کہا جاتا ہے کہ سوال بھی آدھا جواب ہوتا ہے اگر سوال سمجھ میں آگیا تو آدھا جواب سمجھ میں آ گیا اور کبھی کبھار سوال اس لئے بھی کیا جاتا ہے تاکہ سامنے والا متوجہ ہوجائے کہ ابھی جو بات ہوگی بہت اہم ہے آئے ملاحظہ کرتے ہیں کہ کیا نبی پاک ﷺ نے بھی سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی :

علم کے بارے آقا ﷺ کا تربیت فرمانا :حضرت سید انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک صاحب ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں سب سے زیادہ جود و کرم والے کے بارے میں خبر نہ دوں اللہ عزو جل سب سے زیادہ جود و کرم والا ہے اور میں اولاد آدم علیہ اسلام میں سب سے زیادہ سخی ہوں اور میرے بعد ان میں سے زیادہ سخی وہ شخص ہے جو علم حاصل کرے پھر اپنے علم کو پھیلائے ، اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا اور ان کے بعد سب سے سخی وہ شخص ہے جو اللہ عزوجل کی رضا کے حصول کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا جائے۔(مسند ابو یعلی، مسند انس بن مالک ، رقم 2782، ج 3، ص 16)

تم ہلاک نہ ہوگے: حضرتِ سیدنا ابو شُرَیْح خُزَاعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہمارے ہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ'' کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ عزوجل کا رسول ہوں ''ہم نے عرض کیا،'' کیوں نہیں ۔''تو فرمایا کہ'' بیشک اس قرآن کا ایک کنارہ اللہ عزوجل کے دست قدرت میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھو ں میں ہے، لہٰذااسے مضبوطی سے تھا م لو کہ اس کے بعد تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے اورنہ ہی ہلاک ہو گے۔(طبرانی کبیر، تم 49، ج 2، ص 188)

سنت کو زندہ کیا سن لو!حضرت سید ناعمروبن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال جان لو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جان لوں فرمایا " جان لو کہ جس نے میری سنتوں میں سے ایک مردہ سنت کو زندہ کیا ، اسے اس سنت پر عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی اور جس نے ایسی بدعت ایجاد کی جس سے اللہ عز وجل اور اس کے رسول ﷺ راضی نہیں تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔( سنن ابن ماجه، کتاب السنته ، باب من احیاءته قد امتیت ، رقم 210 ، ج 1 ص 138)

یہ وہ احادیث مبارکہ ہیں جن میں آقا علیہ السلام نے سوالیہ طریقے سے اپنی امت کی تربیت فرمائی اور پتا چلا کہ سوالیہ انداز سے بھی تربیت کرنی چاہیے کہ اس کے بھی کافی فوائد ہیں۔