رضوان مقبول قادری(درجہ خامسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ
کے آخری نبی محمد عربی ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔اگر ہم
غور کریں تو پیارے نبی ﷺ کی زندگی کے ہر پہلو کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے
۔اور پیارے نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بے
مثال تربیت فرمائی۔ جن میں سوالیہ انداز سے ترتیب کرنا بھی شامل ہے ۔ آپ ﷺ کا
سوالیہ انداز سے ترتیب فرمانا غوروفکر کرنے پر ابھارتا ہے ۔جس کے ذریعے گفتگو پر
خوب توجہ حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن کریم میں بھی مختلف مقامات پر سوالیہ انداز سے
رہنمائی کی گئی ہے ۔اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کے سوالیہ انداز سے تربیت فرمانے پر کثیر احادیث موجود ہیں ۔
جن
احادیث میں سے چند درج ذیل پڑھتے ہیں۔ :
1۔ایمان باللہ کی وضاحت : حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کے
پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا: أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا
رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ،
وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمْسَ مِنَ الْمَغْنَمِ یعنی
کیا تم جانتے ہو: ایمان باللہ کیا ہے وہ بولے: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں،
آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور
محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا، اور
مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو ۔ (سنن ابوداؤد/اول کتاب السنۃ/باب: فی رد الارجاء/حدیث نمبر: 4677/ جلد: 7 /
صفحہ:67)
2۔️ غیبت کی تعریف: حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ قَالَ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا يَکْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ
فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ إِنْ کَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ
وَإِنْ لَمْ يَکُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ یعنی
کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اللہ اور اس
کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے
کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ
اگر واقعی وہ عیب میرے بھائی میں ہو جو میں کہوں آپ ﷺ فرمایا اگر وہ عیب اس میں ہے
جو تم کہتے ہو تبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہ ہو پھر تو تم نے اس پر
بہتان لگایا ہے۔(صحیح مسلم/کتاب: صلہ رحمی کا بیان/باب: غیبت کی حرمت کے بیان میں/حدیث
نمبر: 6589/ جلد: 8 / صفحہ: 21)
3۔ شفاعت کا اختیار ہونا :حضرت
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ
مَا خَيَّرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ، قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ
أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ،
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ
أَهْلِهَا، قَالَ: هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ یعنی کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے
کس بات کا اختیار دیا ہے ہم نے کہا: اللہ
اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میری
آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، ہم نے
کہا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں بھی شفاعت والوں میں بنائے، آپ ﷺ
نے فرمایا: یہ شفاعت ہر مسلمان کو شامل ہے ۔ ( سنن ابن ماجہ/کتاب: زہد کا بیان/باب: شفاعت کا
ذکر/حدیث نمبر: 4317/ جلد : 5 / صفحہ:370)
4۔️اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق : حضرت
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دراز گوش پر حضور کے پیچھے اس طرح
سوار تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا: يَا
مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ وَمَا حَقُّ
الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا
يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا
ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ. یعنی معاذ! کیا تم جانتے ہو
کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں،
آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں
اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جب
وہ ایسا کریں تو وہ ان کو عذاب نہ دے ۔ ( سنن ابن ماجہ/کتاب: زہد کا بیان/باب: روز
قیامت رحمت الہی کی امید۔/حدیث نمبر: 4296/ جلد: 5 / صفحہ: 353)
5۔️ قیامت کے دن مفلس کون ہے :حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا
مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي
يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَکَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ
هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَکَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَکَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا
فَيُعْطَی هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ
حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَی مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ
فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ یعنی کیا
تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی
ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ
آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوٰۃ وغیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا
میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا
اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں
دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہوگئیں
تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا
جائے گا۔( صحیح مسلم /کتاب: صلہ رحمی کا بیان/باب: ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں/حدیث
نمبر: 6581/ جلد: 8 / صفحہ: 18)
اللہ
کریم ہمیں پیارے نبی ﷺ کی پیاری سیرت پر غوروفکر کرتے ہوئے ان احادیث
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
Dawateislami