رسول اللہ  ﷺ نے تعلیم و تربیت کے مختلف اسالیب اختیار فرمائے۔ ان میں سے ایک نہایت مؤثر اسلوب سوالیہ انداز تھا۔ آپ ﷺ سوال کرتے اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو غور و فکر کی طرف متوجہ کرتے، تاکہ وہ بات صرف سننے والے نہ رہیں بلکہ دل و دماغ میں بیٹھ جائے۔ یہ انداز آج کے تعلیمی طریقوں میں بھی سب سے بہترین مانا جاتا ہے۔

(1) مفلس کون أتدرون من المفلسصحابہ نے عرض کیا: مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لائے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا، پھر اس کی نیکیاں لے لی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو دوسروں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔( صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، حدیث: 2581)

(2)نا گوار بات أتدرون ما الغيبةصحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"تمہارا اپنے بھائی کا ذکر کرنا ایسی بات سے جو اسے ناگوار گزرے۔ ( سنن ابی داود، کتاب الأدب، باب الغيبۃ، حدیث: 4874)

(3)کبیرہ گناہ کون کونسے آپ ﷺ نے فرمایا: ألا أنبئكم بأكبر الكبائرکیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤںصحابہ نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ!آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور جھوٹی گواہی دینا۔( صحیح بخاری، کتاب الشهادات، باب ما قيل فی شهادة الزور، حدیث: 2654، مکتبہ دارالسلام)

(4) مؤمن کی مثال نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: أتدرون أي شجرة لا يسقط ورقهاکیا تم جانتے ہو کون سا درخت ہے جس کا پتا نہیں گرتاصحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ کھجور کا درخت ہے، مؤمن کی مثال اسی کی طرح ہے۔" ( صحیح بخاری، کتاب العلم، باب قول المحدث: حدثنا، حدیث: 61، مکتبہ دارالسلام)

رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز صحابہ کرام کو سوچنے پر آمادہ کرتا، ذہن كو پختہ بناتا اور تعلیمی اثر کو پائیدار بنا دیتا۔ یہی اسلوب امت کے لیے آج بھی بہترین تربیتی نمونہ ہے۔