مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت شہزاد
احمد، جامعۃ المدینہ دھوراجی کراچی
گفتگو کے آداب
میں سے ایک اہم ادب مخاطب کی گفتگو کو توجہ سے سننا ہے، یاد رکھیں! انسان کی فطری
خواہش میں سے ہے کہ لوگوں کی بات کو اہمیت دی جائے، اسے توجہ سے سنا جائے، گفتگو
میں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے، اور یہ
مخاطب کی حق تلفی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
قرآن پاک کی
تعلیمات اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو کئی آیات اور احادیث میں
انسان کو گفتگو کے آداب سکھائے گئے ہیں جن میں سے ایک ادب مخاطب کو نظر انداز نہ
کرنا بھی ہے۔ جیساکہ پارہ21 سورۃ لقمان آیت 18 میں ارشاد الٰہی ہے: وَ
لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار
ٹیڑھا نہ کر۔
حضرت علامہ
سید نعیم الدّین مرا د آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
جب آدمی بات کریں تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی
طرف سے ر خ پھیرنا متکبّرین (یعنی مغروروں) کا طریقہ ہے۔ (خزائن العرفان، ص 761)
حضرت علّامہ
اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام وکلام اور
ملاقات کے وقت بطور تواضع(یعنی عاجزی کے طور پر) اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے
لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ اس کا کچھ حصّہ چھپائیے، متکبّرین کی عادت
ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقار ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقرا و مساکین کو
غصّے سے دیکھتے ہیں، بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچّھے سلوک کے معاملے میں
برابر ہوں۔ (روح البیان، 7/84)
اسی طرح اس
آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص
امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ
محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے۔غریبوں کو
حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا
جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب
تکبر کی علامات ہیں،ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے۔حدیث پاک میں بھی اس سے بچنے کا
حکم دیا گیا ہے،چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایاایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے پیٹھ
نہ پھیرواورسب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤاورکسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں
کہ وہ اپنے بھائی کوتین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (بخاری، 4/117، حدیث: 6065)
ترغیب کے لئے
یہاں لوگوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے سیّد المرسلین ﷺ کی سیرت کے چند پہلو ملاحظہ
ہوں، چنانچہ قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں تاجدار رسالت ﷺ لوگوں سے الفت فرماتے اور ان سے نفرت نہ کرتے
تھے۔آپ ہر قوم کے با اخلاق فرد کی عزت فرماتے اور اسے اس کی قوم پر حاکم مقرر کر
دیتے تھے۔ (بداخلاق) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلاتے،ان سے احتراز فرماتے، نہ
یہ کہ ان سے منہ پھیر لیں اور بد اخلاقی سے پیش آئیں۔آپ کی بارگاہ میں حاضر کوئی
شخص یہ گمان نہیں کرتا تھا کہ کوئی اور بھی اس سے بڑھ کرآپ کے نزدیک عزت والا
ہے۔جو شخص بھی آپ کےپاس بیٹھتا یا کسی ضرورت سے زیادہ قریب ہو تا تو آپ صبر فرماتے
یہاں تک کہ وہ شخص خود ہی اٹھ کر چلا جاتا۔جو شخص بھی اپنی حاجت کے لئے آپ سے سوال
کرتا تو اسے دے کر بھیجتے یا اس سے نرم بات کرتے۔غرض یہ کہ آپ کا اخلاق اس قدر
وسیع تھا کہ وہ تمام لوگوں کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔ (الشفا، 1/120)
نیز سیرت کی
کتابوں میں مذکور ہے کہ جب سیّد العالمین ﷺ مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوتے تواپنے
دربار میں سب سے پہلے حاجت مندوں کی طرف تو جہ فرماتے اور سب کی درخواستوں کو سن
کر ان کی حاجت روائی فرماتے اور قبائل کے نمائندوں سے ملاقاتیں فرماتے اوراس دوران
تمام حاضرین کمال ادب سے سر جھکائے رہتے تھے۔آپ کے دربار میں آنے والوں کے لئے
کوئی روک ٹوک نہیں تھی، امیر و فقیر، شہری اور دیہاتی سب قسم کے لوگ حاضر دربار
ہوتے اور اپنے اپنے لہجوں میں سوال و جواب کرتے۔کوئی شخص اگر بولتا تو خواہ وہ کتنا
ہی غریب و مسکین کیوں نہ ہو مگر دوسرا شخص اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا امیر کبیر ہو اس
کی بات کاٹ کر بول نہیں سکتا تھا۔جو لوگ سوال و جواب میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے تو
آپ کمال حلم سے برداشت فرماتے اور سب کو مسائل اور اسلامی احکام کی تعلیم و تلقین
اوروعظ ونصیحت فرماتے رہتے۔حضور پرنور ﷺ قبائل سے آنے والے وفدوں کے استقبال، اوران کی
ملاقات کا خاص طورپر اہتمام فرماتے تھے۔ چنانچہ
ہر وفد کے آنے
پر آپ نہایت ہی عمدہ پوشاک زیب تن فرما کر کاشانۂ اقدس سے نکلتے اور اپنے خصوصی
اصحاب رضی اللہ عنہم کو بھی حکم دیتے تھے کہ بہترین لباس پہن کر آئیں،پھر ان
مہمانوں کو اچھے سے اچھے مکانوں میں ٹھہراتے اور ان لوگوں کی مہمان نوازی اور خاطر
مدارات کا خاص طورپرخیال فرماتے تھے اور ان مہمانوں سے ملاقات کے لئے مسجد نبوی
میں ایک ستون سے ٹیک لگا کر نشست فرماتے،پھر ہر ایک وفد سے نہایت ہی خوش روئی اور
خندہ پیشانی کے ساتھ گفتگو فرماتے اور ان کی حاجتوں اور حالتوں کو پوری توجہ کے
ساتھ سنتے اور پھر ان کو ضروری عقائد و احکام اسلام کی تعلیم و تلقین بھی فرماتے
اور ہر وفد کو ان کے درجات و مراتب کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ نقد یا سامان بھی تحائف
اور انعامات کے طور پر عطا فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں لوگوں کو حقیر جاننے اور
ان سے حقارت آمیز سلوک کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
نظر
انداز کرنے کی وجوہات: کوئی بھی عیب یا مرض اپنے اندر سے دور کرنے کے لیے
سب سے پہلے اس کی وجہ جاننا انتہائی ضروری ہے تاکہ اس کی وجہ جان کر اس کا احسن
انداز میں علاج کیا جاسکے۔
نظر انداز
کرنے کی سب سے بڑی وجہ خود پسندی اور تکبر ہے جس سے بچنا ہر انسان کے لیے نہایت
ضروری ہے، قرآن کریم اور کئی احادیث مبارکہ میں خود پسندی اور تکبر کی مذمت بیان
کی گئی ہیں جیساکہ اللہ کے محبوب ﷺ کا
فرمان ہے: گناہوں پر نادم ہونے والا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسندی
کرنے والا اللہ کی ناراضی کا منتظر ہوتا ہے۔ (شعب الایمان، 5/436، حدیث: 7178)
متکبرین کے
متعلق رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ
الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) (پ 14، النحل: 23) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو
پسند نہیں فرماتا۔
اسی طرح حدیث
پاک میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں
میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں
جہنم کے بولس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ
میں لے کر ان پر غالب آجائے گی انہیں جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ (ترمذی، 2/221،
حدیث:2500)
تکبر
کی ایک صورت: تکبر
کی اقسام میں سے ایک قسم بندوں کے مقابلہ میں تکبر ہے یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے علاوہ مخلوق میں سے کسی پر تکبر کرنا، وہ اس
طرح کہ اہنے آپ کو بہتر اور دوسرے کو حقیر جان کر اس پر بڑائی چاہنا اور اور
مساوات یعنی باہم برابری کو ناپسند کرنا یہ صورت حرام ہے اور اس کا گناہ بھی بہت
بڑا ہے کیونکہ کبریائی اور عظمت بادشاہ حقیقی ہی کے لائق ہے نہ کہ عاجز اور کمزور
بندے کے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 278)
عجب و
تکبّر اور بچا حب جاہ سے آئے نہ
پاس تک ریا یا رب مصطفٰے
نظر
انداز کرنے کے دینی و دنیاوی نقصانات:
1)کسی کو نظر
انداز کرنا اللہ پاک کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔
2) اپنے کسی
مسلمان بھائی کو نظر انداز کرنا اس کی حق تلفی کا سبب ہے اور مسلمان کی حق تلفی
کرنا گناہ کا کام ہے۔
3) مخاطب کی
طرف توجہ نہ دینا اسے نظر انداز کرنا دنیا اور آخرت کی ناکامی کا ذریعہ ہے۔
4)نظر انداز
کرنے سے آپس میں دشمنی ہوجاتی ہے۔
5) اس سے بعض
اوقات رشتے ختم ہوجاتے ہیں۔
6) لوگوں سے
سیدھے منہ بات نہ کرنا لوگوں کی نظروں میں اس کی اہمیت کو گرا دیتا ہے اور یوں یہ
انسان کے لیے ذلت کاباعث ہے۔
7) ایسے شخص
کو معاشرے میں عزت نہیں دی جاتی اور یہ اس کے لیے انتہائی افسوس ناک بات ہے۔
پیارےآقا
ﷺ کی گفتگو کا مبارک انداز: پیارے
آقا ﷺ بہت تیزی کے ساتھ جلدی جلدی گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر کلام
فرماتے آپ کا کلام اتنا صاف اور واضح ہوتا کہ سننے والا اسے سمجھ کر یاد کرلیتا
تھا آپ ہر ایک کی بات نہایت توجہ کے ساتھ سنتے کسی کو نظر انداز نہیں کرتے اور نہ
ہی منہ موڑتے اگر کوئی اہم بات ہوتی تو اس بات کو تین تین بار دہراتے۔
خواب
میں آکرکے کچھ شیریں کلام میٹھے میٹھے
مصطفیٰ فرمائیے
Dawateislami