محمد حامد رضا (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق أعظم سادھوکی ، پاکستان)
نبی
اکرم ﷺ کا سوال و جواب کے ذریعے تعلیم و تربیت کا انداز اس قدر جامع اور مؤثر تھا
کہ اس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ نے اس طریقے سے نہ صرف پیچیدہ احکام
اور اخلاقی اصولوں کو عام فہم بنایا بلکہ لوگوں کو خود سوچنے اور حقائق کی گہرائی
تک پہنچنے کا درس بھی دیا۔ پہلی احادیث کے بعد یہاں پانچ مزید احادیث پیش کی جا رہی
ہیں جو اس خوبصورت تربیتی اسلوب کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔
(1)
دین کی حقیقت:حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں
حاضر ہوا اور پوچھا: "یا رسول اللہ، مجھے بتائیں کہ اللہ نے مجھ پر کیا فرض کیا
ہے" آپ ﷺ نے فرمایا: "پانچ نمازیں، مگر تم نفلی نماز بھی پڑھ سکتے ہو۔
رمضان کے روزے، مگر تم نفلی روزے بھی رکھ سکتے ہو۔ زکوٰۃ فرض ہے، اگر تم مزید دینا
چاہو تو صدقہ کر سکتے ہو۔ حج فرض ہے، اگر تم مزید کرنا چاہو تو نفل بھی کر سکتے
ہو۔" )صحیح بخاری، کتاب الایمان،
حدیث: 48(
یہ
حدیث اس بات کی بہترین مثال ہے کہ آپ ﷺ نے مخاطب کی ذہنی سطح کے مطابق تعلیم دی۔
جب ایک دیہاتی نے سوال کیا تو آپ نے اسے دین کی پیچیدگیوں میں نہیں الجھایا۔ اس کے
بجائے آپ نے اسلام کے بنیادی ارکان (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج) کو براہِ راست اور صاف
الفاظ میں بیان فرمایا۔
(2)مفلس
کی حقیقت:حدیث:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم
جانتے ہو کہ مفلس کون ہے" صحابہ نے عرض کیا: "ہمارے درمیان مفلس وہ ہے
جس کے پاس درہم و دینار اور مال و اسباب نہ ہو۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "میری
امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے
دنیا میں کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا،
کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا۔ پھر اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی
جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے
اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔)صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث2581(
اس
حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ایک عام فہم تصور "مفلس" کو ایک نیا معنی دیا۔
لوگ عام طور پر مفلس اس شخص کو سمجھتے ہیں جس کے پاس دنیا کا مال و دولت نہ ہو۔ آپ
ﷺ نے اسی تصور سے بات شروع کی تاکہ صحابہ کی توجہ حاصل کر سکیں۔ پھر آپ نے اس کی
حقیقی تعریف بیان فرمائی: اصل مفلس وہ نہیں جو دنیا میں خالی ہاتھ ہو، بلکہ وہ ہے
جو آخرت میں نیکیوں کا پہاڑ لے کر آئے لیکن اخلاقی گناہوں کی وجہ سے سب کچھ گنوا بیٹھے۔
یہ طریقہ ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ
اصلی نقصان مالی نہیں، بلکہ اخلاقی ہے۔
(3)لوگوں
میں سب سے بہتر کون ہے: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: "یا رسول اللہ، لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے" آپ ﷺ
نے فرمایا: "وہ شخص جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔")سنن
ترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2026(
یہاں
سوال بہت عام تھا، اور آپ کا جواب اس سے بھی زیادہ جامع اور عام فہم تھا۔ بجائے اس
کے کہ آپ کسی خاص عمل (مثلاً زیادہ نمازیں یا روزے) کا ذکر کرتے، آپ نے انسانی
کردار اور اخلاق کو سب سے بہترین قرار دیا۔ آپ ﷺ کا یہ اصول ہے کہ دین کا مقصد
اخلاقیات کی تکمیل ہے۔ آپ نے سوال کے جواب میں ایک ایسی بنیادی صفت کی نشاندہی کی
جو ہر عمل کی بنیاد ہے۔
(4)حقیقی
طاقتور کون ہےحدیث:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے
نزدیک سب سے زیادہ طاقتور پہلوان کون ہے" لوگوں نے عرض کیا: "جو کسی کو
کشتی میں پچھاڑ دے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ نہیں، بلکہ طاقتور وہ ہے جو
غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔" (صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث: 6114 اورصحیح مسلم، کتاب
البر والصلۃ، حدیث: 2609)
یہاں
آپ ﷺ نے جسمانی طاقت کے عام معیار کو چیلنج کیا۔ لوگوں کے ذہن میں پہلوان یا فاتح
طاقتور ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے اسی جواب کو بنیاد بنا کر فرمایا کہ اصل طاقت جسمانی
نہیں، بلکہ اخلاقی اور روحانی ہے۔ یہ طاقت ہے اپنے غصے اور جذبات پر قابو پانے کی۔
اس طرح آپ نے ایک عام سی بات (کون طاقتور ہے) کے ذریعے ایک انتہائی اہم اخلاقی سبق
سکھایا جو آج بھی معاشرے میں درگزر اور صبر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ
نبی اکرم ﷺ نے علم کو صرف منتقل نہیں کیا بلکہ اسے سوال کے ذریعے ذہن میں راسخ کر
کے عملی زندگی کا حصہ بنایا۔
Dawateislami