نبی
کریم ﷺ کی بعثت کا ایک عظیم مقصد لوگوں کی تعلیم و تربیت تھا۔ آپ ﷺ نے جس انداز سے
انسانوں کے اخلاق، کردار، عقائد اور عبادات کو درست فرمایا، وہ انتہائی حکمت اور
دانائی پر مبنی تھا۔ آپ ﷺ کی تربیت کے مختلف انداز تھے جن میں سے ایک مؤثر ترین
انداز "سوالیہ انداز" تھا۔ سوالیہ طرزِ مخاطب انسان کی توجہ کو مرکوز
کرتا ہے، سوچنے پر آمادہ کرتا ہے، اور سیکھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ
اکثر اوقات سوال کے ذریعے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو متوجہ فرماتے اور پھر ان کے
جوابات یا وضاحت کے ذریعے تعلیم دیتے۔ یہ انداز نہ صرف تربیت کے اصولوں پر مبنی
تھا بلکہ سننے والے کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتا تھا۔
وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ هُمَا
أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ
قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي
بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا۔
(مرات المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 6( 4867)
ترجمہ
: روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا
میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا
ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے
مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ
النَّاسَ الْجَنَّةَتَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ
مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه ۔ ( مرات المناجیح شرح مشکوۃ
المصابیح جلد 6) حدیث نمبر(4832)
ترجمہ:
روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله
علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی
ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو
کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ ۔(ترمذی،
ابن ماجہ)
رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز ایک حکیمانہ اور
مؤثر تربیتی اسلوب تھا، جس کے ذریعے نہ صرف مخاطب کی توجہ حاصل کی جاتی بلکہ اس کی
سوچ، فہم اور شعور کو بیدار کیا جاتا۔ آپ ﷺ نے سوالات کے ذریعے نہ صرف تعلیم دی
بلکہ دلوں میں علم و حکمت کی شمع روشن کی۔ آج بھی اگر اس نبوی انداز کو اپنایا
جائے تو تعلیم و تربیت کے میدان میں بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ انداز
ہمیں سکھاتا ہے کہ بات صرف معلومات دینے کی نہیں، بلکہ دل و دماغ کو جھنجھوڑنے اور
حقیقت کی طرف رہنمائی کرنے کی ہونی چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
رسول
اکرم ﷺ نے دعوت و تربیت کے میدان میں مختلف حکیمانہ انداز اختیار فرمائے، جن میں
سے ایک نہایت مؤثر اور بامقصد طریقہ سوال و جواب کا تھا۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی
اللہ عنہم کی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ان کی توجہ کسی خاص نکتے کی طرف مبذول
کرانے اور ان کے اندر غور و فکر کی عادت پیدا کرنے کے لیے اکثر سوالیہ انداز اختیار
فرماتے۔ یہ اسلوب نہ صرف ان کے دلوں میں علم کو راسخ کرتا بلکہ سننے والوں کو
سوچنے اور عمل کرنے پر بھی ابھارتا۔ سوالیہ تربیت کا یہ طریقہ اسلام کے تعلیمی و
تربیتی اصولوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، جو آج بھی ہر معلم اور داعی کے لیے
مشعلِ راہ ہے۔آئیے اس کے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں۔
ترجمہ:روایت
ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم
کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز
خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے
قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔(مشکوۃ المصابیح جلد
6 حدیث نمبر:4867)
ترجمہ:روایت
ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ
وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے
الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی
ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ۔(مشکوۃ المصابیح جلد 6 حدیث نمبر:4832)
رسول
اکرم ﷺ کا سوالیہ اندازِ تربیت دراصل حکمت و بصیرت سے بھرپور ایک ایسا تعلیمی طریقہ
تھا جس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں اور ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا۔ آپ ﷺ نہ
صرف سوال کرتے بلکہ ان کے ذریعے شعور بیدار کرتے، فکر کی راہیں کھولتے اور سیکھنے
والوں کو خود حق تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام محض سننے
والے نہیں بلکہ علم و عمل میں پختگی حاصل کرنے والے تھے۔ آج کے معلمین، والدین اور
داعیانِ دین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اسی حکیمانہ انداز کو اپنائیں تاکہ نصیحت
اور تعلیم محض الفاظ تک محدود نہ رہے بلکہ قلوب و اذہان میں جاگزیں ہو جائے۔
محمد ارسلان سلیم عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور ، پاکستان)
دین
اسلام ایک ایسا کامل و اکمل دین ہے جو زندگی کی ہر ہر موڑ پر ہماری رہنمائی فرماتا
ہے لہذا رہنمائی فرمانے کے کئی طریقے ہیں انہی میں سے ایک بہترین طریقہ سوالیہ
انداز میں تربیت کرنا بھی ہے جیسا کہ نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا مقامات
پر سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی۔
1۔عَنْ مَعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أنَّ رَسُوْلَ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ
ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَہٗ إِلَی الْیَمَنِ قَالَ کَیْفَ
تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَکَ قَضَآءٌ قَالَ
أَقْضِيْ بِکِتَابِ اﷲ ِ قَالَ فَإنْ لَّمْ تَجِدْ فِيْ کِتَابِ اﷲ ِ قَالَ
فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإنْ
لَّم تَجِدْ فِيْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
قَالَ أَجْتَھِدُ رَأیِيْ وَلا اٰلُوْا قَالَ فَضَرَبَ رَسُوْلُ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ
تَعالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ صَدْرِہٖ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ
وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اﷲ ِ لِمَا یَرْضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اﷲ ِ ۔رَوَاہُ الْتِّرْمِذِیُ
وَ أَبُوْ دَاؤُدَ وَالْدَّارَمِيُّ .
ترجمہ:حضرت
سیدنا معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کو رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا تو فرمایا کہ جب تجھے کوئی معاملہ پیش
آئے تو تُو کیسے فیصلہ کرے گا۔ حضرت سیدنا معاذرضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ میں اﷲ
عزوجل کی کتاب کے ساتھ حکم کروں گا۔ آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر اﷲ
عزوجل کی کتاب میں تو اس کا حکم نہ پائے تو پھر کیا کرے گا۔ انہوں نے عرض کی کہ
رسول کریم صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ آپ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر تو رسول علیہِ السّلام کی سنت میں بھی اس حکم کو نہ
پائے تو پھر کیا کرے گا انہوں نے عرض کی
کہ میں اپنی عقل او ر رائے کے ساتھ اجتہاد کروں گا اور طلب ثواب میں کمی نہ کروں
گا۔ حضرت سیّدنا معاذرضی اﷲ عنہ کہتے ہیں پھررسول کریم رؤف رحیم صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایاالحمد ﷲ عزوجل کہ اﷲ تعالیٰ نے
اپنے رسول صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جس کے ساتھ اﷲ
تعالیٰ عزوجلکا رسول صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم راضی ہے۔ (کتاب:اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
, حدیث نمبر:2)
2۔عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰٰلِہٖ وَسَلَّمَ
بَارِزًا یومًا لِلنَّاسِ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ:مَا الْاِیْمَانُ
قَالَ:اَلْاِیْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِ اللہ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَبِلِقَائِہٖ وَرُسُلِہٖ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ
قَالَ:مَا الْاِسْلَامُ قَالَ:اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَعْبُدَ اللہ وَلَا تُشْرِکَ بِہٖ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤَدِّیَ الزَّکَاۃَ
الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ قاَلَ: مَا الْاِحْسَانُ قَالَ: اَنْ
تَعْبُدَ اللہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ
فَاِنَّہٗ یَرَاکَ قَالَ: مَتٰی السَّاعَۃُ قَالَ:مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا
بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَسَاُخْبِرُکَ عَنْ اَشْرَاطِھَا اِذَا وَلَدَتِ
الْاَمَۃُ رَبَّھَا وَاِذَا تَطَاوَلَ رُعَاۃُ الْاِبِلِ الْبُھْمُ فِی
الْبُنْیَانِ فِیْ خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اللہ ثُمَّ تَلَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ:اِنَّ اللہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ اَلْاٰیَۃُ، ثُمَّ
اَدْبَرَ فَقَالَ: رُدُّوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا فَقَالَ:ھٰذَا جِبْرِیْلُ
جَائَ یُعَلِّمُ النَّاسَ دِیْنَھُمْ۔
ترجمہ:حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک دن
حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں سے
ملاقات کے لئے مکان سے باہر تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ ایمان
کیا ہے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا
کہ ایمان یہ ہے کہ اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی ملاقات کو
اور اس کے رسولوں کو اور موت کے بعد اُٹھنے کو تو دل سے مان لے ۔اس نے کہا: اسلام
کیا ہے تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو
خاص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے اور نماز قائم
کرے اور زکوٰۃ دے جو فرض ہے اور رمضان کے روزے رکھے ۔ اس نے کہاکہ احسان کیا ہے تو
حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا
کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے پس اگر تو اس کو نہیں دیکھتاتو (اس طرح عبادت کرکہ )
وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ قیامت کب آئے گی تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جس سے سوال کیا گیا ہے
وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ ہاں میں ابھی تجھ کو قیامت کی کچھ نشانیاں
بتاتاہوں (جو یہ ہیں ) جبکہ باندی اپنے مولیٰ کو جنے گی اور اونٹوں کے چرواہے کالے
کالے رنگ والے بڑی بڑی عمارتوں میں فخر و گھمنڈ کرنے لگیں گے۔ یہ (علم ِقیامت ) ان
پانچ چیزوں میں سے ہے جن کوخدا کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِنَّ اللہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ
( ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم۔ (پ۲۱،لقمٰن:۳۴)کی آیت تلاوت فرمائی (جس میں قیامت
وغیرہ پانچ چیزوں کا ذکر ہے ) پھر وہ (سائل) واپس چلا گیا۔ اس کے بعد حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس کو واپس بلالاؤ ۔ تو
لوگوں کو کچھ نظر نہیں آیا تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے فرمایا کہ یہ حضرت جبریل تھے جو لوگوں کو دین سکھانے کے لئے آئے تھے
۔ (منتخب حدیثیں , حدیث نمبر:2)
3۔عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ
قَالَ:قَالُوْا:یَارَسُوْلَ اللہ اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ قَالَ:مَنْ سَلِمَ
الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ۔ ترجمہ:
حضرت ابو موسٰی اَشْعَری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ !
عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کون سا
اسلام افضل ہے تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام
مسلمان سلامت رہیں ۔(منتخب حدیثیں , حدیث نمبر:4)
4۔عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ
مَالِِکِ بْنِ اُھَیْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُھْرَۃَ بْنِ کِلابِ بْنِ مُرَّۃَ
بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّالْقُرَشِيِّ الزُّہْرِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ،
اَحَدِالْعَشَرَۃِ الْمَشْھُوْدِ لَہم بِالْجَنَّۃِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم
۔قَالَ:جَائَ نِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
یَعُوْدُنِیْ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اِشْتَدَّبِیْ
فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّيْقَدْ
بَلَغَ بِیْ مِنَ الْوَجَعِ مَاتَرٰی،وَاَنَا ذُوْمَالٍ وَلَایَرِثُنِيْ اِلَّا
ابْنَۃٌ لِیْ،اَفَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِیْقَالَ:لَا،قُلْتُ:فَالشَّطْرُ
یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
فَقَالَ:لَا،قُلْتُ:فَالثُّلُثُ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ قَالَ:الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ اَوْ کَبِیْرٌ اِنَّکَ اَنْ
تَذَرَ وَرَثَتَکَ اَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِنْ اَنْ تَذَرَہم عَالَۃً یَتَکَفَّفُوْنَ
النَّاسَ، واِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِیْ بِہَا وَجْہَ اللہِ اِلَّا
اُجِرْتَ عَلَیْہَا حَتّٰی مَا تَجْعَلُ فِیْ فِیِّ امْرَاَتِکَ،قَالَ:
فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ اُخَلَّفُ بَعْدَ اَصْحَابِیْقَالَ اِنَّکَ لَنْ
تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِیْ بِہٖ وَجْہَ اللہِ اِلَّاازْدَدْتَّ بِہٖ
دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً۔وَلَعَلَّکَ اَنْ تُخَلَّفَ حَتّٰی یَنْتَفِعَ بِکَ اَقْوَامٌ
وَیُضَرَّبِکَ اٰخَرُوْنَ، اللہم اَمْضِ لِاَصْحَابِیْ ہِجْرَتَہم ،وَلَا
تَرُدَّہم عَلٰی اَعْقَابِہم ،لٰکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ۔یَرْثِیْ
لَہٗ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ مَاتَ
بِمَکَّۃَ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔
ترجمہ
حدیث : حضرتِ سَیِّدُنا ابو اسحاق سَعْد بن اَبی وقَّاص مالک بن اُھَیْب بِنْ
عَبْد مَنَاف بِنْ زُہْرَہ بِنْ کِلَاب بِنْ مُرَّہ بِنْ کَعْب بِنْ لُؤَیّ قُرَشِی
زُھْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہ ُجو اُن دس حضرات میں سے ہیں جنہیں جنت کی
خوشخبری دی گئی فرماتے ہیں : حَجَّۃُالوَدَ اع کے موقع پررَسُوْلُ اللہ صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری عِیادت کے لئے تشریف لائے مجھے سخت
دردتھا میں نے عرض کی: یَا رَسُوْ لَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم !میری بیماری شدت اختیار کرچکی ہے جیسا کہ آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں ، میں
ایک مالدار شخص ہوں اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ، کیا میں دوتہائی
مال صَدَقہ کردوں فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !نصف مال صَدَقہ کر دوں فرمایا:نہیں۔ میں نے عرض کی: ایک تہائی فرمایا:
ایک تہائی ٹھیک ہے اور تہائی بھی زیادہ ہے،(سنو!)تمہارا اپنے وارثوں کومالدار چھوڑ
جاناان کو مفلس چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِسوال دراز کرتے پھریں
، بے شک تم جوکچھ بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے خرچ کرو گے اس کاثواب پاؤ
گے یہاں تک کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ،اس کا بھی اجر ہے۔ فرماتے
ہیں :میں نے عرض کی :’’یَا رَسُوْ لَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم!کیا میں اپنے اصحاب سے (ہجرت کے معاملہ )میں پیچھے چھوڑدیا جاؤنگا‘‘
فرمایا:’’ تم ہرگز پیچھے نہ چھوڑے جاؤگے کیونکہ تم اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے
جو بھی عمل کرو گے اس سے تمہارا مرتبہ بڑھے گا اور پھر تم یقینا لمبی عمر دئیے
جاؤگے یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو تم سے فائدہ پہنچے گا جب کہ کچھ لوگ تمہاری وجہ سے
نقصان اٹھائیں گے۔‘‘ (پھرحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ
دعا کی): یا اللہ عزَّوَجَلَّ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور انہیں ان کی
حاجت سے نہ پھیر! البتہ سعد بن خولہ کی حالت قابلِ رحم ہے۔ نبیِّ کریم صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاحضرت سَعَدبن خَولہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنہُ کے لئے اظہارِ افسوس کر نا اس لئے تھاکہ وہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں ہی فوت
ہوئے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:1 , حدیث نمبر:6)
5۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اﷲ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ
رَسُوْلَ اﷲِ ﷺ عَنْ وَقْتِ الصَّلوٰۃِ فَلَمَّا دَلَکَتِ
الشَّمْسُ أَذَّنَ بِلاَلٌ الظُّھْرَ فَأَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ فَأَقَامَ الصَّلٰوۃَ فَصَلّٰی ثُمَّ أَذَّنَ
لِلْعَصْرِ حِیْنَ ظَنَنَّا أَنَّ ظِلَّ الرَّجُلِ أَطْوَلُ مِنْہُ فَأَمَرَہُ
رَسُوْلُ اﷲ ِ ﷺ فَأَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَصَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ
لِلْمَغْرِبِ حِیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَہُ رَسُوْلُ اﷲ ِ ﷺ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَ صَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ لِلْعِشَآءِ حِیْنَ ذَھَبَ
بَیَاضُ النَّھَارِ وَ ھُوَ الشَّفَقُ ثُمَّ اَمَرَہُ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَ
صَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ لِلْفَجْرِ فَأَمَرَہٗ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَلَّی ثُمَّ
اَذَّنَ بِلاَلُ الْغَدَ لِلظُّھْرِ حِیْنَ دَلَکَتِ الشَّمْسُ
فَأَخَّرَھَارَسُوْلُ اﷲ ﷺ حَتّٰی صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیئٍ مِّثْلَیْہِ
فَأَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲ ﷺ فَأَقَامَ وَ صَلَّی ثُمَّ أَذَّنَ
لِلْمَغْرِبِ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخَّرَھَارَسُوْلُ اﷲ ﷺ حَتّٰی کَادَ یَغِیْبُ بِیَاضُ النَّھَارِ وَھُوَ الشَّفَقُ فِیْمَا یُرٰی
ثُمَّ اَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَلَّی ثُمَّ أَذَّنَ
لِلْعِشَاءِ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ فَنُمْنَا ثُمَّ قُمْنَا مِرَارًا ثُمَّ خَرَجَ
إِلَیْنَارَسُوْلُ اﷲ ِ ﷺ فَقَالَ مَا اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یَنْتَظِرُ
ھٰذِہِ الصَّلوٰۃَ غَیْرُکُمْ فَاِنَّکُمْ فِيْ صَلوٰۃٍ مَاانْتَظَرْتُمُوْھَا
وَلَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلیٰ اُمَّتِي لَاَمَرْتُ بِتَأخِیْرِ ھٰذِہِ الصَّلوٰۃِ
إِلَی نِصْفِ الَّیْلِ اَوْ اَقْرَبَ مِنَ اللَّیْلِ ثُمَّ اَذَّنَ لِلْفَجْرِ
فَأَخَّرَھَا حَتّٰی کَادَتِ الشَّمْسُ اَنْ تَطْلُعَ فَأَمَرَہٗ فَأَقَامَ
الصَّلوٰۃَ فَصَلّٰی ثُمَّ قَالَ، اَلْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ھٰذَیْنِ۔ رَوَاہٗ
الطَّبرَانِيُّ فِی الْاَوْسَطِ وَ إسْنَادُہٗ حَسَنٌ مَجْمَعُ الزَّوَائِدِ۔
ترجمہ
:حضرتِ جابر بن عبد اﷲرضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲصلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم سے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا۔تو جب آفتاب ڈھل گیا تو بلال رضی
اﷲ عنہ نے ظہر کی اذان دی اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیا تو
اس نے تکبیر کہی تو آپ نے نماز پڑھی اس نے عصر کی اذان اس وقت کہی جب کہ ہم نے
سمجھا کہ آدمی کاسایہ اس سے بڑھ گیا ہے ۔ اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے
حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز پڑھی پھر
نماز مغرب کی اذان اس وقت دی جبکہ آفتاب غروب ہوگیا۔ اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے اسے حکم دیا تو اس نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے
نماز مغرب پڑھی ۔پھر عشاء کی اذان اس وقت دی جبکہ دن کی سفیدی یعنی شفق جاتی رہی
تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیا۔ اس نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے نماز عشاء پڑھی پھر فجر کی اذان دی اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے
نماز پڑھی پھر اگلے دن بلال رضی اﷲ عنہ نے ظہر کی اذان اس وقت دی جبکہ آفتاب ڈھل گیا۔
تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر کی کہ ہر شے کا سایہ اس کے
برابر ہوگیا ۔اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیاتو اس نے تکبیر کہی
تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز پڑھ لی۔ پھر اس نے عصر کی اذان دی تو آپ
صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر کی کہ ہر شے کا سایہ اس کے دو مثل یعنی
دو گنا ہوگیا۔ تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے امر کیا (حکم دیا)تو اس نے تکبیر
کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز پڑھ لی۔ پھر اس نے مغرب کی اذان اس
وقت دی جبکہ سورج غروب ہوگیا تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر
فرمائی کہ دن کی سفیدی غائب ہونے کے قریب ہوگئی اور وہ شفق ہے۔ پھر آپ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے ان کو حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ
وسلم نے نماز پڑھی پھر عشاء کی اذان اس وقت دی جب شفق یعنی دن کی سفیدی غائب ہوگئی
پھر ہم سوگئے پھر جاگے ۔ کئی بار ایسا ہوا۔ پھر رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے
سوا کوئی آدمی اس نماز کا انتظار نہیں کررہا۔ پس تم نماز میں ہی ہو جب تک نماز کے
انتظار میں رہو۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں تاخیر کا حکم کرکے اپنی امت کو مشقت میں
ڈال دونگا تو اس نماز کو نصف شب یا قریب نصف شب تک تاخیر کا حکم دیتا ۔پھر انہوں
نے فجر کی اذان دی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر کی کہ آفتاب
قریبِ طلوع تھا۔ تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے امر فرمایا تو انہوں نے تکبیر
کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز فجر پڑھی ۔ پھر فرمایا کہ وقت ان
دونوں وقتوں کے درمیان ہے ۔ اس کو طبرانی نے اوسط میں روایت کیا ۔ ( مجمع الزوائد ۱/۳۰۴ ،معجم الاوسط ۷/۴۰ کتاب:اربَعیْنِ حَنفِیَّہ )
یوں
تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی ہر بات ہر ادا ہر کام حکمت سے بھرپور ہے کہیں پر آقا
علیہ الصلوۃ والسلام کا اشارے سے تربیت فرمانا کہیں پر فرمان کے ذریعے تربیت
فرمانا کہیں پر تشبیہات کی تربیت فرمانا اور اسی طرح آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا
سوالیہ انداز میں تربیت فرمانا احادیث مبارکہ میں ملتا ہے چنانچہ جن احادیث کریمہ میں اللہ کے آخری نبی محمد
عربی مکی مدنی ﷺ نے سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی ان کو ملاحظہ
کرتے ہیں:
1:کیا
تم جانتے ہو:اس حدیث مبارکہ میں اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے
سوالیہ انداز سے پوچھا کہ جنت میں اور دوزخ میں کون سی چیز جلدی پہنچا دے آقا علیہ
الصلوۃ والسلام نے اس حوالے سے فرمایا: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ
النَّاسَ الْجَنَّةَتَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ
مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه ترجمہ:روایت
ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ
وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز
زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ
لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ۔ (مراةالمناجیح
شرح مشکاۃالمصابیح باب: زبان کی حفاظت کا بیان اور غیبت اور گالی کا بیان جلد نمبر
:6 حدیث نمبر :4832)
2:خاموشی
اور اچھی عادت:اس حدیث مبارکہ میں اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے خاموشی اور اچھی عادت کے حوالے سے سوالیہ
انداز سے تربیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَعَنْ
أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا
ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ
وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ
الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا
ترجمہ:روایت
ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم
کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں
فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے
قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔ (مراةالمناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح باب: زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان جلد نمبر:6حدیث
نمبر :4867)
اللہ
تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے ان احادیث مبارکہ میں جو کچھ پڑھا اور بیان کیا اور جو
کچھ سیکھا اللہ تعالی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور علیہ الصلوۃ
والسلام کے فرامین پر دل و جان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جن جن چیزوں
کے بارے میں اقا علیہ الصلوۃ والسلام نے سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ان کو خود
سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ النبی الکریم ﷺ
رسول
پاک ﷺ کا تربیت فرمانے کا انداز بہت ہی عمدہ تھا ، آپ دوسرے شخص کی رہنمائی کے لیے
اس کی عقل کے مطابق مختلف انداز اپناتے۔ اسی طرح آپ علیہ السلام کسی بات کو
سمجھانے کے لیے سوالیہ انداز اپناتے اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہو۔
پانچ
نمازیں دن میں پانچ بار نہانے کی مانند:حضور جان عالم ﷺ نے
صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے ارشاد فرمایا: بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے پر
نہرہو اور اس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی
رہ جائے گاصحابۂ کرام نے عرض کی:اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی نہیں رہےگا۔ حضورِ
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں نمازوں کی
ہے۔ اللہ پاک اس کے ذریعے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔(بخاری،ج 1،ص196، حدیث:528)
اس
حدیث مبارکہ میں نبی پاک ﷺ نے تربیت فرمانے کے لیے سوالیہ انداز اپنایا کہ
جس طرح دن میں پانچ بار نہانے والے کے جسم پر کوئی میل نہیں رہتی اسی طرح دن میں
پانچ وقت کی نماز پڑھنے والے پر گناہ نہیں رہتے۔
کہا
تم اللہ کے رسول کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرو گے:آپ ﷺ نے
فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کروگے“ اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت
کی تھی۔ تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے
فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم
آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں
کرو گے“ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم (ایک بار)
آپ سے بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں آپ ﷺ نے
فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں
ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے۔“ اور ایک جملہ
آہستہ سے فرمایا: ”اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے۔“ اس کے بعد میں نے ان
میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ
اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2403]
اس
حدیث مبارکہ میں نبی پاک ﷺ نے تربیت فرمانے کے لیے سوالیہ انداز اپناتے
ہوئے فرمایا۔
یہ
تھی حضور جان عالم ﷺ کا تربیت کا انداز اللہ ہمیں سچ و پکا عاشق
رسول ﷺ بنائے ۔ آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
محمد ارسلان علی عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ منڈی موڑ پاکپتن ،
پاکستان)
انسانی
ذہن کا یہ خاصہ ہے کہ وہ سنی ہوئی بات جلد بھول جاتا ہے، مگر جو بات سوال کے ذریعے
سمجھائی جائے وہ دیر تک یاد رہتی ہے۔ سوال دماغ کو جگاتا ہے، سوچنے پر مجبور کرتا
ہے، اور جواب سننے کے بعد انسان کے دل پر وہ بات زیادہ گہری نقش ہو جاتی ہے۔
ہمارے
آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے معلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعلیم و تربیت کے لیے کئی بار
سوالیہ انداز اختیار فرمایا تاکہ وہ نہ صرف بات سنیں بلکہ سوچیں، غور کریں اور پھر
حقیقت کو پوری طرح سمجھیں۔ ان میں سے چند احادیث ملاحظہ کیجئے:
1.
اصل مفلس کون ہے: أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا
دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي
يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا،
وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا۔
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو
مفلس کون ہے" صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے
جس کے پاس نہ مال ہے نہ سامان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری
امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لائے گا، لیکن اس نے کسی
کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کو مارا
ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا(صحیح مسلم، کتاب البر، باب تحریم الظلم، حدیث: 2581،
ج2، ص 563)
یہاں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوال کے ذریعے صحابہ کرام علیہم
الرضوان کے ذہن کو سوچنے پر لگایا اور پھر اصل حقیقت واضح فرمائی کہ اصل مفلس وہ
ہے جس کی نیکیاں دوسروں پر ظلم کر کے برباد ہو جائیں۔
2.
مسلمان کی مثال کون سا درخت ہےإِنَّ
مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ،
فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ
فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا
النَّخْلَةُ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"درختوں میں ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے، وہ مسلمان کی مثال ہے۔ مجھے
بتاؤ وہ کون سا ہے" صحابہ کرام علیہم الرضوان مختلف درختوں کے بارے میں سوچنے
لگے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا
درخت ہے۔(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب طرح الإمام المسألة، حدیث:
61، ج1، ص 36)
مذکورہ
حدیث مبارکہ میں :یہ سوال نہ صرف ذہن کو حرکت دیتا ہے بلکہ غور و فکر کی عادت بھی
ڈالتا ہے۔ مسلمان کی زندگی کو کھجور کی طرح ہونی چاہیے، جو ہر حال میں فائدہ دیتا
ہے اور مضبوط کھڑا رہتا ہے۔
3.
سب سے افضل عمل کیا ہےسُئِلَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّم: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ:
إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ(صحیح البخاری، کتاب الایمان،
حدیث: 151، ج1، ص 108)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: "سب سے افضل
عمل کون سا ہے" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ اور اس کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔"
مذکورہ
حدیث مبارکہ میں :سوال و جواب کے ذریعے ایمان کی بنیاد ذہن میں مضبوطی سے بٹھا دی
گئی کہ ہر نیکی کی جڑ ایمان ہے۔
4.
سب سے بڑے گناہ کون سے ہیں أَلَا
أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ.
قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہ نہ
بتاؤں" صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: جی ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک
کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔(صحیح البخاری، کتاب الشهادات، باب ما قيل في
شهادة الزور، حدیث: 2654، ج2، ص 673)
مذکورہ
حدیث مبارکہ میں یہ سوال سننے والوں کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے اور گناہوں کی سنگینی
ذہن پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔
5.
بہترین مسلمان کون ہےسُئِلَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّم : أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ:
مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ۔یعنی:رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: "سب سے اچھا
مسلمان کون ہے" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ مسلمان جس کی
زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"(صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث:
11، ج1، ص 17)
مذکورہ
حدیث مبارکہ میں :یہ سوال اور جواب ہمیں سمجھاتا ہے کہ اصل نیکی صرف عبادت نہیں
بلکہ دوسروں کو اپنی زبان اور ہاتھ کے شر سے بچانا بھی ہے۔
پیارے
اسلامی بھائیو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوالیہ انداز تعلیم دلوں کو زندہ
کرنے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پوچھتے: "کیا تم جانتے
ہو"، کبھی فرماتے: "تمہیں نہ بتاؤں"… اور پھر ایسی حقیقت سامنے
رکھتے کہ سننے والے کے دل میں وہ بات ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی۔آج اگر والدین بچوں
کی تربیت میں، اساتذہ طلبہ کو پڑھانے میں، اور خطباء و واعظین اپنے بیان میں سوالیہ
انداز اختیار کریں تو علم بھی زیادہ پختہ ہوگا اور سننے والے کے دل پر بھی زیادہ اثر
ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں معلمِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیتی اسلوب پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ
النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
رسول
اللہ ﷺ نے کئی طریقوں سے صحابہ کرام علیہم
رضوان کی تربیت فرمائی اور وہی تربیت آج تک ہم سب کو مل رہی ہے جیسا کہ رسول
ﷺ کا اشارے سے تربیت فرمانا مثال دے کر
تربیت فرمانا اسی طرح حضور ﷺ نے کئی جگہ
پر صحابہ کرام علیہم رضوان اور اپنی امت کی سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ہے ۔جیسا
کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے۔
روایت
ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ
لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے اللہ سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو
آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ ۔( مرآۃ
المنا جیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد:6 حدیث نمبر 4832)
جیسا
کہ اس حدیث مبارکہ میں حضور ﷺ نے تربیت
فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کون سی چیز جنت میں لے جاتی ہے اور کون سی چیز
دوزخ میں لے جاتی ہے یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے 90 فیصد
گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بدترین گناہ ہے عقل کو مغلوب
کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے ۔
ایک
اور حدیث مبارکہ میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا: اے ابوذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکے
ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور
اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے
ہوں گے۔(کتاب مرآۃ الماجیح شرح مشکاۃالمصابیح
جلد 6 حدیث نمبر 4867)
یعنی
ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں،چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس لیے
عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے،نیز بوجھ پیٹھ پر ہی اٹھائے جاتے ہیں
پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہرحال کلام بڑا فصیح ہے یا مراد ہے زبان کی
پیٹھ۔
یعنی کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تولی
جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہوجائیں گے، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی
شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہوگا۔
خاموشی
سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے اللہ کے ذکر سے خاموشی اچھی
نہیں۔اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق اداکرنا،نرم وگرم حالات میں شاکر و
صابر رہنا،چونکہ خاموشی اور صبروشکر میں
کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا
گیا۔
کیونکہ
انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے۔واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر
معاملات کا کوئی کام نہیں،یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔
جو
کچھ سنا اللہ پاک اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
اللہ
تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو آخری نبی پیدا فرمایا اور آپ پر
سلسلہ نبوت کو ختم فرما دیا .آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے پاس بہت
سے کمالات اور معجزات موجود تھے. جو کسی کو بھی عطا نہ ہوئے تھے. جیسے چاند کے دو
ٹکرے کرنا,انگلیوں سے چشمے جاری کرنا اسی طرح آپ بہت سے انداز میں تربیت فرماتے جیسے
قول کے ذریعے,فعل کے ذدیعے,اور ایسے ہی آپ سوالیہ انداز سے تربیت فرماتے. آئیے ہم
چند احادیث ذیل میں پیش کرتے ہیں ۔
(1)
خاموشی اور اچھی عادت کا کمال : وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ
هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ
وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ
بِمِثْلِهِمَا ۔
ترجمہ : روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر
کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں
بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس
کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , اچھی باتوں کا بیان ، باب زبان کی حفاظت اور
غیبت اور گالی کا بیان ،حدیث نمبر:4867)
(2)
اللہ پاک سے ڈرو: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ
النَّاسَ الْجَنَّةَتَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ
مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ .رَوَاهُ
التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه۔ ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی
چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو
کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ (ترمذی،
ابن ماجہ) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح،اچھی باتوں کا بیان ،باب زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان ،جلد:6
, حدیث نمبر:4832)
اللہ
تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم
النبیین
رضوان مقبول قادری(درجہ خامسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ
کے آخری نبی محمد عربی ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔اگر ہم
غور کریں تو پیارے نبی ﷺ کی زندگی کے ہر پہلو کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے
۔اور پیارے نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بے
مثال تربیت فرمائی۔ جن میں سوالیہ انداز سے ترتیب کرنا بھی شامل ہے ۔ آپ ﷺ کا
سوالیہ انداز سے ترتیب فرمانا غوروفکر کرنے پر ابھارتا ہے ۔جس کے ذریعے گفتگو پر
خوب توجہ حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن کریم میں بھی مختلف مقامات پر سوالیہ انداز سے
رہنمائی کی گئی ہے ۔اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کے سوالیہ انداز سے تربیت فرمانے پر کثیر احادیث موجود ہیں ۔
جن
احادیث میں سے چند درج ذیل پڑھتے ہیں۔ :
1۔ایمان باللہ کی وضاحت : حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کے
پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا: أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا
رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ،
وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمْسَ مِنَ الْمَغْنَمِ یعنی
کیا تم جانتے ہو: ایمان باللہ کیا ہے وہ بولے: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں،
آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور
محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا، اور
مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو ۔ (سنن ابوداؤد/اول کتاب السنۃ/باب: فی رد الارجاء/حدیث نمبر: 4677/ جلد: 7 /
صفحہ:67)
2۔️ غیبت کی تعریف: حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ قَالَ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا يَکْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ
فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ إِنْ کَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ
وَإِنْ لَمْ يَکُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ یعنی
کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اللہ اور اس
کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے
کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ
اگر واقعی وہ عیب میرے بھائی میں ہو جو میں کہوں آپ ﷺ فرمایا اگر وہ عیب اس میں ہے
جو تم کہتے ہو تبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہ ہو پھر تو تم نے اس پر
بہتان لگایا ہے۔(صحیح مسلم/کتاب: صلہ رحمی کا بیان/باب: غیبت کی حرمت کے بیان میں/حدیث
نمبر: 6589/ جلد: 8 / صفحہ: 21)
3۔ شفاعت کا اختیار ہونا :حضرت
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ
مَا خَيَّرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ، قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ
أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ،
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ
أَهْلِهَا، قَالَ: هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ یعنی کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے
کس بات کا اختیار دیا ہے ہم نے کہا: اللہ
اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میری
آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، ہم نے
کہا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں بھی شفاعت والوں میں بنائے، آپ ﷺ
نے فرمایا: یہ شفاعت ہر مسلمان کو شامل ہے ۔ ( سنن ابن ماجہ/کتاب: زہد کا بیان/باب: شفاعت کا
ذکر/حدیث نمبر: 4317/ جلد : 5 / صفحہ:370)
4۔️اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق : حضرت
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دراز گوش پر حضور کے پیچھے اس طرح
سوار تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا: يَا
مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ وَمَا حَقُّ
الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا
يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا
ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ. یعنی معاذ! کیا تم جانتے ہو
کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں،
آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں
اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جب
وہ ایسا کریں تو وہ ان کو عذاب نہ دے ۔ ( سنن ابن ماجہ/کتاب: زہد کا بیان/باب: روز
قیامت رحمت الہی کی امید۔/حدیث نمبر: 4296/ جلد: 5 / صفحہ: 353)
5۔️ قیامت کے دن مفلس کون ہے :حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا
مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي
يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَکَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ
هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَکَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَکَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا
فَيُعْطَی هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ
حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَی مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ
فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ یعنی کیا
تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی
ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ
آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوٰۃ وغیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا
میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا
اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں
دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہوگئیں
تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا
جائے گا۔( صحیح مسلم /کتاب: صلہ رحمی کا بیان/باب: ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں/حدیث
نمبر: 6581/ جلد: 8 / صفحہ: 18)
اللہ
کریم ہمیں پیارے نبی ﷺ کی پیاری سیرت پر غوروفکر کرتے ہوئے ان احادیث
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
محمد منیب الرحمن عطّاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ اپر مال روڈ لاہور ، پاکستان)
انسان
کی فطرت ہے کہ وہ سوال کرتا ہے اور جواب کے ذریعے سیکھتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے
مؤثر ترین اسالیب میں سے ایک یہ ہے کہ استاد اپنے شاگرد کو سوال کے ذریعہ غور و
فکر پر آمادہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ تربیت و رہنمائی کا بہترین
نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے صحابۃ کرام رضی اللہ عنہم کی ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے، ان کے
فہم کو جِلا بخشنے اور تعلیم کو پختہ کرنے کے لیے سوال و جواب کا طریقہ اختیار
فرمایا۔ اس اسلوب سے نہ صرف بات ذہن نشین ہوتی بلکہ سامعین کو خود سوچنے، غور کرنے
اور سیکھنے کا حوصلہ ملتا۔ اسی حکمتِ عملی نے ایک عام عرب معاشرے کو علم و حکمت کے
سرچشمے میں بدل دیا۔
سوالیہ
اسلوب کی حکمت:نبی کریم ﷺ کا سوالیہ
انداز کئی حکمتوں پر مبنی تھا:
1. سامعین
کی توجہ قائم رکھنا۔
2. ذہن کو
سوچنے اور جواب تلاش کرنے پر آمادہ کرنا۔
3. بات کو
دل نشین اور یادگار بنانا۔
4. غلط
فہمیوں کی اصلاح کرنا۔
اسی
وجہ سے آپ ﷺ کے سوالات کبھی عقائد کی وضاحت کے لیے، کبھی اخلاقی تربیت کے لیے اور
کبھی عملی مثالوں کے لیے ہوتے۔آئیے چند مثالیں ملاحظہ کرتے ہیں۔
(1)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ
حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ
الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا:
الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي
يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ
هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ
هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ
فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ،
فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو کہ مفلس
کون ہے " صحابہ نے کہا؛ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو ،
نہ کوئی سازوسامان ۔ آپ نے فرمایا : " میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت
کے دن نماز ، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ ( دنیا میں ) اس کو
گالی دی ہو گی ، اس پر بہتان لگایا ہو گا ، اس کا مال کھایا ہو گا ، اس کا خون بہایا
ہو گا اور اس کو مارا ہو گا ، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس
کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں
ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا ، پھر اس کو جہنم میں
پھینک دیا جائے گا ۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، حدیث: 2581)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ
بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي
مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ
الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ : مَنْ
سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
ترجمہ:
لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے تو نبی کریم ﷺ نے
فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں
رہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث: 11)
درج
بالا احادیث اظہر من الشمس کی طرح واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ کیسے حضور ﷺ نے
صحابہ کرام کے ذریعہ امت کی تربیت فرمائی کیونکہ آپ ﷺ دنیا جہاں کے لیے معلم بنا
کر بھیجے گئے۔ حضورﷺ کا سوال کے ذریعہ تربیت فرمانا یہ ہمیں کیا سیکھاتا ہے آئیے
اس پر غور کرتے ہیں ۔
بچوں
اور طلبہ کو محض حکم دینے کے بجائے سوال کر کے سوچنے پر آمادہ کیا جائے۔
نصیحت
کو یک طرفہ لیکچر کی صورت میں نہ کیا جائے بلکہ سوال و جواب کے ذریعے ذہنی شرکت
پیدا کی جائے۔
خطباء
اور واعظین سامعین کے ساتھ براہِ راست تعلق قائم کرنے کے لیے سوالیہ انداز اختیار
کریں تاکہ توجہ بھی قائم رہے اور پیغام بھی دل میں اتر جائے۔
والدین
بچوں کی اصلاح اور تربیت میں سوالیہ انداز استعمال کریں تاکہ وہ اپنی غلطیوں کو
خود سمجھیں اور درست رویہ اپنائیں۔
معلمین
درس و تدریس میں سوالیہ اسلوب کو شامل کریں تاکہ شاگردوں میں فکری بیداری اور
تجزیاتی صلاحیت پیدا ہو۔
یوں
معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا سوالیہ اسلوب صرف ایک تعلیمی انداز نہیں بلکہ ایک
دائمی اصول ہے جو ہر دور کے معلم، والدین اور مبلغ کے لیے رہنما ہے۔اللہ رب
العامین سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
محمد عدنان عطاری (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضانِ غوث اعظم چھانگا مانگا قصور ، پاکستان)
نبی
کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی مبارک سنتوں میں ایک عظیم سنت سوال و جواب
کا انداز ہے۔ تعلیم و تربیت کے باب میں یہ طریقہ نہایت مؤثر اور دل نشین ہے۔ سوال
کرنے سے انسان کے ذہن میں تجسس پیدا ہوتا ہے، توجہ مرکوز ہو جاتی ہے، اور جب اس
سوال کا جواب دیا جاتا ہے تو وہ بات دل و دماغ میں راسخ ہو جاتی ہے۔
نبی
کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں یہ انداز بارہا نظر آتا ہے کہ آپ ﷺ نے
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت کے لیے سوال و جواب کا سلسلہ جاری
فرمایا۔ کبھی آپ خود سوال کرتے اور پھر اس کا جواب عطا فرماتے، کبھی کسی سائل کے
سوال کا جواب مرحمت فرماتے، کبھی کسی کو سوال کرنے کی ترغیب دیتے اور پھر اس پر
ارشاد فرماتے۔
آئیے!
ہم بھی سیرت النبی ﷺ کے انہی روشن پہلوؤں سے چند مدنی پھول چننے کی
سعادت حاصل کرتے ہیں۔
1-
کسی خاص فضیلت کے پانے کا سوال کرنا اور حضور ﷺ کا جواب دینا:ایک شخص نے عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں
پہنچا دے۔آپ ﷺ نے فرمایا: موذن بن جاؤ۔اس نے عرض کیا: میں اس
کی طاقت نہیں رکھتا۔آپ نے فرمایا: امام بن جاؤ۔اس نے عرض کیا: میں یہ بھی نہیں کر
سکتا۔ارشاد فرمایا: پھر امام کے قریب کھڑے ہوا کرو۔(المعجم الأوسط، باب من اسمہ
محمد، ج7، ص363، حدیث 7737)
2-
سوال کرنے والے کی حوصلہ افزائی فرمانا:حضرت براء بن عازب رضی
اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: ایک اعرابی آیا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسا عمل
بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔نبی کریم ﷺ نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے
فرمایا: تم نے اگرچہ مختصر بات کہی ہے مگر بڑا سوال پوچھا ہے۔پھر ارشاد فرمایا:
گردن آزاد کرو، جان چھڑاؤ۔(الآداب للبیہقی، باب فی اطعام الطعام وسقی الماء، ص32،
حدیث 88)
3-
اعمال کے بارے میں تقابلی سوالات کے جوابات دینا:عرض کیا
گیا: یا رسول اللہ ﷺ ! جب دو آدمی ملیں تو
ان میں سے سلام میں پہل کون کرےارشاد فرمایا: جو اللہ کے زیادہ قریب ہو۔
(سنن
ترمذی، ج4، ص318، حدیث 2703)
4-
سامعین کو متجسس کر کے پھر جواب دینا:نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: جب الحزن سے پناہ مانگو۔یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے
عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! جب الحزن کیا
ہے
ارشاد
فرمایا: یہ جہنم کی ایک وادی ہے جس سے خود جہنم بھی دن میں 100 مرتبہ پناہ مانگتا
ہے۔
(سنن
ابن ماجہ، ج1، ص166، حدیث 255)
5-
کسی عمل کو مقربین کے عمل سے تشبیہ دینا اور پھر سوال پر وضاحت فرمانا:حضرت
جابر بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا:تم لوگ ایسی صفیں کیوں نہیں بناتے جیسے فرشتے رب عزوجل کی بارگاہ میں بناتے
ہیںیہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! فرشتے کس طرح صفیں بناتے ہیںارشاد فرمایا:
وہ اگلی صفیں پوری کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔(صحیح مسلم، حدیث 968)
سیرت
مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ حسین پہلو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلیم
و تربیت کا بہترین طریقہ سوال و جواب ہے۔ سوال ذہن کو جگاتا ہے اور جواب دل کو
روشن کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے یہ انداز مبارک نہ صرف صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین کے لیے علم و ہدایت کا ذریعہ تھے بلکہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے
مشعلِ راہ ہیں۔ کاش کہ ہم بھی اس سنتِ نبوی کو اپنائیں، سوال کرنے اور سیکھنے کا
سلیقہ پیدا کریں، اور اپنی اور دوسروں کی علمی و روحانی تربیت میں اس سے فیض یاب
ہوں۔
مبشر حسین عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
رسول
اللہ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے مختلف اسالیب اختیار فرمائے۔ ان میں سے ایک نہایت مؤثر
اسلوب سوالیہ انداز تھا۔ آپ ﷺ سوال کرتے اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو غور
و فکر کی طرف متوجہ کرتے، تاکہ وہ بات صرف سننے والے نہ رہیں بلکہ دل و دماغ میں بیٹھ
جائے۔ یہ انداز آج کے تعلیمی طریقوں میں بھی سب سے بہترین مانا جاتا ہے۔
(1)
مفلس کون” أتدرون
من المفلسصحابہ نے عرض کیا: مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار نہ
ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور
زکوٰۃ لائے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا
ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا، پھر اس کی نیکیاں لے لی جائیں گی
اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو دوسروں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور وہ
جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔( صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، حدیث:
2581)
(2)نا
گوار بات أتدرون ما الغيبةصحابہ
نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"تمہارا اپنے
بھائی کا ذکر کرنا ایسی بات سے جو اسے ناگوار گزرے۔ (
سنن ابی داود، کتاب الأدب، باب الغيبۃ، حدیث: 4874)
(3)کبیرہ
گناہ کون کونسے آپ ﷺ نے فرمایا: ألا
أنبئكم بأكبر الكبائرکیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ
بتاؤںصحابہ نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ!آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ
شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور جھوٹی گواہی دینا۔(
صحیح بخاری، کتاب الشهادات، باب ما قيل فی شهادة الزور، حدیث: 2654، مکتبہ
دارالسلام)
(4)
مؤمن کی مثال نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: أتدرون أي شجرة لا يسقط ورقهاکیا تم جانتے ہو کون سا
درخت ہے جس کا پتا نہیں گرتاصحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ
نے فرمایا: "یہ کھجور کا درخت ہے، مؤمن کی مثال اسی کی طرح ہے۔" ( صحیح
بخاری، کتاب العلم، باب قول المحدث: حدثنا، حدیث: 61، مکتبہ دارالسلام)
رسول
اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز صحابہ کرام کو سوچنے پر آمادہ کرتا، ذہن كو پختہ بناتا اور تعلیمی اثر کو پائیدار
بنا دیتا۔ یہی اسلوب امت کے لیے آج بھی بہترین تربیتی نمونہ ہے۔
Dawateislami