت فرمائیں:تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶)فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۷) (پ ۲۱، السجدة:۱۶، ۱۷)ترجمہ کنزالایمان: ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے صلہ اُن کے کاموں کا۔

پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں معاملے (یعنی دین)کی اصل، اس کے ستون اور اس کی بلندی کے بارے میں نہ بتاؤں‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں (ضرور بتائیے)۔ ارشادفرمایا: ’’معاملے کی اصل اسلام، اس کا ستون نماز اور اس کی بلندی جہاد ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ان سب کی اصل کے بارے میں نہ بتاؤں‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں۔ آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر ارشاد فرمایا: ’’اسے قابو میں رکھو۔‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیا گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی ارشاد فرمایا: ’’اے معاذ! تیری ماں تجھے روئے! لوگوں کو ان کے منہ کے بل یا فرمایا ان کے نتھنوں کے بل ان کی زبانوں کی کھیتی ہی جہنم میں گرائے گی۔(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (جامع ترمذی میں) روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)(اربعین نوویہ , حدیث نمبر:29)

(2)پہلوان کون ہے: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ قَالَ قُلْنَا: الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ، قَالَ:لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًاقَالَ:فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ قَالَ قُلْنَا: الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ، قَالَ: «لَيْسَ بِذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ رقوب کا کیا معنی سمجھتے ہو ہم نے عرض کیا جو شخص لاولد ہو آپ نے فرمایا یہ رقوب نہیں ہے رقوب وہ شخص ہے جس نے (آخرت میں پیشوائی کے لیے )پہلے اولاد کو نہ بھیجا ہو آپ نے فرمایا تم پہلوان کسے کہتے ہو ہم نے کہا جس کو لوگ بچھاڑ نہ سکیں آپ نے فرمایا وہ پہلوان نہیں پہلوان تو وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے اپ کو قابو میں رکھ سکے۔(مسلم شریف ،کتاب البر و الصلہ و الادب ، باب فضل من یملک نفسہ عند الغضب وبای شیء یذھب الغضب، جلد 2، الحدیث 6641،)

(3)تم نے اس پر بہتان لگایا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِستِفسار فرمایا :کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے عرض کی گئی :اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا:(غیبت یہ ہے کہ)تم اپنے بھائی کا اِس طرح ذکرکرو جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی :اگر وہ بات اس میں موجود ہو توفرمایا :جو بات تم کہہ رہے ہو اگر وہ اُس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں نہ ہو تو تم نے اُس پر بہتان باندھا۔(مسلم شریف کتاب البر و الصلہ و الادب ، باب تحریم الغیبۃ ، جلد 2 حدیث نمبر 6593،)

( 4)وارث کا مال کیا ہے: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ. قَالَ: فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ وَمَالَ وَارِثِهِ مَا أخر رَوَاهُ البُخَارِيّ.

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تم میں کون ہے، جسے اپنے وارث کامال اپنے مال سے زیادہ پیارا ہو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے کوئی نہیں مگر اسے اپنا مال ہی زیادہ پیارا ہے، اپنے وارث کے مال سے فرمایا تو اس کا مال وہ ہے جو آگے بھیج دے اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو چھوڑ جاوے ۔(بخاری)(مشکاۃ المصابیح (مترجم) کتاب الرقاق ،الفصل الاول ، جلد 7، حدیث نمبر 4937، )

(5) درگُزر کرنے والے پر آگ حرام ہے: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اَلَا اُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ اَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ تَحْرُمُ عَلٰى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ ليِّنٍ سَهْلٍ.

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو آگ پر اور آگ اس پر حرام ہوتی ہے ہر نرم طبیعت نرم زبان لوگوں سے قریب درگزر کرنے والا۔ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:5 , حدیث نمبر:642 )

اللہ پاک سے دعا ہیں کہ وہ ہمیں حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔امین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلمِ انسانیت بنایا، اور آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے لیے ایسے اسلوب اختیار فرمائے جو نہایت حکمت بھرے، بلیغ اور دل نشین تھے۔ آپ ﷺ کی تعلیم دینے کا انداز سادہ بھی ہوتا اور مؤثر بھی، تاکہ ہر سننے والا بآسانی سمجھ سکے۔ انہی اسالیب میں آپ ﷺ کا سوالیہ انداز ایک خاص امتیاز رکھتا ہے۔ آپ ﷺ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے سوال کر کے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول فرماتے، ان کو سوچنے پر آمادہ کرتے اور جواب دینے کی ترغیب دیتے۔ جب وہ جواب دیتے تو آپ ﷺ یا تو ان کے جواب کی تصحیح فرما دیتے یا اس میں مزید وضاحت اور تکمیل فرما کر اصل حقیقت واضح کر دیتے۔ اس طریقے سے نہ صرف ان کی علمی بصیرت بڑھتی بلکہ بات دل میں اتر کر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی۔

1. "قیامت کے دن حقیقی خسارہ کس کا ہوگا (سوالیہ انداز سے تربیت) رسول اللہ ﷺ کا انداز تعلیم نہایت حکیمانہ اور پر اثر تھا۔ آپ ﷺ اکثر سوال کے ذریعے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے تاکہ وہ بات کو زیادہ گہرائی سے سمجھیں اور ہمیشہ یاد رکھیں۔

عَنْ أبي هريرة؛ أن رسول الله ﷺ قال «أتدرون ما المفلس» قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع. فقال «إن المفلس من أمتي، يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا. فيعطى هذا من حسناته وهذا من حسناته. فإن فنيت حسناته، قبل أن يقضى ما عليه، أخذ من خطاياهم فطرحت عليه. ثم طرح في النار».

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے پوچھا: “کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے” صحابہ کرام نے عام دنیاوی تصور کے مطابق جواب دیا کہ مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ایک نہایت اہم حقیقت واضح فرمائی کہ میری امت کا حقیقی مفلس وہ ہوگا جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسے نیک اعمال لے کر آئے گا، لیکن دنیا میں اس نے لوگوں کو گالی دی ہوگی، تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، خون بہایا ہوگا یا کسی کو تکلیف پہنچائی ہوگی۔ یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور آخرکار وہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم، ج ۴، ص ۱۹۹۷، حدیث ٢٥٨١)

اس واقعے سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز محض گفتگو کا ایک طریقہ نہیں تھا بلکہ ایک مؤثر تعلیمی حکمت عملی تھی۔ جب آپ ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے پوچھا کہ “مفلس کون ہے آپﷺ نے اصل حقیقت بیان فرمائی کہ حقیقی مفلس وہ ہوگا جو عبادات تو لے کر آئے گا لیکن دوسروں کے حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے اپنی نیکیاں کھو بیٹھے گا، تو یہ بات ان کے ذہنوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی۔ اس سوال و جواب کے انداز نے نہ صرف ان کی توجہ کو مرکوز کیا بلکہ تعلیم کو زیادہ بامقصد، اثر انگیز اور دیرپا بنا دیا، تاکہ وہ اپنی عملی زندگی میں اس سے سبق حاصل کریں اور دوسروں کے حقوق کے معاملے میں زیادہ محتاط رہیں۔

2. "رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز میں کبیرہ گناہوں کی وضاحت: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ، قُلْنَا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ: لَا يَسْكُتُ.

ترجمہ: ’’ کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں ‘‘ ہم نے عرض کی:’’جی ہاں ! یارسول اللہ ﷺ !(ضرور بتائیے)۔‘‘ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا:’’خبردار! اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی(بھی سب سے بڑے گناہ ہیں )۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بار بار یہ فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم کہنے لگے:’’کاش! آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش ہو جائیں۔‘‘ ۔( صحيح البخاري، ج ٨، ص ۴، حدیث ٥٩٧٦)

اس اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا نہایت حکیمانہ اور بامقصد طریقہ تھا، جس نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دلوں میں نہ صرف علم و بصیرت کو راسخ کیا بلکہ گناہوں کی سنگینی کا احساس بھی بٹھایا۔ بلکہ وہ سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے والے بن گئے۔ یوں سوالیہ انداز محض تدریسی طریقہ نہیں بلکہ ترغیبِ عمل اور اصلاحِ کردار کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔

3. "اخلاص سے کیے گئے چھوٹے اعمال کی بڑی حقیقت: عن أبي هريرة؛ أن رسول الله ﷺ قَالَ:أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ قَالُوا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ. وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ. وانتظار الصلاة بعد الصلاة. فذلكم الرباط

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا '' کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ عزوجل گناہوں کو مٹادیتاہے اور درجات کو بلند فرمادیتا ہے۔''صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا ''یا رسول اللہ ﷺ ! کیوں نہیں ،ضرور بتایئے۔'' فرمایا،'' مشقت کے وقت کامل وضوکرنا اور مسجد کی طرف کثرت سے آمد ورفت رکھنا اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظار کرنا، یہی جہاد ہے ، یہی جہا د ہے ۔ (صحيح مسلم، ج ١، ص ٢١٩، حدیث ٢٥١)

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ذریعے امت کو یہ پیغام دیا کہ دین پر ثابت قدمی صرف بڑے بڑے کارناموں یا مشکل ترین عبادات میں نہیں بلکہ بظاہر آسان اور روز مرہ کے معمولات میں بھی پوشیدہ ہے، بشرطیکہ انہیں اخلاص اور استقامت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ وضو کو درست طور پر ادا کرنا، مسجد کی طرف قدم بڑھانا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔یہ سب اعمال انسان کو اللہ کے قریب کرنے اور اس کے ایمان کو مضبوط بنانے والے عظیم اسباب ہیں۔

یوں یہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا ایک نہایت مؤثر اور کامیاب طریقہ تھا، جس سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دل و دماغ منور ہوئے اور ان کی علمی و عملی زندگی میں انقلاب آیا۔ یہ اسلوب آج بھی اہلِ علم اور معلمین کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ بات کو بامقصد اور دیرپا اثر کے ساتھ کس طرح پہنچایا جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نبی کریم ﷺ کے اس حکیمانہ اسلوبِ تعلیم سے رہنمائی لینے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


رسولِ اکرم صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات سراپا حکمت، دانائی، اور فہم و فراست کا کامل نمونہ تھیں۔ آپ ﷺ نہ صرف وحی الٰہی کے امین تھے بلکہ بہترین معلم، مربی اور مصلح بھی تھے۔ آپ ﷺ کی تربیت کا انداز نہایت مؤثر، نفسیاتِ انسانی سے ہم آہنگ اور قلب و ذہن کو جھنجھوڑنے والا ہوتا تھا۔ آپ ﷺ کے اندازِ تربیت میں شفقت، نرمی، بصیرت، تدبر اور حکمت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک خاص انداز جو ہمیں احادیثِ مبارکہ میں بارہا نظر آتا ہے آیئے ہم احادیث مبارکہ کو جانتے ہیں اور ان سے تعلیمات حاصل کرتے ہیں ۔

حدیث نمبر 1:وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا۔

ترجمہ :روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں اور ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا در از خاموشی اور اچھی عادت سے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔(كتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4867)

شرح حدیث:یعنی ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں، چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے، نیز بوجھ پیٹھ پر ہی اٹھائے جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہر حال کلام بڑا صحیح ہے یا مراد ہے زبان کی پیٹھ۔

یعنی کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تو لی جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہو جائیں گے ، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہو گا۔

خاموشی سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے اللہ کے ذکر سے خاموشی اچھی نہیں۔ اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق ادا کرنا، نرم و گرم حالات میں شاکر و صابر رہنا، چونکہ خاموشی اور صبر و شکر میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔ کیونکہ انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے۔ واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر معاملات کا کوئی کام نہیں، یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے (كتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4867)

حدیث نمبر 2: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلْقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ : الْفَمُ وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ ماجه

ترجمہ :روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرما یار سول اللہ ﷺ نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے اللہ سے ڈر اور اچھی عادت ! کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیز یں منہ اور شرمگاہ ۔(ترمذی، ابن ماجہ ) نہیں) یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے، نوے فی صدی گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں، شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بد ترین گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4832)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا سوالیہ اندازِ تربیت محض ایک طرزِ گفتگو نہیں، بلکہ ایک جامع، بامقصد اور بصیرت افروز طریقہ تھا جس سے دلوں میں اثر، ذہنوں میں سوچ اور عمل میں تبدیلی پیدا ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کے سوالات، مخاطب کو غور و فکر پر آمادہ کرتے اور اسے خود اپنی اصلاح کی طرف مائل کرتے تھے۔ یہ اندازِ تربیت آج کے تعلیمی اور تربیتی نظام میں بھی رہنمائی کا عظیم ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے بچوں، شاگردوں اور معاشرے کے افراد کی تربیت میں اس سنتِ نبوی ﷺ کو اپنائیں، تاکہ ہمارا انداز تعلیم، نرمی، حکمت اور اثر انگیزی سے بھرپور ہو۔

دعا ہے اللہ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھنے، اپنانے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں حکمت و دانائی کے ساتھ دوسروں کی تربیت کرنے والا بنا دے۔ اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی محبت، اطاعت اور سنت پر استقامت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔