عبد الرحمن امجد (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
حضور
نبی کریم ﷺ کا اندازِ گفتگو عام طور پر نہایت حکیمانہ،
نرم، مؤثر اور موقع و محل کے لحاظ سے ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے
تعلیم دینے کے لیے سوالیہ انداز (یعنی سوال کرکے بات سمجھانا یا سامعین کو غور و
فکر پر آمادہ کرنا) کو کئی مواقع پر اپنایا۔ اس انداز کو "سوالیہ تعلیم"
(Socratic Method) بھی کہا جا سکتا ہے، جس میں معلم خود سوال
کرتا ہے تاکہ سننے والا غور کرے، سیکھے یا جواب دے۔
یہاں
کچھ احادیث پیش کی جا رہی ہیں جن میں حضور ﷺ نے سوالیہ انداز اختیار کیا:
(1)مفلس
کون : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ» قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ،
فَقَالَ:«إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ
مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ،
وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا
عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي
النَّارِ۔
ترجمہ: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہو مفلس
کون ہے‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے مفلس وہ ہے
جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’میری اُمَّت میں
مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی
دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا
ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں
گی ، پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی
ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن (مظلوموں ) کے گناہ اُس(ظالم) پر
ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ فیضان ریاض الصالحین جلد:3،حدیث نمبر:218
(2)
اللہ کا حق کیا ہے : عَنْ
مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، هَلْ
تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ، وَمَا حَقُّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ، قُلْتُ:
اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى العِبَادِ أَنْ
يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ
لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ
أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ: لاَ تُبَشِّرْهُمْ، فَيَتَّكِلُوا
ترجمہ: روایت ہے حضرت معاذ سےکہ میں ایک دراز
گوش پر حضور کے پیچھے اس طرح سوار تھا کہ میرے آپ کے درمیان پالان کی لکڑی کے سوا
کچھ نہ تھا حضور نے فرمایا کہ معاذ کیا جانتے ہو اللہ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے
اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے میں نے عرض کیا اللہ رسول جانیں فرمایا : اللہ کا
حق بندوں پر تو یہ ہے کہ اُسے پوجیں کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا
حق اللہ پر یہ ہے کہ جو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو اُسے عذاب نہ دے میں نے عرض کیا یارسول
اللہ تو کیا میں لوگوں کو یہ بشارت نہ دے دوں فرمایا یہ بشارت نہ دو ورنہ لوگ اس
پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔( مشکوٰۃ المصابیح، جلد:1، کتاب الایمان ، فصل اول ، صفحہ
نمبر:14حدیث نمبر:21 )
(3)
سب سے بڑا سخی کون : عَنْ أَنَسِ بْنِ
مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَدْرُونَ مَنْ أَجْوَدُ جُودًا قَالُوا:
اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: اللهُ
أَجْوَدُ جُودًا، ثُمَّ أَنَا أَجْوَدُ بَنِي آدَمَ، وَأَجْوَدُهُمْ مَنْ بَعْدِي
رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمِيرًا وَحْدَهُ
أَوْ قَالَ: أُمَّة وَحْدَهُ
ترجمہ: روایت ہے انس بن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اللہ ﷺ نے کیا تم جانتے ہو کہ بڑا سخی کون ہے عرض کیا
اللہ رسول جانیں فرمایا :اللہ تعالٰی بڑا جوّاد ہے پھر اولاد آدم میں مَیں بڑا سخی
داتا ہوں اور میرے بعد بڑا سخی وہ شخص ہے جو علم سیکھے پھر اسے پھیلائے وہ قیامت میں
اکیلا امیر یا فرمایا ایک جماعت ہو کر آئے گا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح،جلد:1 کتاب العلم
، فصل ثالث ، صفحہ :37، حدیث نمبر:241 ، )
(4)رب کریم کیا ارشاد فرماتا ہے : وَعَنْ
زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلّٰى لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى
اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلٰى أَثَرِ
سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ
فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ ربُّكُمْ قَالُوا: اَللهُ وَرَسُولُهٗ
أَعْلَمُ،قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ
قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰهِ وَرَحْمَتِهٖ فَذٰلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ
بِكَوْاكَبَ وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذٰلِكَ
كَافِرٌ بِي وَمُؤمِنٌ بِكَوْاكَبَ۔
ترجمہ:
روایت ہے حضرت زید ابن خالد جہنی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے
حدیبیہ میں نماز فجر پڑھائی اس بار ش کے بعد جو اس رات ہوئی تھی جب فارغ ہوئے تو
لوگوں پر توجہ فرمائی پھر فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا
لوگ بولے اللہ رسول جانیں فرمایا کہ رب نے فرمایا میرے بندوں میں سے مجھ پر مؤمن و
منکر نے صبح پائی جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اس کی رحمت سے بارش ہوئی یہ مجھ
پر مؤمن ہیں ستاروں کے انکاری لیکن جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں برج سے بارش ہوئی
تو یہ میرا منکر ہے تاروں کا مؤمن۔ ( مشکوٰۃ المصابیح، جلد:2، باب الکھانۃ، فصل
اول ، صفحہ:406، حدیث نمبر:4391 )
(5)
سائل کون تھا: ترجمہ:
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب( رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی ﷺ کی
خدمت میں حاضرتھے کہ ایک صاحب ہمارے سامنےنمودارہوئے جن کے کپڑے بہت سفیداور بال
خوب کالے تھے اُن پر آثارِ سفر ظاہر نہ تھے اور ہم سےکوئی اُنہیں پہچانتا بھی نہ
تھایہاں تک کہ حضور( ﷺ ) کے پاس بیٹھے اور
اپنے گھٹنے حضور( ﷺ ) کےگھٹنوں شریف سے مَس کر دیئے اور اپنے ہاتھ اپنے زانو پر
رکھےاور عرض کیا اَےمحمد( ﷺ )مجھے اسلام کے متعلق بتائیے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ
تم گواہی دو کہ ﷲ کےسواءکوئی معبودنہیں اورمحمد ﷲ کے رسول ہیں اور نماز قائم
کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہنچ سکو عرض کیا کہ
سچ فرمایا ہم کو ان پرتعجب ہوا کہ حضور سے پوچھتےبھی ہیں اورتصدیق بھی کرتے ہیں
عرض کیا کہ مجھے ایمان کے متعلق بتائیے فرمایاکہ ﷲ اور اس کے فرشتوں ،کتابوں اور
اس کے رسولوں اور آخری دن کو مانو اور اچھی بُری تقدیرکو مانو عرض کیا آپ سچے ہیں
عرض کیامجھےاحسان کے متعلق بتائیے فرمایا ﷲ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا اُسے دیکھ
رہے ہو اگر یہ نہ ہوسکے تو خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے عرض کیا کہ قیامت کی
خبر دیجئے فرمایا کہ جس سے پوچھ رہے ہو وہ قیامت کے بارے میں سائل سے زیادہ خبردار
نہیں عرض کیا کہ قیامت کی کچھ نشانیاں ہی بتادیجئے فرمایا کہ لونڈی اپنے مالک
کوجنے گی اور ننگے پاؤں ننگے بدن والے فقیروں،بکریوں کے چرواہوں کو محلوں میں فخر
کرتے دیکھو گے راوی فرماتے ہیں کہ پھر سائل چلے گئے میں کچھ دیر ٹھہرا حضور( ﷺ )
نے مجھے فرمایا: يا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ
السَّائِلُ مَیں نےعرض کیﷲ اوررسول جانیں فرمایا یہ حضرت جبریل تمہیں
تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ (مشکوٰۃ المصابیح،جلد:1،باب الایمان، فصل اول ، صفحہ
نمبر:13،حدیث نمبر:1)
حضور
کے سوالیہ انداز سے اج کے جدید دور کہ لوگوں کو جو حکیمانہ اور سبق اموز نکات ملے
وہ درج ذیل ہیں
(1)
سوچنے اور غور و فکر کرنے کی ترغیب ملی
(2)
علم حاصل کرنے کا جذبہ بیدار ہوا
(3)
یادداشت مضبوط ہوئی
(4)
دلچسپی اور توجہ میں اضافہ ہوا
(5)
مکالمے اور بات چیت کا ماحول پیدا ہوا
دعا
ہے اللہ پاک ہم سب کو حضور کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں دوسروں کی
تربیت کرنے اور اپنی ذات کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami