نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی مبارک سنتوں میں ایک عظیم سنت سوال و جواب کا انداز ہے۔ تعلیم و تربیت کے باب میں یہ طریقہ نہایت مؤثر اور دل نشین ہے۔ سوال کرنے سے انسان کے ذہن میں تجسس پیدا ہوتا ہے، توجہ مرکوز ہو جاتی ہے، اور جب اس سوال کا جواب دیا جاتا ہے تو وہ بات دل و دماغ میں راسخ ہو جاتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں یہ انداز بارہا نظر آتا ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت کے لیے سوال و جواب کا سلسلہ جاری فرمایا۔ کبھی آپ خود سوال کرتے اور پھر اس کا جواب عطا فرماتے، کبھی کسی سائل کے سوال کا جواب مرحمت فرماتے، کبھی کسی کو سوال کرنے کی ترغیب دیتے اور پھر اس پر ارشاد فرماتے۔

آئیے! ہم بھی سیرت النبی ﷺ کے انہی روشن پہلوؤں سے چند مدنی پھول چننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

1- کسی خاص فضیلت کے پانے کا سوال کرنا اور حضور ﷺ کا جواب دینا:ایک شخص نے عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے۔آپ ﷺ نے فرمایا: موذن بن جاؤ۔اس نے عرض کیا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔آپ نے فرمایا: امام بن جاؤ۔اس نے عرض کیا: میں یہ بھی نہیں کر سکتا۔ارشاد فرمایا: پھر امام کے قریب کھڑے ہوا کرو۔(المعجم الأوسط، باب من اسمہ محمد، ج7، ص363، حدیث 7737)

2- سوال کرنے والے کی حوصلہ افزائی فرمانا:حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: ایک اعرابی آیا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔نبی کریم ﷺ نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا: تم نے اگرچہ مختصر بات کہی ہے مگر بڑا سوال پوچھا ہے۔پھر ارشاد فرمایا: گردن آزاد کرو، جان چھڑاؤ۔(الآداب للبیہقی، باب فی اطعام الطعام وسقی الماء، ص32، حدیث 88)

3- اعمال کے بارے میں تقابلی سوالات کے جوابات دینا:عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ﷺ ! جب دو آدمی ملیں تو ان میں سے سلام میں پہل کون کرےارشاد فرمایا: جو اللہ کے زیادہ قریب ہو۔

(سنن ترمذی، ج4، ص318، حدیث 2703)

4- سامعین کو متجسس کر کے پھر جواب دینا:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب الحزن سے پناہ مانگو۔یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! جب الحزن کیا ہے

ارشاد فرمایا: یہ جہنم کی ایک وادی ہے جس سے خود جہنم بھی دن میں 100 مرتبہ پناہ مانگتا ہے۔

(سنن ابن ماجہ، ج1، ص166، حدیث 255)

5- کسی عمل کو مقربین کے عمل سے تشبیہ دینا اور پھر سوال پر وضاحت فرمانا:حضرت جابر بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم لوگ ایسی صفیں کیوں نہیں بناتے جیسے فرشتے رب عزوجل کی بارگاہ میں بناتے ہیںیہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! فرشتے کس طرح صفیں بناتے ہیںارشاد فرمایا: وہ اگلی صفیں پوری کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔(صحیح مسلم، حدیث 968)

سیرت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ حسین پہلو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلیم و تربیت کا بہترین طریقہ سوال و جواب ہے۔ سوال ذہن کو جگاتا ہے اور جواب دل کو روشن کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے یہ انداز مبارک نہ صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے علم و ہدایت کا ذریعہ تھے بلکہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ کاش کہ ہم بھی اس سنتِ نبوی کو اپنائیں، سوال کرنے اور سیکھنے کا سلیقہ پیدا کریں، اور اپنی اور دوسروں کی علمی و روحانی تربیت میں اس سے فیض یاب ہوں۔