احمد رضا ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
انسان
کا دل نصیحت سے زندہ ہوتا ہے اور سوال اس نصیحت کو مزید مؤثر بنا دیتا ہے۔ رسول
اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت کے لیے سوالیہ اسلوب اختیار کیا۔ آپ ﷺ سوال
کرتے تاکہ صحابہ سوچیں، غور کریں اور پھر جواب کے ذریعے حقیقت کو دل سے تسلیم کریں۔
آج کے دور میں بھی یہی انداز ہمارے تعلیمی اور معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لیے
بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
قَالَ اللَّهُ تَعَالٰى: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ
الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴) ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر
اُن کے قفل لگے ہیں ۔(محمد: 24)
مفہوم:
یہ آیت سوالیہ انداز میں انسان کے دل کی غفلت کو واضح کرتی ہے اور غور و فکر کی
دعوت دیتی ہے۔
(1)
عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ
مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ
لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ
مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي
قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا،
وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ،
فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ
خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ۔
ترجمہ:
ایک دن اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ارشادفرمایا :'' کیاتم جانتے ہو کہ مفلس
کون ہے ''عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! ہمارے نزدیک
مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ تو دینار ہوں نہ ہی درہم ہوں۔'' تو حضورِ پاک ،صاحب
ِلولاک،سیّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان سے فرمایا:'' ایسا نہیں
ہے بلکہ مفلس تو وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزے، زکوٰۃ ،اور صدقہ لے کر آئے گا
لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی کو تھپڑ مارا ہوگا، کسی کامال دبالیا ہوگا
اور کسی کا خون بہایا ہوگا تو اسے اس کی نیکیاں دی جائیں گی اور پھر ایک شخص آئے
گا اسے بھی اسی طرح اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی یہاں تک کہ لوگو ں کے حقوق ادا
کرنے سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی پھر اسے ان کے گناہ دے دئیے جائیں
گے تواسے ان لوگو ں کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، یہی شخص مفلس
ہے ۔(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، حديث: 2581)
سوالیہ
اسلوب نے اصل مفلس کی حقیقت کو واضح کیا۔
(2)
عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ
مَا الْغِيبَةُ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ
بِمَا يَكْرَهُ ۔(صحيح
مسلم، كتاب البر والصلۃ، حديث: 2589)
ترجمہ:
آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے" صحابہ نے کہا: اللہ اور
اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے بھائی کا ایسا ذکر جو اسے
ناگوار گزرے۔"
سوالیہ
انداز نے غیبت کیسی برائی ہے ، کھول کر بیان کر دیا۔
(3)
عَنْ عَبْدِ
اللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ:
أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ (صحيح
البخاري، كتاب التفسير، حديث: 4477)
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون
سا ہے" صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا حالانکہ وہی تمہارا خالق ہے۔"
مفہوم:
سوالیہ اسلوب نے کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے جرم یعنی شرک کی سنگینی کو واضح کیا۔
رسول
اللہ ﷺ کے سوالات صرف علمی نہیں بلکہ عملی زندگی کے رہنما تھے۔ آپ ﷺ کے سوالیہ
اسلوب نے صحابہ کو سوچنے، توبہ کرنے اور اپنے کردار کو بہتر بنانے پر مجبور کیا۔ یہ
حکمت بھری تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ دین اسلام صرف احکام نہیں دیتا بلکہ سوچنے کی
عادت بھی ڈالتا ہے۔ آج اگر ہم بھی اسی اسلوب کو اختیار کریں تو نصیحت زیادہ مؤثر
ہوگی، رشتے مضبوط ہوں گے اور معاشرہ محبت و انصاف سے بھر جائے گا۔
Dawateislami