محمد قمر شہزاد عطّاری ( درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
اسلام
صرف ایک عبادتی نظام نہیں، بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اور نبی کریم محمد ﷺ کو
اللہ تعالیٰ نے معلّمِ کامل اور مربیِ اعظم بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام
رضی اللہ عنہم اور امت کو سکھانے کے لیے ایسے ایسے مؤثر طریقے اپنائے جو تعلیم و تربیت
کی دنیا میں آج بھی رہنمائی کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔
آپ
ﷺ کی تعلیمات کا انداز نہ صرف حکمت و دانائی سے بھرپور تھا، بلکہ انتہائی فطری،
نفسیاتی، اور سنجیدہ بھی تھا۔ انہی میں سے ایک مؤثر طریقہ "سوالیہ انداز سے
تربیت فرمانا" تھا۔ نبی کریم ﷺ سامعین کی توجہ مبذول کرانے، ان کے ذہنوں کو
متحرک کرنے، اور انہیں غور و فکر پر آمادہ کرنے کے لیے اکثر سوالات فرمایا کرتے
تھے۔
(1)سب
سے بڑے گناہ: أَلَا
أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِثلاثًا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ،
قَالَ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَجَلَسَ، وَكَانَ مُتَّكِئًا،
فَقَالَ: أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ، أَلَا وَشَهَادَةُ الزُّورِ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کیا
میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں" (یہ بات آپ نے تین بار
دہرائی)صحابہ نے عرض کیا: "جی ہاں، یا رسول اللہ!"آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کے ساتھ شرک، والدین کی نافرمانی۔"پھر آپ ﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا:
"خبردار! جھوٹی بات کہنا، جھوٹی گواہی دینا!"(یہ بات اتنی بار دہرائی کہ
صحابہ نے تمنا کی کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔)(صحیح البخاری، حدیث: 5976 ص 409 ج2)
(
2 )مفلس کون ہے: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ
مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا
مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي
يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا،
وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى
هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ
قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ،
ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:"کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے"صحابہ
نے عرض کیا: "ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ مال ہو، نہ سامان۔"آپ ﷺ نے
فرمایا:"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکات لے کر
آئے گا، لیکن کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو
گا... تو اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی، اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں
گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے
گا۔"(صحیح مسلم، حدیث: 2581)
(
3 ) کیا تمہیں معلوم ہے غیبت کیا ہے: أَنَّهُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْغِيبَةُقَالَ:
ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے پوچھاگیا
غیبت کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا:"تم اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرو جسے وہ ناپسند
کرے ۔(سنن ابی داؤد، حدیث: 4874)
رسول
اللہ ﷺ کا اندازِ تربیت ہر پہلو سے کامل اور ہمہ گیر تھا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف سکھایا
بلکہ ایسے طریقے سے سکھایا کہ وہ تعلیم دل میں اتر جائے اور عمل میں ڈھل جائے۔ ان
میں سے سب سے مؤثر انداز، جسے آج کی تعلیمی دنیا میں بھی مثالی سمجھا جاتا ہے، وہ
تھا سوالیہ انداز سے سمجھانا اور سکھانا۔
نبی
کریم ﷺ کے یہ سوالات محض علم جانچنے کے لیے نہیں ہوتے تھے، بلکہ سامع کو سوچنے،
رکنے، اور حقیقت کو پہچاننے پر مجبور کر دیتے تھے۔اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ
اللہ تبارک و تعالی ہمیں ان تمام احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین
بجاہین خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami