عبدالمقیم ( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی
کراچی ، پاکستان)
تعلیم
و تربیت کے میدان میں مختلف اسالیب اختیار کیے جاتے ہیں تاکہ متعلم کی توجہ حاصل
ہو اور بات اس کے دل و دماغ پر نقش ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو
اللہ تعالیٰ نے "یُعَلِّمُهُمُ
الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ" کے منصب پر فائز فرمایا۔
آپ ﷺ نے تعلیم کے جو انداز اپنائے، وہ ہمیشہ کے لیے امت کے لیے نمونہ ہیں۔ ان میں
سب سے مؤثر انداز سوال و جواب کا طریقہ ہے، جو ذہن کو بیدار کرتا ہے اور طلبہ کو
غور و فکر پر آمادہ کرتا ہے۔
رسول
اللہ ﷺ کے سوالات کی اقسام:آپ ﷺ نے پوچھا:"أتدرون ما الغيبة"تم جانتے ہو غیبت
کیا ہےصحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا:"ذكرك أخاك بما يكره"۔
(سنن ابی داؤد، حدیث: 4874، صحیح)
یہ
سوال غیبت کی حقیقت کو نہایت سادہ انداز میں واضح کرتا ہے۔
ایک
مرتبہ فرمایا:"ألا أخبركم بأحب
الأعمال إلى الله"کیا میں تمہیں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل نہ
بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ!آپ ﷺ نے فرمایا:"الصلاة على وقتها"۔(صحیح بخاری، حدیث:
527، صحیح مسلم، حدیث: 85)
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ
نے صحابہ سے پوچھا:"من أصبح
منكم اليوم صائماً"آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟حضرت ابو بکر صدیق
نے کہا: میں نے۔پھر پوچھا: "فمن تبع
منكم اليوم جنازة" آج کس نے جنازے کے ساتھ شرکت کی؟ابو بکر نے کہا:
میں نے۔پھر پوچھا: "فمن أطعم
منكم اليوم مسكيناً" آج کس نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا؟ابو بکر نے
کہا: میں نے۔پھر پوچھا: "فمن عاد
منكم اليوم مريضاً"آج کس نے کسی مریض کی عیادت کی؟ابو بکرنے کہا: میں
نے۔آپ ﷺ نے فرمایا:"ما
اجتمعن في امرئ إلا دخل الجنة"۔(صحیح مسلم، حدیث: 1028)
یہ
سوالات تربیت اور امتحان دونوں پہلو رکھتے ہیں۔
آپ
ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:"أرأيتم
لو أن نهراً بباب أحدكم يغتسل فيه كل يوم خمس مرات، هل يبقى من درنه شيء"تمہارا
کیا خیال ہے اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں دن میں پانچ بار غسل کرے
تو کیا اس پر میل کچیل باقی رہے گا؟صحابہ نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا:"فذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا"۔(صحیح بخاری، حدیث: 528، صحیح
مسلم، حدیث: 667)
رسول
اللہ ﷺ نے سوال و جواب کو بطورِ ذریعہ تعلیم اختیار کیا تاکہ صحابہ کرام صرف سامع
نہ رہیں بلکہ فعال شریک بن جائیں۔ یہ انداز نہ صرف ان کی علمی تربیت کا ذریعہ تھا
بلکہ عملی زندگی میں بھی ان کی رہنمائی کرتا رہا۔ آج کے معلمین، والدین اور خطباء
کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے اس اسلوب کو اپنائیں تاکہ تعلیم زیادہ
مؤثر اور دلنشین ہو۔
Dawateislami