احسن
رضا (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
اسلامی
تعلیمات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ رسول اللہ
ﷺ نے اپنی امت کی رہنمائی مختلف
اسالیب کے ذریعے فرمائی۔ آپ کا اندازِ تعلیم نہایت حکیمانہ، آسان فہم اور دلوں کو
متاثر کرنے والا تھا۔ انہی مؤثر اسالیب میں سے ایک سوال و جواب کا طریقہ ہے۔ آپ اکثر
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کرتے، پھر ان کے جوابات کی روشنی میں صحیح
رہنمائی فرماتے۔ اس سے نہ صرف ان کے ذہن متحرک ہوتے بلکہ بات زیادہ یادگار اور
دلنشین ہو جاتی ۔
1.
توجہ دلانے اور ذہن نشین کرانے کے لیے سوالات:رسول
اللہ ﷺ سوال کے ذریعے سامعین کی توجہ حاصل کرتے تاکہ وہ پوری دلچسپی کے ساتھ سنیں
اور بات ان کے دلوں پر اثر کرے۔
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا:"أتدرون من المفلس"کیا تم جانتے ہو
کہ مفلس کون ہے۔صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ
سامان۔ آپﷺ نے فرمایا:"إن
المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي وقد شتم هذا وقذف
هذا وأكل مال هذا"یعنی اصل مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نیکیاں تو لے
کر آئے، مگر دوسروں پر ظلم کرنے کی وجہ سے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں اور وہ جہنم
میں ڈال دیا جائے۔(صحیح مسلم، حدیث: 2581)
2.
علم کی رغبت پیدا کرنے کے لیے سوال:رسول اللہ ﷺ سوالات کے ذریعے
صحابہ کرام میں علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کرتے۔ایک مرتبہ آپ نے فرمایا:"ألا أنبئكم بأكبر الكبائر"کیا
میں تمہیں سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤںصحابہ نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ!آپ نے
فرمایا: "الإشراك بالله، وعقوق الوالدين،
وشهادة الزور"۔(صحیح بخاری، حدیث: 2654، صحیح مسلم، حدیث: 87)
3.عمل
کی اہمیت واضح کرنے کے لیے سوال:آپ ﷺ سوالات کے ذریعے اعمال کی
قدر و قیمت واضح فرماتے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ
نے پوچھا:"أتدري ما حق الله على
العباد وما حق العباد على الله"کیا
تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے۔
حضرت
معاذنے عرض کیا: "اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا:"فإن حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئًا،
وحق العباد على الله أن لا يعذب من لا يشرك به شيئًا"۔(صحیح
بخاری، حدیث: 2856، صحیح مسلم، حدیث: 30)
4.
قلبی اثر ڈالنے کے لیے سوال:آپ ﷺ کبھی سوال کے بعد خاموش
رہتے تاکہ سامعین سوچیں، پھر جواب دے کر ان کے دلوں پر اثر ڈالتے۔ایک موقع پر آپ ﷺ
نے صحابہ سے پوچھا:"أيكم مال
وارثه أحب إليه من ماله"تم میں سے کس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ
پسند ہےصحابہ نے کہا: "یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک کو اپنا مال زیادہ
پسند ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:"فإن ماله
ما قدم، ومال وارثه ما أخر"یعنی اصل مال وہ ہے جو
بندہ اللہ کی راہ میں آگے بھیج دیتا ہے، باقی سب وارثوں کا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث:
6442)
رسول اللہ ﷺ کا سوال کے ذریعے تعلیم دینا نہایت
حکیمانہ اور مؤثر طریقہ تھا۔ اس سے نہ صرف صحابہ کرام کے اذہان بیدار ہوتے بلکہ
بات ان کے دل و دماغ میں رچ بس جاتی۔ یہ اندازِ تربیت آج بھی معلمین، والدین اور
مبلغین کے لیے ایک عملی نمونہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
Dawateislami