اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت اور ہادی بنا کر بھیجا۔ حضور ﷺ نے خود ارشاد فرمایا:" اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا"ترجمہ: مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے.(سنن ابن ماجہ، کتاب ال، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم،حدیث 229)۔

انسان کی فطرت ہے کہ وہ سوال کے جواب کو زیادہ توجہ سے سنتا اور یاد رکھتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے مؤثر طریقوں میں سے ایک طریقہ سوالیہ انداز ہے۔ قرآن پاک میں بھی یہ طریقہ استعمال کیا گیا ہے اور حضور ﷺ نے بھی صحابہ کی اس انداز میں تربیت فرمائی۔ سوالیہ انداز کے بارے میں قرآن پاک کی ایک آیت اور تین احادیث ملاحظہ کیجئے:

اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ پر وحی نازل فرمائی کہ آپ اہل کتاب سے پوچھیں:

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَؕ-اُولٰٓىٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ(۶۰)

ترجمہ کنز العرفان: اے محبوب! تم فرماؤ: کیا میں تمہیں وہ لوگ بتاؤں جو اللہ کے ہاں اس سے بدتر درجہ کے ہیں ، یہ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو بندر اور سور بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی عبادت کی، یہ لوگ بدترین مقام والے اور سیدھے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ۔ (سورۃ مائدہ، آیت 60)

نماز کی فضیلت بتانا:حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بتاؤ تو! کسی کے دروازے پر نہر ہو وہ اس میں ہر روز پانچ بار غسل کرے کیا اس کے بدن پر میل رہ جائے گا" صحابہ نے عرض کی: نہیں۔حضور ﷺ نے فرمایا: "یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے کہ اللہ ان کے سبب خطاؤں کو مٹا دیتا ہے"۔ (صحیح بخاری، کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الصلوات الخمس کفارہ، صفحہ 139، حدیث 528، دار ابن کثیر)

بہترین اور بدترین لوگ:اسما بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے "رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: أَلَا أُخْبِرُکُم بِخِیَارِکُم کیا میں تمہیں تمھارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں صحابہ نے عرض کی: کیوں نہیں ۔آپ نے فرمایا"وہ لوگ کہ جب ان کو دیکھا جاۓ تو اللہ کی یاد آۓ" پھر فرمایا:أَفَلَا أُخْبِرُکُم بِشِرَارِکُم "کیا میں تمہیں تمہارے سب سے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں"۔صحابہ نے عرض کی :کیوں نہیں۔آپ نے فرمایا "وہ لوگ جو چغلی کرتے ہیں، محبت والوں کے درمیان فساد ڈالتے ہیں، اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں"۔ (الادب المفرد، باب النمام, حدیث 323، صفحہ 115/116، دار الصدیق)

مفلس کون ہے:حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: "أَتَدْرُوْنَ مَا الْمُفْلِسُ" کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ نے عرض کی: "ہم میں سے مفلس وہ ہے کہ جس کے پاس درہم اور سامان نہ ہو"۔آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے گا مگر ساتھ ہی اس نے کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر تہمت لگائی ہوگی کسی کا مال کھایا ہوگا تو اس کی نیکیاں اُن لوگوں کو دے دی جائیں گی یہاں تک کہ اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور پھر اُن کے گناہ اِس پر ڈالے جائیں گے پھر اِسے جہنم میں ڈال دیا جائےگا"۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ ولآداب، باب تحریم الظلم، صفحہ 829، حدیث 2581، دار الحضارۃ)

حضور ﷺ نے اپنی امت کی تربیت کے لیے سوالیہ انداز کے طریقے کو بھی اپنایا کیونکہ یہ انداز نہ صرف دلچسپ بلکہ سننے والے کے ذہن پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اسی لیے ہمارے مبلغین و واعظین کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اس طریقے کو اپنائیں۔تاکہ سننے والا علم دین سیکھنے میں دلچسپی لے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ