محمد
فضیل ساگر ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
رسول
اللہ ﷺ کے تربیتی اسالیب میں سے ایک نمایاں اور مؤثر اسلوب سوالیہ انداز ہے۔ اس
انداز کی خاص بات یہ ہے کہ سیکھنے والا صرف سننے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ سوچنے،
سمجھنے اور خود نکالنے کی طرف راغب ہوتا
ہے۔
سوالیہ
انداز سے مراد:سوالیہ انداز میں رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم
سے سوال فرماتے، تاکہ ان کی توجہ مرکوز ہو، وہ غور و فکر کریں اور پھر جواب سن کر
بات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
سوالیہ
انداز کی چند روشن مثالیں :
پہلی
مثال:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضی
اللہ عنہم سے پوچھا:
أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ "کیا
تم جانتے ہو مفلس کون ہے"صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: "ہم میں مفلس وہ
ہے جس کے پاس نہ درہم ہے نہ سامان۔"آپ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا،
وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ
حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ
يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ
فِي النَّارِ
ترجمہ:
"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر
اس نے کسی کو گالی دی ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون
بہایا ہو، کسی کو مارا ہو، تو اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی۔ اگر نیکیاں
ختم ہو گئیں اور مظلوموں کا حق باقی رہا تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے،
پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔"(صحیح مسلم، حدیث: 2581)
دوسری
مثال :حضرت ابوالدراءرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا
عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ
إِنْفَاقِ الذهبِ والوَرِقِ وخيرٍ لكم مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا
أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ " کیا میں تمہارے
سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی
تمہیں خبر نہ دوں وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل
تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم (میدان جنگ میں) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ
تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی" صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: "کیوں نہیں،
یا رسول اللہ!" آپ ﷺ نے فرمایا: ذِكْرُ
اللَّهِ "اللہ کا ذکر۔(سنن الترمذی، حدیث: 3377، صحیح)
سوالیہ
انداز کے فوائد:
1. دلچسپی میں اضافہ: سامع صرف سننے والا نہیں
رہتا بلکہ متجسس ہو جاتا ہے۔
2. یادداشت میں پختگی: جب انسان جواب سوچتا ہے تو
بات دیرپا یاد رہتی ہے۔
3. غور و فکر کا جذبہ: یہ انداز ذہن کو چلاتا ہے
اور تدبر سکھاتا ہے۔
4. خود احتسابی: انسان اپنی حالت پر نظر ڈالنے
لگتا ہے۔
5. دل پر اثر: سادہ الفاظ میں گہری بات ہوتی ہے،
جو دل کو چُھو جاتی ہے۔
رسول
اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز نہایت بامقصد اور پرحکمت تھا۔ آپ ﷺ نے اس اسلوب سے دلوں کو
متاثر کیا، کردار سنوارے اور ایک بہترین تربیتی نظام قائم کیا ۔ آج کے دور میں ہمیں
چاہیے کہ ہم بھی سنتِ نبوی ﷺ کو اپناتے ہوئے سوالیہ انداز سے علم دیں فراہم کریں۔
آخر
میں:اللہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھنے، اس سے سبق لینے اور اپنے
اندازِ تعلیم و تربیت کو سیرت کے مطابق بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami