نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلمِ انسانیت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو حکمت و دانائی کے ساتھ تعلیم دی۔ آپ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا ایک اہم انداز "سوالیہ انداز" تھا، جس کے ذریعے آپ ﷺ صحابہ کرام کے ذہنوں میں بات راسخ فرماتے۔اس متعلق قران مجید کی آیات مبارکہ سے ثبوت واضح ہو   فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ(۴۳) ترجمہ (کنز الایمان): تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ۔ سورۃ النحل (43)

(2) اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْ(۱۷) ترجمہ (کنز الایمان): تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا ۔ سورۃ الغاشیہ (17)

تفسیر (صراط الجنان): یہ سوالیہ انداز ہے جس میں غوروفکر کی دعوت ہے تاکہ لوگ اللہ کی قدرت کو پہچانیں۔

مزید حضور پاک ﷺ کے اس خوبصورت انداز مبارکہ کے متعلق احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے۔

آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہےصحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے بھائی کا وہ ذکر کرنا جو اسے ناگوار ہو۔"(صحیح مسلم، حدیث: 2589)

آپ ﷺ نے فرمایا:"کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے"صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو۔آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لائے گا لیکن دوسروں کو گالی دی، تہمت لگائی، مارا، مال کھایا ہوگا، تو ان کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور پھر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔"(ترمذی، حدیث: 2417)

رسالت مآب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا:"کیا تم جانتے ہو سب سے بڑا گناہ کون سا ہے"صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی۔"(صحیح بخاری، حدیث: 2654)

حضور پاک ﷺ کے اس خوبصورت انداز مبارکہ کے متعلق چند حکایات ملاحظہ فرمائیے۔

(1)حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نبی ﷺ اکثر صحابہ سے سوال فرماتے تاکہ ان کے دل و دماغ کو جگائیں۔ ایک بار آپ ﷺ نے پوچھا: "کیا جانتے ہو بہترین عمل کون سا ہے" پھر وضاحت فرمائی کہ وہ ایمان باللہ ہے۔(مسند احمد، ج1، ص123)

(2)حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی ﷺ نے ایک بار پوچھا: "درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جو مسلمان کی مانند ہے، بتاؤ وہ کون سا ہے" صحابہ نے مختلف درخت بتائے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ کھجور کا درخت ہے۔"(بخاری، حدیث: 61)

(3)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت:نبی ﷺ نے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو جنتی کون ہے" پھر فرمایا: "جس سے لوگ امن میں رہیں اور وہ لوگوں کو نفع پہنچائے۔"(مسند احمد، ج3، ص157)

پیارے اسلامی بھائیو دیکھا اپ نے کہ حضور پاک ﷺ کس طرح صحابہ کرام سے سوالیہ انداز میں گفتگو فرمایا کرتے تھے اور اپ کی گفتگو کا انداز نہایت ہی نرالا اور خوبصورت ہوتا تھا جس سے صحابہ کرام کی بات کو بآسانی سن اور سمجھ لیا کرتے تھے ۔

رسول اللہ ﷺ نے سوالیہ انداز کو تربیت کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ اس سے طلبہ کی سوچ کو ابھارا جاتا ہے اور علم زیادہ پختہ ہوتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ سوال اور غوروفکر کے ذریعے سیکھنے کی عادت ڈالیں۔ یہی اسوۂ نبوی ﷺ ہے۔