مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت اسماعیل
عطاریہ،فیضان عطار شاہ لطیف ٹاؤن کراچی
انسانی دل کی
اہم ترین خواہش یہ ہوتی ہے کہ کوئی اس کو سمجھے اس کی بات توجہ سے سنے یہ تبھی
ہوگا جب متکلم خود مخاطب کی بات بغور سنے، یہ کیوں کر ممکن ہے کہ ہم خواہش رکھیں
کہ دوسرے تو ہماری باتیں توجہ سے سنیں لیکن ہم ان کی باتیں سنتے وقت بے توجہی کا
مظاہرہ کریں لوگ اس وقت تک اپنا راز کسی کے سامنے نہیں کھولتے جب تک انہیں حقیقی
توجہ اور پیار نہ ملے۔ اگر انہیں یہ چیزیں مل جائیں تو وہ توقع سے زیادہ باتیں
بتانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اگر کوئی شخص ہماری بات سننے یا سمجھنے کی بالکل
کوشش نہیں کرتا تو ہم ا س پر کبھی اپناراز نہیں کھولیں گے۔
دوسرے کی بات
کبھی کاٹیں نہیں۔ بہترین گفتگو کرنے والے کی بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ پہلے دوسرے کی
بات بہ غور سنتا ہے مخاطب کو ہمہ تن گوش ہو کر سنا جائے، یہ سننا انہیں محض جواب
دینے، قائل کرنے، اپنی بات منوانے یا ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی غرض سے نہیں
بلکہ انہیں سمجھنے کے لئے سنیں کہ وہ حقیقت میں کہنا کیا چاہتا ہے! ہم عموماً
دوسرے کی پوری بات سنے بغیرکہ وہ اصل میں کہناکیا چاہتا ہے فوراً ہی اپنے نکتہ
نظرسے معاملے کو دیکھتے ہوئے کوئی حل تجویز کر دیتے ہیں دراصل ہم میں چیزوں پر
جھپٹ پڑنے کی اور انہیں نصیحت سے درست کر دینے کی بہت تیزی ہوتی ہے ہم مسئلے کو
پہلے گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے محض سرسری انداز میں بات کو سنتے
ہوئے یا کسی مسئلے کا سطحی ساجائزہ لیتے ہوئے بغیر غوروفکر کے فوری طور پر اپنی
رائے کا اظہار کر دیتے ہیں۔ یہ چیز ہماری اثر انگیزی کو بہت محدود کر دیتی ہے اور
دوسروں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے!
مخاطب کی بات
نہایت توجہ سے سننی چاہئے اسی طرح اگر کسی کو بولنے میں کوئی مشکل ہو یا وہ صحیح
طرح نہ بول سکے تو اس پر ہنسنا نہیں چاہئے اور نہ ہی اس کی نقل اتارنی چاہئے، یہ
بہت بری بات ہے۔جب بھی بات کرو شائستہ اور مہذب گفتگو کرو اگر مخاطب کو کوئی بات
سمجھ میں نہ آئے تو ضرورت کے تحت دہرائیں دوران گفتگو دوسرے کو بات کرنے کا زیادہ
موقع دیا جائے۔ اس طرح وہ اپنی اہمیت کو محسوس کرے گا۔ آپ کو ہمہ تن گوش پاکر خوش
ہوگا اور آپ کی بات بھی توجہ سے سنے گا۔ اگر داعی ہی بولتا جائے اور مخاطب کو موقع
نہ دے تو سننے والا بوریت محسوس کرے گا اس طرح اچھی بات کی قبولیت کے امکانات بھی
کم ہوجاتے ہیں۔آداب گفتگو کا یہ تقاضہ ہے کہ بندہ عمدہ اور بہترین الفاظ کا انتخاب
کرے، شیریں بیانی اور حلاوت لسانی کا اہتمام کرے۔ واضح رہے کہ الفاظ کے انتخاب میں
حد درجہ احتیاط کرنا چاہئے، کیوں کہ یہ بڑا ہی نازک اور حساس معاملہ ہوتا ہے، زبان
و بیان کی ذرا سی غلطی، تعبیر کی خامی، الفاظ کا سوئے انتخاب مخاطب کے دل میں تیر
کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں، بسا اوقات انسان اندازہ نہیں لگا پاتا اور اس کی زبان
سے نکلنے والا کوئی کلمہ یا جملہ مدتوں مخاطب کو بیقرار رکھتا ہے۔
الفاظ کے انتخاب
میں احتیاط برتیں کیونکہ الفاظ بے جان نہیں ہوتے ہیں ان میں روح اور زندگی ہوتی
ہے۔ گفتگو کے آداب کو اپنا کر شخصیت کو سنواریں اور پروقار شخصیت کے مالک بنیں!
Dawateislami