انسان کی فطرت ہے کہ وہ سوال کرتا ہے اور جواب کے ذریعے سیکھتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے مؤثر ترین اسالیب میں سے ایک یہ ہے کہ استاد اپنے شاگرد کو سوال کے ذریعہ غور و فکر پر آمادہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ تربیت و رہنمائی کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے صحابۃ کرام رضی اللہ عنہم کی ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے، ان کے فہم کو جِلا بخشنے اور تعلیم کو پختہ کرنے کے لیے سوال و جواب کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس اسلوب سے نہ صرف بات ذہن نشین ہوتی بلکہ سامعین کو خود سوچنے، غور کرنے اور سیکھنے کا حوصلہ ملتا۔ اسی حکمتِ عملی نے ایک عام عرب معاشرے کو علم و حکمت کے سرچشمے میں بدل دیا۔

سوالیہ اسلوب کی حکمت:نبی کریم ﷺ کا سوالیہ انداز کئی حکمتوں پر مبنی تھا:

1. سامعین کی توجہ قائم رکھنا۔

2. ذہن کو سوچنے اور جواب تلاش کرنے پر آمادہ کرنا۔

3. بات کو دل نشین اور یادگار بنانا۔

4. غلط فہمیوں کی اصلاح کرنا۔

اسی وجہ سے آپ ﷺ کے سوالات کبھی عقائد کی وضاحت کے لیے، کبھی اخلاقی تربیت کے لیے اور کبھی عملی مثالوں کے لیے ہوتے۔آئیے چند مثالیں ملاحظہ کرتے ہیں۔

(1) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ، فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے " صحابہ نے کہا؛ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو ، نہ کوئی سازوسامان ۔ آپ نے فرمایا : " میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ ( دنیا میں ) اس کو گالی دی ہو گی ، اس پر بہتان لگایا ہو گا ، اس کا مال کھایا ہو گا ، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا ، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا ، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، حدیث: 2581)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ : مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

ترجمہ: لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث: 11)

درج بالا احادیث اظہر من الشمس کی طرح واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ کیسے حضور ﷺ نے صحابہ کرام ﷢کے ذریعہ امت کی تربیت فرمائی کیونکہ آپ ﷺ دنیا جہاں کے لیے معلم بنا کر بھیجے گئے۔ حضورﷺ کا سوال کے ذریعہ تربیت فرمانا یہ ہمیں کیا سیکھاتا ہے آئیے اس پر غور کرتے ہیں ۔

بچوں اور طلبہ کو محض حکم دینے کے بجائے سوال کر کے سوچنے پر آمادہ کیا جائے۔

نصیحت کو یک طرفہ لیکچر کی صورت میں نہ کیا جائے بلکہ سوال و جواب کے ذریعے ذہنی شرکت پیدا کی جائے۔

خطباء اور واعظین سامعین کے ساتھ براہِ راست تعلق قائم کرنے کے لیے سوالیہ انداز اختیار کریں تاکہ توجہ بھی قائم رہے اور پیغام بھی دل میں اتر جائے۔

والدین بچوں کی اصلاح اور تربیت میں سوالیہ انداز استعمال کریں تاکہ وہ اپنی غلطیوں کو خود سمجھیں اور درست رویہ اپنائیں۔

معلمین درس و تدریس میں سوالیہ اسلوب کو شامل کریں تاکہ شاگردوں میں فکری بیداری اور تجزیاتی صلاحیت پیدا ہو۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا سوالیہ اسلوب صرف ایک تعلیمی انداز نہیں بلکہ ایک دائمی اصول ہے جو ہر دور کے معلم، والدین اور مبلغ کے لیے رہنما ہے۔اللہ رب العامین سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین