اخلاق اور گفتگو انسان کے کردار کی بنیاد ہیں، جن کے ذریعے لوگوں کے درمیان مضبوط روابط قائم ہوتے ہیں۔ یہ انسان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اپنے اخلاق اور انداز گفتگو سے کیسا تعلق قائم کرنا چاہتا ہے، لیکن دوسروں میں باوقار اور با عزت مقام حاصل کرنے کے لیے اچھے اخلاق اور شائستہ گفتگو کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اچھے اخلاق اور مہذب انداز بیان انسان کی شخصیت کا سب سے حسین پہلو ہیں، اور گفتگو کا سب سے اہم اصول یہ ہے کہ جب آپ کسی سے بات کریں تو اسے مکمل توجہ دیں، کیونکہ گفتگو میں سب سے پہلی چیز مخاطب کی توجہ ہوتی ہے، پھر متکلم اپنا کلام شروع کرتا ہے۔

قرآن مجید اور حضور ﷺ کی تعلیمات بھی ہمیں اسی بات کی تلقین کرتی ہیں۔ اللہ پاک نے سورہ لقمان کی آیت نمبر 18 میں ارشاد فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔

اس آیت مبارکہ میں واضح حکم دیا گیا ہے کہ جب آدمی کسی سے گفتگو کرے تو سامنے والے کو حقیر جانتے ہوئے منہ نہ پھیرے، کیونکہ ایسا کرنا متکبرین یعنی مغرور لوگوں کا طریقہ ہے۔ اللہ کریم نے ہمیں یہ حکم فرمایا ہے کہ امیر و غریب سب کے ساتھ تواضع یعنی عاجزی سے پیش آنا چاہیے۔

حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سلام و کلام اور ملاقات کے وقت بطور تواضع اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے لائے، ان سے چہرہ نہ ہٹائے اور نہ اس کا کچھ حصہ چھپائے۔ متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ لوگو ں کو ایسی ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقرا و مساکین پر غصے کی نظر سے دیکھتے ہیں، بلکہ ہمارے ہاں! امیر و غریب دونوں اچھے سلوک کے معاملے میں برابری ہوں۔ (روح البیان، 7/84)

حضور جان عالم ﷺ کی سیرت سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ کے محبوب ﷺ سب سے زیادہ باوقار اور دلکش شخصیت کے حامل تھے۔ بڑے، بہادر اور شجاع صحابہ کرام کے دلوں میں آپ کا رعب تھا، لیکن آپ کا مبارک انداز ایسا نرم و مہذب تھا کہ امیر و غریب سب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے، مصافحے کا شرف پاتے، اور اپنی عرضیاں پیش کرتے۔ آپ انہیں توجہ سے سن کر جواب فرماتے اور کرم فرماتے۔

حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ حقیر جاننے والے نہ تھے۔

لہذا بحیثیت انسان ہم سب پر لازم ہے کہ ہم دوسرے انسان کی تعظیم کریں اور اس کی بات توجہ کے ساتھ سنیں۔

مخاطب کو نظر انداز کرنے کی چند مثالیں مع فوائد اور نقصان:

1۔ اگر کلاس میں موجود طالب علم اور استاد ایک دوسرے کی بات توجہ سے نہ سنیں تووہ دونوں اپنے مقصد کو حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں اور اپنی عزت کو کم اور دوسرے کے دل میں اپنی قدر کھو دیں اس کے برعکس اگر وہ دونوں ایک دوسرے کی بات کا احترام کرتے ہوئے توجہ دیں تو بہتر سے بہترین نتائج پائیں۔

2۔ اسی طرح اگر ایک خاندان یا معاشرے کے افراد آپس میں ایک دوسرے کی بات اور رائے کو اہمیت نہ دیں اور دوسرے کو کمتر جانیں تو جلد ہی وہ خاندان یا معاشرہ تباہی کے گہرے گڑھے میں گر جائے دوسری طرف اگر اسی خاندان یا معاشرے کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کی بات توجہ سے سنیں تو یہی خاندان اور معاشرہ امن و اتحاد کی بلندیاں چومے اور اخلاقیات کے اعلی درجے پر پہنچ جائے۔

3۔اسی طرح دوستی کی مثال کہ اگر ایک دوست دوسرے دوست کی بات توجہ سے سنے اس کی بات کو سمجھے تو ہی ان کی دوستی برقرار رہ سکتی ہے ورنہ یہ ممکن نہیں۔

یہاں پر صرف چند مثالوں کے ذریعے مخاطب کی بات توجہ سے سننے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے بظاہر یہ ایک چھوٹا سا وصف معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر اخلاقیات کی عمدگی پنہاں ہے۔