انسانی فطرت ہے کہ جب اس سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی فطری کیفیت کو تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو براہِ راست حکم دینے کے بجائے سوالات کے ذریعے ان کے دلوں کو بیدار کیا۔ یہ انداز ا نہ صرف علم میں مضبوط کرتا بلکہ عمل کے لیے بھی تیار کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی یہ حکمت آج کے انسان کے لیے بھی بہترین نصیحت ہے کہ وہ دوسروں کی اصلاح محبت اور حکمت سے کرے۔

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰)

ترجمہ کنز الایمان: نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی ۔(الرحمٰن: 60)

مفہوم: یہ آیت سوالیہ انداز میں انسان کو اچھائی کے بدلے میں اچھائی پر اُبھارتی ہے۔

(1 ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ.

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو مسلمان پر مسلمان کا حق کیا ہے پھر فرمایا: جب ملاقات کرے تو سلام کرے، جب بلائے تو جواب دے، اور جب خیرخواہی مانگے تو نصیحت کرے. (صحيح مسلم، كتاب السلام، حديث: 2162)

مفہوم: سوالیہ انداز نے مسلمانوں کے باہمی حقوق کو دل میں اُتار دیا۔

(2) عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ۔ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو سب سے اچھا مسلمان کون ہے" پھر فرمایا: "وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"(صحيح البخاری، كتاب الايمان، حديث: 11)

مفہوم:سوالیہ انداز نے حقیقی مسلمان کی پہچان کو دلوں میں بٹھا دیا۔

رسول اللہ ﷺ کے سوالات صرف گفتگو نہ تھے بلکہ ایک نصیحت، ایک دعوت اور ایک بیداری تھے۔ آپ ﷺ کا یہ انداز دلوں کو نرم کر دیتا اور عقل کو سوچنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ آج بھی اگر ہم تعلیم اور نصیحت میں یہی حکمت اپنائیں تو ہمارے معاشرے میں محبت، عدل اور بھائی چارہ قائم ہو سکتا ہے۔ سوالیہ انداز نہ صرف علم دیتا ہے بلکہ کردار بھی سنوارتا ہے، اور یہی اصل تربیت ہے۔