ابن رفیق محمد شفیق قادری عطّاری (درجہ جامعۃ المدینہ فيضان عثمان غنى کراچی ، پاکستان)
انسانی
عقل و شعور کو بیدار کرنے کے لیے سوال ایک نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔ جب کسی کے سامنے
سوال رکھا جائے تو اس کا ذہن فوراً متوجہ ہو جاتا ہے، سوچنے پر مجبور ہوتا ہے اور
جواب تلاش کرنے لگتا ہے۔ یہی حکیمانہ انداز سب سے زیادہ کارگر ہے، کیونکہ اس سے
سننے والا محض سامع نہیں رہتا بلکہ شریکِ گفتگو بن جاتا ہے۔ یہی اندازِ تربیت نبی
کریم ﷺ نے اپنایا۔ آپ ﷺ نے سوالیہ اسلوب کے ذریعے صحابۃ کرام رضی اللہ عنہم کو نہ
صرف علم عطا فرمایا بلکہ ان کے دلوں میں معانی و مفاہیم راسخ کر دیے۔ یہی وجہ ہے
کہ آپ ﷺ کی تربیت یافتہ جماعت علم و کردار کے اعتبار سے دنیا کی سب سے عظیم جماعت
بن کر ابھری۔
چند
روشن مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
(1)
اللہ کا بندے پر اور بندے کا اللہ پر حق:حضرت معاذ بن جبل رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا:اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے اللہ
تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے"میں نے عرض کی:
اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے
اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا حق اللہ
پر یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے جو شرک سے بچے رہیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 2856؛ صحیح
مسلم، حدیث: 144)
(2)حقیقی
مفلس کونتاجدارِ رِسالت ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:کیا
تم لوگ جانتے ہو کہ مفلس کون ہےصحابہ نے عرض کی: جس شخص کے پاس درہم اور دوسری قسم
کا مال نہ ہو وہ مفلس ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میری امت میں سب سے بڑا مفلس
وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسی نیکیاں لے کر آئے گا مگر اس نے دنیا
میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہوگا،
کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا… پھر سب لوگ اس کی نیکیاں لے جائیں گے
اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے
جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(صحیح مسلم، حدیث: 6579)
(3)مومن
مرد کی مثال درخت:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:ہم حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ ﷺ
نے فرمایا:مجھے اس درخت کے بارے بتاؤ جو مردِ مومن کی مثل ہے، اس کے پتے نہیں گرتے
اور وہ ہر وقت پھل دیتا ہےحضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت
ہے لیکن بڑے صحابہ خاموش تھے اس لیے میں بھی خاموش رہا۔ جب سب نے جواب نہ دیا تو
حضور ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اگر تم بتا دیتے تو مجھے بہت خوشی ہوتی۔(صحیح بخاری، حدیث: 4698)
(4)
نماز کی مثال:رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے
پر نہر ہو اور وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گاصحابہ
نے عرض کی: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں
نمازوں کی ہے، اللہ پاک ان کے ذریعے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث:
528)
پیارے
اسلامی بھائیو! سوالیہ اندازِ تربیت دراصل ایک ایسی حکمتِ نبوی ہے جو تعلیم کو
مؤثر اور پائیدار بنا دیتی ہے۔ رسولُ اللہ ﷺ نے اس انداز سے اُمت کو یہ سبق دیا کہ
علم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ فکر کو جگانا، دل کو نرم کرنا اور کردار
کو سنوارنا ہے۔ آج کے اساتذہ، والدین اور داعیانِ دین اگر اپنے طرزِ گفتگو اور تربیت
میں اس سنت کو زندہ کریں تو ان کی بات بھی لوگوں کے دلوں میں اترے گی، سننے والے
سوچنے پر مجبور ہوں گے اور عملی زندگی میں تبدیلی آئے گی۔اللہ پاک ہمیں بھی اپنی
انفرادی اور اجتماعی تربیت میں یہ مبارک سنت اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری
زبان و قلم کو ایسا اثر عطا کرے جو دلوں کو بدل دے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین ﷺ۔
Dawateislami