محمد نواز ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
رسول اللہ نے ہماری تربیت مختلف
انداز سے فرمائی کبھی اشارے سے اور کبھی مثالوں سے اور کبھی سوالیہ انداز میں آج میں
کچھ احادیث وہ ذکر کرتا ہوں جس میں رسول اللہﷺ نے سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی:
(1)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے
پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم ﷺ ہم سے پوچھنے لگے اسلام کی کون سی رسی سب سے زیادہ
مضبوط ہے صحابہ کرام نے عرض کیا نماز نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت خوب اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا
زکوۃ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت خوب اس کے
بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا جہاد نبی کریم ﷺ نے
بہت خوب کہہ کر فرمایا ایمان کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ تم اللہ تعالی کی رضا کے
لیے کسی سے محبت یا نفرت کرو۔( مسند امام احمد بن حنبل جلد 7 حدیث نمبر1146 کتب
خانہ امام احمد رضا)
(2)
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین
مرتبہ فرمایا کیا میں تمہیں بڑے گناہوں کے بارے میں خبر نہ دوں صحابہ کرام نے عرض
کی کیوں نہ یا رسول اللہ حضور ﷺ نے فرمایا
اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا والدین کی نافرمانی کرنا۔ (صحیح بخاری جلد 1حدیث نمبر
2654)
(3)
معاذ بن جبل فرماتے ہیں ہم رسول الله کے ساتھ سفر میں تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا
میں تمہاری خیر کے دروازے پر رہنمائی نہ فرماوں روضہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو ایسے
مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بندے کی آدھیرات کی نماز ۔[جامع ترمزی ابواب الایمان جلد
2حدیث نمبر2570]
(4) زید بن خالد فرماتے ہیں رسول الله ﷺنے حدیبیہ
کے مقام پر صبح کی نماز پڑھائی آسمان کے ساۓ کے نیچے رات کو پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوے پس فرمایا کیا
تم جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ
زیادہ جانتا ہے راوی فرماتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا میرے بندوں میں سے مجھ پر ایمان
لانے والا اور میرا انکار کرنے والا صبح کرتا ہے پس جو کہتا ہے ہم پر بارش برسی
اللہ کے فضل سے اور رحمت سے پس وہ اسی کے ساتھ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور
ستاروں کا انکار کرنے والا ہے بہر حال جو کہے ہم پر بارش برسی ایسے ایسے وہ میرا
انکار کرنے والا ہے اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے۔[ موطا امام مالک باب الاستمطار بانجوم حدیث
445مکتبہ شبیر برادرز]
[5]حضرت
جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ کاایک بھیڑکےمرے ہوئے بچے پر
گزرہوا فرمایا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ یہ اسے ایک درھم کے بدلے ملے
صحابہ نے عرض کیاہم نہیں چاہتے کہ یہ ہمیں کسی بھی چیز کے عوض ملے تو فرمایا اللہ
کی قسم دنیا اللہ کو اس سے زیادہ ذلیل ہےجیسے یہ تمہارے نزدیک۔ [مشکوۃ المصابیح
باب الرقاق فصل اول حدیث نمبر 4927]
یہ
وہ چند احادیث جو میں نے ذکر کی ہیں جس میں رسول اللہ نے سوالیہ انداز میں تربیت
فرمائی ہے۔
Dawateislami