رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز انتہائی مؤثر، حکمت سے بھرپور اور جامع تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی ذہنی سطح اور نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف طریقوں سے انہیں دین کی باتیں سکھائیں، اور انہی طریقوں میں سے ایک اہم طریقہ سوالیہ انداز تھا۔ اس طریقے میں آپ ﷺ براہِ راست حکم دینے کے بجائے خود سوال کرتے تھے یا کسی اور کے سوال کے جواب میں حکمت کی باتیں بیان فرماتے تھے۔ اس طریقہ کار کے پیچھے کئی اہم مقدمات (مقاصد یا وجوہات) کارفرما تھے:

(1)مال کا استعمال :ابو اسحاق ابو احوص سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس میلے کپڑوں کے ساتھ آیا تو اس شخص کے لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس مال ہے عرض کی جی ہاں ہر طرح کا مال ہے تو آپ نے فرمایا کون سا مال ہے تو عرض کی کہ اللہ تعالی نے مجھے اونٹ گائے بکریاں گھوڑے اور غلام عطا کیے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ تبارک و تعالی تجھے مال عطا فرماتا ہے تو وہ آپ پر اپنی نعمت کا اثر کو پسند فرماتا ہے۔(سنن النسائی ج،2 باب زینت ، الجلاجل ، حدیث 5224، ص 751)

(2)صلہ رحمی کرنا:امیر المومنین حضرت سیدنا مولا مشکل کشا شیر خدا کرم اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا میں اگلوں اور پچھلوں کے بہترین اخلاق کے متعلق تمہاری رہنمائی نہ کروں میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ضرور ارشاد فرمائیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کر دو جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو۔(شعبۃ الایمان باب تہداریوں کو برقرار رکھنے کے بارے میں ج 6 ص 222)

(3) اچھا اخلاق:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تمہیں یہ بات نہ بتا دوں کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میری نگاہوں میں محبوب اور میرے قریب تر مجلس والا کون ہوگالوگ خاموش رہے نبی کریم ﷺ نے دو تین مرتبہ اس بات کو دہرایا تو لوگ کہنے لگے جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔(مسند امام احمد بن حنبل مترجم ج،3 ص، 390 حدیث 1194 مکتبہ کتب خانہ امام احمد رضا خان )

(4)محبت بڑھنا:عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْئٍ إِذَا فَعَلْتُمُوہُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو تمہارے درمیان محبت بڑھے اور وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو رواج دو۔ (انوار الحدیث باب المصالحہ ص،377 مکتبۃ المدینہ)