رسول اکرم  ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز دنیا کے تمام معلمین کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو نہ صرف عقائد اور عبادات سکھائیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، عدل، مساوات اور حقوق العباد کی تعلیم بھی دی۔ آپ ﷺ کے اندازِ تربیت میں حکمت و بصیرت نمایاں نظر آتی ہے۔ انہی اندازوں میں سے ایک اہم انداز سوالیہ طریقۂ تعلیم تھا۔ اس اسلوب کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے ذریعے سامعین کی توجہ مرکوز ہو جاتی، ان میں غور و فکر کی عادت پروان چڑھتی اور بات دل و دماغ پر زیادہ گہرا اثر ڈالتی۔

(1) سب سے بڑا گناہ کون سا ہے: صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: "کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں"صحابہ نے عرض کیا: "جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ۔آپ ﷺ نے فرمایا:"اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔" (بخاری، کتاب الشهادات، حدیث: 2654۔ مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 87)

یہ سوال و جواب کا انداز صحابہ کو چونکا دیتا اور وہ پوری توجہ کے ساتھ آپ ﷺ کے جواب کو سنتے، یوں وہ بات دل میں راسخ ہو جاتی۔

(2) سب سے بہتر مسلمان کون ہےرسول اللہ ﷺ نے سوال کیا گیا: "مسلمان کون ہے"فرمایا:"وہ شخص جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"(بخاری، کتاب الإيمان، حدیث: 10۔ مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 40)

یہ سوالیہ طرز نہ صرف تعلیم تھا بلکہ مسلمانوں کو اپنے کردار کا جائزہ لینے کی طرف بھی مائل کرتا تھا۔

(3) افضل عمل کون سا ہےصحیح بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ ایک صحابی نے پوچھا: "کون سا عمل سب سے افضل ہے"آپ ﷺ نے جواب دیا: "وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔"(بخاری، کتاب الإيمان، حدیث: 527۔ مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 85)

یہاں بھی سوالیہ انداز کے ذریع اعمال کی درجہ بندی اور ان کی اہمیت کو واضح فرمایا گیا۔

نبی کریم ﷺ کے سوالیہ اندازِ تعلیم کی چند نمایاں حکمتیں یہ ہیں:

1. طلبہ یا سامعین کی ذہنی توجہ کو بیدار کرنا۔

2. بات کو سوال کی صورت میں پیش کر کے دلچسپی پیدا کرنا۔

3. جواب دینے سے پہلے سوچنے پر مجبور کرنا۔

4. تعلیم کو محض الفاظ نہیں بلکہ یادگار حقیقت بنا دینا۔

5. مخاطب کو براہِ راست شامل کر کے اس کے اندر اعتماد اور فہم پیدا کرنا۔

نبی اکرم ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا ایک انمول اصول ہے۔ آپ ﷺ نے اس طریقے سے صحابہ کرام کے ذہن و فکر کو جِلا بخشی اور ان کی علمی و عملی تربیت کی۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نہ صرف علم میں ممتاز ہوئے بلکہ کردار و عمل میں بھی بہترین نمونہ بن گئے۔ آج کے اساتذہ اور داعیانِ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی اس اسلوب کو اپنائیں تاکہ طلبہ میں فکری بیداری اور عمل کی رغبت پیدا ہو۔