حضور نبی کریم  ﷺ نے بہت سے مقامات پر مسلمانوں کی اور صحابہ کرام کی تربیت فرمائی اور آپ ﷺ نے مختلف انداز میں مسلمانوں کی تربیت فرمائی اور انہیں میں سے ہم پانچ احادیث مبارکہ ایسی سنتے ہیں جس نبی کریم ﷺ نے اپنے غلاموں کی سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ہے۔

(1) سب سے بڑے گناہ:حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں وہ اللہ پاک کے ساتھ شرک کرنا والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہے ۔ ( مسند احمد بن حنبل ، جلد نمبر : 7 ، صفحہ نمبر : 306 ، حدیث نمبر : 20407 )

(2) سب سے زیادہ میرا محبوب : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایک مجلس میں تین مرتبہ فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میرا محبوب اور میرے قریب تر مجلس والا کون ہوگا ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔ ( مسند احمد بن حنبل ، صفحہ نمبر : 501 ، حدیث نمبر : 1486 مکتبہ امام احمد رضا )

(3) بندوں پر اللہ عزوجل کا کیا حق ہے : حضرت سیدنا معاذ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دراز گوشت یعنی گدھے پر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا اے معاذ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ عزوجل کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ عزوجل پر کیا حق ہے میں نے عرض کی اللہ عزوجل اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ عزوجل پر حق یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اللہ عزوجل اس کو عذاب نہ دے پھر میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا انہیں یہ بشارت مت دینا ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔(فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : امید کا بیان ، جلد نمبر : 4 ، صفحہ نمبر : 504 ، حدیث نمبر : 426 مکتبتہ المدینہ )

( 4 ) خود کو بڑا سمجھنے والا :حضرت سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کی خبر نہ دوں ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جائے اگر وہ اللہ عزوجل کے کرم پر اعتماد کرتے ہوئے قسم کھا لے تو اللہ عزوجل اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے گا کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کی خبر نہ دوں ہر وہ شخص جو سخت مزاج بخیل اور خود کو بڑا سمجھنے والا ہو ۔( فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : کمزور مسلمانوں کی فضیلت ، جلد نمبر : 2 ، صفحہ نمبر : 378 ، حدیث نمبر : 252 مکتبتہ المدینہ )