نبی پاک ﷺ  نے اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی مختلف انداز میں تربیت فرمائی کبھی اشارے سے کبھی نقشہ بنا کر اور بھی بہت سارے طریقوں سے تربیت فرمائی اور ان میں سے ایک بہت ہی مفید طریقہ سوال کر کے تربیت کرنا ہے آئیے ان میں سے چند احادیث سنتے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ نے اس انداز سے تربیت فرمائی:

(1)روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لکڑی اپنے سامنے گاڑی اور دوسری اس کے برابر اور تیسری اس سے بہت دور پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے صحابہ نے عرض کیا ﷲ رسول خوب جانیں،فرمایا یہ انسان ہے اور یہ موت ہے۔ مجھے خیال ہے کہ فرمایا اوریہ امید ہے انسان امیدوں میں مشغول رہتا ہے مگر اسے امید سے پہلے موت پہنچ جاتی ہے ۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 ، حدیث نمبر:5278 )

(2)روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول الله ﷺ تشریف لائیے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کون سا عمل الله تعالٰی کو زیادہ پسند ہے کسی کہنے والے نے کہا کہ نماز اور زکوۃ اور کسی کہنے والے نے کہا جہاد نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالٰی کو بہت پیاراعمل الله کی راہ میں محبت اور الله کی راہ میں عداوت ہے ۔ (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:5021)

(3)روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ. (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4832)

(4)حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہومفلس کون ہے‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’میری اُمَّت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن (مظلو موں ) کے گناہ اُس(ظالم) پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:3 , حدیث نمبر:218)