اللہ تعالی  نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو دنیا میں مبعوث فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کی تربیت مختلف طریقوں سے فرمائی کہیں اپنے قول کے ذریعے کہیں پر اپنے فعل کے ذریعے اسی طرح نبی کریم ﷺ نے سوالیہ انداز کے اندر بھی اپنی امت کی تربیت فرمائی ہے آئیے میں آپ کے سامنے چند احادیث ذکر کرتا ہوں :

(1) آگ کا حرام ہونا :روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی ﷺ کجاوہ پر تھے معاذ حضور کے ردیف تھے حضور نے فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضر ہوں یا رسول الله خدمت میں فرمایا اے معاذ عرض کیا یارسول الله حاضر ہوں خدمت میں فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضر ہو خدمت میں تین بار فرمایا ایسا کوئی نہیں جو گواہی دے کہ الله کے سوا معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ الله کے رسول ہیں سچے دل سے مگر الله اسے آگ پر حرام فرمادے گا۔عرض کی یارسول الله تو کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں کہ وہ خوش ہوجائیں فرمایا تب تو وہ بھروسہ کر بیٹھیں گےپھر حضرت معاذ نے گناہ سے بچنے کے لیے اپنی وفات کے وقت خبر دے دی۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:25)

(2)سابقہ گناہوں کا مٹنا:روایت ہے عمر و ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ اپنا ہاتھ بڑھایئے تاکہ آپ کی بیعت کروں آپ نے ہاتھ بڑھایا میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا فرمایا اے عمرویہ کیا میں نے عرض کیا کچھ شرط لگانا چاہتا ہوں فرمایا کیا شرط میں نے عرض کیا کہ میری بخشش ہوجائے فرمایا اے عمرو کیا تمہیں خبر نہیں کہ اسلام پچھلے گناہ ڈھادیتا ہے اور ہجرت پچھلے گناہ ڈھادیتی ہے اور حج بھی پچھلے گناہ ڈھا دیتا ہے یہ مسلم نے روایت کی اور وہ دو حدیثیں جو حضرت ابوہریرہ سے مروی ہیں۔فرماتے ہیں فرمایا الله تعالٰی نے کہ میں تمام شرکاء میں شرک سے غنی تر ہوں اور دوسری یہ کہ عظمت و بلندی میری چادر ہے ہم انہیں ریا اور کِبر کے بابوں میں ذکر کریں گے اگر الله نے چاہا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:28)

(3)اصل چیز کی خبر :روایت ہے حضرت معاذ(ابن جبل)سے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں داخل اور دوزخ سے دور کردے فرمایا تم نے بڑی چیز پوچھی ہاں جس پر الله آسان کرے اُسے آسان ہے الله کو پوجو اورکسی چیز کو اس کا شریک نہ جانو نماز قائم کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو پھر فرمایا کیا میں تم کو بھلائی کے دروازے نہ بتادوں روزہ ڈھال ہے خیرات گناہوں کو ایسا بجھاتی ہے جیسے پانی آگ کو اور درمیانی رات میں انسان کا نماز پڑھنا پھر یہ تلاوت کی کہ ان کی کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں (یعملونتک)پھر فرمایا کہ میں تمہیں ساری چیزوں کا سر،ستون،کوہان کی بلندی نہ بتادوں میں نے کہا ہاں یارسول الله فرمایا تمام چیزوں کا سراسلام ہے اور اس کا ستون نماز اور کوہان کی بلندی جہاد ہے پھر فرمایا کہ کیا تمہیں ان سب کے اصل کی خبر نہ دے دوں میں نے عرض کیا ہاں یا نبی الله پس حضور نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا کہ اسے روکو میں نے عرض کیا کہ یا نبی الله کیا زبانی گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی فرمایا تمہیں تمہاری ماں روئے اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ آگ میں نہیں گراتی مگر زبانوں کی کٹوتی۔ یہ حدیث احمد ترمذی ابن ماجہ نے روایت کی۔

(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:29)

(4) جنتی لوگوں کی خبر :حضرت سَیِّدُنا حارثہ بن وہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کی خبر نہ دوں ہرکمزورجسے کمزورسمجھا جائے اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ (کے کرم)پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے گا۔ کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کی خبر نہ دوں ہر وہ شخص جوسخت مزاج ، بخیل اورخود کو بڑا سمجھنے والا ہو۔

(کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:3 , حدیث نمبر:252)

(5) شرک خفی :حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :ہم لوگ مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کہ رسولِ کریم ﷺ تشریف لائے اورارشاد فرمایا’’ میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں جس کا مسیح دجا ل سے بھی زیادہ میرے نزدیک تم پر خوف ہےہم نے عرض کی:ہاں ، یا رسولَ اللہ ! ﷺ ارشاد فرمایا’’وہ شرکِ خفی ہے،آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو ا س وجہ سے طویل کرتا ہے کہ دوسرا شخص اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الریاء والسمعۃ، ۴ / ۴۷۰، الحدیث: ۴۲۰۴)