احمد رضا انصاری ( دورہ حدیث جامعۃ المدینہ فیضانِ بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
اللہ
پاک نے آخری نبی ﷺ کو معلِّم کائنات بناکر
بھیجا، آپ نے اپنے غلاموں کی مختلف انداز میں تربیت کرنے کا اہتمام فرمایا، تاکہ
علم دین حاصل کرنا اور دین کو سمجھ کر، اس پر چلنا آسان ہو، آخری نبی ﷺ کے جہاں کئی
اندازِ تربیت احادیث مبارکہ میں نظر آتے ہیں، انہی میں سے آپ کا صحابہ کرام علیھم
الرضوان سے سوالات کرکے ان کی علمی پیاس کو بجھانا بھی ہے، ضیاء القاری شرح مختصر
البخاری میں ہے کہ "رسول اللہ ﷺ کی عادت کریمہ تھی جب آپ صحابہ کرام علیھم
الرضوان کے ساتھ ہوتے تو بعض اوقات اُن کی ذہنی صلاحیت جانچنے اور انہیں طلبِ علم
پر ابھارنے کے لیے سوالات فرماتے. (ضیاء القاری فی شرح مختصر البخاری،کتاب
العلم،ج1،ص498، مکتبۃ المدینۃ)
آئیے!
احادیث مبارکہ ملاحظہ کرتے ہیں:
1۔خطائیں
معاف ہوں اور درجے بلند ہوں: اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے صحابہ کرام علیھم الرضوان سے سوالات فرمائیں اور ان
سوالات کے ذریعے کبھی کسی عمل کی اصلاح فرماتے، اور کبھی کسی نیک عمل کی ترغیب
فرماتے، جیساکہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ
الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ یعنی کیا
میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ پاک خطائیں مٹا دے اور درجے
بلند کردےلوگوں نے عرض کیا: ہاں یا رسول اللہ ﷺ! اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد
فرمایا:إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى
الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ
بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ یعنی مشقت میں وضو پورا
کرنا، مسجد کی طرف زیادہ قدم رکھنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہ
سرحد کی حفاظت کرنے کی طرح ہے.
(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل اسباغ الوضو علی المکارۃ، ج1،ص218،رقم:251،دار
احیاء التراث العربی بیروت)
2۔
خطاؤں کا مٹنا:پانچ نمازیں پابندی کے ساتھ ادا کرنے کے کئی فضائل ہیں،
اور اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ گناہوں کی معافی بھی نصیب ہوجاتی ہے، چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے اس فرض کو ادا کرنے پر ایک
خوب صورت انداز میں ترغیب ارشاد فرمائی،چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے سوال
ارشاد فرمایا:أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا
بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى
مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ یعنی بتاؤ! اگر تم لوگوں میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو
اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار غسل کرتا ہو، تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ
جائے گاصحابہ کرام نے عرض کیا: ایسی حالت میں اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی نہ
رہے گا. تو اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللهُ بِهِنَّ
الْخَطَايَابس یہی کیفیت ہے پانچوں نمازوں کی، اللہ پاک ان کے سبب گناہوں کو مٹا دیتا ہے.(صحیح
مسلم،ﻛﺘﺎﺏ اﻟﻤﺴﺎﺟﺪ ﻭﻣﻮاﺿﻊ اﻟﺼﻼﺓ،ﺑﺎﺏ اﻟﻤﺸﻲ ﺇﻟﻰ اﻟﺼﻼﺓ ﺗﻤﺤﻰ ﺑﻪ اﻟﺨﻄﺎﻳﺎ، ﻭﺗﺮﻓﻊ ﺑﻪ اﻟﺪﺭﺟﺎﺕ،ج1،ص462،رقم:667دار احیاء
التراث العربی بیروت)
3۔قران
پاک کی تین آیات قرآن پاک اللہ پاک کی آخری آسمانی کتاب ہے، جو آخری نبی ﷺ پر
نازل ہوئی،اس کو پڑھنا، دیکھنا، چھونا، سننا، سمجھنا اور اس میں غور وفکر کرنا سب
عبادت ہے،چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے اس کی اہمیت اور فضیلت کو
اجاگر (روشن) کرنے کے لیے پوچھا:أَيُحِبُّ
أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ
عِظَامٍ سِمَانٍیعنی کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر
لوٹے تو وہاں تین حاملہ، بڑی اور موٹی اونٹنیاں پائےصحابہ کرام علیھم الرضوان نے
عرض کی: جی ہاں! اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ
نے ارشاد فرمایا: فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ
بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ
سِمَانٍ.تو تین
آیتیں جنہیں کوئی اپنی نماز میں پڑھ لے وہ اسے تین حاملہ بڑی اور موٹی اونٹنیوں سے
بہتر ہیں.(صحیح مسلم،کتاب فضائل القرآن،ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ ﻗﺮاءﺓ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﻲ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﺗﻌﻠﻤﻪ،ج1،ص551رقم:802،دار احیاء التراث العربی بیروت)
4۔
ایک رات میں ایک تہائی قرآن پاک پڑھنا:قرآن پاک کی تلاوت سعادت
اور فضیلت کا باعث ہے، لیکن مخصوص آیات یا سورتیں کچھ منفرد خصوصیات رکھتی ہیں، جن
کی برکت سے اس کی تلاوت کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اسی طرح کے عمل کی رغبت دلاتے
ہوئے، اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے سوال فرمایا:أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ
ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالُوا: وَكَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِیعنی
تم اس بات سے عاجز ہو کہ ہر رات تہائی قرآن پڑھ لیا کرولوگوں نے عرض کی:کیسے تہائی
قرآن پڑھا جاسکتا ہےتو اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:" قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآن "قُلْ ھُوَ اللہ ُ اَحَدٌ"
(مکمل سورۃ اخلاص)تہائی قرآن کے برابر ہے. (صحیح مسلم،کتاب فضائل القرآن،ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ ﻗﺮاءﺓ ﻗﻞ ﻫﻮ اﻟﻠﻪ ﺃﺣﺪ،ج1،ص555رقم:811،دار احیاء
التراث العربی،بیروت)
5۔لمبی
عمر اور اچھے اخلاق والے: اللہ پاک کے
آخری نبی ﷺ نے اپنے حکیمانہ انداز کے ذریعے، اپنی نبوی تعلیمات سے امت کی تعلیم و
تربیت فرمائی، ان میں سے یہ کہ اللہ پاک بندے کو لمبی عمر بھی عطا فرمائے اور ساتھ
حسنِ اخلاق سے متصف بھی ہو،چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے صحابہ کرام علیھم الرضوان
سے سوال فرمایا:أَلَا أُنَبِّئُكُمْ
بِخِيَارِكُمْکیا میں تم کو تمہی میں سے بہترین لوگوں کی خبر نہ دوںصحابہ
کرام علیھم الرضوان نے عرض کی:جی ہاں! اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ
أَخْلَاقًا. یعنی تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں اور
اخلاق اچھے ہوں۔ (مسند احمد،مسند ابی ھریرہ، ج12، ص145، رقم:7211،مؤسسہ الرسالہ،
طبعہ اولی1421ھ،2001)
قارئین
کرام! تعلیم و تربیت کے مؤثر ترین طریقوں میں سے ایک طریقہ سوالیہ انداز اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے تعلیم اور
تبلیغ میں اس انداز کو شامل کریں، اور علم دین کی شمع کو خوب روشن کریں۔
اللہ پاک ہم سب کو آخری نبی ﷺ کی سیرت سے ملنے والے
طریقوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami